" وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا"

سعیدہ شیخ نے 'ماہِ ربیع الاوّل' میں ‏نومبر 14, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سعیدہ شیخ

    سعیدہ شیخ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    79
    ▪ وَمَآ اَرْسَلْنَاكَ اِلَّا رَحْـمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ

    "اور ہم نے تو تمہیں تمام جہان کے لوگوں کے حق میں رحمت بنا کر بھیجا ہے%۔
    (۲۱ : ۱۰۷)

    ▪ فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَ لَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ.

    "(اے پیغمبرﷺ!) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ اگر تم تندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گرد و پیش سے چھٹ جاتے"۔ (اٰلعمران ۳ : ۱۵۹)


    نبی اکرمﷺ کے کردار سیرت، خصوصیات اور صفات کے حوالے سے جتنی باتیں لکھی اور کہی جاتی ہے، وہ ایک لا متناہی سلسلہ ہے کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کہاں ختم کیا جائے۔ اور قرآن مجید میں جابجا اس کا ذکر اور تذکرہ ہے۔ آپ کی رحمت، شفقت، خیر خواہی اور لوگوں کے درد میں تڑپنے والے، انہی کے غم میں گھولنے والے اور انہیں راہ راست پر لانے کے لئے بے چین اور بے قرار رہتے تھے۔گویا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے آپﷺ کے اندر نرمی ڈال دی تھی جو لوگوں کی توجہ کا مرکز اور انھیں جذب و انجذاب کے مراحل سے گزارنے کا باعث بنی۔ آپ کی پوری ۲۳ سالہ زندگی کے واقعات اس سے عبارت ہے۔ آپ کا کارنامہ حیات ہر دور اور ہر وقت کے لئے مشعل راہ ہے۔ ہر سال ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی مسلمانوں میں خوشی اور مسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ امت اپنے محسن اور آقا ﷺ سے اپنی نسبت کو اجاگر کرنے، آپﷺ کے دامن سے ازسر نو وابستہ ہونے، آپﷺ کی سنتوں کو اپنانے اور آپﷺ کی شریعت مطہرہ کو جدوجہد کا عنوان بنانے کے لیے پوری اُمت میں بیداری کی لہر دوڑ جاتی ہیں۔ اس لئے کہ رسول ﷺ تمام جہاں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

    جس طرح طلوع آفتاب کے ساتھ ہی ساری تاریکی غائب ہو جاتی ہے۔ اس لئے کہ سورج کی کرنیں پوری کائنات کے ذرہ ذرہ کو منور کرتی ہے۔ ربیع کے معنی ہی بہار کے ہیں۔ اور جس طرح بہار کے آغاز کے ساتھ ہی سوکھی ٹہنیاں اور ٹنڈ منڈ شاخوں سے نئ نئ سر سبز کونپلیں پیدا ہوتی ہے۔ ہر طرف رنگ برنگ سر سبز وشاداب کونپلیں شگوفیں نکلتی ہے۔ بالکل اسی طرح جب روئے زمین پر گناہوں کا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا، جب انسانیت ظلم وجور کی چکی میں پس رہی تھی، جب ظالموں کو انکے ظلم سے روکنے والا کوئی ھاتھ نہیں اٹھ رہا تھا، جب یتیموں مسکینوں بیواؤں کا کوئی پرسان حال نہ تھا، روتی بلکتی، سسکتی انسانیت کو کسی ملجا اور ماوی کا انتظار تھا ایسے میں اللہ کو زمین والوں پر رحم آتا ہے اور اللہ تعالی نے اپنے آخری رسول کریم محمد ﷺ کو اپنی رسالت کے لئے منتخب فرما یا تاکہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر بندوں کے رب کی طرف بلایا جائے۔

    محمد رسولﷺ انسانوں کے لئے نجات دہندہ بن کر آئے سب سے پہلے انسان کو اللہ کی ذات کا واضح تصور پیش کر کے اس کی معرفت لوگوں کے دلوں میں ڈالی ورنہ انسان گمراہی میں اللہ کی ذات صفات اختیارات اور حقوق میں کئی باطل معبود کو شریک ٹھہرا چکا تھا۔ ہر فردکی آزادی اور انسانی جان کااحترام ایک مستقل قدرٹھری جسے کسی حالت میں بھی پامال نہیں کیاجاسکتا۔ آپ کی دعوت دلوں کو مسخر کر گئی۔ اسی لئے غلام، بے بس، مجبور ہونے کے باوجود آپ کی دعوت پر لبیک کہا اور تمام صعوبتیں سہہ کر بھی ایمان پر قائم رہے جن میں سُمَیّہ، یاسر ، بلال، خباب بن الأرت اور عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنھم) جیسے لوگ شامل تھے۔

    عورتوں کو جینے کا حق دیا ان کو مقام مرتبہ اور عزت و احترام عطا کیا۔ ورنہ لڑکیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ جوئے میں ہارنے پر عورتوں کو داؤ پر لگادیا جاتا تھا۔ عورتوں کی کوئی وقعت نہیں تھی۔ بلکہ لڑکیوں کے ساتھ حسن سلوک، عورتوں کے ساتھ بھلائی اور ماں کے قدموں کے نیچے جنت، ان سارے اعمال کو ایمان سے جوڑ دیا گیا۔ اور خوشخبری کی بشارت دی گئی۔

    جیمز اے مشنر ( 1907-1997 صدارتی انعام یافتہ امریکی لکھاری) : محمد، پر اثر انسان! جس نے اسلام کی بنیاد رکھی۔ 570 عیسوی میں ایک ایسے عرب قبیلے میں پیدا ہوا جو بتوں کی پوجا کرتا تھا۔ پیدائش کے وقت یتیم ہوا۔ وہ ہمیشہ غریبوں، ضرورت مندوں، بیواﺅں اور یتیموں، غلاموں اور مظلوموں کا خیال رکھتا تھا۔ بیس سال کی عمر میں وہ ایک کامیاب کاروباری شخص بن گیا اور جلد ہی وہ ایک بیوہ خاتون کے کاروان کا مسئول بن گیا۔ پچیس سال کی عمر میں اس کی مالکہ کو اس کی خوبیوں کا اندازہ ہو گیا اور اس نے انھیں شادی کا پیغام بھیجا۔ اگرچہ وہ خاتون ان سے پندرہ سال بڑی تھی، اس کے باوجود محمد نے ان سے شادی کی اور جب تک ان کی بیوی زندہ رہیں وہ ان کے باوفا شوہر رہے۔

    اپنے سے ماقبل کے ہر پیغمبر کی مانند محمد نے اپنی ناقابلیت کا احساس کرتے ہوئے خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے اپنی حیا سے مقابلہ کیا، لیکن فرشتے نے کہا کہ پڑھو، جہاں تک ہمارے علم میں ہے محمد لکھنا اور پڑھنا نہیں جانتے تھے، لیکن انھوں نے ان عظیم الفاظ کی ترجمانی شروع کی جنھوں نے بہت جلد دنیا کے ایک بڑے حصے میں انقلاب برپا کر دیا۔ یعنی” خدا ایک ہے“۔محمد ہر عمل میں مستحکم طریقے سے حقیقت پسند تھے۔ جب ان کے بیٹے ابراھیم کا انتقال ہوا تو اسی وقت گرہن لگا۔ چہ مہ گویاں ہونے لگیں کہ خدا اس موت سے نالاں ہوا ہے۔ جب کہ محمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے کہا کہ ”گرہن ایک قدرتی امر ہے اسے کسی فرد کی موت یا زندگی سے ملحق کرنا بے وقوفی ہے۔“

    ڈبلیولائٹرر“ لکھتے ہیں: عورت کو جو تکریم اور عزت محمد ﷺ اور اسلام نے دی وہ مغربی معاشرے اور دوسرے مذاہب اسے کبھی نہ دے سکے۔اور نہ ہی دے سکتے تھے"۔

    بعثت کے بعد رسول اللہ نے کشت و خون اور قتل و غارتگري، اور ناانصافي کو قسط و عدل و مساوات اور مواسات ميں بدل دياـ مساوات اس لحاظ سے کہ انسان اللہ کي بارگاہ ميں برابر ہيں، اور کالے اور گورے ميں فرق نہيں ہے،اور مواسات کے معني ايثار کے ہيں جس سے مراد يہ ہے کہ انسان اپني دولت، اپنے لباس اور اپنے کھانے ميں سے دوسروں کو بھي دے، اور قرآني حکم کے مطابق اپني آمدني ميں غرباء کے لئے بھي ايک حصہ قرار دے، اور صدقہ و خيرات ادا کرےـ چنانچہ نيچ اور کمزور سمجھے جانے والوں کو اسلام نے انسانيت کا درجہ ديا، اور سياہ غلاموں کو مکہ اور مدينہ کے کافر و مشرک امراء اور رؤساء پر فوقيت دي،اور مسلمان سرداروں کے برابر لا کھڑا کيا۔ پست قبيلوں اور غلاموں کو باعزت معاشرتي درجہ ديا گيا۔

    آپ رسول ﷺ کی آمد نوع انسانی کے لئے باعث رحمت اور باعث خیر ہے. اور آپ مکارم اخلاق کے اعلی درجہ پر فائز تھے۔اس وقت بھی حتی کہ آپ کا دشمن بھی آپ کی صداقت اور شرافت کا اقرار کرتے تھے۔ ابو جہل کہتا تھا کہ اے محمد میں تمہیں جھوٹا نہیں کہتا بلکہ اس قران کا انکار کرتا ہوں۔ آج بھی کئی غیر مسلم اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے اپنےپاکیزہ اخلاق اور کردار سے لوگوں کے دلوں کو فتح کیا.

    پروفیسر راما کرشنا راؤ(1932فلسفی، استاد، محقق اور لکھاری) : ایک ایماندار آدمی خدا کے اعلی ترین کاموں میں سے ہے اور محمد ایمانداروں سے کچھ بڑھ کر تھا۔ وہ ہڈیوں کی مخ تک کامل انسان تھا۔ انسانی ہمدردی، انسانی محبت اس کی روح کا ترانہ تھا۔ انسانوں کی خدمت کرنا، انسانوں کو عروج بخشنا، انسانوں کو خالص کرنا، انسان کو تعلیم دینا بلکہ یوں کہا جائے کہ انسان کو انسان بنانا ان کے مشن کا ہدف تھا۔ فکر، گفتار اور کردار میں انسانیت کی فلاح ان کا واحد غریضہ اور بنیادی اصول زندگی تھا۔

    سیرت رسول ﷺ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ کہنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ محمد ﷺ واقعی تاقیام قیا مت پو ری انسانیت کے لئے واحد نجات دہندہ ہیں ۔جارج برنارڑ شاہ نے کہا تھا کہ مستقبل میں اگر کوئی مذہب یورپ میں داخل ہوسکتا ہے تو وہ اسلام ہے۔ جارج برنارڑ شاہ کا کہنا ہے کہ ’’اگر محمد ﷺ کو دنیا کا ڈکٹیٹر بنایا جائے تو ساری دنیا سے جنگ و جدل کا خاتمہ ہوجائے گا ،کہیں کوئی مسئلہ باقی نہ رہے گا ‘‘۔

    سٹینلی لین پول (1854-1931برطانوی ماہر آثار قدیمہ، استاد) : وہ ایک خدا کا سچا نمائندہ تھا، جس نے اپنی زندگی کی ابتدا سے انتہا تک کبھی فراموش نہیں کیا کہ وہ کیا ہے۔ لینن نے کہا تھا کہ اگر محمدؐ خدائی کا دعوی کرتا تو میں انہیں سجدہ کرتا ۔

    میچل ایچ ہارٹ(1932آرتھوفززسٹ، مولفThe 100) : مایکل ایچ ہارٹ نے جب دنیا کی بہترین ۱۰۰ شخصیتوں کی درجہ بندی کی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے درجہ پر رکھا ۔وہ لکھتے ہیں کہ ’’بہت سے لوگوں کو حیرانی ہوگی کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلا نمبر کیوں دیا، کیوں کہ مجھے یہ شخص مذہبی نقطہ نظر سے بھی اور سیکولر محاذپر بھی ایک مکمل اور لاجواب انسان نظر آیا ۔

    رسولﷺ کے امتی کی حثیت سے ہمیں بھی اسی طرح کا اخلاق، کردار اور سیرت کو اپنانا ہوگا۔ اور ان کے مشن کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا ہوگا۔ انہوں نے جو پیغام دیا اس پیغام کو لے کر اٹھنا ہوگا ۔ اور ہر دل پر دستک دینا ہوگا۔ اگر ہمیں رسولﷺ سے محبت ہے تو اس کا حق ادا کرنا ہوگا۔ اور ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں رسولﷺ کو اپنا قائد اور رہبر تسلیم کرکے ان کی اطاعت کی جائے۔ اس لئے کہ امت کا دامن قیادت سے خالی ہو ہی نہیں سکتا جس امتی کے پاس حضور ﷺ جیسی ذات و کردار کے نقوش موجود ہوں۔ اے اللہ! ہمیں آنحضور ﷺ کی سچی اور عملی محبت نصیب فرما- آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    جزاكِ الله خيرا

    اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد، اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں