تعلیمی اداروں میں چھڑی کا استعمال ؟

انا نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏مارچ 8, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    السلام علیکم

    ابھی ابھی ایک دوسرے موضوع "آپ اپنے تعلیمی اداروں میں کون کون سی سہولیات دیکھنا چاہتے ہیں " میں کسی پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے ڈنڈوں کا ذکر نکل آیا۔

    ہمارے ہاں تعلیمی اداروں مین مار کٹائی کا رواج عام ہے۔ طالبات میں تو پھر کچھ نرمی دکھائی جاتی ہے لیکن ننھے منے طلبا کا عام سی بات ہر حشر کر دیا جاتا ہے۔

    کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ طلبہ کو صرف مار کر ہی سیدھا کیا جا سکتا ہےِ ؟

    کیا مارنا ڈسپلن کے لے ضرورئی ہے؟

    کیا آپ نے جس تعلیمی ادارے سے پڑھا وہاں یہ رویہ عام نظر آتا تھا؟

    اگر آپ کے تعلیمی ادارے میں طلبا کو مارنا منع تھا تو سزا دینے کے لیے یا تربیت کے لیے اور کونسا رویہ اپنایا جاتا تھا یا اپنایا جاتا ہے؟ یا آپ کے خیال مٰن کونسا رویہ اپنانا چاہیئے؟
     
    • مفید مفید x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,897
    مارنا ضروری نہیں ہوتا ۔ ڈنڈے کا استعمال ہمارے ملکوں میں زیادہ ہوتا ہے ۔ اسکی وجہ یہ بتائی جاتی ہے ،بچے نہیں پڑھتے ۔سعودیہ یا عرب ممالک میں ایسی سزا دیکھنے میں نہیں آئی ۔ دوسرے ممالک کا پتہ نہیں ۔ پاکستان میں ایک بچہ مارپیٹ سے تین سے پانچ سال میں قرآن حفظ کرتا ہے ۔سعودیہ میں مارپیٹ کے بغیر دو سے تین سال میں حفظ کرلیتا ہے ۔ یہاں تو مارنا جرم ہے ۔ سزا ہو سکتی ہے۔
    میرا خیال ہے ،سب سے پہلے بچوں کو ان کی صلاحیت یا قابلیت کے مطابق مرضی سے پڑھنے یا سیکھنے دیا جائے ۔ پھر مارپیٹ کی ضرورت کم پیش آئے گی ۔غلطی اس وقت ہوتی ہے جب بچوں پر اپنی مرضی مسلط کی جاتی ہے ۔دوسری چیز گھر کا اور اردگرد کا ماحول ہے ۔ اچھا ماحول ذہنی وجسمانی نشوونما اور مستقبل کے لئے ضروری ہوتا ہے ۔ والدین ، اساتذہ ہر وقت بچے کے ساتھ سایے کی طرح نہیں رہ سکتے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
  3. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    547
    ہندوستان میں اکثر مدارس میں مار پیٹ کا رواج عام ہے خصوصا شعبۂ حفظ کے طلبہ کو بہت مارا جاتا ہے
    جس مدرسہ سے میں نے حفظ تکمیل کیا ہے وہاں کا ماحول بھی یہی ہے
    جہاں تک میرا خیال ہے مارنے سے کچھ فائدہ نہیں کیونکہ میں جس مدرسے میں حفظ کر رہا تھا وہاں پر کئی طلبہ مار پیٹ کی وجہ سے مدرسہ سے بھاگ جاتے تھے
    اگر طلبہ کو سمجھایا جائے اور انہیں تعلیم پر توجہ دلائی جائے یہ بہتر ہے مار پیٹ سے تربیت حاصل نہیں ہوتی مار پیٹ کے نتیجے میں طلبہ اپنے ہی اساتذہ کو گالیاں بھی دینے لگتے ۔
    اللہ ہماری صحیح رہ نمائی فرمائے(آمین)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    بالکل بھی نہیں، جیسی مار اکثر ہمارے اداروں میں دیکھنے کو ملتی ہے، وہ تو بچوں کی شخصیت کو بالکل مجروح کر دیتی ہے۔ میرے خیال سے مسئلہ یہ ہے کہ تربیت کی کمی ہے۔ ایسے اساتذہ خود ان مراحل سے گزرے ہوتے ہیں، اس لیے شاید ان کے لیے ایسی سختی کرنا ہی ضروری ہے۔ دوسری طرف اکثر بچوں کو گھر سے تربیت نہیں ملتی ، گھر والے سب کچھ مولانا صاحب یا مولوی صاحب کے سپرد کر دیتے ہیں، اور اپنی ذمہ داریوں سے بجات حاصل کر لیتے ہیں۔

    میرا ایک چھوٹا کزن قرآن حفظ کرنے سے صرف اس لیے بھاگا کہ قاری صاحب تو بہت زیادہ مارتے ہیں۔ اور ابھی اسے مار نہیں پڑی تھی، وہ دوسروں کو مار رہے تھے اور یہ ڈر گیا۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    547
    جی بالکل آج کل ایسی شکایتیں سننے میں
    بہت آرہی ہیں
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  6. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    حفظ والے بچوں کو خوب مارا اور ساته ٹارچر کیا جاتا ہے مجهے یاد ہے بیٹے کو کہتی تهی کہ چهٹیوں میں مسجد چلے جایا کرو پڑهنے وہ وہاں کے ماحول کی وجہ سے بهاگتا تها جس کا سن کر مجهے بہت دکه ہوتا تها کہ ۔وافی نام سے ریاض میں ایک ادارہ ہےوہاں بہت ا چهے طریقے سے بچوں کو دین کی تعلیم دی جاتی ہے۔
    میرے خیال میں اب انگلش میڈیم سکولز میں تو ایسا نہیں ہوتا ہو گا ۔بلکہ الٹا معاملہ کہ بچوں کو کچه کہ دیا تو اماں جی کی حاضری لازمی ہو جاتی ہے۔
    ہمارے سکولز میں لیٹ آنے پر ڈنڈے برستے تهے ویسے ایک ہماری ٹیچر میز پر خوب ڈنڈے برساتی تهیں ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    افسوس کی بات ہے کہ یہ طریقہ ابھی تک رائج ہے۔ اور اس کے خلاف کوئی احتجاج نہیں۔ یہاں کی گئی چند لوگوں کی پوسٹس سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ دینی تعلیم خاص کر کے مدرسوں کےاندر مار پیٹ کا طریقہ عام ہے۔ یقینا چند مدرسے ایسے بھی ہوں گے جو کہ بچوں سے نرمی کا برتاؤ رکھتے ہوں گے۔ لیکن کیا اتنا حل کافی ہے؟ کہ ہم جس معاشرے میں رہیں وہاں ایک مدرسہ جس میں ہمارے اپنے بچے کو بہت نرمی اور محبت سے پڑھایا جاتا ہے ہم اکتفا کر کے بیٹھ جائین جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ اسی شہر میں ایک ایسا مدرسہ یا اسکول بھی ہے جہاں کا ماحول بچوں کو پر تشدد بنا رہا ہے۔
    ان عظیم ستم خانوں کے نام اور شہر کے نام بھی لکھ دیں۔ اکثر والدین لا علم ہوتے ہیں کہ جس ادارے میں وہ اپنے بچے کو بھیج رہے ہیں وہاں اس کا آگے کیا حشر ہونا ہے۔
    ایک ویب سائٹ ہونی چاہئے ایسے قاریوں اور مدرسوں / اسکول وغیرہ کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے۔ والدین اس ویب سائٹ پر جا کر چیک کر سکیں کے ادارہ اس قابل ہے کہ ننھے منے معصوم بچوں کو بھیجا جا سکے۔
    یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے۔ کچھ والدین مکمل آزادی کے قائل ہوتے ہیں۔ یہ سمجھے بغیر کے زیادہ چینی شوگر کا مریض بھی بنا سکتی ہے۔ میری رائے میں اس صورتحال مین ادارہ کو سختی دکھانی چاہیے اور استاد کا ساتھ دینا چاہئے۔ والدین کو زیادہ اعتراض ہو تو شوق سے اسکول بدل لیں۔ لیکن یہاں سختی سے میری مراد ہر گز بھی مار پیٹ نہیں۔
     
    • متفق متفق x 2
  8. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    السلام علیکم

    سرکاری سکولوں میں چھڑی و ڈنڈا کا استعمال ہوتا ہے پرائیویٹ سکولوں میں شائد ڈنڈہ کا استعمال نہیں صرف ڈانٹ کا استعمال ہے کیونکہ وہ بھاری فیس ادا کرتے ہیں۔

    دینی مدرسہ پر تو علم نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ یسرن القرآن پڑھنے پر دادا جان نے ابتداء کی مگر وہ کہتے تھے کہ حلق سے آواز نکالو جس پر کچھ دن ڈانٹ پڑنے کے ساتھ یسرن القرآن سیکھنے کا عمل جاری رہا مگر پھر کسی بہانہ سے چھوڑ دیا، پھر والدہ محترمہ سے قریبی مسجد میں داخل کروایا، پہلا دن تھا حافظ محترم نے دوسرے بچوں سے پہلے دن کا سبق سنا جس پر جن بچوں کو سبق یاد نہیں تھا حافظ صاحب نے ان کی بہت پٹائی کی جسے دیکھ کر میں بہت ہی ڈر گیا کسی بھی طرح یہ دن نکالا پھر دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا جس پر میں نے والدہ سے کہہ کے یہ بھی چھوڑ دیا، پھر ایک قریبی باجی جان سے کہا تو اس نے کبھی بھی نہیں مارا جس پر ان سے قرآن مجید مکمل پڑھا۔

    پاکستان میں سکولوں میں بچوں کی پٹائی پر افسوس ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ بغیر کسی ٹریننگ کے سکول ٹیچر کی جاب مل جاتی ہے جبکہ وہاں بھی اساتذہ کی جاب کے لئے ایک کورس ہے جو شائد کم ہی اسے کیا جاتا ہے۔ ہر میٹرک، انٹرمیڈیٹ پاس سکول ٹیچر آسانی سے لگ جاتا/ جاتی ہے۔

    ہمارے یہاں تعلیمی اداروں میں چھڑی تو دور بچوں کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔ تعلیم کا طریقہ کار ہی ایسا ہے کہ بچے خوشی سے پڑھائی کرتے ہیں۔

    ٹیچنگ جاب کے لئے ٹریننگ کورس ضروری ہے، اور پھر ہر تعلیمی اداروں کو انسپیکشن ٹیم کے ارکان کلاسوں میں طالب علموں کے ساتھ بیٹھ کر اساتذہ کا پڑھائی کا طریقہ کار چیک کرتا ہے۔

    ڈنڈوں کا استعال کسی بھی طرح درست نہیں اس سے بچوں کی ذہنی نشونما رک جاتی ہے۔ جس طرح ایک اچھا ڈرائیور کسی بھی اچھی بری کار پر کنٹرول کرنا جانتا ہے اسی طرح اساتذہ کرام کو بھی ہر طالب علم کے ذہن کو پڑھنا اور پھر اسے اس کے مطابق کنٹرول کرنا آنا چاہئے۔

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    جی یہی بات میں کرنے والا تھا۔ اس مدرسہ میں بات مار کی نہیں بلکہ ماحول کی تھی۔ اور بچوں کی عزت نفس پر حملہ کرنے کی تھی۔ صاحبزادے نے بتایا کہ مولوی صاحب ہر وقت بچوں کی بے عزتی کرتے رہتے ہیں اور بچوں کو عجیب و غریب القاب سے نوازتے رہتے ہیں۔ کبھی کسی کے موٹاپے کا مذاق اور کبھی کسی کے دبلے پن کا۔ بہرحال صاحبزادہ ایک سال کے بعد پھر وہاں نہیں گيا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    جیسا کہ اوپر بتایا گيا کہ مدرسوں میں بچوں کو مار پڑنا ایک عام سی بات ہے۔ اور اس مار کا اثر ساری زندگي ان کے ساتھ رہتا ہے اور میرا خیال ہے کہ اسی وجہ سے ان مدرسوں سے فارغ ہونے والے بچوں میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے۔ ہمارے وقت پرائمری اور سیکنڈری سکول تک بچوں کو مار پڑنا ایک عام سی بات تھی۔ شائد آٹھویں کلاس کی بات ہے۔ کہ لڑکے کلاس میں شور کر رہے تھے۔ ایک استاد کلاس میں آۓ اور ہر لڑکے کو مارنا شروع کردیا۔ میری باری آئ تو میں نے غلطی سے استاد جی کا ڈنڈا پکڑ لیا اس پر وہ استاد غضب ناک ہوگۓ اور پھر میری اس وحشیانہ طریقے سے پٹائ کی کہ بازوؤں اور کمر وغیرہ میں نیل پڑ گۓ۔ گھر آ کر میں والد صاحب کو بتایا اور اپنے بازو وغیرہ دکھاۓ۔ دوسرے والد صاحب اسکول پہنچ گۓ اور ہیڈ ماسٹر سے ملے اور کہا کہ اس استاد کو بلاؤ اور پوچھو کہ اس نے میرے بچے نے کیا غلطی کی تھی جو اس نے اس برے طریقے سے مارا ہے۔ مجھے نہیں معلوم اس کے بعد کیا ہوا۔ لیکن وہ مار مجھے ابھی تک یاد ہے۔ جو کہ بغیر کسی غلطی کے مرتکب ہوۓ اس استاد سے کھائ تھی۔
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 2
    • متفق متفق x 1
  11. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    السلام علیکم

    سمائل! ایسا ہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوا تھا، گرلز سکول میں پڑھتے تھے کلاس 5 کی بات ہے سکول مین روڈ پر واقع تھا، آدھی چھٹی کے دوران روزانہ نان حلیم والا وہاں سے گزرتا تھا، کچھ لڑکے مل کر سکول کی چھوٹی سی دیوار پھلانگ کر نان حلیم کھاتے تھے، ایک دن ٹیچر سے شائد دیکھ لیا اور ہم تمام لڑکوں کو مرغا بنا کر ساتھ چھڑی سے خوب پٹائی بھی کی، نکر پہننے کا زمانہ تھا، گھر آئے والدہ محترمہ نے جب بازو اور ٹانگیں دیکھیں جس پر لاسیں پڑی ہوئی تھی دیکھ کر روئیں بھی، درد کی دوائی پلائی اور جسم کے نشان زدہ حصوں پر گرم پکڑے سے ٹکوریں بھی کیں اور سلا دیا، والد محترم جب کام سے آئے انہیں بتایا، دوسرے دن سکول ہیڈ مسٹریس کے پاس پہنچ گئے مختصر یہ کہ والد محترم بینکر تھے، نے ہیڈ مسٹریس کو گیٹ پر بلوایا اور سکول کی رپوٹ کرنے کی بات کی جس پر اس موضوع پر گفتگو ہوئی والدہ محترمہ ٹیچر کو کلاس میں بلانے چلی گئیں کہ گیٹ پر ہیڈ ٹیچر بھی ہے وہاں چل کر بات کرے اور پھر والدہ محترمہ نے گیٹ پر والد محترم کو بتایا کہ وہ رہ رہی ہے اور معافی مانگ رہی ہے کہ آئیندہ ایسا نہیں کرے گی جس پر ہیڈ ٹیچر نے بھی معذرت کی تو مسئلہ ختم ہوا۔


    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    547
    شہر کرنول (A.P) میں ایک مدرسہ انوار العلوم کے نام سے ہے جب میرا داخلہ وہاں ہوا اس وقت میری عمر تقریبا لگ بھگ سات سال کی تھی میں اس وقت ناظرہ پڑھ رہا تھا اتفاق سے ایک دن تجوید کی مشق کئے بغیر سنانے چلا گیا ظاہر سی بات ہے تجوبد کی غلطیاں آئیں گی ہوا بھی یہی استاذ محترم کو بہت غصہ آیا اور انہوں مجھے اس قدر مارا جو کہ میں آج بھی اس کو بھلا نہیں سکتا استاذ محترم نے مجھے بیت کی چھڑی اور مسواک کے بِیل سے مارا نتیجہ میں میری پیٹ اور ہاتھوں پر نیل کے داغ آگئے جب یہ بات والد صاحب کو معلوم ہوی تو اسی وقت انہوں نے مجھے اس مدرسہ سے نکال لیا
    بتانے کا مقصد یہ کہ چند مدارس میں مار پیٹ کا حد سے زیادہ رواج عام ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں