غزل ساجد عبد الباری

حافظ عبد الکریم نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏فروری 12, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    547
    شاعر: ساجدؔ عبد الباری

    گھات میں بیٹھے ہیں جو ہم کو مٹانے کے لیے
    ہم چلے انہی کے دل میں گھر بسانے کے لیے

    ان کی فرقت میں ہوا ہے حال جو میرا برا
    ہوگئے مجبور وہ آنسو بہانے کے لیے

    صرف گلدستوں سے گھر کو تم سجا سکتے نہیں
    چند بچے بھی ہیں لازم گھر سجانے کے لیے

    کچھ حنا کا رنگ پھیکا پڑگیا تو کیا ہوا
    خون حاضر ہے ہتھیلی پر لگانے کے لیے

    یہ بہت مشکل ہے دل سے بھول جاؤں تیرے غم
    کیا دوائیں ہیں کہیں یادیں بھلانے کے لیے

    وادیٔ مکہ میں آئے تھے مرے پیارے رسول ﷺ
    شرک کی بڑھتی ہوی ظلمت مٹانے کے لیے

    اک سیاسی چال تھی جو نوٹ بند کروا دئے
    اب وہ آفر دے رہے ہیں ووٹ پانے کے لیے

    ڈھونڈتا پھرتا ہوں ان کو در بدر شام و سحر
    کیا خبر تھی جائیں گے وہ پھر نہ آنے کے لیے

    ٹھوکریں کھانے سے ہی یہ درس ساجدؔ کو ملا
    غم بھی لازم ہے کسی کے مسکرانے کے لیے
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  2. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    547
    انساں کو اپنی موت کی کچھ بھی خبر نہیں
    پھر بھی کسی کو موت سے ہرگز مفر نہیں

    یا رب تو مجھ کو بخش دے تقوی کی زندگی
    پتھر ہے دل وہ جس میں کہ تیرا ہی ڈر نہیں

    جگنو کی روشنی سے بھی ہم راہ پا لیے
    اے چاند تاروں آج تمہاری قدر نہیں

    زینت چمن کی گم ہوی جانے سے آپ کے
    آئے گی پھر بہار کب اس کی خبر نہیں

    ایسی خودی بنا کہ قدم چوم لے جہاں
    بے فائدہ ہے وہ شجر جس میں ثمر نہیں

    جس دن تیرے لبوں پر ذکر خدا نہ ہو
    ساجدؔ وہ شام و سحر بھی شام و سحر نہیں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    547
    اس شہر میں کوی بھی مرا یار نہیں ہے
    جینے کے لیے کوی بھی گھر بار نہیں ہے

    تم مجھ سے جدا جب ہوے محسوس یہ ہوا
    اب زیست مری آگ ہے گلزار نہیں ہے

    کیوں ترک تعلق کی بھلا بات ہو کرتے
    نفرت کا مرے چہرے پہ اظہار نہیں ہے

    امت میں تعصب کا زہر گھولتی ہے جو
    الفت کی محبت کی وہ سرکار نہیں ہے

    کلفت کے اندھیروں سے نکلتی تھی کبھی یہ
    اب غزل کا کہنا کوی دشوار نہیں ہے

    جو ٹوھ میں لگا ہے مرے عیب کے ہر دم
    نفرت ہے اسے مجھ سے کوی پیار نہیں ہے

    اب عام ہے لوگوں کی زباں پر یہی ساجدؔ
    گفتار کی طرح ترا کردار نہیں ہے
     
  4. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    547
    تاکتے بس تمہیں رات بھر رہ گئے
    اور کھوے ہوے تم کدھر رہ گئے

    مجرموں کو سلامی ملی جابجا
    تیغ کی زد میں نیکوں کے سر رہ گئے

    کیسی نفرت کی دیوار حائل ہوی
    ہم اِدھر رہ گئے وہ اُدھر رہ گئے

    جب حکومت چلی ہر سوالات کی
    ہو کے پامال سارے ہنر رہ گئے

    آج کل ظلم کی انتہا ہو گئی
    خوں کی بارش میں سب بھگ کر رہ گئے

    کتنا مشکل ہوا آج جینا مرا
    اجنبی بن کے دیوارودر رہ گئے

    ایک طرفہ محبت نے الجھا دیا
    حال ساجدؔ سے وہ بے خبر رہ گئے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں