خطبہ حرم مکی مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے کا نقصان ۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد الحرام۔۔ 4 شعبان 1439 ھ بمطابق 19 اپریل

سیما آفتاب نے 'خطبات الحرمین' میں ‏اپریل 22, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    486
    مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے کا نقصان
    مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم
    جمعۃ المبارک 4 شعبان 1439 ھ بمطابق 19 اپریل 2018
    ترجمہ: محمد عاطف الیاس
    بشکریہ: کتاب حکمت ویب

    پہلا خطبہ

    یقیناً! تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اللہ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے:

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (آل عمران: 102)

    اسی طرح فرمایا:

    ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔‘‘(النساء: 1)

    اسی طرح فرمایا:

    ’’اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو (70) اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘ (الاحزاب: 70۔ 71)

    بعد ازاں!

    بہترین بات اللہ کا کلام ہے، بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔ ایجاد کردہ عبادتیں بدترین کام ہیں۔ ہر نئی عبادت بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ لوگو! مسلمانوں کی جماعت سے جڑے رہو کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہوتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

    ’’کہیں تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اُس روزسخت سزا پائیں گے۔‘‘ (آل عمران: 105)

    اے لوگو!

    وہ معاشرہ کہ جو ترقی کی راہ پر گامزن ہو، جس کے باشندے آپس میں پیار اور محبت سے رہتے ہوں اور جس میں اتحاد اور اتفاق بھی موجود ہو، ایسے معاشرے کے لوگوں میں لازمی طور پر پاکیزہ دل اور نیک نیتی ہو گی اور یہی ان کی ترقی اصل وجہ ہو گی۔ اچھے اخلاق دلوں میں جگہ بناتے ہیں اور دوسروں کو متاثر کرتے ہیں۔

    معاشرے دنیاوی اعتبار سے، علم، صنعت، تجارت اور تہذیبی لحاظ سے جتنی بھی ترقی کر لیں، بھر حال اگر ان میں اخلاق نہ ہو تو ان کی ترقی کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان کی مثال ایسے پہیے کی ہے جو گھومتا تو رہتا ہے مگر اس کے گھومنے کا فائدہ کسی کو نہیں پہنچتا۔

    معاشرے جب تک اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی فطرت پر قائم رہتے ہیں، یعنی اچھے اخلاق اور بھلے طریقوں پر عمل پیرا رہتے ہیں، تب تک ان میں خیر موجود رہتی ہے، بشرطیکہ ان پر ایسی چیزیں اثر انداز نہ ہو جائیں جو ان کی پاکیزگی کو ختم کر دیں، زندگی کو بے مزہ بنا دیں، اتحادواتفاق کو پاش پاش کر دیں اور معاشرے کو بکھیر دیں۔

    اسی طرح معاشرے میں اس وقت تک بھی خیر باقی رہتی ہے جب تک اس میں کالے دل اور تیز زبان والے وہ لوگ نہیں آ جاتے جوان کی وحدت کو پاش پاش کر کے ان کے اندر اختلافات کا بیج بو دیتے ہیں۔ وہ کالے دل والے کہ جن کا کام ہی لوگوں میں جھوٹی خبریں پھیلانا، لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کرنا اور افراد معاشرہ کو ایک دوسرے کے خلاف بڑھکانا ہوتا ہے۔

    جی ہاں! اللہ کے بندوں! جس معاشرے میں فساد بازی پھیل جائے اس کے اندر اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں، جس گھرانے میں آ جائے وہ گھرانہ تباہ ہو جاتا ہے اور جس دوستی میں آ جائے وہ دشمنی میں بدل جاتا ہے۔

    یہ فساد بازی ہی ہے، جو دلوں کو بھڑکاتی ہے، لڑائیوں، ناراضگیوں اور برے القاب کی آگ کو ہوا دیتی ہے۔ فساد بازی ایک ایسی بیماری ہے جس میں ملوث تمام لوگ فائدہ سے خالی رہتے ہیں۔ فساد بازی سے گھر تباہ ہو جاتے ہیں، دوستیاں چھوٹ جاتی ہیں اور معاشرے کے تمام افراد متاثر ہوتے ہیں۔

    یہ فساد بازی ہی ہے، جو نقصان دیتی ہے نفع نہیں دیتی، معاشرے کو بکھیرتی ہے، اسے قریب نہیں کرتی، زخم لگاتی ہے، زخم پر مرہم نہیں رکھتی، فساد برپا کرتی ہے، اصلاح نہیں کرتی، پریشان کرتی ہے، خوش نہیں کرتی، رلاتی ہے، ہنساتی نہیں ہے۔

    اللہ کے بندو! فساد بازی جھگڑوں کو ہوا دینے کا نام ہے، لوگوں کے دلوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا کر دشمنی اور دل کی کدورتوں کو بڑھانے کا نام ہے۔

    فساد بازی کے لفظ میں کسی قسم کی خیر نہیں ہے۔ یہ سراسر برائی ہی ہے۔ فساد بازی کی تعریف شریعت نے نہیں کی، نہ صحیح عقل کر سکتی ہے اور نہ سلیم الفطرت انسان ہی کر سکتا ہے۔ فساد بازی ہر طرح سے بری ہے، بہت بڑی بیماری ہے اور شدید ندامت کا باعث بنتی ہے۔

    فساد بازی انتہائی بری چیز ہے، اس کی طرف جس دروازے سے بھی آیا جائے وہ دروازہ ہی برا ہے۔ فساد بازی کی ابتدا لڑائی جھگڑے سے ہوتی ہے اور اس کا انجام قطع تعلقی پر ہوتا ہے۔

    اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! فساد بازی ایک شیطانی عمل ہے۔ جو بھی اس میں ملوث ہوتا ہے وہ زمین میں بہت فساد پھیلاتا ہے اور لوگوں میں بہت جھگڑے کرواتا ہے۔ فساد بازی کرنے والے سے لوگ دور بھاگتے ہیں۔ جس راستے میں فساد کرنے والا جائے، لوگ اس راستے کو چھوڑ کر کسی دوسرے راستے سے جانا پسند کرتے ہیں۔ جس مجلس میں وہ ہو، لوگ اس مجلس میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔ اگر اتفاقًا کسی مجلس میں وہ مل جائے تو لوگ اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ ایسے شخص سے سمجھ دار لوگ اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

    وہ ایسا کیوں نہ کریں، جبکہ وہ دیکھتے ہیں کہ اس نے کتنے میاں بیوی کو، کتنے ساتھیوں کو، کتنے ہمسایوں کو، کتنے شراکت کاروں کو اور کتنے دوستوں کو الگ الگ کیا ہے؟!

    اللہ کے بندو! فساد بازی کرنے والا انتہائی برا انسان ہوتا ہے، جو حسد کو اپنا قائد بنا لیتا ہے اور پھر ہر اچھی چیز کو خراب، ہر سیدھی چیز کو ٹیڑھی اور ہر مستحکم چیز کو غیر مستحکم کرنے لگتا ہے۔

    فساد بازی کرنے والے، معاشرے میں پھیلے ہوئے انگارے ہیں، جو معاشرے میں اختلافات کی آگ کو بھڑکاتے ہیں۔ ان سے قریب ہونے میں گھاٹا ہے اور ان سے دور رہنے میں کامیابی ہے۔

    فساد بازی کرنے والا گندگی خور جانوروں کی طرح ہوتا ہے جو گندگی اور فضلات کھاتے رہتے ہیں- وہ انگارے کی طرح ہوتا ہے، جس چیز پر بھی پڑتا ہے اسے جلا دیتا ہے۔ وہ اپنا نفس، وقت، دین اور اخلاص بیچ ڈالنے والا اور رضاکارانہ طور پر شیطان کے لشکر میں شامل ہونے والا ہوتا ہے۔

    جب بھی وہ نظر آئے گا، قسمیں کھاتا، طعنے دیتا اور چغل خوری کرتا نظر آئے گا۔ اگر وہ حسد کے پیچھے نہیں چلے گا تو کینہ پرور ہوگا۔ اگر کینہ پرور بھی نہ ہوگا تو دوسروں کی بدخواہی ہی اسکا قائد بن جائے گی۔

    جب تک اسے کوئی ایسی شکار نہیں ملتا جس کے ساتھ وہ خوب حسد، بغض اور نفرت کرے، تب تک اسے چین نہیں آتا۔ پھر اگر کوئی فساد باز یہ دعویٰ کرے کہ اس کی فساد بازی میں لوگوں کا بھلا ہے تو اس کا یہ دعویٰ سچا نہیں ہے، بلکہ اس کے اس دعوے پر اور اپنی نیک نیتی پر 1000 قسمیں بھی کھا لے تو بھی اس کی بات نہ مانی جائے۔

    عربی شاعر نے خوب کہا (جس کا ترجمہ ہے):

    یہ لوگ، جنہیں تم اپنا دوست سمجھتے ہو، تمہاری ہلاکت کی تمنا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو رات کے اندھیرے میں چغل خوری کے قبیح تیر چلاتے ہیں اور دن میں بڑے بیٹے بنتے ہیں۔

    اللہ کے بندو!

    فساد بازی کے خطرے کا اندازہ لگانا ہے تو یہ جان لیجئے کہ شیطان اس چیز سے تو مایوس گیا ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر اس کی عبادت کریں، اس لیے وہ لوگوں میں فساد پیدا کرنے کے لئے اپنا پورا زور لگا رہا ہے۔

    فرمان نبوی ہے:

    شیطان اس چیز سے تو مایوس ہو گیا ہے کہ جزیرہ عرب میں لوگ اس کی عبادت کرنے لگے۔ اب اس کی پوری کوشش ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان فساد پیدا کردے۔

    اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

    شیطان نے اپنے گروہ کے ساتھ مل کر خوب زور لگایا اور اپنے تمام تر حربے استعمال کئے۔ لوگوں کے ساتھ وعدے کیے اور ان کو سبز باغ دکھائے۔ حقیقت میں وہ ہے دھوکا دیا تھا مگر کچھ مریض النفس لوگ اسکی چالوں میں آگئے اور انہوں نے برے اخلاق کو اپنا لیا اور رضاکارانہ طور پر ابلیس کے لشکر میں شامل ہوگئے۔ پھر انہوں نے شیطان کے ساتھ ایک وعدہ کیا کہ وہ تین چیزوں پر قائم رہیں گے۔ ایک غیبت، دوسری چغل خوری اور تیسری بہتان بازی۔ ان تینوں چیزوں سے انہوں نے اللہ کے بندوں کو نشانا بنایا اور ان کے درمیان بغض اور عداوت پیدا کردی۔ اس طرح انہوں نے دوست کو دشمن بنا دیا اور میاں بیوی کو الگ کر دیا۔ بھلا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظلم اور جھوٹ ہو سکتا ہے؟

    دین اسلام نے فساد بازی کی راہ بند کی ہے۔ اس سے منع کیا گیا ہے اور اسے خیانت کی ایک قسم شمار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی بیویوں کے متعلق فرمایا:

    ’’وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجیت میں تھیں، مگر انہوں نے اپنے ان شوہروں سے خیانت کی۔‘‘ (التحریم: 10)

    اس آیت میں جس خیانت کا ذکر ہے اس سے مراد زنا نہیں ہے۔ انبیاء کرام کی بیویاں ایسی چیز میں ملوث نہیں ہوسکتیں۔ اس آیت میں آنے والی خیانت سے مراد، جیسا کہ ابن عباس، عکرمہ، مجاہد اور دیگر علماء نے بیان فرمایا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ نوح علیہ السلام کی بیوی نوح علیہ السلام کے راز جانتی تھی۔ وہ دشمنان حق کو آپ کے راز پر مطلع کر دیتی تھی۔ جب بھی کوئی شخص ایمان قبول کرتا تو وہ قوم کے سر کشوں کو اس کے متعلق بتا دیتی۔

    اسی طرح لوط علیہ السلام کی بیوی اپنی قوم کے برے لوگوں کو ان مہمانوں کی خبر دے دی تھی جو لوط علیہ السلام کے پاس آتے تھے۔

    اللہ کے بندو! یہی تو وہ فساد بازی ہے جسے اللہ تعالی نے خیانت کا نام دیا ہے۔ خیانت منافقوں کی صفت ہے۔ رسول اللہﷺ نے منافقوں کی صفات بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ:

    اور جب اسے امانت دی جاتی ہے تو وہ اس میں خیانت کرتا ہے۔

    اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

    اللہ تعالی نے اپنے کلام میں منافقین کے متعلق فرمایا:

    ’’اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے اندر خرابی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے وہ تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے، اور تمہارے گروہ کا حال یہ ہے کہ ابھی اُس میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اُن کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔‘‘ (التوبہ: 47)

    اللہ کے بندو!

    رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

    ابلیس اپنا عرش پانی پر رکھتا ہے، پھر اپنے دستوں کو بھیجنے لگتا ہے۔ جو شیطان سب سے بڑا فتنہ برپا کرتا ہے وہ ابلیس کے قریب ترین ہوتا ہے۔ ایک شیطان آ کر کہتا ہے: میں نے ایسا اور ایسا کر دیا۔ تو ابلیس اسے کہتا ہے: تو نے کچھ نہیں کیا۔ مگر جب کوئی شیطان آ کر یہ کہتا ہے کہ میں نے اسے تب تک نہیں چھوڑا جب تک میں نے اسے اپنی بیوی یا شوہر سے الگ نہیں کرا دیا۔ تو ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے: تیری کیا بات ہے!

    اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

    اسلام نے اجتماعیت کا تصور دیا ہے اور اسے اپنانے کی خوب ترغیب دلائی ہے۔ اسلام نے ہر اس راستے سے روکا ہے جو لوگوں کی اجتماعیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ چنانچہ میاں اور بیوی اور خادم اور مالک کے درمیان فساد برپا کرنے کوشش کرنے سے منع کیا ہے۔ جو ایسے کام میں پڑتا ہے اس کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے راستے سے ہٹا ہوا ہے۔

    امام ابو داؤد نے اپنی کتاب سنن ابی داؤد میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    جو کسی عورت کو اپنے خاوند کے خلاف کرتا ہے یا کسی غلام کو اپنے مالک کے خلاف کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

    انسان کے دین اور ایمان پر اتنا تباہ کن اثر اور کوئی چیز نہیں ڈالتی جتنا تباہ کن اثر فساد بازی کا ہوتا ہے۔ اس میں ملوث ہونے والا گویا کہ رضا مندی اور اپنی خوشی کے ساتھ اپنے دین کو اپنے ہاتھوں سے تباہ کررہا ہوتا ہے۔

    رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

    کیا میں آپ کو روزوں، نماز اور صدقہ سے بہتر درجے کی چیز نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام نے کہا: جی ہاں! کیوں نہیں اے اللہ کے رسول!؟ آپ نے فرمایا: لوگوں کے تعلقات کا درست رہنا- لوگوں کے باہمی تعلقات کا بگڑنا تو مونڈ دینے والی چیز ہے یعنی جو دین کو ختم کر دیتی ہے- اسے امام ابو داؤد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے-

    عطاء بن سائب فرماتے ہیں: میں مکہ گیا تو مجھے امام شعبی ملے۔ انہوں نے مجھے کہا: اے ابو یزید! جو باتیں آپ نے سن رکھی ہیں ان میں سے کوئی اچھی بات ہمیں بھی سنائیں۔ میں نے کہا: میں نے عبد اللہ بن ثابت کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ: مکہ میں کوئی قاتل، سود خور اور چغلی کرنے والا نہیں رہ پائے گا۔ مجھے تعجب ہوا کہ انہوں نے چغل خور کو قاتل اور سود خور کے برابر کر دیا ہے۔ اس پر امام شعبی نے مجھے کہا: اس میں کیا عجیب بات ہے؟ قتل اور اس جیسے بڑے بڑے جرائم کی وجہ چغل خوری ہی تو ہوتی ہے۔

    لا الٰہ الا اللہ! اللہ کے بندو! دل کی پاکیزگی کتنی اہم ہے! لا الٰہ الا اللہ! اللہ کے ہاں کینہ اور حسد سے پاکیزہ دل کی کتنی اہمیت ہے۔ ایسے دل والا جب دو دوستوں کو دیکھتا ہے تو ان کی دوستی سے اسے خوشی ملتی ہے، جب میاں بیوی کو دیکھتا ہے تو ان کے لئے برکت کی دعا کرتا ہے۔ ایسے دل والا دوسروں کے لئے بھی وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لئے کرتا ہے۔

    اللہ کے بندو! اس چیز میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ اگر چھوٹے گناہ سے منع کر دیا جائے تو بڑا گناہ تو زیادہ سختی سے منع ہو گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جانوروں کے درمیان فساد پیدا کرنے اور انہیں آپس میں لڑانے سے منع کیا ہے۔ اسے امام ابو داؤد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

    تو اگر بے عقل اور غیر مُکَلَّف جانوروں کے متعلق یہ حکم ہے تو بھلا انسانوں کے متعلق کیا حکم ہوگا کہ جنہیں اللہ تعالی نے اپنی بہت سی مخلوقات پر تفضیل بخشی ہے۔

    اللہ کے بندو! اتحاد و کو بکھیرنے والے، گھروں کو توڑنے والے، گھرانوں کو ختم کرنے والے، دوستیوں کو پاش پاش کرنے والے، شریکوں کا ساتھ چھڑوانے والے، آقا اور غلام کے درمیان فساد برپا کرنے والے سے بچ کر رہیے۔ یہ شیطان کا وہ حملہ ہے جس سے کوئی نہیں بچ پاتا۔ اسی کی وجہ سے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے والد کی گستاخی کی، اپنے بھائی کو کنویں میں پھینکا اور ان کا والد نابینا ہوا۔ ان نقصانات کی وجہ کو یوسف علیہ السلام نے مختصر انداز میں یوں بیان کیا:

    ’’آپ لوگوں کو صحرا سے لا کر مجھ سے ملایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔‘‘ (یوسف: 100)

    اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم میں برکت عطا فرمائے۔ آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ میں نے جو کچھ کہا وہ آپ نے سن لیا۔ اگر درست کہا تو اللہ کی طرف سے اور اگر غلط کہا تو میرے نفس اور شیطان کی وجہ سے۔ میں اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگیے اور اسی کی طرف رجوع کیجیے۔ یقینا میرا رب معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ!

    اللہ کے احسانات پر اس کی تعریف بجا لاتا ہوں اور اس کی توفیق اور نوازشوں پر اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔

    بعد ازاں!

    اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! خوب جان رکھو کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو فساد بازی کی تمام شکلوں سے پاک رکھے۔ مسلمان کو فساد بازی کا ایندھن نہیں بننا چاہیے، فساد بازی پر زبان یا دل سے راضی بھی نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ راضی ہونے والا برائی کرنے والے جیسا ہی ہوتا ہے۔ سمجھدار وہ ہے جو فساد بازی سے اس طرح دور رہتا ہے جیسے صحت مند انسان منتقل ہونے والی بیماری کے شکار لوگوں سے بھاگتا ہے، جو اپنے دین کی حفاظت کرتا ہے اور جو دین کے فساد سے اور اخلاق کی تباہی سے دور رہتا ہے۔

    فساد بازی اُس معاشرے میں کامیاب نہیں ہو سکتی جس کی محفلوں میں عام طور پر لوگ اچھی باتیں کرتے ہوں۔ کیونکہ اچھی باتوں اور فساد بازی میں اتنا تضاد ہے کہ یہ ایک ساتھ ایک ہی جگہ میں موجود نہیں ہوسکتیں۔ اللہ کا فرمان ہے:

    ’’اور اے محمدؐ، میرے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘ (الاسراء: 53)

    تاریخ میں یہ بیماری تقریبا ہر معاشرے میں پائی گئی ہے۔ لیکن مختلف معاشرے اس حوالے سے مختلف ہیں۔ کسی میں یہ بیماری بہت زیادہ رہی اور کسی میں بہت کم۔ فساد بازی کی بیماری ایسی بیماری ہے جو اپنے حملوں میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب تک اسے زرخیز زمین نہ مل جائے۔ اس بیماری کے لیے زرخیز ترین زمین وہ معاشرہ ہے کہ جس میں لوگ ہر بات پر کان دھرتے ہوں۔ ہر سنی سنائی بات پر تحقیق کیے یا سوچے سمجھے بغیر ہی کان دھر لیتے ہوں۔

    اگر فساد بازی کرنے والوں کو ان کی باتون پر دھیان دینے والے کان نہ ملیں تو وہ لوگوں کو ہلاک کرنے، انہیں بکھیرنے بکھیرنے اور ان کے درمیان بغض اور عداوت پیدا کرنے میں ناکام ہو جائیں۔ اللہ تعالی نے سچ فرمایا:

    ’’وہ تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے، اور تمہارے گروہ کا حال یہ ہے کہ ابھی اُس میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اُن کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔‘‘ (التوبہ: 47)

    اگر فساد بازی کی برائی میں صرف یہ بات ہوتی کہ یہ یہودیوں کی صفت ہے کہ جن پر اللہ کا غضب ہوا تھا تو یہی اس کی برائی کے لئے کافی تھا۔ فرمان الٰہی ہے:

    ’’یہ جھوٹ سننے والے اور حرام کے مال کھانے والے ہیں۔‘‘ (المائدہ: 42)

    ہر سننے والے کو چاہئے کہ وہ سنی سنائی بات پر اعتبار کرنے سے پہلے تحقیق کر لے۔ کسی خبر کی حقیقت جاننے سے پہلے اس کی بناء پر کوئی فیصلہ نہ کرے۔ ہر سنی سنائی بات پر یقین کرنا بیوقوفی کی علامت ہے اور پہلی مرتبہ سنی ہوئی چیز کو بغیر غور کے مان لینا بھی غفلت کی علامت ہے۔

    کسی چیز کو دیکھتے یا سنتے ہی فورًا اس پر یقین نہ کرلیا کرو کیونکہ جب صبح نکلتی ہے تو پہلے صبح کاذب آتی ہے۔

    مسلمان افراد اور جماعتوں کی سلامتی کا طریقہ بھی یہی ہے کہ وہ فساد برپا ہونے سے پہلے ہی اس کا راستہ روک دیں، اس کا رستہ مکمل ہونے سے پہلے ہی اسے بند کردیں۔ اس معاملے میں نبی اکرم ﷺ کا طریقہ اختیار کریں۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:

    کوئی شخص مجھے میرے صحابہ کے بارے میں کوئی بات نہ بتائے، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں آپ کے پاس آؤں تو میرا دل سب کے لیے صاف ہو۔

    اسے امام احمد اور امام ابو داؤد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

    وہ شخص جو آپ کو دوسروں کے متعلق ایسی چیزیں بتاتا ہے جو آپ کو اچھی نہیں لگتیں وہ شخص آپ کا خیر خواہ نہیں ہے۔ عربوں کی کہاوت کا ترجمہ ہے: جو چغل خور کو اپنا مُخبر بنا لیتا ہے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ جو آپ کو بری چیز کی خبر دیتا ہے وہ آپ کا برا چاہتا ہے۔

    ایک شخص ولید بن عبد الملک علیہ رحمۃ اللہ کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ میں آپ کو ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ: اگر نصیحت ہے میرے لئے ہے تو کر دو اور اگر کسی دوسرے کے لئے ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے کہا: میرا ہمسایہ مجھ پر زیادتی کرکے بھاگ گیا ہے۔ انہوں نے کہا: اس بات سے پتہ چل رہا ہے کہ تم اچھے ہمسائے نہیں ہو۔ اگر چاہو تو ہم تمہارے کے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیجتے ہیں وہ دیکھیں گے، اگر تم سچے ہوئے تو ہم تمہارا پیسہ لوٹا دیں گے اور اگر تم جھوٹے ہوئے تو ہم تمہیں سزا دیں گے، اور اگر تم چاہو تو تمہیں یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ شخص نے کہا: بلکہ مجھے یوں ہی چھوڑ دیجئے۔

    شیطان اس سے مایوس ہو گیا ہے کہ لوگ اس کی عبادت کریں، اس لیے وہ لوگوں میں فساد برپا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس نے اپنا عرش بنایا اور اپنے دوستوں کو بھیجا۔ سب نے مل کے لوگوں میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی اور وہ بہت سے لوگوں کے درمیان فساد برپا کرنے میں کامیاب بھی ہوگیا۔

    درود وسلام بھیجیے سب سے بہتر انسان، سب سے افضل مخلوق، محمد بن عبد اللہ، حوض کوثر والے اور لوگوں کی سفارش کرنے والے رسول پر۔ اللہ تعالی نے آپ کو قرآنی کریم میں یہ حکم دیتے ہوئے پہلے اپنا ذکر کیا ہے، پھر اپنی تسبیح بیان کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا ہے، پھر آپ کو اے مومنو! کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ رب ذو الجلال نے فرمایا:

    ’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ (الاحزاب : 56)

    اے اللہ! روشن اور پاکیزہ چہرے والے رسول پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرما۔ خلفاۓ راشدین اربعہ، ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہوجا۔ تمام صحابہ کرام سے، تابعین عظام سے اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہوجا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنا خاص فضل و کرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا!

    اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ شرک اور مشرکین کو رسوا فرما۔ اے اللہ! اپنے دین، اپنی کتاب، سنۃ نبی ﷺ اور اپنے مومن بندوں کی مدد فرما۔

    اے اللہ! پریشان مسلمانوں کی پریشانیاں دور فرما۔ مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبتیں دور فرما۔ قرض داروں کے قرض ادا فرما۔ اے ارحم راحمین! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما۔

    اے اللہ! اے پروردگار عالم! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما۔ ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما۔ ہماری حکمرانی ان لوگوں کے ہاتھ میں دے جو تجھ سے ڈرنے والے اورپرہیزگار ہوں۔

    اے اللہ! ہمارے حکمران کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے زندہ و جاوید! اے اللہ! یا ذا الجلال والاکرام! اس کی کابینہ کی اصلاح فرما۔ اے اللہ! اے زندہ جاوید! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں ملک اور قوم کی فلاح وبہبود ہے۔

    اے اللہ! ہمارے نفس کو پاکیزہ کردے۔ اسے پرہیز گار بنا دے۔ تو ہی اسے پاکیزہ کرنے والا ہے اور ہمارے نفس کا پروردگار ہے۔

    اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما۔ اے اللہ! جن کی وجہ سے ستائے جانے والے مسلمانوں کی ہر جگہ مدد فرما۔

    اے اللہ! اے رب ذو الجلال! سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوانوں کی مدد فرما! انہیں اپنے اور ان کے دشمن پر غلبہ نصیب فرما۔ اے اللہ! اے زندہ وجاوید! انہیں ثابت قدمی عطا فرما اور انکے دلوں کو مضبوط فرما۔

    ’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں ۔اور سلام ہے مرسلین پر اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘ (الصافات: 180 ۔182)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    جزاک اللہ خیرا سس!
    بے شک آج کا بڑا فتنہ یہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان فساد پیدا کرکے انہیں کمزور بنایا جائے۔ اور یہ ذمہ داری نہ صرف علمائے کرام کی ہے کہ امت میں اتحاد قائم رکھا جائے بلکہ ہر ذی شعور مسلم کا بھی فرض ہے کہ قرآن و سنت کو اپناتے ہوئے فرقہ وارانہ اختلافات سے اپنے آپ کو بچائے رکھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  3. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    486
    درست فرمایا آپ نے ۔۔ جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    753
    اللہ تعالی مترجم اور ناشر کو جزائے خیر سے نوازے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...
Similar Threads
  1. زبیراحمد
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    175
  2. حافظ عبد الکریم
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    724
  3. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    376
  4. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق
    جوابات:
    4
    مشاہدات:
    698
  5. عائشہ
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    364

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں