اللہ عرش پر بلند ہوا ۔۔

ابوعکاشہ نے 'ذرائع ابلاغ' میں ‏جون 8, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,860
    اللہ عرش "پر" ہے یا "پرمستوی" ہوا ؟

    قرآن کریم میں اللہ سبحانہ وتعالی نےسات مقام پر فرمایا ۔ تمہارا پروردگارعرش پر"مستوی" ہوا ۔
    پہلی آیت سورۃ اعراف میں ہے اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَوٰتِ وَالاَرضَ فِی سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ استَوٰی عَلَی العَرشِ ( الاعراف: 54 ) تمہارا رب وہ ہے جس نے چھ ایام میں آسمان اور زمین کو پیدا کیا، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔
    دوسری آیت سورۃ یونس کی ہے اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِی خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرضَ فِی سَتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ استَوٰی عَلَی العَرشِ یُدَ بِّرُالاَمرَ ( یونس:3 ) بے شک تمہارا رب وہ ہے جس نے چھ دنوں میں زمین آسمان کو بنایا اور پھر وہ عرش پر قائم ہوا۔
    تیسری آیت سورۃ رعد میں ہے اَللّٰہُ الَّذِی رَفَعَ السَّمٰوٰت بِغَیرِ عَمَدٍ تَرَونَھَاثُمَّ استَوٰی عَلَی العَرشِ ( الرعد: 2 ) اللہ وہ ہے جس نے بغیر ستونوں کے اونچے آسمان بنائے جن کو تم دیکھ رہے ہو پھر وہ عرش پر قائم ہوا۔
    چوتھی آیت سورۃ طہ میں ہے تَنزِیلاً مِّمَّن خَلَقَ الاَرضَ وَالسَّمٰوٰتِ العُلٰی اَلرَّحمٰنُ عَلَی العَرشِ استَوٰی ( طہ:19,20 ) یعنی اس قرآن کا نازل کرنا اس کا کام ہے جس نے زمین آسمان کو پیدا کیا پھر وہ رحمن عرش کے اوپر مستوی ہوا۔
    پانچویں آیت سورہ فرقان میں ہے اَلَّذِی خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرضَ وَمَا بَینَھُمَا فِی سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ استَوٰی عَلَی العَرشِ ( الفرقان: 59 ) وہ اللہ جس نے زمین آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر وہ عرش پر قائم ہوا۔
    چھٹی آیت سورۃ سجدہ میں ہے۔ اَللّٰہُ الَّذِی خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرضَ وَمَا بَینَھُمَا فِی سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ استَوٰی عَلَی العَرشِ ( السجدہ:4 ) اللہ وہ ہے جس نے زمین آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں بنایا وہ پھر عرش پر قائم ہوا۔
    ساتویں آیت سورہ حدید میں ہے۔ ھُوَالَّذِی خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرضَ فِی سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ استَوٰی عَلَی العَرشِ ( الحدید:4 ) یعنی اللہ وہ ذات پاک ہے جس نے چھ دنوں میں زمین آسمانوں کو بنا یا وہ پھر عرش پر قائم ہوا
    ان آیات میں "مستوی "ہوا ،"قائم ہوا"، اہل عرب اپنی زبان میں سب کا ایک ہی معنی لیتے ہیں ۔"ارتفاع" ،"بلندی "یا" بلند ہونا" ہے ۔ "مستوی" کا جو اردو ترجمہ ملتا ہے ۔ وہ اکثرصحیح نہیں ہوتا ۔ صحیح ترجمہ یہ ہے یا تو "مستوی" رہنے دیا جائے ۔ یا پھر اس کا ترجمہ مکمل کیا جائے ۔جو کہ اس طرح ہے ۔ اللہ عرش" پربلند" ہواـ
    امام بخاری نے امام ابو العالیہ اور مجاہد سے معنی ـ "ارتفع" ـ بیان فرمایا ہے، جس کے معنی " بلند" ہونے کے ہیں ۔
    مگر یہ بلندی کیسی ہے ۔ جیسے اس کی شان کے لائق ہے ۔
    الاستواء معلوم والكيف مجهول والسؤال عنه بدعة والإيمان به واجب
    ہمیں استوی(بلندی) معلوم ہے ۔ اس کی کیفیت مجہول ہے ۔کیونکہ ہمیں اللہ نے نہیں بتائی ۔ استوی کی کیفیت کے کھوج کے لئے سوال کرنا بھی بدعت ہے ۔ مگر ایمان لانا واجب ہے ۔مزید تفصیل یہاں دیکھ سکتے ہیں ۔

    اللہ کے اسماءوصفات پر گفتگو کرتے ہوئے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ترجمہ میں بے احتیاطی پرفورا ہی مخالف جواز نکال لیتا ہے ۔ درج ذہل ویڈیو رمضان پروگرام کی ہے ۔کسی بھائی نے شیئر کی ۔
    اللہ عرش پر ہے یا ہر جگہ ہے ۔بحث جاری ہے ۔ ایک طرف دیوبندی ،شیعہ ،بریلوی جوکہ اللہ کے ہرجگہ ہونے کے قائل ہیں ۔ دوسری طرف اہل حدیث جماعت کے نمائندہ قاری خلیل الرحمن صاحب موجود ہیں ۔جن کا موقف قرآن و حدیث کی روشنی میں سو فیصد درست ہے کہ اللہ عرش پر مستوی ہوا ۔
    انہوں نے الرحمن علی العرش استوی کا ترجمہ ۔( اللہ عرش پر ہے) ۔ کیا ہے ۔ یہ ترجمہ ناقص تھا ۔ ان کے اس سہو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حنیف قریشی بریلوی صاحب نے فورا ہی اگلا سوال کر ڈالا ۔ کہ "اگر اللہ عرش پر ہے توسوال یہ ہے کہ اللہ عرش سے بڑا ہے یا چھوٹا ۔ یہ منطقی سوال بنتا بھی تھا ۔اگر قاری صاحب کہتے ہیں کہ اللہ عرش پر بلند ہوا ۔ تو موصوف یہ سوال نا کرتے ۔ یہ ہماری توحید کا کمزور حال ہے ۔
    بہرحال اس سوال کا جواب بہت آسان ہے ۔ اگر آپ کا عقیدہ ہے کہ اللہ ہر جگہ ہے تو قرآن و حدیث سے دلیل فراہم کریں ۔پھر دیکھیں گے نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہی عقیدہ تھا؟ ۔اگر ثابت نا ہوا تو آپ جس رب کو مانتے ہیں ۔ وہ خالق مالک کائنات نہیں ہے ۔ اپنے ایمان کی تجدید کیجئے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,398
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,316
    جزاک اللہ خيرا، اور اسی سلسلہ میں آپ نے شیخ کفایت اللہ سنابلی کا ایک مضمون بھی مجلس پر شئر کیا تھا۔
    http://www.urdumajlis.net/threads/اللہ-تعالی-کی-صفت-استواء-علی-العرش-اور-صفت-معیت.38376/

    اور بعینہ یہی بات شیخ رفیق طاہر نے بھی مجلس پر اپنے ایک مضمون میں کی تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,860

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں