مسلم حاکم کے خلاف طعن و تشنیع اور ان کے عیوب بیان کرنا

ابوعکاشہ نے 'فتنہ خوارج وتكفير' میں ‏اگست 15, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,860
    مسلم حاکم کے خلاف طعن و تشنیع اور ان کے عیوب بیان کرنا ۔

    الخوارج وصفاتھم
    د،محمد بن غیث غیث حفظ اللہ تعالی

    خوارج کے فتنہ کی شروعات ،نفرت عداوت پھیلانے سے ہوتی ہے ۔ سب سے پہلے وہ عوام کے دلوں میں حکام کے خلاف بغض و عداوت کا بیچ بوتے ہیں ۔اور عوام کو ان کے احکام کے خلاف برانگخیتہ کرتے ہیں ۔کبھی ان کے عیوب ذکر کر کے،کبھی محرومی کا شکوہ کر کے ،اورکبھی ظلم و فساد پھیلنے کو سبب بنا کر ان کو نشانہ بناتے ہیں ۔ اور اسے وہ نصیحت و خیر ،امربالمعروف اور دین کے لیے غیرت وغیرہ کے قالب میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں ۔

    تاریخی شواہد موجود ہیں ۔ جو دلالت کرتے ہیں کہ تلوار کے ذریعہ بغاوت کی اصل بنیاد ،زبان کے ذریعہ بغاوت ہے ۔ یعنی خوارج حکام کے خلاف تلوار اٹھانے سے پہلے ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں ۔ ان پر مختلف قسم کے الزمات لگاتے ہیں ۔ اور اسی سبب ان کی ہیبت ختم ہو جاتی ہے ۔ اور عام لوگ بھی زبان درازی کرنے لگتے ہیں ۔ اور فتنہ شروع ہوجاتا ہے ۔ اسی وجہ سے اس قسم کے فتنے و فساد کا سبب بننے والے اعمال پر شریعت کے اندر سخت وعید آئی ہے ۔
    زیاد بن کسیب العدوی سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ابن عامر کے منبر کے نیچے بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ خطبہ دے رہے تھے ۔ اور ان کے جسم پر باریک کپڑے تھے ۔ تو ابوبلا ل نے کہا،لوگو! ہمارے امیر کو تو دیکھو ۔ وہ فاسقوں کے کپڑے پہنتے ہیں ۔ یہ سن کر ابوبکرہ نے کہا ،خاموش ہو جاو ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ۔ من اھذان سلطان اللہ فی الارض اھانہ اللہ ۔( ترمذی ۔2224 )جو شخص زمین میں اللہ کے حاکم کی توہین کرے گا ۔ اللہ تعالی اسے ذلیل و رسوا کرے گا ۔
    امام ذہبی فرماتے ہیں ، یہ ابوبلال ، مرداس بن ادیتہ خارجی ہے ۔اس کی جہالت ہے کہ اس نے مردوں کے باریک کپڑوں کو فساق کا لباس شمار کیا (سیر اعلا النبلا(508/14
    قابل غور ہے کہ اس خارجی نے سب کے سامنے مسلمانوں کے حاکم پر نکیر کی ۔تو صحابی رسولﷺنے اس سے خاموش رہنے کو کہا اور بیان کیا کہ یہ حاکم کی توہین ہے ۔ اور جو ایسا کرے گا ۔ اللہ تعالی اس کو رسوا و ذلیل کرے گا ۔
    سعید بن جمہان بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ۔جو نابینا تھے ۔میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے پوچھا ،تم کون ہو ؟ میں نے کہا ،میں سعید بن جمہان ہوں ۔انہوں نے کہا ۔تمہارے والد کی کیا خبر ہے ،؟ میں نے کہا ،ازراقہ خارجی نے ان کو قتل کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا ،اللہ تعالی ازارقہ پر لعنت فرمائے ۔اللہ تعالی ازارقہ پر لعنت فرمائے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان کیا ہے ۔ انھم کلاب النار۔ وہ جہنم کے کتے ہیں ۔ سعید بن جمہان کہتے ہیں میں نے پوچھا ،صرف ازارقہ یا تمام خوارج ؟ انہوں نے جواب دیا ۔ بلکہ تمام خوارج جہنم کے کتے ہیں ۔ پھر میں نے کہا کہ حاکم بھی تو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ تو انہوں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر زور سے دبایا ۔ پھر کہا ۔ ائے ابن جہمان ! افسوس ہے تم پر ۔ سواد اعظم کو لازم پکڑو ۔ جماعت کے ساتھ ملکر رہو ۔ اگر حاکم تمہاری بات سنتا ہے ۔ تو اس کے پاس گھر میں جاؤ ۔اور جو کچھ تمہیں معلوم اس کو بتاؤ ۔ اگر وہ تمہاری بات مان لے تو بہتر ہے ۔ ورنہ اسے چھوڑ دو ۔ کیونکہ تم اس سے زیادہ نہیں جانتے ہو ۔ (اس کو احمد 19415) نے روایت کیا ہے ۔
    جو شخص حاکم وقت کی تنقیص کرتا ہے ۔ اس پر طعن و تشنیع کرکے اس کے خلاف فتنہ و فساد بھڑکاتا ہے ۔ اور لوگوں کو اس کی اطاعت سے روکتا ہے ۔ اس کے تئیں کیا کرنا واجب ہے اور ضروری ہے ۔
    اس کے بار ے میں امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
    "اس شخص کو اس قسم کے فعل سے روکنا واجب ہے ۔ اگروہ اس سے باز آگیا تو بہتر ہے ۔ ورنہ وہ سخت سزا کا مستحق ہے ۔ اور اس کو قید کر کے ۔ اس کے اور ان لوگوں کے درمیان دوری پیدا کردی جائے ۔ جن کو وہ امام وقت کے خلاف ورغلاتا ہے ۔ کیونکہ وہ ایک بہت بڑے جرم کا ارتکاب کر رہا ہے ۔ اور فتنہ و فساد بھڑکانے کی کوشش کررہا ہے ۔ جس کے سبب بہت خونریزی ہو گی ۔ عزتیں پامال کی جائیں گی ۔ (السیل الجرار ۔ 415-4)
    سلف سے کثرت سے ایسے آثار و اقوال وارد ہیں ۔ جن میں اس قسم کے کام سے منع کیا گیا ہے ۔ اور ا سکی مذمت کی گئی ہے ۔
    انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کبار صحابہ کرام ہمیں حکام کو برا بھلا کہنے سے منع کرتے تھے (اس کو ابن حبان نے الثقات 315-314/5 اور ابن البر نے التمہید 287/21 میں روایت کیا ہے ۔
    ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آدمی کا پہلا نفاق اپنے حاکم پر طعن و تشنیع کرنا ہے ۔ ابن البر نے التمہید 287/21 میں اور بیہقی نے شعب الایمان 48/7 میں روایت کیا ہے ۔
    ابوجمرہ الضبعی بیان کرتے ہیں ۔ جب مجھے بیت اللہ کے جلانے کی خبر ملی ۔ تو میں نے مکہ کا سفر کیا اور وہاں پہنچ کر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکے پاس متعدد بار گیا ۔ یہاں تک کہ انہوں نے مجھے پہچان لیا اور مجھ سے مانوس ہو گئے ۔ ایک مرتبہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حجاج کو برابھلا کہا تو انہوں نے مجھ کو اس سے منع کیا ۔ اور کہا ۔ شیطان کے مددگارمت بنو ۔ اس کو بخاری نے التاریخ الکبیر 104/8 میں روایت کیا ہے ۔
    ابو ادریس خولانی کہتے ہیں کہ حکام پر طعن و تشنیع سے بچو ۔ کیونکہ ان پر طعن و تشنیع کرنا ۔ مونڈ دینے والا ہے ۔ دین کو مونڈ دینے والا ہے ۔ بال کو مونڈنے والا نہیں ۔ یاد رکھو طعن و تشنیع کرنے والے ناکام اور سب سے برے لوگ ہیں ۔ اس کو ابن زنجویہ نے الاموال 80/1 میں روایت کیا ہے ۔

    لہذا واجب ہے کہ حاکم کو خفیہ اور پوشیدہ طور پر نصیحت کی جائے ۔ نہ کہ اس پر طعن و تشنیع کی جائے ۔ اور اسے رسواء کیا جائے ۔ سنت میں اس کی تاکید کی گئی ہے ۔
    عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ۔ "جو شخص حاکم کو کسی معاملے میں نصیحت کرنا چاہتا ہے ۔ تو علانیہ طور پر نا کرے ۔ بلکہ اس کا ہاتھ پکڑے ۔اور تنہائی میں لے جا کر اس کو سمجھائے ۔اگر وہ اس کی نصیحت قبول کرلے ۔ تو بہتر ہے ۔ ورنہ اس کے اوپر حاکم کی تئیں جو ذمہ داری تھی ۔ اسکی ادا کردی ۔ (اس کو احمد نے 15333 نے روایت کا ہے ۔
    امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ۔جس شخص کے سامنے کسی مسئلہ میں حاکم کی غلطی ظاہر ہو جائے ۔ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس کو نصیحت کرے ۔ لیکن سب کے سامنے اس کی قباحت ظاہر نہ کرے ۔ بلکہ ۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ۔ اس کا ہاتھ پکڑے اور تنہائی میں لے کر اسے نصیحت کرے ۔ اور اللہ کے حاکم کو ذلیل ورسوا نہ کرے ۔(السیل الجرار ، 556/4
    لیکن خوارج نے جب خواہشات نفس کی اتباع کی اور سنت سے دور ہٹ گئے تو انہوں نے دین میں تحریف کی ۔ اور اسے بدل کر اپنی خواہشات کے مطابق کرلیا ۔
    علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ۔ خوارج نے حکام سے جنگ کرنے ۔ اور ان کے خلاف تلوار کے ذریعہ خروج و بغاوت کرنے کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا (اغاثہ اللھفان 81/2)

    اس سے معلوم ہو اکہ حاکم پر علانیہ نکیر نہیں کی جائے گی۔ نہ اس کو برا بھلا کہا جائے گا ۔اور نہ اس کے خلاف شور و ہنگامہ اور فتنہ و فساد پھیلایا جائے گا ۔ بلکہ خفیہ طریقہ سے اسے نصیحت کی جائے گی ۔ یہی اہل حق کا جہاد ہے ۔ اگر آپ صادق و مخلص ہیں ۔ اور اپنے وطن ،اپنے حاکم اور عوام سے محبت کرنے والے ہیں ۔ تو خاموشی سے اور خفیہ طریقہ سے نصیحت کریں ۔ اور اس نصیحت سے آپ کا مقصود اللہ تعالی کی رضا کا حصول ہو ۔ جہاد یہی ہے ۔ نبی ﷺ سے جب پوچھا گیا کہ کونسا جہاد افضل ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ۔ کلمتہ حق عندامام جائر"ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا "(اس کو احمد 18828 نے روایت کیا ہے )
    اس حدیث میں غور کریں ۔نبیﷺ نے عند امام کہا ہے ۔ یعنی حق بات "حاکم کے پاس " کہنا ہے نہ کہ سٹیلائٹ پروگراموں میں ۔نہ ریڈیو کے ذریعہ ،نہ انٹرنیٹ کی ویب سائسٹوں میں ۔ نہ منبروں پر اور نہ اخبارات و مجلات میں ۔اور یہ بھی اس صورت میں جب حاکم ظالم ہو ۔لیکن جب بادشاہ یا حاکم صالح ہو ۔اورعدل وانصاف کرنے والا ہو ۔ تو اعلانیہ اور کھلے عام اس پر طعن وتشنیع اس کے خلاف کیسے پروپیگنڈہ کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے ؟

    امراء و حکام کو عزت واحترام حاصل ہے ۔اور ان کا ایک مقام و مرتبہ ہے ۔جس کے پیش نظر ان کو برا بھلا کہنا۔ ان پر تہمت و الزام لگانا ، اوران کی مصیبت و غم پر خوشی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے ۔خواہ انہوں نے بعض امور میں غلطیاں کی ہوں ۔بلکہ ان کے مقام و مرتبہ کا احترام کیا جائے گا ۔ان کو خفیہ طور پر نصیحت کی جائے گی ۔ان پر طعن و تشنیع نہیں کی جائے گی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,316
    ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ کیا ہر مسلمان حکمران کو یہ استثناء حاصل ہے۔ چاہے طرز حکومت اور ملکی قوانین جیسے بھی ہوں اسلامی یا غیر اسلامی ؟
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,860
    احادیث اور سلف کے اقوال و استدلال میں قید نہیں. عمومی بات ہے. جیسا کہ امام احمد کی روایت کے تحت وضاحت موجود ہے
     
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,316
    محترم بات سمجھنے کی ہے۔ کیا ظالم بادشاہ کے کان میں حق بات کہی جاۓ گي۔۔ بادشاہ ظالم ہے۔ وہ اپنے کان تک تو آپ کو آنے ہی نہیں دے گا۔ سامنے کہنے کا یہی مطلب ہے کہ اس کے دربار میں یا پھر جہاں موقع ملے وہیں بات کی جاۓ گی۔

    اچھا ایک اور بات بتادیں کہ اسلام میں ایک حکمران میں کونسی خصوصیات ہونی چاہییں اور حکمران کے انتخاب کا طریقہ کیا ہے۔؟
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,860
    آپ نے صرف حدیث کا اقتباس لے لیا. شرح کو چھوڑا دیا.
    ابن جہمان کو کی گئی نصیحت جب اس نے ظلم کی بات کی.اگر حاکم تمہاری بات سنتا ہے. سنائے گا اسی وقت جب پہنچے گا. اگر وہ اپنے قریب ہی نا آنے دے تو کیسے سنائے گا. یہ بھی امام احمد کی روایت ہے.

    ۔
     
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,316
    دوسری بات کا جواب بھی دے دیں۔ شکریہ
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,860
    پہلی بات کلیئر ہو گئی؟
     
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,316
    نہیں محترم ۔ گفتگو مکمل ہونے پر ہی کوئ نتیجہ نکالا جا سکے گا۔
     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,860
    جیسے آپ کی مرضی.
    امام احمد کی روایت کے تحت یہ بات بھی آئی تھی کہ اگر وہ صالح یا عادل بادشاہ ہو تو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے، گویا کہ یہ احادیث اور وضاحت ایسے حکمرانوں کے بارے میں بھی ہیں جو کہ اسلامی صفات کا حامل حاکم نا ہو.
    ۔

     
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,316
     
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,860
    جیسا کہ ماقبل گزر چکا. صحابہ کرام نےطعن و تشنیع، برا بھلا کہنے سے منع کیا ہے. اور جماعت سے خروج کو روکا ہے. یہ نہیں کہا کہ فلاں حاکم امیر کاانتخاب غلط ہوا ہے. وہ اس سے مستثنٰی ہے.حجاج بن یوسف جیسے ظالم امیر کی اطاعت کی نصیحت کی جارہی ہے. جس نے صحابہ کرام کو شہید کیا. مگر ابن عباس کہ رہے کہ شیطان کے مدد گار مت بنو.
     
  12. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,316
    جناب محترم عکاشہ صاحب( یہاں میں ایک بات کی وضاحت کردوں کہ میں جو محترم کہہ کر آپ کو مخاطب کرتا ہوں تو یہ آپ پر طنز نہیں بلکہ آپ عزت و تکریم میں ایسا مخاطب کرتا ہوں۔) ایک تو میں مذکورہ بالا سوال کا جواب چاہتا ہوں۔ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ آج کے زمانے میں ملک کا سربراہ جس قانون کے تحت چنا جاتا ہے اگر وہ قانون اس سربراہ کے خلاف بات کرنے کی مکمل اجازت دیتا ہے۔ چاہے وہ بات کسی بھی فورم یا ذرائع ابلاغ پر کی جاۓ تو کیا پھر بھی وہ شیطان کے مدد گار ہی رہیں گے۔
     
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,860
    مجھ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا. آپ جاری رکھیں..
    میری کوشش ہےکہ صرف موضوع پر بات ہو. شاید آپ اپنا من پسند جواب جاننا چاہتے ہیں. چونکہ ان احادیث اور صحابہ کے فہم سے آپ کو کوئی کام کی بات نہیں ملی..
    اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ احادیث اس وقت فائدہ مند ہوں گی. جب ایک حکمران کا انتخاب ویسے ہو. جیسا کہ آپ چاہتے ہیں. سوال یہ ہے کہ پھر حجاج بن یوسف، یزید بن معاویہ وغیرہ کے بارے میں بعض لوگوں کا اعتراض ہے آج بھی موجود ہے کہ وہ نااہل تھے. انتخاب درست نہیں ہوا. اس کے باوجود صحابہ کرام ان کی بیعت توڑنے اور ان کو برا بھلا کہنے سے منع کرتے رہے.. بلکہ جس نے ایساکیا. اس سے برات کا اظہار کیا.

     
  14. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,316
    جی عکاشہ بھائ میں بھی موضوع پر ہوں۔ اور اسی کے مطابق سوال کر رہا ہوں۔ اور یہ بھی جان لیں کہ میں اپنا من پسند جواب نہیں بلکہ آپ سے آپ کا من پسند جواب عطا کرنے کی درخواست کر رہا ہوں۔
    ایک تو اسلام کی ابتدائ چند صدیوں میں حکمران کے انتخاب کا طریقہ
    اور دوسرا
     
  15. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,860
    میں دکتور استاذ العقیدہ شیخ محمد بن غیث حفظ اللہ کے اس مضمون سے کلی طور پر متفق ہوں. میرا من پسند موضوع وہی ہوا.جو شیخ کا بیان ہے.آپ نے اپنی من پسند بیان کردی.جو کہ اس تھریڈ کا موضوع نہیں.لہذا اس پر بحث بے کار ہے.
    یہ سوال بھی غیر متعلقہ ہے.عرض ہےکہ اچھےاخلاق مسلمان کے تزکیہ اور تربیت کی بنیادی تعلیمات ہیں.ایک حاکم، امیر،کسی ادارے کا فرد سب سے پہلے ایک عام مسلمان ہوتا ہے. اس کے بنیادی حقوق ہیں.اسکے بعد وہ حاکم ہے.اگرطعن و تشیع،سب و شتم،اور عیوب بیان کرنا منع نا ہو.تو لوگوں کے دیکھا دیکھی،ان کی تقلید کرنا درست ہے؟یہ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو نہیں.جو بداخلاقی انسان کسی حال میں اپنے لیے پسند نہیں کرتا.وہ ایک معروف حاکم، امیر کے لیے کیسے جائز کر لیتا ہے.
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں