بیٹی ! اللہ کی رحمت

سعیدہ شیخ نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏مارچ 4, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. سعیدہ شیخ

    سعیدہ شیخ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    79
    اولاد انسان کے لئے بیش بہا قیمتی سرمایہ اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے گراں قدر عطیّہ ہوتا ہے،چاہے وہ لڑکی ہوں یا لڑکا مگر ہمارے معاشرے کا عمومی جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ لاکھ دینی فہم ہوں یا سائنٹفیک دلائل پیش کئے جانے کے باوجود لوگ لڑکی کی پیدائش پر عورت ہی کو مورود الزام ٹھہراتے ہیں۔ بلکہ یہ مکمل اللہ تعالی کےاختیار میں ہے۔ اللہ تعالی سورہ الشوری میں ارشاد فرماتے ہیں :

    " لِّـلّـٰـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ الـذُّكُـوْرَ (49)
    آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے، جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے بخشتا ہے۔

    اَوْ يُزَوِّجُهُـمْ ذُكْـرَانًا وَّاِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَآءُ عَقِيْمًا ۚ اِنَّهٝ عَلِيْـمٌ قَدِيْرٌ (50)
    یا لڑکے اور لڑکیاں ملا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، بے شک وہ خبردار قدرت والا ہے۔"


    بیٹی اللہ تعالی کی رحمت اور قیمتی تحفہ ہے۔ اور اکثر لوگ بیٹی کے پیدا ہونے پر غمگین ہو جاتے ہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی دین ہے ۔ انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اگر بالفرض انسان کے بس کی بات ہوتی تو زیادہ تر لوگ بیٹے ہی پیدا کرتے اور یوں بیٹیاں نہ ہونے کے سبب دنیا کا نظام رک جاتا، بلکہ ختم ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ اس کائنات کو اپنی حکمت سے چلا رہا ہے۔

    عرب میں بیٹیوں کو پیدائش کے بعد زندہ درگور کردیا جاتا تھا، لیکن اب تو یہ حال ہے کہ اسے رحم مادر میں ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔ تب لوگ جاہل تھے، انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ سخت گناہ ہے، لیکن آج تو ہمارے سامنے قرآن مجید کے ہوتے ہوئے بھی اس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

    جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ سے اتنی محبت تھی کہ جب بھی فاطمہ ؓ بارگاہ میں حاضر ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو عزت دینے کے لئے کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور ان کے لئے اپنی چادر مبارک بچھا دیا کرتے تھے۔ ایک باپ اور بیٹی کی محبت ! اس طرح کے واقعات کس طرح ہمارے ذہنوں میں نقش راہ چھوڑ جاتے ہیں۔ کہ وقت کے رسول ؑ کے ساتھ ساتھ ایک والد بھی تھے۔ کس طرح جذبوں میں وارفتگی اور دور تک پھیلی ہوئی اپنائت کے ساتھ بیٹی سے پیش آتے تھے ۔ اور اگر ہم اپنا جائزہ لیں کہ” کیا واقعی میں ہم بھی اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسی ہی محبت کرتے ہیں”؟

    حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب محبوب رب العزت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت سراپا شفقت میں حاضر ہوتیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کھڑے ہو کران کی طرف متوجہ ہو جاتے ،پھر اپنے پیارے پیارے ہاتھ میں اُن کا ہاتھ لے کراسے بوسہ دیتے پھر ان کو اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے ۔ اسی طرح جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ دیکھ کر کھڑی ہو جاتیں ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا مبارک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چومتیں اورآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔(ابوداود)

    اللہ کے رسول ؑ نے فرمایا : "جس شخص نے اپنی دو بیٹیوں کی پرورش اچھے طریقے سے کی یہاں تک کہ ان کو بالغ کر دیا تو میں اور وہ قیامت کے دن اس طرح کھڑے ھونگے ، آپ ؑ نے اپنی شہادت اور درمیان والی انگلی ملا کر دکھائی”۔ ( مسلم شریف )

    "جو شخص بچیوں کے ذریعے آزمایا گیا یعنی اس کے گھر صرف بچیاں ھی پیدا کی گئیں اور اس نے ان کو خوش دلی سے پال پوس کر جوان کر دیا تو وہ بچیاں قیامت کے دن اس کے اور آگ کے درمیان پردہ بن جائیں گی ( بخاری و مسلم )

    دراصل آج ہمارے معاشرے کی یہ سوچ ہو گئی ہے کہ لڑکی تو دوسرے گھر چلی جائے گی اور لڑکا ہمارا سہارا ہوگا،اور ہماری دیکھ بھال کرے گا۔ اور اور اسی سے ہماری نسل چلے گی۔ اور اسی وجہ سے ہم ان کے درمیان انصاف نہیں کرتے۔ اور نہ ہی اسےتعلیم اور دوسری سہولیات مہیا کرتے ہیں۔ جبکہ ایک عورت کو تعلیم دینا پورے خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہیں۔ اس لیے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے”۔ (بخاری، مسلم)

    ان ہی ساری وجوہات کی وجہ سے لڑکیوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔ آج سماج میں سب سے زیادہ مظلوم عورت ہی ہیں۔ اس کو وراثت سے محروم کیا جاتا ہے۔ جس کا اسے خود بھی شعور نہیں ہے۔ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے اسے سب سے زیادہ اختیارات دیے ہیں۔ بیٹی کی پیدائش پر رحمت ہے تو اس کی پرورش پر جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ اس کے مرتبے کو بلند کیا۔

    اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں: میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ۔ میں نے اسے تین کھجوریں دیں۔ اس نے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی ،پھر جس کھجور کو وہ خود کھانا چاہتی تھی اس کے دوٹکڑے کر کے وہ کھجور بھی ان (یعنی دونوں بیٹیوں)کو کھلا دی ۔مجھے اس واقعے سے بہت تعجب ہوا ۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں اس خاتون کے ایثار کا بیان کیا توسرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے اس (ایثار) کی وجہ سے اس عورت کے لئے جنت واجب کردی۔ (مسلم)

    لڑکی اللہ تعالی کی رحمت ہے اور جہنم کی آگ سے نجات ہے۔ آئیے! عہد کریں کہ لڑکی کی پیدائش پر کبھی غم اور افسوس کا اظہار نہیں کرینگے بلکہ اس کے پورے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ محبت اور شفقت کا برتاؤ کریں۔،آج ہمیں اپنی سوچ کو بدلنی ہوگی۔ تبھی ہم ہمارے سماج میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بیٹی خدا کی رحمت ہے اور والدین کی عزت ہے۔ ہم سب مل کر اس پیغام کا عام کریں تبھی صحیح معنوں میں عورت کو اس کا حق ملے گا۔ اس لئے کہ عورت ہی کے دم سے ہے کائنات میں رنگ !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بہت عمدہ تحریر۔ سب سے دکھ کی بات یہ ہے کہ خود عورتیں ہی لڑکی کی پیدائش پر تکلیف دہ باتیں کرتی ہیں اور دوسری لڑکیوں کی تعلیم وترقی میں رکاوٹ بننے والی بھی اکثر اوقات عورتیں ہوتی ہیں۔یہ عورتیں ہی ہیں جو اپنے بیٹے کو عورت کی عزت کرنا نہیں سکھاتیں اس لئے وہ اپنی بہن، بیوی اور بیٹی کو انسان نہیں سمجھتا۔ علماء یا اساتذہ کتنی بھی کوشش کر لیں سماجی رویے بدلنے میں جب تک ماں کا کردار نہیں ہو گا بہتری کی رفتار بہت سست رہے گی۔
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  3. سعیدہ شیخ

    سعیدہ شیخ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    79
    وہ اپنی بہن، بیوی اور بیٹی کو انسان نہیں سمجھتا۔ علماء یا اساتذہ کتنی بھی کوشش کر لیں سماجی رویے بدلنے میں جب تک ماں کا کردار نہیں ہو گا بہتری کی رفتار بہت سست رہے گی۔[/QUOTE]
    حوصلہ افزائی کا شکریہ!
    باجی آپ نے معاشرے کا صیحح تجزیہ پیش کیا۔ ماں کا دین ودنیا دونوں میں تربیت یافتہ ہونا بے حد ضروری ہے۔ تبھی وہ درست خطوط پر اپنے بچوں کی تعلیم کر سکے گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بالکل متفق ماں کی دینی و دنیاوی تعلیم یقینا پوری نسل پر اثر ڈالتی ہے۔ اور ضروری نہیں یہ تعلیم باقاعدہ تعلیمی اداروں میں جاکر حاصل کی جائے۔ ایک اچھی ماں بننے کے لئے ضروری مہارتیں ہر روز سیکھی جا سکتی ہیں۔ آپ جیسی بہنیں اپنے قلم سے تبدیلی لا رہی ہیں یہ بہت اچھی بات ہے۔
    اس موضوع پر بھی لکھیے کہ کیسے مائیں اپنے رویے اور سوچ بہتر کر کے بیٹیوں کے لیے زندگی آسان کر سکتی ہیں۔ ہم سب ایسے منفی رویے دیکھتی ہیں اور ان کی وجہ سے کافی مشکلات بھی جھیلتی ہیں۔ ہو سکے تو یہیں گفتگو جاری رکھی جا سکتی ہے۔
     
  5. اظہر عباس

    اظہر عباس -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 25, 2010
    پیغامات:
    36
    کل سوشل میڈیا پر ’’بیٹی‘‘ کے عنوان پر ایک نظم پڑھی، اچھی لگی۔۔۔

    محبت کی پہلی اَذاں بیٹیاں
    عنایاتِ رَب کی ہے جاں بیٹیاں

    نبیؐ کو سمجھتے ہو گر خوش نصیب !!
    سعادَت کا پھر ہیں نشاں بیٹیاں

    وَہاں رَب کی رَحمت گزرتی نہیں
    جہاں پر بھریں سسکیاں بیٹیاں

    محمدؐ کا پیرو نہ خود کو کہے
    ذِرا بھی ہیں جس پہ گراں بیٹیاں

    مِرے بیٹے یہ کوئی شکوہ نہیں
    ملاتی ہیں پر ہاں میں ہاں بیٹیاں

    ہر اِک آنکھ میں اَشک بھرنے لگیں
    جنازے پہ نوحہ کناں بیٹیاں

    خدا پیار کرتا ہے ماں جیسا قیسؔ
    خدا ہی بناتا ہے ماں بیٹیاں

    شہزاد قیس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. صدف شاہد

    صدف شاہد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    307
    عمدہ پیغام سسٹر
    یہ صرف تنگ و محدود ذہنیت اور بیمار سوچ کا معاملہ ہے ماضی میں بیٹی کی پیدائش کے معاملات اور مسائل بہت زیادہ تھے اب حالات قدرے بہتر ہیں آہستہ آہستہ لوگ با شعور ہوتے جا رہے ہیں اب تو بیٹیاں زندگی کے ہر شعبے میں اپنی سرگرمیاں سر انجام دیتی دکھائی بھی دے رہی ہیں ۔ لیکن کچھ لوگوں کے منفی رویوں کو معیاربنا کر سب کو ایک ہی کسوٹی پر تو نہیں پرکھا جا سکتا۔ ہر با شعور مرد عورت کوعزت بھی دیتا ہے اور احترام بھی پھر چاہے وہ باپ ہو، بھائی ہو، بیٹا ہویا شوہر۔
    بے شک ماں کی تربیت بہت اہمیت کی حامل ہے لیکن بہت سے بنیادی عوامل ہیں ماحول، سوچ، شعور، فطرت، حلقہ ءِ احباب جوہرانسان کی شخصیت سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں