لاکھوں قربانیاں چار دن میں مگر کیسے!!!

نصر اللہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏ستمبر 18, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    لاکھوں قربانیاں
    چار دن میں مگر کیسے !!!!!
    از زین عرفان اعوان
    جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلاميه الرياض

    اللہ نے زندگی میں جہاں بہت سے مشاہدات و تجربات کو دیکھنے یا عملی طور پر کرنے اور ان سے سیکھنے کے مواقع عطا کیے وہیں امسال شعائر اللہ اور حجاج بیت اللہ الحرام کی قربانیوں کو ذبح کرتے تین دن مسلسل نگرانی کی توفیق بھی عطا کی
    اس سے قبل کئی سال وزارت شؤون اسلامیہ کے ساتھ حاجیوں کی دینی،اخلاقی و احکام الحج سے متعلقہ تربیت کا فریضہ سرانجام دیا
    مگر اس سال کا تجربہ سب سے ہٹ کر تھا اس میں آٹھ گھنٹے تک مسلسل کھڑے ہو کر جانوروں کی تعداد گنتی کرنی، ذبح ہوتے وقت شرعی لحاظ سے ذبح کروانا، گوشت کو سٹوریج کیطرف بھجوانا،مذبح خانہ کی ہر تھوڑی دیر بعد مکمل صفائی کروانا،اور اس کے علاوہ نگرانی سے متعلقہ دیگر امور شامل تھے
    اب جب اللہ نے اس عظیم خدمت کو سرانجام دینے کا موقع عطا کیا تو سوچا کیوں ناں یہ تمام معلومات آپ سب کی نظر بھی کر دوں تاکہ کچھ سیکھنے کو بھی مل سکے اور اشکالات و اعتراضات کا ازالہ بھی ہو جائے
    سعودیہ عرب میں جہاں حجاج بیت اللہ کی خدمت کے لیے بہت سے ادارے کام کرتے ہیں وہیں ایک ادارہ
    "مشروع المملكة العربية السعودية للإفادة من الهدي و الأضاحي"
    The Saudi Project for Utilization of Hajj Meat"
    http://www.adahi.org/Arabic/Pages/default.aspx

    نامی ہے یہ ادارہ "البنك الإسلامي" کے ماتحت کام کرتا ہے اور اس قربانی سے مراد "حج تمتع" اور "حج قران" کرنے والے حاجی کے ذمے لازم آنے والے قربانی ہے اور بسا اوقات کسی واجب کے رہ جانے پر دم کی صورت میں لازم ہونے والی قربانی ہے
    آپ نے حج کے دوران مختلف جگہوں پر ان کے کیبن بنے دیکھے ہوں گے جہاں پر آپ مقرر شدہ رقم جمع کروا کر قربانی کا کوپن وصول کرتے ہیں
    اور گویا کہ آپ اس ادارے کو اپنی طرف سے قربانی کرنے کے لیے وکیل بناتے ہیں جو کہ شرعا بالکل درست ہے
    پاکستان سے جو حاجی آتے ہیں ان میں بالعموم درج ذیل باتیں لاشعوری طور پر مشہور ہو جاتی ہیں
    ۱. یہاں ذبح مشین سے ہوتا ہے
    ۲. تکبیر نہیں پڑھی جاتی
    ۳. غیر مسلم بھی ذبح کرتے ہیں
    ۴. گورنمنٹ پیسے جمع کر لیتی ہے اور دیگر ملکوں میں قربانی کی جاتی ہے
    ۵. ایک ہی جانور کئی کئی حاجیوں کی طرف سے قربان کر دیا جاتا ہے
    ۶. اتنی زیادہ قربانیاں چار دن میں ممکن ہی نہیں
    ۷. جانوروں کی عمروں کا خیال نہیں رکھا جاتا
    آنے والی سطور میں ان اعتراضات کا جواب اپنے مشاہدے کی روشنی میں دینے کی کوشش کرتا ہوں
    جواب۱.تین دن لگاتار وہاں ذمہ داری ادا کرنے کے بعد دیکھا کہ وہاں ذبح کی کوئی مشین ہی نہیں تمام جانور ہاتھ سے ذبح کیے جاتے ہیں اور اس مقصد کے لیے مصر،ترکی،سوریا سے بڑی تعداد میں قصائی حضرات لائے جاتے ہیں جن کو نہ صرف رہائش اور دیگر سہولیات دی جاتی ہیں بلکے حج کے تمام انتظامات بھی ادارے کے ذمے ہوتے ہیں
    جواب۲. تمام قصائی ہر جانور کو ذبح کرتے وقت اونچی آواز سے تکبیرات پڑھتے ہیں بعض لوگوں سے یہ بھی سنا کہ بیس تیس جانوروں پر ایک ہی تکبیر پڑھ دی جاتی ہے حالانکہ یہ بات بھی غلط ہے ہر جانور پر الگ سے تکبیر پڑھی جاتی ہے
    جواب۳. تمام قصائی مسلمان ہوتے ہیں نہ صرف اس خدمت بلکے اس کے ساتھ ساتھ حج بھی کرنے آتے ہیں اور ذبح خانہ واقع بھی حدود حرم میں ہے جہاں غیر مسلم کا داخلہ منع ہے
    جواب۴.تمام قربانیاں صرف اور صرف مکہ میں ہی ہوتی ہیں ہاں فقراء مکہ میں گوشت تقسیم کے بعد اگر زائد ہو اور یقینا ہوتا ہے تو وہ دوسرے غریب ممالک میں بھیج دیا جاتا ہے
    جواب۵. ایک ادارے کی طرف سے جتنی تعداد میں نام آتے ہیں اتنے ہی جانور ذبح کیے جاتے ہیں اگر بات ایسے ہی ہوتی تو کبھی جانوروں کی تعداد لاکھوں میں نہ جاتی بلاشبہ ہر سال لاکھوں جانور حاجیوں کی طرف سے قربان کیے جاتے ہیں
    جواب۶. چار دن میں اتنی قربانیاں بالکل ممکن ہیں جب ذبح کرنے والوں کی تعداد ہزاروں اور ذبح خانوں کی تعداد سینکڑوں میں ہو تو یہ بعید نہیں.
    "مجزرة المعیصم" مکہ میں اس جگہ کا نام ہے جہاں جانور ذبح کیے جاتے ہیں وہاں کل پانچ ذبحہ خانے ہیں نمبر ایک سے چار تک میں بکرے جبکہ پانچ میں گائے کی قربانی جاتی ہے
    جس ذبحہ خانہ معیصم میں میری تعیناتی ہوئی وہ مجزرة المعيصم ۲ تھا اس میں کل چالیس ذبح خانے تھے ہر ذبح خانے میں عملے کی کل تعداد تقریبا سولہ سترہ تھی یہ مسلسل آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کرتے تھے اور پھر یہ آرام کرنے جبکہ دوسرے ڈیوٹی سرانجام دینے آ جاتے تھے ان آٹھ گھنٹوں میں ہر ذبح خانہ میں تقریبا کم از کم چار سو جبکہ زیادہ سے زیادہ سات سو تک جانور ذبح ہوتے تھے تو چالیس ذبح خانوں میں ہزاروں جبکہ تمام معیصمات کے ذبح خانوں میں کل تعداد لاکھوں میں پہنچ جاتی تھی پھر دن میں تین شفٹیں تو خود اندازہ لگائیں تعداد کہاں جاتی ہے
    مزید پوچھنے پر پتا چلا کہ بعض جگہ معیصم میں چالیس سے بھی زیادہ ذبح خانے موجود ہیں لہذا آنکھوں سے حال دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ جی بالکل اتنی قربانیاں ممکن ہیں
    جواب۷.جانوروں کی عمر یا عیبوب کا خیال رکھنے کے لیے تین نگران ہر ذبح خانے پر بیک وقت موجود رہتے ہیں ایک اس کمپنی کی طرف سے جن کی قربانیاں ہیں ایک بنک اسلامی کی طرف سے جبکہ ایک شرعی نگران جامعہ امام ریاض یا جامعہ اسلامیہ مدینہ میں پڑھنے والے طلبہ کی صورت میں بنک اسلامی کی ہی طرف سے مقرر ہوتا ہے جس جانور میں حدیث نبوی میں مذکور عیبوں میں سے کوئی پایا جائے اسے فورا واپس کر کے اس پر کراس کا نشان لگا دیا ہے جس سے وہ کسی ذبح خانے میں بھی ذبح نہیں ہو سکتا.
    اتنی بڑی تعداد میں یہ جانور صومالیہ،یمن،ایتھوپیا،اور بعض دوسرے افریقی ممالک سے جبکہ پاک و ہند سے بہت کم تعداد میں لائے جاتے ہیں جس کی وجہ میرے خیال میں یہ ہے کہ ہمارے ہاں قربانی کے جانور اچھے داموں فروخت ہوتے ہیں تین چار سو ریال تقریبا دس ہزار پاکستانی روپوں میں قربانی کے قابل بکرا ملنا ذرا مشکل ہے
    قربانی کے لیے مقرر ان معیصمات کے علاوہ بھی مکہ میں کئی جگہ پرائیویٹ طور پر قربانی کی جاتی ہے کئی ایک ایجینٹ وہاں بھی اپنے گروپ کے حاجیوں کی قربانی کا انتظام کرتے ہیں
    جو بات قابل اصلاح لگی وہ یہ کہ گوشت کی مکمل صفائی اور سٹوریج کے لیے جہاں اعلی انتظامات موجود ہیں وہیں کھالیں،پائے،کلیجی جیسی تمام اشیاء بالکل ضائع جاتی ہیں اور باقی فضلات کے ساتھ وہ بھی باسکٹ کی نظر ہو جاتی ہیں شاید کھال بچانے کے لیے قصائی کو وقت درکار ہوتا ہے جبکہ یہاں گردن پر چھری آرام سے پھرتی دکھائی دیتی اور اس کے بعد قصائیوں کی ایسی پھرتیاں کہ کچھ دکھائی نہیں دیتا اور بکرا لٹکا ہوا فریزر کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے ہم بعض اوقات گنتے تھک جاتے تھے مگر مجال ہے کہ وہ اتنی مشقت کے باوجود تھکے دکھائی دیں لہو گرمانے کے لیے تھوڑی تھوڑی دیر بعد اونچی تکبیر کی آواز سنائی دیتی ہے اور سب یک زبان ہو کر اللہ اکبر کی نداء کو بلند کرتے اور پھر سے ایک بار اپنے کام میں مگن ہو جاتے ہیں
    اللہ تعالی حجاج کی ان قربانیوں کو قبول و منظور فرمائے اور ہمیں بھی خلق خدا کی خدمت کی توفیق عطا کرتا رہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں