تلاوت قرآن کا اختتام کن کلمات پر کرنا چاہیئے ؟

عبد الرحمن یحیی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اگست 18, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,312
    تلاوت قرآن کا اختتام کن کلمات پر کرنا چاہیئے ؟
    قرآن کریم کی تلاوت کا اختتام ان کلمات پر کرنا مستحب ہے :

    ((سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ،لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ)).
    ” اے اﷲ ! تو اپنی تعریفوں سمیت پاک ہے ‘ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ میں تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور میں تیری ہی طرف رجوع کرنے والا ہوں ۔ “

    دلیل اس کی یہ حدیث مبارکہ ہے :

    عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : مَا جَلَسَ رَسُولُ اللهِ مَجْلِسًا قَطُّ، وَلاَ تَلاَ قُرْآناً، وَلاَ صَلَّى صَلاَةً إِلاَّ خَتَمَ ذَلِكَ بِكَلِمَاتٍ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَاكَ مَا تَجْلِسُ مَجْلِساً، وَلاَ تَتْلُو قُرْآنًا، وَلاَ تُصَلِّي صَلاَةً إِلاَّ خَتَمْتَ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ ؟
    قالَ: (( نَعَمْ، مَنْ قَالَ خَيْراً خُتِمَ لَهُ طَابَعٌ عَلَى ذَلِكَ الْخَيْرِ، وَمَنْ قَالَ شَرّاً كُنَّ لَهُ كَفَّارَةً: سُبْحَانَكَ [اللَّهُمَّ] وَبِحَمْدِكَ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ )).


    سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کہتی ہیں :

    رسول اللہ ﷺ جس بھی مجلس میں بیٹھے اور جب بھی قرآن کی تلاوت کی اور جب بھی نماز پڑھی تو آپ نے اختتام انہی کلمات کے ساتھ کیا
    تو میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ
    آپ جس مجلس میں بھی بیٹھتے ہیں اور جب بھی قرآن پڑھتے ہیں اور جب بھی نماز ادا کرتے ہیں تو اختتام اِن کلمات کے ساتھ کرتے ہیں
    آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ، جو آدمی خیر کہے گا تو یہ کلمات اس کے خیر پر مہر لگ جائیں گے اور جس نے بری یا شر والی بات کہی تو یہ کلمات اُس کے لیے کفارہ بن جائیں گے (وہ کلمات یہ ہیں :)
    سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ،لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ

    صححه الألباني في "الصحيحة" (7/495)

    دوسری روایت :
    سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَدَبِ (بَابٌ فِي كَفَّارَةِ الْمَجْلِسِ)
    سنن ابو داؤد: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان (باب: کفارہ مجلس کی دعا)
    4857 . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: كَلِمَاتٌ لَا يَتَكَلَّمُ بِهِنَّ أَحَدٌ فِي مَجْلِسِهِ عِنْدَ قِيَامِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ, إِلَّا كُفِّرَ بِهِنَّ عَنْهُ، وَلَا يَقُولُهُنَّ فِي مَجْلِسِ خَيْرٍ وَمَجْلِسِ ذِكْرٍ, إِلَّا خُتِمَ لَهُ بِهِنَّ عَلَيْهِ، كَمَا يُخْتَمُ بِالْخَاتَمِ عَلَى الصَّحِيفَةِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ.
    حکم : صحيح دون قوله ثلاث مرات

    4857 . سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے فرمایا چند کلمات ہیں جو کوئی انہیں اپنی مجلس سے اٹھتے ہوئے تین بار پڑھ لے تو یہ اس کے لیے کفارہ بن جائیں گے ‘ اور جو کوئی انہیں اپنی اس مجلس کے دوران میں پڑھ لے ‘ وہ مجلس خیر کی ہو یا ذکر کی تو یہ اس کے لیے ایسے ہوں گے جیسے کسی تحریر کو مہر بند کر دیا گیا ہو ( اس کے لیے اس کا اجر اور گناہوں کا کفارہ ہونا محفوظ ہو گا ۔ وہ کلمات یہ ہیں ) «سبحانك اللهم وبحمدك لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك»
    ” اے اﷲ ! تو اپنی تعریفوں سمیت پاک ہے ‘ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ میں تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور میں تیری ہی طرف رجوع کرنے والا ہوں ۔ “

    حدیث حاشیہ: اس روایت میں مذکورہ دُعا کو تین بار پڑھنے کی شرط صحیح نہیں
    (علامہ البانی رحمہ اللہ ) بلکہ ایک ہی بار پڑھنے سے مذکورہ فضیلت حاصل ہوجاتی ہے۔

    تیسری روایت :
    إنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم كان إذا جلس مجلِسًا أو صلَّى تكلَّم بكلماتٍ فسألتْه عائشةُ عن الكلماتِ فقال إن تكلَّم بخيرٍ كان طابِعًا عليهنَّ إلى يومِ القيامةِ وإن تكلَّم بشرٍّ كان كفَّارةً له سبحانَك اللَّهمَّ وبحمدِك لا إلهَ إلَّا أنت أستغفرُك وأتوبُ إليك
    الراوي : سیدہ عائشة أم المؤمنين | المحدث : المنذري | المصدر : الترغيب والترهيب
    الصفحة أو الرقم: 2/338 | خلاصة حكم المحدث : [إسناده صحيح أو حسن أو ما قاربهما]


    سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے تھے، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے ان کلمات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا:

    اگر تم خیر کی بات کرو تو وہ قیامت تک کے لئے اس پر مہر بن جائیں گے اور اگر کوئی دوسری بات کرو تو وہ اس کا کفارہ بن جائیں گے
    اور وہ کلمات یہ ہیں سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ

    رہا یہ قول :
    (صدق الله العظيم)
    تلاوت قرآن کریم کے اختتام پر پڑھنا تو اس کی کوئی اصل نہیں ، اسے اپنانا نہیں چاہیئے
    بلکہ یہ شریعت کے قاعدہ کے تحت بدعت شمار ہو گا ، اگر اس کا قائل اسے سنت سمجھ کر پڑھتا ہے ، اس کو ترک کر دینا چاہیئے ۔
    ابن باز رحمہ اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں