تعویذ ۔۔۔۔۔۔۔ ایک مدلل اور سنجیدہ مختصراً نکات

زبیراحمد نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جنوری 4, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    "حفاظت کی دعا کرنا" تعویذ کے لغوی معنی ہیں (مصباح اللغات : 583)۔

    امام بخاریؒ کے شیخ الحدیث امام ابو بکر بن ابی شیبہؒ کی کتاب "المصنف" کی کتاب الطب کے"باب : جس نے اجازت دی تعویذ لٹکانے کی"احادیث ملاحظہ ہوں:

    حضرت مجاہدؒ بچوں کے لئے تعویذ لکھتے تھے پھر وه ان پر اسےلٹکاتے تھے.


    ٢٣٨٩٣- .....حضرت جعفرؒ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ تعویذاتِ قرآنیہ کو چمڑے میں ڈال کر گلے وغیرہ میں لٹکانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔

    حضرت عمرو بن شعیبؓ اپنے والد سے اور وہ ان کے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی نیند میں ڈر جائے تو یہ دعا پڑھے أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ (یعنی۔ میں اللہ کے غضب، عقاب، اسکے بندوں کے فساد، شیطانی وساوس اور ان (شیطانوں) کے ہمارے پاس آنے سے اللہ کے پورے کلمات کی پناہ مانگتا ہوں) اگر وہ یہ دعا پڑھے گا تو وہ خواب اسے ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔ عبد اللهؓ بن عمرو(بن العاص) یہ دعا اپنے بالغ بچوں کو سکھایا کرتے تھے اور نابالغ بچوں کے لیے لکھ کر ان کے گلے میں ڈال دیا کرتے تھے۔[جامع الترمذي » كِتَاب الدَّعَوَاتِ » بَاب مَا جَاءَ فِي عَقْدِ التَّسْبِيحِ بِالْيَدِ ۔۔۔ رقم الحديث: 3475 (3528)

    سنن أبي داود » كِتَاب الطِّبِّ » بَاب كَيْفَ الرُّقَى ۔۔۔ رقم الحديث: 3397 (3893)]

    امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
    حافظ ابن القیم رحمه الله نے اپنی کتاب ( زادُ المَعَاد : ٣/٥٧٢) میں نقل کیا ہے کہ

    امام المروزي نے فرمایا کہ أبا عبد الله [يعني امام أحمد بن حنبل] کو یہ خبر پہنچی کہ مجهے بخار ہے تو انهوں نے میرے لیئے بخار کے علاج کا ایک تعویذ لکها جس میں یہ لکها ہوا تها ، : بسم الله الرحمن الرحيم باسم اللهِ وباللهِ ، وَمُحمدُ رسُولُ الله قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الأَخْسَرِينَ ) اللهُمَّ رَبَّ جبرئيلَ وَمِیكائيلَ وَإسرافيلَ اِشفِ صاحبَ هَذا الكتابِ بحَولكَ وَقـُوَّتِكَ وَجَـبَرُوتِكَ إلهَ الخـَلقِ . آمين

    تعویذ سلفی اکابرین و اہل علم کی نظر میں:

    فتاویٰ علماۓ : حدیث ج ١٠، ص ٨٢ ، کتاب الایمان و العقائد : "کچھ شک نہیں کہ نفس دم (رقیہ) یعنی ذات دم کی یا ذات تعویذ یا ذات عمل حب (تولہ) کی نہیں بلکہ ان کی بعض قسمیں شرک ہیں ؛ اور اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم ان منتروں کو پڑھ کر مجھ کو سناؤ جب تک ان میں شرک نہ ہو میں کوئی حرج نہیں دیکھتا".[صحيح مسلم » كِتَاب السَّلَامِ » بَاب لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ ...رقم الحديث: 4086]

    فتاویٰ ثانیہ : ج ١ ، ص ٣٣٩ ، باب اول : عقائد و مہمات دین : "مسئلہ تعویذ میں اختلاف ہے ، راجح یہ ہے کہ آیات یا کلمات صحیحہ دعائیہ جو ثابت ہوں ان کا تعویذ بنانا جائز ہے ، ہندو ہو یا مسلمان . صحابہ کرام نے ایک کافر بیمار پر سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا.

    فتاویٰ نذیریہ ج ۳ , ص ۲۹۹ میں لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ یہ کلمات لکھ کر بچوں کے گلے میں ڈالتے تھے۔ امام ترمذی ؒ نے اسے حسن کہا ہے۔
    کتاب التعویزات میں سلفی نواب صدیق حسن خان اعتراف کرتے ہیں کہ آپ ﷺ تعویز کرتے
    تھے ۔
    تعویذ کا پہننا شرعاً جائز ہے بشرطیکہ اس میں شرکیہ کلمات نہ ہوں جس طرح زبانی دعا کی قبولیت و اثرپذیری الله تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے ، ٹھیک اسی طرح پر قرآن کی آیات پر مشتمل تعویذ یعنی "تحریری دعا" کے اثرات و فوائد بھی الله تعالیٰ کی مشیت و مرضی پر ہی منحصر ہے.
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    براہ مہربانی سکھانے سے زیادہ سیکھنے پر توجہ کریں. یہ آپ کے لیے بہتر ہے
    ....
    1- اگر تعویذات کی عبارت میں کفر یا شرک ہو تو ایسے تعویذات کفر یا شرک ہیں
    2- اگر تعویذات کی عبارت میں کفر یا شرک نہ ہو مثلا آیات قرآنی یا دیگر ادعیہ وغیرہ تو کفر یا شرک نہیں البتہ حرام ہیں
    3- تمیمہ کو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے شرک قرار دیا ہے اور بعض لوگ تمیمہ کا معنى تعویذ کرتے ہیں جو کہ صحیح نہیں تمیمہ تعویذ کو نہیں کہا جاتا بلکہ وہ چیزے دیگری ہے۔
    http://www.urdumajlis.net/threads/13234/#post-274046


    http://www.urdumajlis.net/threads/13493/
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں