تقلید کے ضمن میں

زبیراحمد نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏دسمبر 18, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ضروری ہوگاتقلیدکے بارے میں جاننے کے لئے کہ اس کے معنیٰ ومفہوم اورتعریف سب سے پہلے بیان کی جائے تقلید کے لفظ قلادہ سے نکلا ہے باب تفعیل سے "قلد قلادۃ" کے معنیٰ ہار پہننے کے ہیںصحیح بخاری میں القلائداوراستعارۃ القلائدکے مستقل ابواب قائم کیئے ہیں جن میں ہارپہنے اورضرورت کے وقت عورتوں کاایک دوسرے سے ہار مانگنے کاتذکرہ ہے؛ چنانچہ خود حدیث میں بھی "قلادہ" کا لفظ "ہار" کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: "اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً"۔ ’’انہوں نے حضرت اسماءؓ سے ہار عاریۃً لیا تھا‘‘۔ (بخاری، كِتَاب انِّكَاحِ،بَاب اسْتِعَارَةِ الثِّيَابِ لِلْعَرُوسِ وَغَيْرِهَا،حدیث نمبر:۴۷۶۶)
    ’’حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلاَدَةً، فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلاَةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ‏.‏ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ، إِلاَّ جَعَلَ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجُعِلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةٌ‏‘‘۔ ’’مجھ سے عبید بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہانہوں نے (اپنی بہن) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریۃ ًلے لیا تھا، راستے میں وہ گم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے کچھ آدمیوں کو اسے تلاش کرنے کے لئے بھیجا۔ تلاش کرتے ہوئے نماز کا وقت ہو گیا (اور پانی نہیں تھا) اس لئے انہوں نے وضو کے بغیر نماز پڑھی۔ پھر جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے تو آپ کے سامنے یہ شکوہ کیا۔ اس پر تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے عائشہ ! اللہ تمہیں بہتر بدلہ دے، واللہ ! جب بھی آپ پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے تم سے اسے دور کیا اور مزید برآ ں یہ کہ مسلمانوں کے لئے برکت اور بھلائی ہوئی‘‘۔ (صحیح البخاری: كِتَاب النِّكَاحِ، بَاب اِسْتِعَارَةِ الثِّيَابِ لِلْعَرُوسِ وَغَيْرِهَا، رقم الحدیث ۴۷۶۶، شامله، موقع الإسلام)
    ’’حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ "طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ وَاللُّؤْلُؤَ وَالذَّهَبَ"‘‘۔ ’’حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم حاصل کرنا ہر مسلمان مردو عورت پر فرض ہے؛ اور نااہل (بےقدر) لوگوں کے سامنے علم پیش کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جوسؤر کے گلے میں جواہرات، موتی اورسونےکےہار ڈالے‘‘۔ (سنن ابن ماجه: ج۱، کتاب السنۃ، أَبْوَابُ فِی فَضَائِلِ أَصَحَابِ رَسُولِ اللَّهِ، رقم الحدیث۲۲۴)
    مندرجہ بالا حدیث سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ ’’مقلد‘‘ کے معنیٰ ہار پہننے والے کے ہیں اور ساتھ یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتاہے کہ یہ ہار خنزیروں کےگلے میں ڈالنے لائق نہیں۔ کیونکہ خنزیروں کو اس کی قدرمعلوم نہیں۔
    مشہورلغوی امام علامہ قرشیؒ فرماتے ہیں: "تقلید درگردن افگندن حمیل وغیرآن کَسے"۔ ’’تقلید کے معنیٰ کسی کے گلے میں ہار وغیرہ ڈالناہے‘‘۔ (صراح: ص۱۴۳، طبع مجیدی کانپور)
    علامہ محمد بن أبی بكر بن عبد القادر الرازی (متوفی ۶۶۰ھ) لکھتے ہیں: ’’(الْقِلَادَةُ) الَّتِي فِي الْعُنُقِ وَ (قَلَّدَهُ فَتَقَلَّدَ) وَمِنْهُ (التَّقْلِيدُ) فِي الدِّينِ وَتَقْلِيدُ الْوُلَاةِ الْأَعْمَالَ‘‘۔ ’’(الْقِلَادَةُ) ہار۔ جوگلے میں پہناجاتاہے۔ (قَلَّدَهُ فَتَقَلَّدَ): اس نے اسے ہار پہنایاتو اس نے پہن لیا۔ اسی سے لفظ تَّقْلِيدُ مشتق ہے۔ یعنی التَّقْلِيدُ فِي الدِّينِ: دین میں کسی شخص کی پیروی‘‘۔ (مختارالصحاح: ص ۴۸۲عربی؛ص ۷۵۸ اردو)
    مولانا قاضی محمداعلیٰ تھانویؒ تقلید کی تعریف یوں کرتے ہیں: ’’تقلید (کے اصلاحی معنیٰ یہ ہیں کہ) کسی آدمی کا دوسرے کے قول یا فعل کی اتباع کرنا محض حسن عقیدت سے کہ جس میں (مجتہد کی ) دلیل پر غور نہ کرے۔ گویا اس اتباع کنندہ نے دوسرے کے قول یا فعل کو اپنے گلے کا ہار بنا لیا بلا دلیل طلب کرنے کے“۔ (کشف الاصطلاحات الفنون والعلوم: ص ۵۰۰)
    ’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب زخمی ہوئے تو ان سے کہا گیا کہ آپ اپنا خلیفہ منتخب کرتا ہوں (تو اس کی بھی مثال ہے کہ) اس شخص نے اپنا خلیفہ منتخب کیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ اور اگر میں اسے مسلمانوں کی رائے پر چھوڑ تا ہوں تو (اس کی بھی مثال موجود ہے کہ) اس بزرگ نے (خلیفہ کا انتخاب مسلمانوں کے لیے) چھوڑ دیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم‘‘۔ (صحیح البخاری: كتاب الأحكام،باب الاِسْتِخْلاَفِ، ج۹، رقم الحدیث ۷۲۱۸؛ صحیح المسلم: كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب مَا جَاءَ فِي الْخِلاَفَةِ، ج۴، رقم الحدیث ۲۲۲۵)
    امام نوویؒ شرح مسلم میں اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’خلیفہ نے اگر خلافت کے لئے کسی کو نامزد نہ کیا تو آنحضرتﷺکی قتداءکی۔ اور اگر نامزد کردیا تو حضرت ابوبکررضی اﷲعنہ کی اقتداء کرلی‘‘۔ (شرح صحیح المسلم النووی: كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب الاستخلاف وتركہ، ج۱۲، ص ۲۰۵)
    مولانا سید نذیر حسین صاحب دہلویؒ فرماتے ہیں کہ
    پس ثابت ہواکہ آنحضرتﷺکی پیروی کواورمجتہدین کی اتباع کوتقلید کہناجائزہے‘‘۔ (معیار الحق: ص ۷۳)

    حضرت عبداﷲبن مسعودرضی اﷲعنہ فرماتے ہیں:
    ’’ اگرحضرت عمررضی اﷲعنہ قنوت (صبح کی نماز میں) پڑھتے تو عبداﷲبن مسعودرضی اﷲعنہ(یعنی میں)بھی پڑھتا‘‘۔ ’’اگرتمام لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلنے لگیں۔ اور حضرت عمررضی اﷲعنہ کسی اور وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں حضرت عمررضی اﷲعنہ کی وادی اور گھاٹی میں ہی جاؤں گا‘‘۔ (اخرجہ ابن ابی شیبہ فی المصنف: ج۶، باب من کان یقنت فی الفجر، ص۲۰۹؛ اعلام الموقعین الامام ابن القیم الجوزی: ج۲، فصل [مکانۃعمربن خطاب العلمیۃ]،ص۳۶-۳۷)
    نواب صدیق حسن خان صاحب حجۃاﷲالبالغۃ سے نقل کرتےہیں:
    ’’امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور ان کے ہم عصر علماء کے مذہب کے پابند تھے اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے مذہب سے باہر نہیں جاتے الا ماشاء اللہ، وہ ان کے مذہب کے مطابق مسائل کی تخریج کرتے، بڑی شان رکھتے اور وجوہِ تخریجات کے معلوم کرنے میں دقیق النظر تھے‘‘۔ (الجنہ: ص۶۸؛ حجۃ اﷲالبالغۃ: ج۱، ص۲۵۱؛ اوجزالمسالک الیٰ موطامالک: ج۱، ص۶۳)
    امام ابن القیم الجوزیؒ لکھتے ہیں: ’’حضرت امام شافعی نے بہت سے مقامات پرکہاہے کہ میں نے حضرت عطاء کی تقلید میں ایساکہاہے‘‘۔ (عصرہ ومنہجہ وآراؤہ فی الفقہ والعقائدوالتصوف: ص۱۰۷)
    حافظ ابن حجرؒ نقل کرتے ہیں کہ: ’’امام احمد بن حنبلؒ خود مجتہد ہیں۔ ایک مسئلہ کے جواب میں ایک سائل نے کہاکہ اس میں توکوئی حدیث موجود نہیں ہے۔ اس پر حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے جواباًارشاد فرمایاکہ اگرحدیث موجود نہیں تونہ سہی اس میں حضرت امام شافعیؒ کا قول موجودہےاورامام شافعی کاقول بذات خودحجت اوردلیل ہے‘‘۔(تاریخ بغداد:ج۲، ص۴۰۷؛ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال: ج۲۴، ص۳۷۲)

    محمد شاہ جہانپوریؒ لکھتے ہیں: ’’کچھ عرصہ سے ہندوستان میں ایک ایسے غیرمانوس مذہب کے لوگ دیکھنے میں آرہے ہیں جس سے لوگ بالکل ناآشناہیں۔ پچھلے زمانہ میں شاذ ونادر اس خیال کے لوگ کہیں تو ہوں مگر اس کثرسے دیکھنے میں نہیں آئے۔ بلکہ ان کا نام ابھی تھوڑے ہی دنوں میں سنا ہے۔ اپنے آپ کو اہلحدیث یا محمدی یا موحد کہتے ہیں۔ مگر فریق میں ان کا نام غیرمقلد یا وہابی یالامذہب لیا جاتا ہے‘‘۔ (الارشادالی سبیل الرشاد: ص۱۳)
    جناب مولانا محمدحسین بٹالوی لکھتے ہیں:’’پچیس برس کے تجربہ سے ہم کویہ بات معلوم ہوئی ہے کہ جولوگ بے علمی کے ساتھ مجتہد مطلق اور مطلق تقلید کے تارک بن جاتے ہیں وہ آخر اسلام کوسلام کربیٹھتے ہیں ان میں سے بعض عیسائی ہوجاتے ہیں اور بعض لامذہب، جو کسی دین و مذہب کے پابند نہیں رہتےاور احکام شریعت سے فسق و خروج تو اس آزادی (غیرمقلدیت) کا ادنیٰ کرشمہ ہے، ان فاسقوں میں بعض تو کھلم کھلاجمعہ، جماعت اور نماز ، روزہ چھوڑبیٹھتے ہیں۔ سود و شراب سے پرہیزنہیں کرتےاور بعض جو کسی مصلحت دنیاوی کے باعث فسق ظاہری سے بچتے ہیں وہ فسق خفی میں سرگرم رہتے ہیں۔ ناجائزطور پرعورتوں کو نکاح میں پھنسا لیتے ہیں۔ کفروارتداداورفسق کے اسباب دنیا میں اور بھی بکثرت موجود ہیں مگردینداروں کے بے دین ہوجانے کابہت بڑاسبب یہ بھی ہے کہ وہ کم علمی کے باوجود تقلید چھوڑبیٹھتے ہیں‘‘۔ ’’اگروہ اہلِ حدیث میں جو بے علم یاکم علم ہوکر ترکِ تقلید کے مدعی ہیں وہ اِن نتائج سے ڈریں، اس گروہ کے عوام آزاد اور خود مختار ہوئے جاتے ہیں‘‘۔ (اشاعۃ السنۃ: جلدنمبر۲۳، شمارہ نمبر۵، ص۱۵۴، مطبوعہ سنہ۱۸۸۸ء؛ بحوالہ سبیل الرشاد: ص۱۷۶؛ تقلید آئمہ ص۱۶-۱۷)
    کسی ثقہ اہل علم کی تقلید جائز ہے مگر صحیح حدیث کے موافق اگر قول پیش نظر آجائے تو عمل صحیح حدیث پر ہوگااور اس مذکورہ حدیث پر جید عالم سے تفصیلی استفسار بھی ضروری ہے تاکہ کسی قسم کے فہم کے شبہ کا شائبہ نہ رہے اور موجود حدیث پر بھی تمام رخ کی تفصیلات بھی سامنے آجائے بہرحال عامی ثقہ اور جید اہل علم کے ہم مرتبہ نہیں ہوسکتا۔
     
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,321
    جناب زبیر احمد صاحب،
    کیا یہ آپ کا ذاتی مضمون ہے؟
     
  3. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ کے بارے میں جرح و تعدیل میں محدثین نے کیا حکم لگایا ہے ؟ اسکی تفصیل درج ذیل میں پڑھ لیں اور ایسی منگھڑت روایت کو ذریعہ بناکر کسی مسلمان کو یہ کہنا کہ "حدیث سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ ’’مقلد‘‘ کے معنیٰ ہار پہننے والے کے ہیں اور ساتھ یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتاہے کہ یہ ہار خنزیروں کےگلے میں ڈالنے لائق نہیں۔ کیونکہ خنزیروں کو اس کی قدرمعلوم نہیں" استغفراللہ



    الأسم : حفص بن سليمان بن المغيرة
    الشهرة : حفص بن أبي داود الأسدي , الكنيه: أبو عمر
    النسب : الغاضري, الأسدي, الكوفي
    الرتبة : متهم بالوضع
    عاش في : بغداد, الكوفة
    الوظيفة : البزاز, القارئ



    • أبو أحمد الحاكم : ذاهب الحديث
    • أبو أحمد بن عدي الجرجاني : عامة حديثه عمن روى عنهم غير محفوظة
    • أبو الحسين بن المنادي : قرأ على عاصم مرارا وكان الأولون يعدونه في الحفظ فوق أبي بكر بن عياش ويصفونه بضبط الحروف التي قرأ بها على عاصم، أقرأ الناس دهرا وكانت القراءة التي أخذها عن عاصم ترتفع إلى علي رضي الله عنه
    • أبو الفرج بن الجوزي : ضعفه
    • أبو بكر البيهقي : ضعيف عند أهل العلم بالحديث، نقل عن أبي عيسى الترمذي قوله: ضعيف الحديث، وقال مرة: غيره أوثق منه
    • أبو بكر بن عياش : سئل: أبو عمر رأيته عند عاصم قال: قد سألني عن هذا غير واحد ولم يقرأ على عاصم أحد إلا وأنا أعرفه ولم أر هذا عند عاصم
    • أبو حاتم الرازي : لا يكتب حديثه هو ضعيف الحديث لا يصدق متروك الحديث
    • أبو حاتم بن حبان البستي : كان يقلب الأسانيد، ويرفع المراسيل ويروي من غير سماع
    • أبو زرعة الرازي : ضعيف الحديث
    • أحمد بن حنبل : صالح، ومرة: متروك الحديث، ومرة: ما به بأس
    • أحمد بن شعيب النسائي : ليس بثقة، ولا يكتب حديثه، ومرة: متروك
    • إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني : فرغ منه من دهر
    • ابن حجر العسقلاني : متروك الحديث مع إمامته في القراءة، وقال في المطالب العالية: ضعيف
    • الذهبي : واهي الحديث ثبت في القراءة، أما في القراءة فثقة ثبت ضابط لها بخلاف حاله في الحديث
    • حفص بن سليمان الأسدي : متروك الحديث
    • زكريا بن يحيى الساجي : ممن ذهب حديثه عنده مناكير
    • شعبة بن الحجاج : أخذ مني كتابا فلم يرده، وكان يأخذ كتب الناس فينسخها
    • صالح بن محمد جزرة : لا يكتب حديثه، وأحاديثه كلها مناكير
    • عبد الرحمن بن مهدي : والله ما تحل الرواية عنه
    • عبد الرحمن بن يوسف بن خراش : كذاب متروك يضع الحديث
    • علي بن الجنيد الرازي : منكر الحديث
    • علي بن المديني : ضعيف الحديث، وتركته علي عمد
    • محمد بن إسماعيل البخاري : تركوه
    • مسلم بن الحجاج النيسابوري : متروك الحديث
    • وكيع بن الجراح : ثقة
    • يحيى بن معين : ليس بثقة، ومرة: كان كذابا، ومرة: كان حفص بن سليمان وأبو بكر بن عياش من أعلم الناس بقراءة عاصم وكان حفص أقرأ من أبي بكر وكان أبو بكر صدوقا وكان حفص كذابا
     
    • متفق متفق x 1
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اوّل تو اس اعتراض کے جواب میں یہ کہاجائے گاکہ فضائل کے باب میں یہ حدیث ہے صفات باری تعالیٰ، احکامات اور حلال وحرام کے باب میں نہیں۔ لہٰذا اصول حدیث کی روسے یہ حدیث قابل حجت اورقابل استدلال ہے۔
    اصول حدیث و اصول روایات کی کتاب میں امام نوویؒ نے لکھا ہے اہل حدیث کے نزدیک ضعیف سندوں میں تساہل (نرمی) برتنا اور موضوع کو چھوڑ کر ضعیف حدیثوں کو روایت کرنا اور ان پر عمل کرنا ان کا ضعف بیان کیے بغیر جائز ہے؛ مگر اللہ کی صفات اور حلال و حرام جیسے احکام کی حدیثوں میں ایسا کرنا جائز نہیں‘‘۔ (تدريب الراوی فی شرح تقريب النواوی: أنواع الحديث؛ النوع الثانی والعشرون المقلوب؛ شروط العمل بالأحاديث الضعيفة: ج۱، ص۳۵۰، ۴۵۵)
    ابن تیمیہؒ امام احمدؒ کا قول نقل کرتے
    فرماتے ہیں جب حلال و حرام کی بات آئےگی تو اسانید (سندوں) کی جانچ پرکھ میں سختی سے کام لیں گے، اور جب ترغیب (نیکی کا شوق دلانے) اور ترہیب (برائی کا خوف دلانے) کی بات آئےگی تو ہم اسانید میں تساہل (نرمی) برتینگے، اسی طرح فضائل اعمال میں جس ضعیف حدیث کے عمل کرنے پر علماء ہیں‘‘۔ (مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ: ج۱۸، ص۶۵)
    سلفی عالم ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی لکھتے ہیں: ’’اس امت کے علماءوفقہاءکااس بات پراتفاق اور اجماع ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف احادیث پرعمل کیاجائےگا‘‘۔ (مقالات راشدیہ: ج۲، ص۳۴۸)
    سلفی عالم شیخ الکل مولانانذیر حسین دہلویؒ اپنی کتاب فتاویٰ نذیریہ میں لکھتےہیں: ’’ضعیف حدیث قابل عمل ہوتی ہے اور یہ کہ ضعیف حدیث کو موضوع نہیں کہنا چاہیئے ‘‘۔ (فتاویٰ نذیریہ: ج ۳، ص۵)

    اسی طرح فتاویٰ اہلحدیث میں شب برات کے روزے کی افضلیت کی دلیل ضعیف حدیث سے لی گئی ہے۔ (فتاویٰ اہل حدیث صفحہ:554, ادارہ احیاء السنہ النبوۃ)

    سلفی مترجم جناب وحیدالزمان صدیقی اپنی حدیث کی لغت کی کتاب میں لکھتے ہیں: ’’اَیُّمَا اِمْرَأۃء تَقَلَّدَتْ قَلَادَۃً‘‘۔ ’’جوعورت سونے کاہارپہنے‘‘۔ (لغات الحدیث: ج۲، ص۳۶)
     
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جی نہیں میرے پاس save چند حوالہ جات ہیں انکو ملا کر ایک چند سطروں والی پوسٹ بنادی ہے۔
     
  6. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    یا تو آپ حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں ؟ یا پھر حقیقت کو اپنانا ہی نہیں چاہ رہے

    حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ کے بارے میں جرح و تعدیل میں محدثین نے واضع حکم لگایا ہے کہ یہ " متهم بالوضع " ہے اور یہی اسکا رتبہ ہے اب کونسے محدثین اس امر کی اجازت دے رہے ہیں کہ روایت موضوع ہو تو اس کو بھی فضائل کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے ؟


    سوال گنا اور جواب کپاس ؟ عجیب

    میں کہہ رہا ہوں کہ
    ایسی منگھڑت روایت کو ذریعہ بناکر کسی مسلمان کو یہ کہنا کہ "حدیث سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ’’مقلد‘‘ کے معنیٰ ہار پہننے والے کے ہیں اور ساتھ یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتاہے کہ یہ ہار خنزیروں کےگلے میں ڈالنے لائق نہیں۔ کیونکہ خنزیروں کو اس کی قدرمعلوم نہیں" استغفراللہ

    یعنی آپ کے اخذ کردہ نتیجہ کے مطابق بعض مسلمانوں کو خنزیر کہنا جائز ہے ؟ استغفراللہ

    جب روایت ہی منگھڑت ہے تو اس سے نتیجہ اخذ کرنا کیسا ؟

    یہاں نہ تو سلفی مترجم کی بات ہورہی ہے نہ دیوبندی یا بریلوی کی اور نہ ہی میں نے یہ کہا ہے کہ " قلادۃ کا ترجمہ ہار غلط ہے " یہاں بات روایت کے منگھڑت ہونے کی ہورہی ہے اور جب بات ہی جھوٹی ہے تو اس سے کونسا اثر لینا ہے یا فضائل میں استعمال میں کرنا کیسا ہے ؟ اسکی وضاحت محدثین کی اصطلاحات سے عنایت فرمادیں

     
    Last edited: ‏دسمبر 26, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    حفص بن سلیمان کو متروک الحدیث کہا گیا ہے اور مذکورہ روایت کو آپ نے من گھڑت (موضوع) فرمایا ہے متروک روایت من گھڑت نہیں ہوتی ہے یہ بات ایک سلفی مبشر نذیر متروک کے موضوع میں حافظ ابن حجر کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ ضعیف احادیث میں سب سے نچلے درجے کی حدیث موضوع ہے۔ اس کے بعد متروک، پھر منکر، پھر معلل، پھر مدرج، پھر مقلوب، پھر مضطرب۔ یہ ترتیب حافظ ابن حجر کی دی ہوئی ہے۔ (التدريب جـ1 ـ ص 295 والنخبة وشرحها ص 46)

    اس تعریف سے ثابت یہ ہوا کہ متروک موضوع سے اوپر درجے کی حدیث ہے اور من گھڑت نہیں ہے دونوں میں فرق ہے سید نذیر حسین جو سلفی ہے لکھتے ہیں کہ ضعیف حدیث کو من گھڑت
    نہیں کہنا چاہیے
    متروک سلفی مبشر نذیر کے مطابق من گھڑت نہیں اور ضعیف حدیث پر فضائل کے ضمن میں عمل امام نوویؒؒ,امام تیمیہؒ,بدیع الدین راشدی اور سید نذیر حسین وغیرہ کے نزدیک درست ہے۔
    امید ہے کہ گنے کا جواب گنا ہی دیا ہے
     
  8. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    ابھی آپ کپاس کے گرد ہی گھوم رہے ہیں گنے تک نہی پہنچے

    پہلے آپ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ کے گلے سے" متهم بالوضع " کا قلادۃ تو اتار لیں جو جرح و تعدیل میں محدثین نے پہنایا ہے


    ووصية الأئمة الكبار هي أن يأخذ طلاب العلم من حيث أخذوا ، وأن يضربوا قول أئمتهم عرض الحائط إذا خالف حديث النبي صلى الله عليه وسلم .

    كبار آئمہ كرام كى وصيت ہے كہ طالب علم كو بھى وہيں سے لينا اور اخذ كرنا چاہيے جہاں سے انہوں نے خود اخذ كيا اور ليا ہے، اور جب ان كا قول نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى حديث كے خلاف ہو تو اسے ديوار پر پٹخ ديں.

    قال أبو حنيفة هذا رأيي فمن جاء برأي خير منه قبلناه
    ابو حنيفہ رحمہ اللہ كہتے ہيں " يہ ميرى رائے ہے، اور جو كوئى بھى ميرى رائے سے اچھى اور بہتر رائے لائے ہم اسے قبول كرينگے "

    وقال مالك إنما أنا بشر أصيب وأخطئ , فاعرضوا قولي على الكتاب والسنة
    اور امام مالک رحمہ اللہ كہتے ہيں " ميں تو ايک بشر ہوں غلطى بھى كرتا ہوں اور صحيح بھى اس ليے ميرا قول كتاب و سنت پر پيش كرو "


    وقال الشافعي إذا صح الحديث فاضربوا بقولي الحائط , وإذا رأيت الحجة موضوعة على الطريق فهي قولي
    اور امام شافعى رحمہ اللہ كہتے ہيں" جب حديث صحيح ہو تو ميرا قول ديوار پر پٹخ دو، اور دليل راہ ميں پڑى ہوئى ديكھو تو ميرا قول وہى ہے "

    اللہ رحم فرمائے امام احمد پر جنہوں نے اس راوی پر حکم لگایا اور پھر انہیں اس بات کی سمجھ ہی نہ آئی کہ اس روایت کو استعمال میں بھی لایا جاسکتا ہے ؟ بقول(زبیر احمد) آپ کے اخذ کردہ نتیجہ کے ؟
    أحمد بن حنبل صالح، ومرة: متروك الحديث، ومرة: ما به بأس

    اور انہوں نے یہ مندرجہ ذیل بات کہہ دی روایت کو ترک کرتے ہوئے ؟
    وقال الإمام أحمد لا تقلدني ولا تقلد مالكاً , ولا الشافعي , ولا الثوري , وتعلم كما تعلمنا
    اور امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں" نہ تو ميرى تقليد كرو، اور نہ مالک كى تقليد كرو، اور نہ شافعى اور ثورى كى، اور اس طرح تعليم حاصل كرو جس طرح ہم نے تعليم حاصل كى ہے "

    وقال : لا تقلد في دينك الرجال , فإنهم لن يسلموا من أن يغلطوا
    اور ان كا يہ بھى كہنا ہے" اپنے دين ميں تم آدميوں كى تقليد مت كرو، كيونكہ ان سے غلطى ہو سكتى ہے "


    اور پھر اس روایت کو وہ سرے سے ہی بھول گئے یا جان بوجھ کر ترک کردی ؟ اب ان پر وہی حکم لاگوہوگا جو آپ نے اپنے تھریڈ میں لکھا ؟ کہ

    "حدیث سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ’’مقلد‘‘ کے معنیٰ ہار پہننے والے کے ہیں اور ساتھ یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتاہے کہ یہ ہار خنزیروں کےگلے میں ڈالنے لائق نہیں۔ کیونکہ خنزیروں کو اس کی قدرمعلوم نہیں"

    اب بقول آپکے اخذ کردہ نتیجے کہ "نعوذباللہ " امام احمد رحمہ اللہ نے تو اس سے بھی بڑا جرم کیا کہ فقط خود تقلید نہیں کررہے بلکہ دوسروں کو بھی تقلید سے منع کر رہے ہیں

    اور پھر امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ " دلیل کتاب و سنت میں ہے"، اور اسی طرح انہوں نے یہ بھی کہا "جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کو رد کر دے، تو وہ ہلاکت کے کنارے پر ہے"

    اب یہ مندرجہ بالا قول کے مطابق کیا یہ روایت ان کے لیے قابل قبول تھی ؟ اگر تھی تو اپنے قول کی خود مخالفت کررہے ہیں ؟ اور اگر انکے نزدیک یہ روایت ٹھیک نہیں تھی تو پھر آپکو بھی جان لینا چاہیے کہ حدیث کے معاملہ میں وہ کتنی احتیاط برتنے والے تھے ؟ اور ہم کتنی بداحتیاطی پر گامزن ہیں ؟ اور فقط ایک محدث نے نہیں بلکہ کثرت سے محدثین نے حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ پر کلام کیا ہے جو کہ میرے پہلے جواب میں مفصل لکھا ہے اور مزید دیکھ لیں درج ذیل میں


    - قال ابن خراش : كذاب يضع الحديث.
    - وقال ابن حبان : يقلب الأسانيد ويرفع المراسيل ، وكان يأخذ كتب الناس فينسخها ، ويروي من غير سماع
    1-
    (ابن العجمي - الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث - باب الحاء المهملة الجزء : ( 1 ) - رقم الصفحة : ( 101 )




    عن أنس مرفوعا بزيادة وواضع العلم عند غير أهله كمقلد الخنازير الجوهر واللؤلؤ والذهب ، قال في المقاصد : وحفص ضعيف جدا ، بل اتهمه بعضهم بالوضع والكذب.
    2-العجلوني - كشف الخفاء ومزيل الإلباس - حرف الطاء المهملة الجزء : ( 2 ) - رقم الصفحة : ( 48 )




    وليس له اسناد صحيح ، وحفص بن سليمان أبو عمر بزاز كوفي يضعف في الحديث.
    3- الترمذي - سنن الترمذي - أبواب فضائل القرآن - 13 - باب ما جاء في فضل قارئ القرآن الجزء : ( 5 ) - رقم الصفحة : ( 21 )



    وفي اسناده حفص بن سليمان الغاضري ضعفه الجمهور.

    4- الشوكاني - نيل الأوطار شرح منتقى الأخبار - الجزء : ( 3 ) - رقم الصفحة : ( 330 ) - الحاشية : 1



    قال أبو محمد : وهذا أثر فاسد لأن حفص بن سليمان ساقط.
    5- ابن حزم - المحلى بالآثار - كتاب العتق وأمهات الأولاد - مسألة من ملك ذا رحم محرم منه الجزء : ( 8 ) - رقم الصفحة : ( 188 )

    حفص بن سليمان الكوفي وهو هالك أيضا متروك
    5- ابن حزم - المحلى بالآثار - كتاب البيوع - مسألة النقد في بيع الخيار الجزء : ( 7 ) - رقم الصفحة : ( 263 )




    - أنبأنا : أبو القاسم الأزهري ، وعلي بن محمد بن الحسن المالكي ، قالا : أنبأنا : عبد الله بن عثمان الصفار ، أنبأنا : محمد بن عمران بن موسى الصيرفي ، حدثنا : عبد الله بن علي بن المديني ، قال : أسمعت أبي ، يقول : حفص بن سليمان أبو عمر البزاز متروك ضعيف الحديث، وتركته على عمد.

    - أنبأنا : أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني ، قال : أسمعت أحمد بن محمد بن عبدوس الطرائفي ، يقول : أسمعت عثمان بن سعيد الدارمي ، يقول : وسألته يعني يحيى بن معين عن حفص بن سليمان الأسدي الكوفي كيف حديثه ، فقال ليس بثقة ، قلت : يروي عن كثير بن زاذان من هو ، قال : لا أعرفه.

    - أنبأنا : محمد بن الحسين القطان ، أنبأنا : علي بن ابراهيم المستملي ، حدثنا : أبو أحمد بن فارس ، حدثنا : البخاري ، قال : حفص بن سليمان الأسدي أبو عمر القارئ تركوه ، وهو حفص بن أبي داود الكوفي.

    - أنبأنا : أبو حازم العبدوي ، قال : أسمعت أبا بكر بن محمد بن عبد الله الجوزقي ، يقول قرئ على مكي بن عبدان وأنا أسمع ، قال : أسمعت مسلم بن الحجاج ، يقول : أبو عمر حفص بن سليمان الأسدي متروك الحديث.

    - أنبأنا : محمد بن علي المقرئ ، أنبأنا : أبو مسلم عبد الرحمن بن محمد بن عبد الله بن مهران ، أنبأنا : عبد المؤمن بن خلف النسفي ، قال : سألت أبا علي صالح بن محمد ، عن حديث حفص بن عبد الله الحلواني ، عن حفص بن سليمان ، عن محارب بن دثار ، عن جابر ابن عبد الله ، عن النبي (ص) نعم الادام الخل ، فقال : حفص بن سليمان لا يكتب حديثه هو المقرئ كان يتيما في حجر عاصم بن أبي النجود أحاديثه كلها مناكير ، وروى هذا الحديث ، عن محارب الثوري.

    - أنبأنا : علي بن طلحة المقرئ ، أنبأنا : محمد بن ابراهيم بن يزيد الغازي ، أنبأنا : محمد بن محمد بن داود الكرجي ، حدثنا : عبد الرحمن بن يوسف بن خراش ، قال : حفص بن سليمان كذاب متروك يضع الحديث.

    - أنبأنا : أبو بكر البرقاني ، أنبأنا : أحمد بن سعيد بن سعد ، حدثنا : عبد الكريم بن أحمد بن شعيب النسائي ، حدثنا : أبي ، قال : حفص بن سليمان يروي عن علقمة بن مرثد متروك.

    - أخبرني : البرقاني ، حدثني : محمد بن أحمد بن محمد بن عبد الملك الأدمي ، حدثنا : محمد بن علي الايادي ، حدثنا : زكريا بن يحيى الساجي ، قال : حفص بن أبي داود وهو ابني سليمان الأزدي ، ويكنى بأبي عمر القارئ يحدث ، عن سماك وعلقمة بن مرثد ، وكذلك عن قيس بن مسلم وعاصم بن بهدلة أحاديث بواطل.
    6- الخطيب البغدادي - تاريخ بغداد - تتمة باب الحاء ذكر من اسمه حفص - 4312 - حفص بن سليمان بن المغيرة الجزء : ( 8 ) - رقم الصفحة : ( 182 > 185 )




    - حدثنا : أحمد بن علي بن الحسن المدائني ، حدثنا : الليث بن عبيد ، قال: سمعت يحيى بن معين ، يقول : أبو عمر البزاز صاحب القراءة ليس بثقة ، هو أصح قراءة من أبي بكر بن عياش ، وأبو بكر أوثق منه.

    - ثنا : محمد بن علي المروزي ، ثنا : عثمان بن سعيد ، قال : سألت يحيى بن معين عن حفص بن سليمان الأسدي الكوفي كيف حديثه ، فقال ليس بثقة ، قلت : يروي عن كثير بن زاذان من هو ، قال : لا أعرفه.

    - ثنا : بن حماد ، حدثني : عبد الله بن أحمد ، عن أبيه ، قال : حفص بن سليمان أبو عمر القارئ متروك الحديث.
    - قال شعبة : كان حفص يستعير كتب الناس.

    - أنا : الساجي ، ثنا : أحمد بن محمد البغدادي ، قال : أسمعت يحيى بن معين ، يقول : كان حفص بن سليمان وأبو بكر بن عياش من أعلم الناس بقراءة عاصم ، وكان حفص اقرأ من أبي بكر ، وكان أبو بكر صدوقا وكان حفص كذابا.

    - ثنا : الجنيدي ، ثنا : البخاري ، ثنا : حفص بن سليمان أبو عمر الأسدي وهو حفص بن أبي داود أراه القارئ ، عن عاصم ، وعلقمة بن مرثد سكتوا عنه.

    - أسمعت بن حماد ، يقول : قال البخاري : حفص بن سليمان تركوه.
    - أسمعت بن حماد ، يقول : قال السعدي : حفص بن سليمان أبو عمر قد فرغ منه منذ دهر.
    - وقال النسائي فيما أخبرني : محمد بن العباس عنه ، قال : حفص بن سليمان يروي عن علقمة بن مرثد متروك الحديث.
    - قال الشيخ : وهذا الحديث عن الهيثم الصراف لا يرويه غير حفص بن أبي داود الأسدي كذا يسميه أبو الربيع الزهراني يضعفه وهو حفص بن سليمان.
    7- ابن عدي - الكامل في ضعفاء الرجال - 505 - حفص بن سليمان أبو عمر الأسدي الجزء : ( 2 ) - رقم الصفحة : ( 268 > 270 )




    - حدثنا : عبد الرحمن ، نا : أبي ، قال : قال أحمد بن حنبل ، قال يحيى بن سعيد ، أخبرني : شعبة ، قال : أخذ مني حفص بن سليمان كتابا فلم يرده وكان يأخذ كتب الناس فينسخها.

    - حدثنا : عبد الرحمن ، أنا : عبد الله بن أحمد بن محمد ابن حنبل فيما كتب إلى ، قال : أسمعت أبي ، يقول : حفص بن سليمان يعني أبا عمر القارئ متروك الحديث.

    - حدثنا : عبد الرحمن ، قال : ذكره أبي ، نا : أبو قدامة السرخسى ، قال : سألت يحيى بن معين ، عن حفص بن سليمان يعني أبا عمر القارئ ، فقال : ليس بثقة.

    - حدثنا : عبد الرحمن ، قال : سألت أبي ، عن حفص بن سليمان الكوفي الذى يروي عن علقمة بن مرثد وليث ابن أبي سليم ، فقال : لا يكتب حديثه ، وهو ضعيف الحديث ، لا يصدق ، متروك الحديث ، قلت : ما حاله في الحروف ، قال أبو بكر بن عياش اثبت منه.

    - حدثنا : عبد الرحمن ، قال : سئل أبو زرعة ، عن حفص بن أبي داود ، فقال : هو حفص بن سليمان ، وهو ضعيف الحديث.
    8- الرازي - الجرح والتعديل - باب الحاء - 744 - حفص بن سليمان الجزء : ( 3 ) - رقم الصفحة : ( 173 / 174 )





    حفص بن سليمان الأسدي أبو عمر البزاز الكوفي القارئ ، ويقال له : الغاضري ويعرف بحفيص ، وقيل : إسم جده المغيرة وهو حفص بن أبي داود ، قرأ على عاصم بن أبي النجود ، وكان ابن امرأته ، وروى عنه ، وعن عاصم الأحول ، وعبد الملك بن عمير ، وليث بن أبي سليم ، وكثيرابن شنظير ، وأبي إسحاق السبيعي ، وكثير بن زاذان ، وجماعة.

    - وقال ابن أبي حاتم ، عن عبد الله عن أبيه : متروك الحديث.

    - وقال عثمان الدارمي وغيره ، عن ابن معين ليس بثقة.

    - وقال ابن المديني : ضعيف الحديث وتركته على عمد.

    - وقال الجوزجاني : قد فرغ منه من دهر.

    - وقال البخاري : تركوه.

    - وقال مسلم : متروك.

    - وقال النسائي : ليس بثقة ، ولا يكتب حديثه ، وقال في موضع آخر : متروك الحديث.

    - وقال صالح بن محمد : لا يكتب حديثه ، وأحاديثه كلها مناكير.

    - وقال الساجي : يحدث عن سماك وغيره أحاديث بواطيل.

    - وقال أبو زرعة : ضعيف الحديث.

    - وقال ابن أبي حاتم سألت أبي عنه ، فقال : لا يكتب حديثه هو ضعيف الحديث لا يصدق ، متروك الحديث ، قلت : ما حاله في الحروف ، قال : أبو بكر بن عياش اثبت منه.

    - وقال ابن خراش : كذاب متروك يضع الحديث.

    - وقال أبو أحمد الحاكم : ذاهب الحديث.

    - وقال يحيى بن سعيد ، عن شعبة : أخذ مني حفص بن سليمان كتابا فلم يرده وكان يأخذ كتب الناس فينسخها.

    - وقال الساجي ، عن أحمد بن محمد البغدادي ، عن ابن معين : كان حفص وأبو بكر من أعلم الناس بقراءة عاصم ، وكان حفص اقرأ من أبي بكر وكان كذابا وكان أبو بكر صدوقا.

    - وقال ابن عدي : عامة حديثه عمن روى عنهم غير محفوظ.

    - وقال ابن حبان : كان يقلب الاسانيد ، ويرفع المراسيل.

    - وحكى ابن الجوزي في الموضوعات ، عن عبدالرحمن بن مهدي ، قال : والله ما تحل الرواية وعنه.

    - وقال الدارقطني : ضعيف.

    - وقال الساجي : حفص ممن ذهب حديثه عنده مناكير.

    - وذكر البخاري في الاوسط في فصل من مات من ثمانين إلى تسعين ومائة ، وأورد له البخاري في الضعفاء.
    9- ابن حجر العسقلاني - تهذيب التهذيب - باب الحاء - من اسمه حفص الجزء : ( 2 ) - رقم الصفحة : ( 345 )





    حفص بن سليمان : وهو حفص بن أبي داود ، أبو عمر الأسدي ، مولاهم الكوفي الغاضري صاحب القراءة ، وابن امرأة عاصم ، ويقال له : حفيص ، روى ، عن شيخه في القراءة عاصم ، وعن قيس بن مسلم ، وعلقمة بن مرثد ، ومحارب بن دثار ، وعدة ، وأقرا الناس مدة ، وكان ثبتا في القراءة واهيا في الحديث ، لأنه كان لا يتقن الحديث ويتقن القرآن ويجوده ، والا فهو في نفسه صادق.

    - وروى الحسين بن حبان ، عن ابن معين ، قال : هو أصح قراءة من أبي بكر ، وأبو بكر أوثق منه.

    - وقال عبد الله بن أحمد ، عن أبيه : متروك الحديث.

    - وقال ابن معين أيضا : ليس بثقة.

    - وقال البخاري : تركوه.

    - وقال أبو حاتم : متروك لا يصدق.

    - وقال ابن خراش : كذاب يضع الحديث.

    - وقال ابن عدي : عامة أحاديثه غير محفوظة.

    - وقال ابن حبان : يقلب الأسانيد ، ويرفع المراسيل ، وكان يأخذ كتب الناس فينسخها ويرويها من غير سماع.

    - وقال أحمد بن حنبل : حدثنا : يحيى القطان ، قال : ذكر شعبة حفص بن سليمان ، فقال : كان يأخذ كتب الناس وينسخها ، أخذ مني كتابا فلم يرده.

    - وقال أحمد بن محمد الحضرمي : سألت يحيى بن معين عن حفص بن سليمان بن أبي عمر البزاز ، فقال ليس بشيء.

    - ومما في ترجمته في كتاب الضعفاء للبخاري تعليقا : ابن أبي القاضي ، حدثنا : سعيد بن منصور ، حدثنا : حفص بن سليمان ، عن ليث ، عن مجاهد ، عن ابن عمر ، قال : قال رسول الله (ص) من حج وزارنى بعد موتي كان كمن زارني في حياتي.

    10- الذهبي - ميزان الاعتدال في نقد الرجال - حرف الحاء - 2121 - حفص بن سليمان
    الجزء : ( 1 ) - رقم الصفحة : ( 558 / 559 )



     
    Last edited: ‏دسمبر 27, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    خطیب بغدادیؒ اور حافظ ابن حجرؒ نقل کرتے ہیں کہ: ’’امام احمد بن حنبلؒ خود مجتہد ہیں۔ ایک مسئلہ کے جواب میں ایک سائل نے کہاکہ اس میں توکوئی حدیث موجود نہیں ہے۔ اس پر حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے جواباًارشاد فرمایاکہ اگرحدیث موجود نہیں تونہ سہی اس میں "ففیہ قول الشافعی وحجتہ، أثبت شئی فیہ" حضرت امام شافعیؒ کا قول موجودہےاورامام شافعی کاقول بذات خودحجت اوردلیل ہے‘‘۔(تاریخ بغداد:ج۲، ص۴۰۷؛ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال: ج۲۴، ص۳۷۲)

    امام ابن القیم الجوزیؒ لکھتے ہیں: ’’قال الشافعی فی مواضع من الحجج قلتہ تقلید لعطاء‘‘۔ ’’حضرت امام شافعی نے بہت سے مقامات پرکہاہے کہ میں نے حضرت عطاء کی تقلید میں ایساکہاہے‘‘۔ (عصرہ ومنہجہ وآراؤہ فی الفقہ والعقائدوالتصوف: ص۱۰۷)
    امام جوزی اعتراف کرتے ہیں کہ امام شافعیؒ نے تقلید کی۔
    اب ذرا سلفی عالم نواب صدیق حسن خان کی بھی سن لیں
    التخریجات مقبلا علی الفروع أتم إقبال‘‘۔ ’’امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور ان کے ہم عصر علماء کے مذہب کے پابند تھے اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے مذہب سے باہر نہیں جاتے الا ماشاء اللہ، وہ ان کے مذہب کے مطابق مسائل کی تخریج کرتے، بڑی شان رکھتے اور وجوہِ تخریجات کے معلوم کرنے میں دقیق النظر تھے‘‘۔ (الجنہ: ص۶۸؛ حجۃ اﷲالبالغۃ: ج۱، ص۲۵۱؛ اوجزالمسالک الیٰ موطامالک: ج۱، ص۶۳)
    سلفی عالم خود اعتراف کررہےہیں کہ امام ابوحنیفہؒ تقلید کرتے تھے۔
    اور جن محدثین نے انکو متروک کہا ہے ان کو آپ کیا کہیں گے
    متروک یا کذب کی جرح کے باوجود بھی یہ حدیث فضائل کے باب میں قابل قبول ہی ہے۔
    اگر آپکی بات مان کر ان پر وضع کا الزام لگا دیا جائے تو امام یحییٰ بن معین ؒ کو رد کرنا آپکی مجبوری بن جائے گی فرماتے ہیں کہ (قرات کے ضمن میں) سب سے زیادہ صحیح روایت عاصم سے حفص بن سلیمان ہی کی ہے۔ حروف کے ضابط بھی تھے۔ ان کے شاگردوں میں عمرو بن صباح، عبید بن صباح اور حسین جعفی تھے۔ حفص کی روایت عالم اسلامی میں پھیلی ہوئی ہے اور اکثر و بیشتر مصاحف حفص عن عاصم کی روایت سے شائع شدہ ہیں۔ (معرفۃ القراء الکبار ۱/۱۴۰، غایۃ النہایہ ۱/۲۵۴)
    ایک موضوع روایت کے راوی کو اس میدان میں سیدھا صحیح روایت کا امین کہنا آپکے لائے ہوئے متهم بالوضع کے قلادے کی نفی ہی ہے۔
    اچھا جی

    امام ذہبیؒ خود مقلد تھے ملاحظہ فرمائیں

    امام ذہبی ؒ نقل کرتے ہیں کہ: حضرت ابو بکر الہذلی ؒ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت محمد بن سیرین ؒ نے فرمایا کہ : ’’الزم الشعبی فلقد رأیتہ یستفتٰی والصحابۃ متوافرون‘‘۔ ’’حضرت امام شعبی ؒ کا دامن ہی ہمیشہ تھامے رکھنا، کیونکہ میں نے ان سے ایسے وقت فتویٰ پوچھتے دیکھا جبکہ صحابہ کرامؓ بکثرت موجود تھے ‘‘۔ ( تذکرۃ الحفاظ: ج۱، ص ۸۱)

    اختتام درج ذیل سلفی عالم کی بات سے کرتا ہوں
    جناب مولانا محمدحسین بٹالوی لکھتے ہیں:’’پچیس برس کے تجربہ سے ہم کویہ بات معلوم ہوئی ہے کہ جولوگ بے علمی کے ساتھ مجتہد مطلق اور مطلق تقلید کے تارک بن جاتے ہیں وہ آخر اسلام کوسلام کربیٹھتے ہیں ان میں سے بعض عیسائی ہوجاتے ہیں اور بعض لامذہب، جو کسی دین و مذہب کے پابند نہیں رہتےاور احکام شریعت سے فسق و خروج تو اس آزادی (غیرمقلدیت) کا ادنیٰ کرشمہ ہے، ان فاسقوں میں بعض تو کھلم کھلاجمعہ، جماعت اور نماز ، روزہ چھوڑبیٹھتے ہیں۔ سود و شراب سے پرہیزنہیں کرتےاور بعض جو کسی مصلحت دنیاوی کے باعث فسق ظاہری سے بچتے ہیں وہ فسق خفی میں سرگرم رہتے ہیں۔ ناجائزطور پرعورتوں کو نکاح میں پھنسا لیتے ہیں۔ کفروارتداداورفسق کے اسباب دنیا میں اور بھی بکثرت موجود ہیں مگردینداروں کے بے دین ہوجانے کابہت بڑاسبب یہ بھی ہے کہ وہ کم علمی کے باوجود تقلید چھوڑبیٹھتے ہیں‘‘۔ ’’اگروہ اہلِ حدیث میں جو بے علم یاکم علم ہوکر ترکِ تقلید کے مدعی ہیں وہ اِن نتائج سے ڈریں، اس گروہ کے عوام آزاد اور خود مختار ہوئے جاتے ہیں‘‘۔ (اشاعۃ السنۃ: جلدنمبر۲۳، شمارہ نمبر۵، ص۱۵۴، مطبوعہ سنہ۱۸۸۸ء؛ بحوالہ سبیل الرشاد: ص۱۷۶؛ تقلید آئمہ ص۱۶-۱۷)
     
  10. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    ابھی آپ کپاس کے گرد ہی گھوم رہے ہیں گنے تک نہی پہنچے

    أنّ أبا هريرة قال لرجل يا ابن أخي إذا حدثتك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا فلا تضرب له الأمثال
    حضرت ابوہریرہ نے ایک آدمی سے بیان فرمایا اے بھتیجے! جب میں تم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث مبارکہ بیان کیا کروں تو تم (اس کے مقابلے میں) لوگوں کی باتیں (قیل وقال) بیان نہ کیا کرو۔

    اللہ رحم فرمائے امام احمد پر جنہوں نے اس راوی پر حکم لگایا اور پھر انہیں اس بات کی سمجھ ہی نہ آئی کہ اس روایت کو استعمال میں بھی لایا جاسکتا ہے ؟ بقول(زبیر احمد) آپ کے اخذ کردہ نتیجہ کے ؟
    أحمد بن حنبل صالح، ومرة: متروك الحديث، ومرة: ما به بأس


    اس کے جواب میں آپ کہہ رہے ہو جوکہ نہ اسکا جواب ہے نہ اس سے میل کھاتا ہے


    امام شافعى رحمہ اللہ كہتے ہيں" جب حديث صحيح ہو تو ميرا قول ديوار پر پٹخ دو، اور دليل راہ ميں پڑى ہوئى ديكھو تو ميرا قول وہى ہے "
    یعنی امام شافعى رحمہ اللہ کے اقوال میں واضح تضاد تھا ؟ ایک طرف کچھ کہتے اور دوسری طرف کچھ ؟ یعنی انکے نزدیک حدیث کی کوئی حثیت نہ تھی بلکہ حضرت عطاء کی تقلید اہمیت رکھتی تھی ؟ کچھ ہوش کے ناخن لو اور توبہ کرو ایسے بہتان سے کیونکہ وہ سید المحدثین کے اس قول سے بخوبی واقف تھے
    أنّ أبا هريرة قال لرجل يا ابن أخي إذا حدثتك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا فلا تضرب له الأمثال


    قال الإمام أبو حنيفة قال رحمه الله " إذا صح الحديث فهو مذهبي "
    امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ كا قول ہے " جب حديث صحيح ہو تو وہى ميرا مذہب ہے "


    وقال رحمه الله " إذا قلت قولا يخالف كتاب الله تعالى ، وخبر الرسول صلى الله عليه وسلم فاتركوا قولي "
    اور رحمہ اللہ كا قول ہے" اگر ميں كوئى ايسا قول كہوں جو كتاب اللہ اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى حديث كے مخالف ہو تو ميرا قول چھوڑ دو "

    یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال میں بھی واضح تضاد تھا ؟ ایک طرف کچھ کہتے اور دوسری طرف کچھ ؟ یعنی انکے نزدیک حدیث کی کوئی حثیت نہ تھی بلکہ انکے نزدیک بھی تقلید اہمیت رکھتی تھی ؟ کچھ ہوش کے ناخن لو اور توبہ کرو ایسے بہتان سے کیونکہ وہ سید المحدثین کے اس قول سے بخوبی واقف تھے
    أنّ أبا هريرة قال لرجل يا ابن أخي إذا حدثتك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا فلا تضرب له الأمثال


    اور اسی لیے تو وہ حد درجہ محتاط لوگ تھے

    اللہ اکبر ،امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ خود یہ حکم دیں کہ " اگر ميں كوئى ايسا قول كہوں جو كتاب اللہ اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى حديث كے مخالف ہو تو ميرا قول چھوڑ دو " لیکن ہم کہیں " نہ نہ" ہم تو آپ کی یہ بات ہرگز نہ مانیں گے کیونکہ ہم پکے حنفی ہیں اورجو کوئی بھی اس کے برخلاف "احناف میں ایسا ہے کہہ کر ورغلائے گا " ہم اسکی بات کو ضرو بضرو مانیں گے نہ خود سے علم دین حاصل کریں گے اور نہ ہی تحقیق کرینگے اور امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ کے اس قول کو پس پشت ڈالتے ہوئے سینہ ٹھوک کر کہیں گے کہ " ہم پکے حنفی ہیں "


    آپ کی بھی حالت کچھ ایسی ہی محسوس ہورہی ہے جیسے کہ " ہم پکے حنفی ہیں " کہلانے والوں کی ہے
    • وكيع بن الجراح : ثقة
    اب کیا سب محدثین کو چھوڑ کر انکی بات کو لے لیا جائے ؟ یہ تو اسے ثقہ کہہ رہےہیں اور باقی ؟

    وقال البخاري : تركوه. بخاری رحم اللہ کہہ رہے ہیں اسے چھوڑ دو

    وقال ابن خراش : كذاب يضع الحديث. جھوٹا حدیث گھڑنے والا


    وقال أبو حاتم : متروك لا يصدق. متروک ہے اسے سچا نہ جانو

    وقال ابن حبان : يقلب الأسانيد ، ويرفع المراسيل ، وكان يأخذ كتب الناس فينسخها ويرويها من غير سماع.

    - وقال ابن أبي حاتم سألت أبي عنه ، فقال : لا يكتب حديثه هو ضعيف الحديث لا يصدق ، متروك الحديث ، قلت : ما حاله في الحروف ، قال : أبو بكر بن عياش اثبت منه.

    - وقال صالح بن محمد : لا يكتب حديثه ، وأحاديثه كلها مناكير.

    - وقال يحيى بن سعيد ، عن شعبة : أخذ مني حفص بن سليمان كتابا فلم يرده وكان يأخذ كتب الناس فينسخها.


    - وقال الساجي : يحدث عن سماك وغيره أحاديث بواطيل.

    - حدثنا : عبد الرحمن ، أنا : عبد الله بن أحمد بن محمد ابن حنبل فيما كتب إلى ، قال : أسمعت أبي ، يقول : حفص بن سليمان يعني أبا عمر القارئ متروك الحديث.


    نصر بن علی جہضمی ، اصمعی ، حضرت ابن ابی الزناد عبداللہ بن ذکوان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے مدینہ میں سو آدمی ایسے پائے جو نیک سیرت تھے مگر انہیں روایت حدیث کا اہل نہیں سمجھا جاتا تھا اور ان سے حدیث نہیں لی جاتی تھی ۔(مقدمہ مسلم )


    ابوبکر بن نضر بن ابی نضر، ابونضر ، ہاشم ، حضرت ابوعقیل (یحیی بن متوکل ضریر) جو کہ مولیٰ تھا بہیہ کا (بہیہ ایک عورت ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں) نے فرمایا کہ میں قاسم بن عبیداللہ اور یحیی بن سعید کے پاس بیٹھا تھا یحیی نے قاسم سے کہا کہ اے ابومحمد آپ جیسے عظیم الشان عالم دین کے لئے یہ بات باعث عار ہے کہ آپ سے دین کا کوئی مسئلہ پوچھا جائے اور آپ کو اس کا نہ کچھ علم ہو نہ اس کا حل اور نہ ہی اس کا جواب۔ قاسم نے پاچھا کیوں باعث عار ہے ؟ یحیی نے کہا اس لئے کہ آپ دو بڑے بڑے اماموں ابوبکر وعمر کے بیٹے ہیں (قاسم ابوبکر کے نواسے اور فاروق اعظم کے پوتے ہیں) قاسم نے کہا کہ یہ بات اس سے بھی زیادہ باعث عار ہے اس شخص کے لئے جس کو اللہ نے عقل عطاء فرمائی ہو کہ میں بغیر علم کوئی بات کہوں یا میں اس شخص سے روایت کروں جو ثقہ نہ ہو یہ سن کر یحیی خاموش ہوگئے اور اس کا کوئی جواب نہ دیا ۔(مقدمہ مسلم )

    یہانپر کسی کا نیک ہونا یا عبادت گزار ہونا نہیں دیکھا جاتا تھا بلکہ حدیث کے معاملہ میں راویوں کےمتعلق محدثین کے کلام کو لیا جاتا جو انہوں نے اس راوی پر کیا ہوتا

    محمد بن عبداللہ قہزاد، حضرت علی بن حسین بن واقد بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ میں نے سفیان ثوری سے کہا کہ تم عباد بن کثیر کے حالات سے واقف ہو کہ وہ جب کوئی حدیث بیان کرتا ہے تو عجیب وغریب بیان کرتا ہے آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے کہ میں لوگوں کو ان سے احادیث بیان کرنے سے روک دوں ؟ حضرت سفیان نے کہا کیوں نہیں ابن مبارک نے فرمایا کہ جس مجلس میں میری موجودگی میں عباد بن کیثر کا ذکر آتا تو میں اس کی دینداری کی تعریف کرتا لیکن یہ بھی کہہ دیتا کہ اس کی احادیث نہ لو عبداللہ بن عثمان بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ نے کہا کہ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا کہ میں شعبہ کے پاس گیا کہ عباد بن کثیر سے روایت حدیث میں بچو ۔(مقدمہ مسلم )

    قطان ابو سعید حدیث کے معاملہ میں جھوٹ بولنے کا نیک لوگوں کے بارے بتارہے ہیں اور اس پر امام مسلم اس بات کی تاویل بیان کررہے ہیں

    محمد بن ابی عتاب ، عفان ، حضرت سعید بن قطان اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے نیک لوگوں کا کذب فی الحدیث سے بڑھ کر کوئی جھوٹ نہیں دیکھا ابن ابی عتاب نے کہا کہ میری ملاقات سعید بن قطان کے بیٹے سے ہوئی میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرے باپ کہتے تھے کہ ہم نے نیک لوگوں کا جھوٹ حدیث میں کذب سے بڑھ کر کسی بات میں نہیں دیکھا امام مسلم نے اس کی تاویل یوں ذکر کی ہے کہ جھوٹی حدیث ان کی زبان سے نکل جاتی ہے وہ قصدا جھوٹ نہیں بولتے ۔(مقدمہ مسلم )

    مزید حضرت عبداللہ بن مبارک کا درج ذیل قول اسی زمرہ میں
    ابن قہزاد، وہب، سفیان ، حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ بقیہ بن ولید سچا آدمی ہے لیکن وہ ہر آنے جانے والے آدمی سے حدیث لے لیتا ہے ۔

    اور انہی حضرت محمد بن سیرین نے فرمایا کہ علم حدیث دین ہے تو دیکھ کہ کس شخص سے تم اپنا دین حاصل کر رہے ہو(مقدمہ مسلم )

    اور انہوں نے یہ تو نہیں فرمایا کہ امام شعبی کی تقلید کرو ؟ اور محمد بن سیرین حدیث کے معاملہ میں کیسے تھے ؟ مندرجہ ذیل دیکھیں

    ابوجعفر محمد بن صباح ، اسماعیل بن زکریا، عاصم احول ، حضرت ابن سیرین نے فرمایا کہ پہلے لوگ اسناد کی تحقیق نہیں کیا کرتے تھے لیکن جب دین میں بدعات اور فتنے داخل ہوگئے تو لوگوں نے کہا کہ اپنی اپنی سند بیان کرو پس جس حدیث کی سند میں اہلسنت راوی دیکھتے تو ان کی حدیث لے لیتے اور اگر سند میں اہل بدعت راوی دیکھتے تو اس کو چھوڑ دیتے ۔(مقدمہ مسلم )

    "بہت سے متاخر لوگوں کو اس فتنے نے اپنے شکنجے میں جکڑ لیا اور وہ سمجھنے لگے کہ جس شخص کی گفتگو، مناظرے، اور دینی مسائل میں بحث و تمحیص بہت زیادہ ہے تو وہ دوسروں سے بڑا عالم ہے!!

    حالانکہ یہ جہالت کی انتہا ہے ذرا اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان میں سے اہل علم کی جانب دیکھیں

    مثلاً: ابو بکر، عمر، علی، معاذ، ابن مسعود اور زید بن ثابت وغیرہ رضی اللہ عنہم ان کا کلام ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کم ہے، حالانکہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے زیادہ علم والے تھے۔

    اس طرح تابعین کا کلام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ ہے، حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان سے زیادہ علم رکھتے تھے۔

    اسی طرح تبع تابعین کا کلام تابعین سے زیادہ ہے، حالانکہ تابعین ان سے زیادہ علم رکھتے تھے۔

    تو معلوم ہوا کہ علم کثرتِ روایات کا نام نہیں ہے، نہ ہی بہت زیادہ کلام کرنے کا نام علم ہے علم تو دل میں ڈالا جانے والا ایک نور ہوتا ہے جس کے ذریعے بندہ حق سمجھ جاتا ہے اور اس میں حق و باطل کے مابین امتیاز کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے، چنانچہ وہ انتہائی مختصر عبارت میں ایسی گفتگو کرتا ہے جس کے ساتھ مقصود پورا ہو جاتا ہے

    امام شافعى رحمہ اللہ كا كہنا ہے:
    " جب حديث كو ثقات راوى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے روايت كريں تو يہ اس كا ثبوت ہے "
    ديكھيں: كتاب الام كے ضمن ميں اختلاف الحديث ( 10 / 107 ).

    اور ان كا يہ بھى كہنا ہے:
    " صدق اور كذب حديث كا استدلال مخبر يعنى خبر دينے والے كے صدق پر ہوتا ہے، مگر قليل سے خاص حديث ميں "
    ديكھيں: الرسالۃ فقرۃ ( 1099 ).

    اور ان كا يہ بھى كہنا ہے:
    " مسلمان عدول ہيں: وہ اپنے آپ ميں عدول اور صحيح الامر ہيں.... اور ان كا اپنے متعلق خبر دينے اور ان كا نام صحيح سلامتى پر ہے، حتى كہ ہم ان كے فعل اس كا استدلال كريں جو اس كى مخالفت كرتا ہو، تو ہم اس خاص خيال كريں جس ميں ان كے فعل نے اس كى مخالفت كى ہے جو ان پر واجب ہوتا تھا "
    ديكھيں: الرسالۃ فقرۃ ( 1029 - 1030 ) اور كتاب الام ( 8 / 518 - 519 ).

    امام شافعى رحمہ اللہ اس موضوع كے متعلق كچھ علمى اصول بيان جو كہ ان كي مختلف كتب ميں بہت زيادہ بيان ہیں اس كے بعد ہمارے ليے اپنا فيصلہ ذكر كرتے ہيں جس ميں كچھ يہاں نقل كيا وہ فردى اجتھاد يا ان كا شخصى مذہب نہيں، بلكہ وہ ايسا اصول ہے جس پر اس سے قبل اہل علم بھى متفق اور جمع ہيں امام شافعى كہتے ہيں:
    " ميں نے اپنى اس كتاب كے شروع ميں جو لكھا ہے اس كا عام معنى كتاب و سنت كا علم ركھنے والے، اور مختلف لوگوں اور قياس اور معقول كا علم ركھنے والے متقدم علماء ميں سے كئى ايک كے سامنے بيان كيا تو ان ميں سے كسى ايک نے بھى كسى ايک كى مخالفت نہ كى، اور ان كا كہنا تھا:
    " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام، اور تابعين عظام اور تبع تابعين كا مذہب يہى ہے، اور ہمارا مذہب بھى يہى ہے؛ اس ليے جو بھى اس مذہب كو چھوڑے گا ہمارے نزديک وہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام اور ان كے بعد آج تک كے اہل علم كى راہ چھوڑ رہا ہے، اور وہ جاہل لوگوں ميں شامل ہوتا ہے.
    ان سب كا كہنا تھا: اس راہ كى مخالفت كرنے والے كو ہمارى رائے ميں سب اہل علم كے اجماع ميں جاہل قرار ديا گيا ہے الخ... "!!
    ديكھيں: اختلاف الحديث ـ كتاب الام ـ ( 10 / 21 ) اور اسى طرح كى كلام آپ الرسالۃ فقرۃ ( 1236- 1239 ) ميں ديكھ سكتے ہيں.
     
    Last edited: ‏دسمبر 27, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    آپکی تلملاہٹ دپکھ کر لگتا ہے کہ میں گنا کیا اس کی ریٹون تک پہنچ گیا ہوں ۔


    تو جرات کرکے آپ کہو کہ حافظ ابن حجر ؒ نے امام احمد بن حنبلؒ سے یہ روایت غلط منسوب کی ہے!


    واہ صاحب کیا بات ہے یہاں بھی مجھے کہنے دیجیئے کہ کہہ دو امام جوزی کو کہ



    مجھے قوی امید ہے کہ آپ اس جرات رندانہ کا مظاہرہ کبھی نہیں کریں گے ۔


    پہ شکوہ تو آپکو سلفی عالم نواب صدیق حسن خان سے کرنا چاہیے ناکہ مجھ سے میں نے صرف انکی تحریر آپکے گوش گزار کی ہے اب کیا آپ انکو یہ کہنے کی ہمت کریں گے


    درست فرمایا آپ نے جناب مولانا محمدحسین بٹالوی

    اور میں اعتراف کرتا ہوں کہ


    جناب مولانا محمدحسین بٹالوی نے کہاں تحقیق کی ہے بغیر۔تحقیق کئے انہوں نے بات کی ہے انہوں نے کہاں علم دین حاصل کیاہے اور


    انکی بھی مذکورہ بات کپاس کے گرد ہی گھومتی ہے۔ شاید جناب مولانا محمدحسین بٹالوی کو بھی آپ کہہ دیں

    QUOTE="ابو حسن, post: 509409, member: 6857"]پکے حنفی ہیں[/QUOTE]

    اسی طرح

    نواب صدیق حسن خان'امام ابن القیم الجوزیؒ',

    حافظ ابن حجرؒ وغیرہ

    کیونکہ یہ سارے

    QUOTE="ابو حسن, post: 509409, member: 6857"]پکے حنفی ہیں[/QUOTE]

    امام البانیؒ بھی

    QUOTE="ابو حسن, post: 509409, member: 6857"]پکے حنفی ہیں[/QUOTE]

    کیونکہ فرماتے ہیں کہ

    تقلید کی حرمت کا مجھے علم نہیں بلکہ جس کے پاس علم نہیں اس کا تقليد کے بغیر چارہ نہیں ۔


    (فتاوٰی البانیہ ۔صفحہ:124)


    واقعی آپ نے درست فرمایا

    آخر

    QUOTE="ابو حسن, post: 509409, member: 6857"]پکے حنفی ہیں[/QUOTE]

    یہ سارے


    اچھاتو تقلید پر درج ذیل اکابرین نے درستگی کی مہر لگائی ہے آپ تسلیم کریں گے ?

    نواب صدیق حسن خان,امام ابن القیم الجوزیؒ, حافظ ابن حجرؒ,امام ذہبی,البانی,محمدحسین بٹالوی,امام نووی,سیدنذیر حسین دہلوی ؒ,سلفی ڈاکٹر بہاوالدین,محمد شاہ جہانپوریؒ,امام ابن تیمیہ وغیرہ

    آپ فرماتے ہیں کہ


    حفص بن سلیمان قاری "متروک الحدیث" ہے۔ (تقریب التہذیب لابن حجر: 1404)

    ٭حافظ ہیثمی فرماتے ہیں: "اسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔" (مجمع الزوائد: ۱۶۳/۱۰)

    حافظ سخاوی رحمہم اللہ فرماتے ہیں: "اسے جمہور اہل علم نے ضعیف کہا ہے" (القول البدیع في الصلاۃ علی الحبیب الشفیع: ص، ۱۲۰)

    قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:

    إسناده ضعيف جدًا ¤ حفص القاريً : متروك (ت 2905)

    ترمذی نے انکو ضعیف اور نسائی نے انکو متروک الحدیث کہا ہے تو ان معتد بہ تعداد محدثین کو دیکھ کر کیا آپ مذکورہ راوی کو صرف ضعیف یا متروک کہیں گے (وضع کو چھوڑ کر )۔

    member: 6857"]وقال البخاري : تركوه. بخاری رحم اللہ کہہ رہے ہیں اسے چھوڑ دو[/QUOTE]



    اس سے بھی مطلب یہ ہے کہ ثقہ نہیں یا پھر امام ذہبی کے مطابق ضعیف سے بھی زیادہ تو کیا اس سے آپ مطلب وضع سے لیں گے ?

    دیکھئےحضرت شعبی ؒ صحابی نہیں ہیں لیکن حضرت محمد بن سیرینؒ جیسے جلیل القدربزرگ کو ان کے متعلق یہ حسنِ ظنی ہے کہ چونکہ حضرات صحابہ کرام ؓکی موجوودگی میں وہ فتویٰ دیتے رہے ہیں، لہٰذا ان کا خطاء سے بعید ہونا زیادہ قریب ہے۔ اسی حسنِ ظنی کی وجہ سے موجودہ دورکے مفتیانِ کرام بھی ائمہ اربعہ کی تقلیدکرتے ہیں کیوں کہ ائمہ اربعہ کا خطاءسے بعید ہونا زیادہ قریب ہے بنسبت آج کے ائمہ ومفتیانِ کرام کے۔

    سلفی نواب صدیق حسن خان صاحب حجۃاﷲالبالغۃ سے نقل کرتےہیں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور ان کے ہم عصر علماء کے مذہب کے پابند تھے اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے مذہب سے باہر نہیں جاتے الا ماشاء اللہ، وہ ان کے مذہب کے مطابق مسائل کی تخریج کرتے، بڑی شان رکھتے اور وجوہِ تخریجات کے معلوم کرنے میں دقیق النظر تھے‘‘۔ (الجنہ: ص۶۸؛ حجۃ اﷲالبالغۃ: ج۱، ص۲۵۱؛ اوجزالمسالک الیٰ موطامالک: ج۱، ص۶۳)
     
  12. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412

    ووصية الأئمة الكبار هي أن يأخذ طلاب العلم من حيث أخذوا ، وأن يضربوا قول أئمتهم عرض الحائط إذا خالف حديث النبي صلى الله عليه وسلم .

    كبار آئمہ كرام كى وصيت ہے كہ طالب علم كو بھى وہيں سے لينا اور اخذ كرنا چاہيے جہاں سے انہوں نے خود اخذ كيا اور ليا ہے، اور جب ان كا قول نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى حديث كے خلاف ہو تو اسے ديوار پر پٹخ ديں.

    قال أبو حنيفة هذا رأيي فمن جاء برأي خير منه قبلناه
    ابو حنيفہ رحمہ اللہ كہتے ہيں " يہ ميرى رائے ہے، اور جو كوئى بھى ميرى رائے سے اچھى اور بہتر رائے لائے ہم اسے قبول كرينگے "

    وقال مالك إنما أنا بشر أصيب وأخطئ , فاعرضوا قولي على الكتاب والسنة
    اور امام مالک رحمہ اللہ كہتے ہيں " ميں تو ايک بشر ہوں غلطى بھى كرتا ہوں اور صحيح بھى اس ليے ميرا قول كتاب و سنت پر پيش كرو "


    وقال الشافعي إذا صح الحديث فاضربوا بقولي الحائط , وإذا رأيت الحجة موضوعة على الطريق فهي قولي
    اور امام شافعى رحمہ اللہ كہتے ہيں" جب حديث صحيح ہو تو ميرا قول ديوار پر پٹخ دو، اور دليل راہ ميں پڑى ہوئى ديكھو تو ميرا قول وہى ہے "


    وقال الإمام أحمد لا تقلدني ولا تقلد مالكاً , ولا الشافعي , ولا الثوري , وتعلم كما تعلمنا
    اور امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں" نہ تو ميرى تقليد كرو، اور نہ مالک كى تقليد كرو، اور نہ شافعى اور ثورى كى، اور اس طرح تعليم حاصل كرو جس طرح ہم نے تعليم حاصل كى ہے "

    وقال : لا تقلد في دينك الرجال , فإنهم لن يسلموا من أن يغلطوا
    اور ان كا يہ بھى كہنا ہے" اپنے دين ميں تم آدميوں كى تقليد مت كرو، كيونكہ ان سے غلطى ہو سكتى ہے "


    یہ سب اقوال انہوں نے مذاقا کہے تھے ؟ واہ صاحب واہ

    اور یہ سب حضرات اس روایت کو سرے سے ہی نہیں جانتے تھے ؟

    أنّ أبا هريرة قال لرجل يا ابن أخي إذا حدثتك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا فلا تضرب له الأمثال
    حضرت ابوہریرہ نے ایک آدمی سے بیان فرمایا اے بھتیجے! جب میں تم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث مبارکہ بیان کیا کروں تو تم (اس کے مقابلے میں) لوگوں کی باتیں (قیل وقال) بیان نہ کیا کرو۔



    تو اس سے کیا اخذ کرلیں کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے علم میں بڑھے ہوئے تھے ؟ ہوش کریں جناب

    عبد ﷲ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ ایک دن اپنے والد حضرت زبیر سے کہنے لگے کہ جس طرح فلاں فلاں صحابی حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثیں کثرت سے نقل کرتے ہیں آپ کو میں نے اس طرح روایت کرتے نہیں سنا

    زبیر بولے کہ آگاہ رہو، میں رسول ﷲ سے جدا نہیں ہوا (مجھے بھی بہت حدیثیں معلوم ہیں) لیکن میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میرے اوپر جھوٹ بولے تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکا نہ آگ میں تلاش کرے (اس لئے بہت حدیثیں بیان کرتے ہوئے ڈرتا ہوں) - ( صحیح بخاری)


    حضرت زبیر رضی اللہ عنہ احتیاط کا دامن تھامے ہوئے احادیث بیان کرنے گریز کرتے تھے نہ کہ وہ کم حدیثیں جاننے کی وجہ سے " اب آپ کے منطق کے مطابق تو دوسرے احادیث زیادہ روایت کرنے والے تھے تو انکو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ پر فوقیت حاصل ہوگئی ؟

    "بہت سے متاخر لوگوں کو اس فتنے نے اپنے شکنجے میں جکڑ لیا اور وہ سمجھنے لگے کہ جس شخص کی گفتگو، مناظرے، اور دینی مسائل میں بحث و تمحیص بہت زیادہ ہے تو وہ دوسروں سے بڑا عالم ہے!!

    حالانکہ یہ جہالت کی انتہا ہے ذرا اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان میں سے اہل علم کی جانب دیکھیں

    مثلاً: ابو بکر، عمر، علی، معاذ، ابن مسعود اور زید بن ثابت وغیرہ رضی اللہ عنہم ان کا کلام ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کم ہے، حالانکہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے زیادہ علم والے تھے۔

    اس طرح تابعین کا کلام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ ہے، حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان سے زیادہ علم رکھتے تھے۔

    اسی طرح تبع تابعین کا کلام تابعین سے زیادہ ہے، حالانکہ تابعین ان سے زیادہ علم رکھتے تھے۔

    تو معلوم ہوا کہ علم کثرتِ روایات کا نام نہیں ہے، نہ ہی بہت زیادہ کلام کرنے کا نام علم ہے علم تو دل میں ڈالا جانے والا ایک نور ہوتا ہے جس کے ذریعے بندہ حق سمجھ جاتا ہے اور اس میں حق و باطل کے مابین امتیاز کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے، چنانچہ وہ انتہائی مختصر عبارت میں ایسی گفتگو کرتا ہے جس کے ساتھ مقصود پورا ہو جاتا ہے


    آپ تو بریلویت کے بھی سرتاج نکلے ؟

    یعنی آئمہ اربعہ خطا سے بعید ہیں ؟ یعنی جس منصب پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی نہ فائز ہوسکے آپ نے آئمہ اربعہ کا اس مقام پر فائز کردیا ؟

    معصومین تو الانبیاء علیھم سلام تھے اور آپ نے انکے مقابل آئمہ اربعہ کو لا کھڑا کردیا ؟ اسی لیے کہتے ہیں کہ اندھی تقلید عقلوں کو سلب کرکے رکھ دیتی ہے

    اور ساری زور آزمائی آپ نے ایک منگھڑت روایت پر صرف کردی ؟ سبحان اللہ ،جو کہ قیامت تک بھی حسن کے درجہ کو نہ پہنچ سکے گی اور ایسی منگھڑت روایت کو ذریعہ بناکر کسی مسلمان کو یہ کہنا کہ "حدیث سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ’’مقلد‘‘ کے معنیٰ ہار پہننے والے کے ہیں اور ساتھ یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتاہے کہ یہ ہار خنزیروں کےگلے میں ڈالنے لائق نہیں۔ کیونکہ خنزیروں کو اس کی قدرمعلوم نہیں" استغفراللہ


    اب آپ لگے رہو کیونکہ آپ کے منطق عجائب سے بھرپور ہیں اور آپکی تگ و دود منگھڑت اور جھوٹے روای پر صرف ہورہی ہے
     
    Last edited: ‏دسمبر 29, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    یہی طریقہ صحابہ کا بھی تھا غور سے پڑھ لیں
    صحیح بخاری اور مسلم دونوں میں یہ روایت موجود ہے
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب زخمی ہوئے تو ان سے کہا گیا کہ آپ اپنا خلیفہ منتخب کرتا ہوں (تو اس کی بھی مثال ہے کہ) اس شخص نے اپنا خلیفہ منتخب کیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ اور اگر میں اسے مسلمانوں کی رائے پر چھوڑ تا ہوں تو (اس کی بھی مثال موجود ہے کہ) اس بزرگ نے (خلیفہ کا انتخاب مسلمانوں کے لیے) چھوڑ دیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم‘‘۔ (صحیح البخاری: كتاب الأحكام،باب الاِسْتِخْلاَفِ، ج۹، رقم الحدیث ۷۲۱۸؛ صحیح المسلم: كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب مَا جَاءَ فِي الْخِلاَفَةِ، ج۴، رقم الحدیث ۲۲۲۵)

    اس حدیث کی تشریح امام نووی کیا کرتے ہیں پڑھ لیں خلیفہ نے اگر خلافت کے لئے کسی کو نامزد نہ کیا تو آنحضرتﷺکی قتداءکی۔ اور اگر نامزد کردیا تو حضرت ابوبکررضی اﷲعنہ کی اقتداء کرلی‘‘۔

    (شرح صحیح المسلم النووی: كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب الاستخلاف وتركہ، ج۱۲، ص ۲۰۵)

    بھائی میرے دین کی سمجھ ہمیں صحابہ ؓ ,تابعینؒ اور تبع تابعینؒ سے ہی ملی ہے اسلئے انکے فہم کو لیکر ہی ہمیں دین سمجھ آئے گا ورنہ جس طرح سلفی عالم ڈاکٹر بہاوالدین صاحب لکھتے ہیں: ’’ہاں بعض عوام کالانعام گروہ اہل حدیث میں ایسے بھی ہیں جو اہل حدیث کہلانے کے مستحق نہیں۔ ان کو لامذہب، بد مذہب، ضال مضل جو کچھ کہو، زیبا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ خود کتاب و سنت کا علم رکھتے ہیں نہ اپنے گروہ کے اہل علم کا اتباع کرتے ہیں۔ کسی سے کوئی حدیث سن کریا کسی اردو مترجم کتاب میں دیکھ کرنہ صرف اس کے ظاہری معنی کے موافق عمل کرنے پر صبرو اکتفاکرتے ہیں۔ بلکہ اس میں اپنی خواہش نفس کے موافق استنباط واجتہاد بھی شروع کردیتے ہیں۔ جس میں وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں‘‘۔ (تاریخ اہل حدیث: ص۱۶۴)

    جیسے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نہ خود کتاب و سنت کا علم رکھتے ہیں نہ اپنے گروہ کے اہل علم کا اتباع کرتے ہیں۔ آپ بھی احادیث کی تشریح اپنی طرف سے کرنے کے قائل ہیں میرا نہ سہی اپنے سلفی اہل علم کا ہی فہم لے لیں۔
    ایسا طریقہ ابوہریرہؓ اور دوسروں نے نہیں کیا اب نہ آپ حضرت زبیرؓ کے طریقے کو غلط کہہ سکتے ہیں نہ ہی حضرت ابوہریرہؓ کے طریقے کو غلط کہہ سکتے ہیں ان سب باتوں کے باوجود علامہ البانی نے کہا ہے کہ تقلید کے بغیر چارہ نہیں ہے۔
    کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا
    مگر آپکو میں نے کہا تھا کہ سلفی اکابرین نے خود اسکی یہی معنی کی ہے تو اسوقت آپ نے جٹ سے جواب دیا تھا کہ آپکو اس سے بحث ہی نہیں ہے اور اب فرماتے ہیں کہ "منگھڑت روایت کو ذریعہ بناکر کسی مسلمان کو یہ کہنا کہ "حدیث سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ’’مقلد‘‘ کے معنیٰ ہار پہننے والے کے ہیں"
    جبکہ سلفی حوالے آپکو پیش کئے تھے پھر بھی یہ کہہ رہے ہیں یہ تو میں نہیں مانوں والی بات ہے جبکہ اسکے مادے کی معنی امام بخاری ہار کرتے ہیں (بخاری کتاب نکاح)
    اور عجائبات سے بھرپور منطق میں
    شیخ البانی
    سلفی نذیر حسین
    سلفی بٹالوی
    سلفی نواب صدیق
    سلفی جہان پوری
    ابن حجر
    امام ذہبی
    سلفی عبداللہ روپڑی
    امام تیمیہؒ
    امام نووی
    امام ابوحنیفہؒ
    امام شافعیؒ
    امام احمدؓ etc
    کے حوالے بھی موجود تھے اور الحمداللہ آپ میں کسی بھی حوالے کو رد کرنے کی ہمت نہیں ہوئی
    میرے بھائ آپکو دعوت مبحثانہ میں نے نہیں دی تھی آپ رضاکارانہ پیشِ قدم ہوئے ہیں
    یہاں بھی آپ نے ذاتی قیاس کا مظاہرہ کیا ہے اس روایت پر کچھ محدثین نے وضع کی جراح لگائی ہے سب نے ان پر یہ جراح نہیں کی امام بخاری کی جراح پر بھی مذکورہ لفظ کو امام ذہبی نے غیرثقہ یا ضعیف سے بھی زیادہ قرار دیا ہے وکیع کا حوالہ تو خود آپ نے دیا ہے کہ ثقہ ہے جبکہ ابن معین نے بھی یہی کہا ہے۔
    اگر دلیل نہ ہوتو خاموشی الزامات لگانے سے بہتر ہے میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ہاں میں نے سلفی علماء سمیت ان محدثین اور مختہدین کا حوالہ ضرور دیا ہے جن میں سے کسی ایک کو بھی نہ آپ نے رد کیا, نہ انکار کیا اور نہ ہی ان پر بریلویت کا الزام لگایا۔
    میری بات غور سے پڑھیں میں نے یہ نہیں کہا میں نے کہا ہے کہ چونکہ حضرت شعبی ؒ صحابی نہیں ہیں لیکن حضرت محمد بن سیرینؒ جیسے جلیل القدربزرگ کو ان کے متعلق یہ حسنِ ظنی ہے کہ چونکہ حضرات صحابہ کرام ؓکی موجوودگی میں وہ فتویٰ دیتے رہے ہیں، لہٰذا ان کا خطاء سے بعید ہونا زیادہ قریب ہے خطا سے بعید ہونے کے زیادہ قریب ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خطا سے بعید ہیں آپ نے میرے جملے کو اپنا مطلب دے کر مجھ پر بریلویت کا الزام لگادیا تاسف ہے
    آپ کے دلائل کا جواب دینے کا پابند ہوں آپکے الزام کا جواب دینے کا پابند نہيں ہوں دلائل دینے والے الزامات یا عامیانہ گفتگو نہیں کرتے۔

    مجتہدین بھی حلال و حرام کا مسئلہ صحیح احادیث سے ہی نکالتے ہیں




    یہ بات میں نہیں کررہا سلفی عالم کررہے ہیں نواب صدیق حسن خان صاحب حجۃاﷲالبالغۃ سے نقل کرتےہیں:

    ابوحنیفہ رحمہ اللہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور ان کے ہم عصر علماء کے مذہب کے پابند تھے اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے مذہب سے باہر نہیں جاتے الا ماشاء اللہ، وہ ان کے مذہب کے مطابق مسائل کی تخریج کرتے، بڑی شان رکھتے اور وجوہِ تخریجات کے معلوم کرنے میں دقیق النظر تھے‘‘۔ (الجنہ: ص۶۸؛ حجۃ اﷲالبالغۃ: ج۱، ص۲۵۱؛ اوجزالمسالک الیٰ موطامالک: ج۱، ص۶۳)



    یہ بات بھی میں نہیں کررہا امام جوزی کرتے ہیں

    امام ابن القیم الجوزیؒ لکھتے ہیں: حضرت امام شافعی نے بہت سے مقامات پرکہاہے کہ میں نے حضرت عطاء کی تقلید میں ایساکہاہے‘‘۔ (عصرہ ومنہجہ وآراؤہ فی الفقہ والعقائدوالتصوف: ص۱۰۷)



    یہ بھی میں نہيں کہہ رہا ابن حجر کہہ رہے ہیں

    خطیب بغدادیؒ اور حافظ ابن حجرؒ نقل کرتے ہیں کہ: ’’امام احمد بن حنبلؒ خود مجتہد ہیں۔ ایک مسئلہ کے جواب میں ایک سائل نے کہاکہ اس میں توکوئی حدیث موجود نہیں ہے۔ اس پر حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے جواباًارشاد فرمایاکہ اگرحدیث موجود نہیں تونہ سہی اس میں "ففیہ قول الشافعی وحجتہ، أثبت شئی فیہ" حضرت امام شافعیؒ کا قول موجودہےاورامام شافعی کاقول بذات خودحجت اوردلیل ہے‘‘۔(تاریخ بغداد:ج۲، ص۴۰۷؛ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال: ج۲۴، ص۳۷۲)



    اس بات کا جواب آپکو امام نووی ؒ نے دیا ہے کہ ایک شخص ایک مذہب متعین کرلے اور اس پر عمل کرے۔(مجموع شرح المہذب)

    تو یہ درست ہے کہ آدمیوں کی نہیں ایک آدمی کی پیروی کی جائے۔



    یہ درست ہے مگر عامی کیلئے نہیں عامی کیلیے مجتہدین کی پیروی لازمی ہے اسکی تشریح خطیب بغدادی نے کی ہے کہ اگر ہم ان فروعی مسائل میں عوام کو تقلید سے روکیں تو ہر کسی پر پورے دین کی تعلیم ضروری ہوجائے گی اسے ہر کسی کیلئے ضروری ٹہرانے پر دیگر امور معاشی سب برباد ہوجائیں گے۔(الفقیہ متفقہ)
    تو مندرجہ بالا کے تحت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ان کے لئے ہے جو دین کے اہل ہیں عامی یا عوام الناس جن کیلئے دینی مسائل نکالنا ممکن نہیں وہ تقليد کرسکتے ہیں جن کی تائید سلفی حضرات کےشیخ الکل جناب مولانا سید نذیر حسین صاحب دہلویؒ بھی کرتے ہیں

    سلفی حضرات کےشیخ الکل جناب مولانا سید نذیر حسین صاحب دہلویؒ فرماتے ہیں کہ :’’معنیٰ تقلید کے اصطلاح میں اہل اصول کی یہ ہےکہ مان لینا اور عمل کرنا ساتھ قول بلا دلیل اس شخص کی بات جس کا قول حجت شرعی نہ ہو۔تو اس بنا پر اس اصطلاح کی رجوع کرنا عامی کا طرف مجتہد وں کی اور تقلید کرنی ان کی کسی مسئلہ میں تقلید نہ ہو گی ۔ (کیونکہ لاعلمی کے وقت ان کی طرف رجوع کرنا نصوص قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور وہ شخص اہل الذکر اور اہل علم کی بات ماننے کا شرعاً مکلف ہے)۔ بلکہ اس کو اتباع اور سوال کہیں گے اور معنیٰ تقلید کے عرف میں یہ ہیں کہ وقت لاعلمی کے کسی اہل علم کا قول مان لینا اور اس پر عمل کرنا اور اس معنیٰ عرفی سےمجتہدوں کے اتباع کو تقلید بولا جاتا ہے‘‘۔ (معیارالحق:ص۷۲)

    آگے لکھتے ہیں: ’’امام الحرمین نے کہاہے کہ اسی قول مشہورپربڑےبڑےاصولی ہیں اورغزالی اورآمدی اورابن حاجب نے کہاکہ رجوع کرناآنحضرتﷺاوراجماع اورمفتی اورگواہوں کی طرف اگرتقلیدقراردیاجائے توکچھ ہرج نہیں۔ پس ثابت ہواکہ آنحضرتﷺکی پیروی کواورمجتہدین کی اتباع کوتقلید کہناجائزہے‘‘۔ (معیار الحق: ص ۷۳)
     
  14. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    برصغير پاک وہند میں سب سے پہلا تقلید کا مخالف

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر پاک وہند میں تقليد بیزاری کو سب سے پہلے عبدالحق بنارسی ہے متعارف کیا جوکہ امام شوکانی کے شاگرد تھے تفسیر فتح القدیر میں لکھا ہے
    آپ سے علم حاصل کرنے والوں میں علامہ شیخ عبد الحق بن فضل ہندی بھی ہے‘‘۔ (تفسیرفتح القدير للشوكانی: ص۶)
    عبد الحق بنارسی کےمتعلق مولانا عبد الخالق کی تحریر ملاحظہ فرمائیں جو اہلیحدیث کے شیخ الکل میاں نذیر حسین دہلوی کے استاذاور خسر ہیں۔ آپ اپنی کتاب تنبیہ الضالین وہدایت الصالحین کے صفحہ نمبر۳پر لکھتے ہیں: ’’سوبانی مبانی اس فرقہ نواحداث کا عبد الحق ہے، جو چند روز سے بنارس میں رہتا ہے اور حضرت امیر المومنین (سید احمدشہیدؒ) نے ایسی دہی حرکات ناشائستہ کے باعث اپنی جماعت سے ان کو نکال دیا تھا اور علمائے حرمین نے اس کے قتل کا فتوی ٰ لکھا تھا، مگر یہ کسی طرح بھاگ کر وہاں سے بچ نکلا‘‘۔ (برصغیرپاک وہند کے چند تاریخی حقائق ص:115)

    مذہب اربعہ میں سے کسی ایک کی تقليد جائز ہے ۔
    (فتاویٰ اسلامیہ جلد اول صفحہ 242, شیخ ابن جبرین)
    قيل لِرسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم - : أيُّ الدُّعاءِ أَسْمَعُ ؟ قَالَ : (( جَوْفَ اللَّيْلِ الآخِرِ ، وَدُبُرَ الصَّلَواتِ المَكْتُوباتِ ))
    رواه الترمذي ،وقال :( حديث حسن )

    ترجمہ: عرض کیا گیا "یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم" کس وقت کی دعا زیادہ مقبول ہوتی ہے؟ جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا: رات کے آخری حصّہ کی دعا اور فرض نمازوں کے بعد کی دعا۔
    يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا۔ (سورۃالنسآء: ۵۹)

    اے ایمان والو!فرمانبرداری کرواﷲتعالیٰ کی اورفرمانبرداری کرو رسول ﷺ کی اور اپنے میں سے اختیار والوں کی۔پھر اگر کسی چیز میں اختلااف ہوجائے تو اﷲاور اﷲکے رسولﷺ کی طرف لوٹاؤ، اگر تمہیں اﷲتعالیٰ پر اور قیامت کے دن پرایمان ہےاوربہت بہترہے اس کا انجام۔

    مشہور اہل حدیث عالم علامہ نواب صدیق حسن خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں اعتراف فرمایا ہے کہ ’’فان تنازعتم ۔۔۔الاخر“ کا خطاب مجتہدین کو ہے، چنانچہ فرماتے ہیں: ’’والظاھر انہ خطاب مستقل مستانف موجہ للمجتھدین“۔ ’’اور ظاہر ہے کہ یہ مستقل خطاب ہے جس میں روئے سخن مجتہدین کی طرف ہے“۔(تفسیر فتح البیان،جلد۲،صفحہ۱۵۸،مطبعۃ العاصمۃ،قاہرہ)

    وتقلید کا حکم قرآن سے
    تقلید کے وجوب پرقرآن کی پہلی آیت:

    ‏يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ۔‏ (سورۃ النسآء: ۵۹)

    اےایمانوالوں! اﷲ کی اطاعت کرواوررسولﷺ کی اطاعت کرو اوراپنےمیں سے اولی الامرکی ۔

    مستدرک علی الصحیحن میں لکھا ہے ”اولی الامر اصحاب فقیہ اور اصحاب الخیر ہیں“ (مستدرک علی الصحیحن: جلد اول، ص۲۱۱) آگے لکھا ہے۔”اولی الامر سے اہل فقہ اور اہل دین مراد ہیں جو لوگوں کو العمل بالمعروف والنهی عن المنكر کراتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی اطاعت واجب کردی ہے“۔ (مستدرک علی الصحیحین: جلد اول، ص۲۱۱)

    جلیل القدر صحابی رسول ﷺحضرت عبداﷲبن عباس ؓ فرماتے ہیں: ’’ان سے مراد فقہ دین والے ہیں جو لوگوں کو ان کے دین کا مطلب سمجھاتے ہیں‘‘۔
    علی بن ابی طلحہ نے ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہوئے کہا: واولی الامر منکم یعنی اہل فقہ و الدین۔ اور مجاہد اور عطا اور حسن بصری نے فرمایا ہے۔ اور ابو العالیہ نے کہا ہے: واولی الامر منکم یعنی علماء۔ اور ظاہر یہ ہے۔ واللہ اعلم۔ کہ اولی الامر امراء اور علماء (دونوں میں سے) ہیں جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر: ج۱، ص۷۲۸)

    زبیر۔علی زئی صاحب ایک سعودی سلفی عالم شیخ ربیع کے ہاں قیام پذیر تھے ایک دن شیخ ربیع نے کہا کہ
    بے شک تقلید واجب ہے
    ذبیر علی ذئی کے پوچھنے پر پھر کہا
    بے شک تقلید واجب ہے
    یہ سن کر حافظ صاحب نے سامان اٹھایا اور چلے گئے ۔

    (ماہنامہ اشاعة الحدیث شمارہ 11 اپریل 2005 صفحہ 41)
     
  15. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    تقلید کا مادہ "قلادہ" ہے، باب تفعیل سے "قلد قلادۃ" کے معنیٰ ہار پہننے کے ہیں۔ حضرت امام محمدبن اسمٰعیل البخاریؒ (متوفی ۲۵۶ھ) نے صحیح بخاری میں القلائداوراستعارۃ القلائدکے مستقل ابواب قائم کیئے ہیں جن میں ہارپہنے اورضرورت کے وقت عورتوں کاایک دوسرے سے ہار مانگنے کاتذکرہ ہے؛ چنانچہ خود حدیث میں بھی "قلادہ" کا لفظ "ہار" کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: "اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً"۔ ’’انہوں نے حضرت اسماءؓ سے ہار عاریۃً لیا تھا‘‘۔ (بخاری، كِتَاب انِّكَاحِ،بَاب اسْتِعَارَةِ الثِّيَابِ لِلْعَرُوسِ وَغَيْرِهَا،حدیث نمبر:۴۷۶۶

    سلفی
    مترجم جناب وحیدالزمان صدیقی اپنی حدیث کی لغت کی کتاب میں لکھتے ہیں: ’’اَیُّمَا اِمْرَأۃء تَقَلَّدَتْ قَلَادَۃً‘‘۔ ’’جوعورت سونے کاہارپہنے‘‘۔ (لغات الحدیث: ج۲، ص۳۶)
    [​IMG]

    علم لغت کے مشہورشیخ الامام علامہ محمد بن أبی بكر بن عبد القادر الرازی (متوفی ۶۶۰ھ) لکھتے ہیں: ’’(الْقِلَادَةُ) الَّتِي فِي الْعُنُقِ وَ (قَلَّدَهُ فَتَقَلَّدَ) وَمِنْهُ (التَّقْلِيدُ) فِي الدِّينِ وَتَقْلِيدُ الْوُلَاةِ الْأَعْمَالَ‘‘۔ ’’(الْقِلَادَةُ) ہار۔ جوگلے میں پہناجاتاہے۔ (قَلَّدَهُ فَتَقَلَّدَ): اس نے اسے ہار پہنایاتو اس نے پہن لیا۔ اسی سے لفظ تَّقْلِيدُ مشتق ہے۔ یعنی التَّقْلِيدُ فِي الدِّينِ: دین میں کسی شخص کی پیروی‘‘۔ (مختارالصحاح: ص۴۸۲عربی؛ص ۷۵۸ اردو)
    مشہورلغوی امام علامہ قرشیؒ فرماتے ہیں: "تقلید درگردن افگندن حمیل وغیرآن کَسے"۔ ’’تقلید کے معنیٰ کسی کے گلے میں ہار وغیرہ ڈالناہے‘‘۔ (صراح: ص۱۴۳، طبع مجیدی کانپور)


    [​IMG]
    [​IMG]


    اہلحدیث عالم شیخ الکل محدث جلیل جناب سیدنذیر حسین دہلوی ؒ نے اپنی کتاب معیارالحق کے صفحہ نمبر ۱۴۳ پرلکھتے ہیں: ’’قوی تراجماع صحابہ کاہےخلاف اس اجماع کامقبول نہیں بلکہ مردود ہے۔ پس جب کہ کل صحابہ اورتمام مومنین کاقرونِ اولیٰ میں اس پراجماع ثابت ہواکہ کبھی ایک مجتہد کی تقلید کرتے اورکبھی دوسرے مجتہدکی‘‘۔ (معیارالحق: ص۱۴۳)
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں