صفات الہی کی بابت اہل سنت وجماعت کا عقیدہ

ابوعکاشہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جنوری 20, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,859
    صفات الہی کی بابت اہل سنت والجماعت کا عقیدہ

    شرح العقیدہ الواسطیہ(ابن تیمیہ رحمہ اللہ )
    از سعید بن وھف القحطانی حٖفظ اللہ

    اہل سنت والجماعت اللہ تعالی کے صفات کو ثابت کرتے ہیں ۔ نہ ان کی تعطیل یعنی نفی کرتے ہیں ،نہ مثلیت بیان کرتے ہیں ،نہ ہی ان میں تحریف کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی کیفیت بیان کرتے ہیں ،بلکہ ان کے معنی و مدلول پر ایمان لانے کے ساتھ انہیں بعینہ اسی طرح گزار دیتے ہیں جس طرح نصوص وارد ہیں
    1-تحریف : تحریف کے لغوی معنی "بدل دینے "کے ہیں ،اور شریعت کی اصطلاح میں" اللہ تعالی کے اسماءحسنی اور صفات عالیہ کے الفاظ یا ان کے معانی" کا بدلنا تحریف کہلاتا ہے ،اس کی دو قسمیں ہیں :
    پہلی قسم : لفظی تحریف : یعنی لفظ کی "کمی زیادتی کرنا یا اس کی شکل بدل دینا" جیسے فرقہ جہمیہ اور ان کے متبعین نے "استوی "کے لفظ میں "لام"کا اضافہ کر کے "استولی"کہا ،اسی طرح یہودیوں کو جب اللہ نے "حطہ"کہنے کا حکم دیا تو انہوں نے (نون کا اضافہ کرکے"حنطہ")کہا،یا اسی طرح بعض بدعتیوں نے اللہ کے صفت "کلام"کے انکارکی غرض سے ۔ آیت کریمہ:
    وکلم اللہ موسی تکلیما(النسا،164
    "اور اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام سے گفتگو فرمائی"
    میں اللہ کے لفظ "مرفوع پیش" کے بجاے "منصوب زبر "پڑھا ،پس اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ" موسی نے اللہ عزوجل سے کلام کیا"
    دوسری قسم : معنوی تحریف :یعنی" اسماوصفات کے الفاظ کو اپنی حالت پر رکھتے ہوئے ان کے معانی کو بدل دینا "،جیسے بعض بدعتیوں کا "غضب کی تفسیر ارادہ انتقام "سے ""رحمت کی تفسیر ارادہ انعام سے" اور" ید ہاتھ کی تفسیر نعمت سے کرنا"
    2-تعطیل : اس کے لغوی معنی "چھوڑ دینے" کے ہیں ،اور اصطلاح میں اس سے مقصود یہ ہے کہ "اللہ کی ذات سے صفات الہی کی نفی کی جائے ۔ اور ان کے قائم بذات اللہ ہونے کا انکار کیا جائے یا ان میں سے بعض صفات کا انکار کیا جائے"
    تحریف اور تعطیل کے درمیان فرق یہ ہے کہ تعطیل کتاب و سنت سے ثابت اسماوصفات کے صحیح مفہوم کی نفی کو کہتے ہیں ۔ جبکہ تحریف نصوص کتاب و نست کی باطل تفسیر کا نام ہے
    تعطیل کی قسمیں ،تعطیل کی کئی قسمیں ہیں
    1-اللہ کے کمال مقدس کی نفی :یعنی اللہ عزوجل کے تمام اسماوصفات یا ان میں سے بعض کی نفی کرنا ،جیسے جہمیہ اور معتزلہ نے کیا
    2-اللہ سے قطع تعلق : مثلا اللہ کی عبات نہ کرنا،یا بعض عبادتیں ترک کردینا ،یا اللہ کی عبادت میں غیر کو شریک کرنا
    3-مخلوق سے خالق کی نفی ۔ جیسے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اشیاء کا وجود خود بخود ہو گیا ،اور ان میں خود بخود ہی تصرف ہوتا ہے ۔ نعوذباللہ
    ہر محرف ،تحریف کرنے والا ،معطل نفی کرنے والا ہے ۔ لیکن ہر معطل محرف نہیں ۔ چنانچہ جو باطل معنی ثابت کرے اور حق معنی کی نفی کرے وہ بیک وقت محرف و معطل دونوں ہے ۔ البتہ جو صرف صفات الہی کی نفی کرے وہ محرف نہیں بلکہ معطل ہے ۔
    3- تکییف: یعنی کیفیت کی بابت سوال کرنا ،مقصود یہ ہے کہ صفت الہی کی اس طرح تعیین وتحدید کی جائے کہ اس کی ایک خاص کیفیت ظاہر ہو ۔ کیفیت کی نفی کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ صفات الہی کے معانی کو ٹالا جائے ۔ اور ان کی نفی کی جائے بلکہ صفات کا معنی زبان عرب میں معلوم ہے ۔ یہی سلف صالحین کا عقیدہ ہے ۔ چنانچہ جب امام مالک رحمہ سے استوا کی کیفیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
    الاستواء معلوم ،والکیف مجھول ،والایمان بہ واجب ،والسؤال عنہ بدعہ )
    فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ 5/144

    "استواءمعلوم ہے ۔ اس کی کیفیت نامعلوم ہے ۔ اس پر ایمان لانا واجب ہے اور کیفیت کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے"
    چنانچہ اللہ تعالی کی ہرصفت ایک حقیقی ثابت معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں ۔ اور اللہ کے لئے ثابت کرتے ہیں ۔ لیکن اس کی کیفیت ،حالت ،صورت کا ہمیں علم نہیں ۔لہذا صفات الہی کی حقیقت اور ان کے معنی کو ثابت کرنا اور صرف ان کی کیفیت کو اللہ کے سپرد کرنا واجب ہے ۔ برخلاف فرقہ ـواقفہ ۔ کے جو صفات الہی کے معانی کو بھی ٹالتے اور اس کی نفی کرتے ہیں
    4-تمثیل : اس کے معنی تشبیہ کے ہیں ۔ یعنی اللہ عزوج کی" ذاتی یا فعلی صفات" میں کسی کو اس کا "مشابہ "قرار دیا جائے ۔ اس کی دو قسمیں ہیں
    الف : مخلوق کو خالق سبحانہ وتعالی سے تشبیہ دینا ۔جیسے نصاری نے مسیح بن مریم کو اللہ کے مشابہ قرار دیا ،اسی طرح یہودیوں نے عزیز علیہ السلام کے مشابہ قرار دیا ۔ اللہ اس سے بہت بلند و بالا ہے
    ب : خالق کو مخلوق سے تشبیہ دینا ۔ جیسے فرقہ ـمشبہ۔ نے تشبیہ دیتے ہوئے کہ اللہ کا چہرہ مخلوق کے چہرہ کی طرح ہے ۔ اللہ کا ہاتھ مخلوق کے ہاتھ کے مثل ہے اور اللہ کی سماعت مخلوق کی سماعت کی طرح ہے ،اسی طرح کی دیگر باطل تشبیہات ہیں ۔ اللہ تعالی ان کی باتوں سے بہت بلند و برتر ہے
    (الکواشف الجلیہ عن معانی الواسطیہ،86 )
    شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں
    تشبیہ کی ایک تیسری قسم بھی ہے اور وہ ہے خالق اللہ عزوجل کو معدوم ،مستحیل یعنی محال ۔ اور ناقص چیزوں یا اسی طرح جمادات سے تشبیہ دینا ،اور جہمیہ و متعزلہ کی اسی قسم میں واقعہ ہوئے ہیں
    اللہ کے اسماء و صفات میں الحاد
    "الحاد کا معنی یہ ہے کہ صفات الہی اس کے حقائق اور اس کے معنی کی بابت جو حق اور ثابت ہے اس سے اعراض کیا جائے ۔ چنانچہ الحاد کی کئی شکلیں ہیں ۔ جیسے صفات الہی کا بالکلیہ انکار کردینا ۔ یا ان کے معانی کا انکار کرنا ۔ یا ان میں تحریف کرنا اور باطل تاویلات کے ذریعہ انہیں حق و صورت سے پھیر دینا ،یا ان میں سے بعض نئی اور جدید چیزوں کو موسوم کرنا جیسے وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنے والوں نے کیا ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ الحاد میں تحریف ،تعطیل ،تکییف تمثیل و تشبیہ تمام چیزیں داخل ہیں
    (بحوالہ الاجوبتہ الاصولیہ ص 32 و شرح العقیدہ الواسطیہ از محمد خلیل ہراس ص،24 )
    ترجمہ ،عنایت اللہ سنابلی مدنی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں