تکبر : ایک تجزیاتی مطالعہ

ابو حسن نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏مارچ 17, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    تکبر: ایک تجزیاتی مطالعہ

    ابوالحسن علوی کے شکریہ کے ساتھ

    اس تحریر کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا اور بہت ہی مفید اور مفصل تحریر پائی تو سوچا کیوں نہ مجلس پر شیئر کردی جائے
    اللہ تعالیٰ نے انسان کے ظاہروباطن دونوں کی اصلاح کے لیے شریعت اسلامیہ اور انبیاء ورسل کا سلسلہ جاری فرمایاہے۔ انسانی طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ باطن کی نسبت ظاہر پر توجہ زیادہ دیتی ہے اور باطن کی اصلاح کی بجائے ظاہر شریعت پر عمل ہی کو کل دین سمجھ لیتی ہے۔

    سابقہ مسلمان اقوام مثلاًیہود پر بھی ایک زمانہ ایسا آیا کہ وہ موسوی شریعت کے ظاہر میں اس قدر الجھے کہ اپنی باطنی اصلاح سے کلی طور پر غافل ہو گئے۔ اس زمانہ میں ان میں تورات کے بڑے بڑے فقہاء اور علماء تو موجود تھے اور ظاہر شریعت پر عمل بھی خوب ہو رہاتھا لیکن منکسر المزاجی،تواضع، انکساری،نرم دلی، خدا خوفی، للہیت، خشیت، تقوی اور تقرب الی اللہ جیسے اوصاف حسنہ مفقود تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی باطنی اصلاح اور تزکیہ کے لیے حضرت عیسی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے معاصر انجیل میں موجود خطبات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے علمائے یہود کو اپنے باطن کی اصلاح اور تزکیہ نہ کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ایک جگہ انجیل میں ہے:

    اس وقت یسوع یعنی حضرت عیسی علیہ السلام نے بھیڑ سے اور اپنے شاگردوں سے یہ باتیں کیں کہ فقیہ اور فریسی موسی علیہ السلام کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ پس جو کچھ وہ تمہیں بتائیں وہ سب کرو اور مانو لیکن انکے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔ وہ ایسے بھاری بوجھ جن کو اٹھانا مشکل ہے ، باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں مگر آپ ان کو اپنے انگلی سے بھی ہلانا نہیں چاہتے۔ وہ اپنے سب کام لوگوں کو دکھانے کو کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے تعویذ بڑے بناتے اور اپنی پوشاک کے کنارے چوڑے رکھتے ہیں۔ اور ضیافتوں میں صدر نشینی اور عبادت خانوں میں اعلی درجہ کی کرسیاں۔اور بازاروں میں سلام اور آدمیوں سے ربی کہلانا پسند کرتے ہیں۔۔۔اے ریاکارو فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس!کہ آسمان کی بادشاہی لوگوں پر بند کرتے ہو کیونکہ نہ تو آپ داخل ہوتے ہو اور نہ داخل ہونے والوں کو داخل ہونے دیتے ہو۔ اے ریاکارو فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس! تم بیواوں کا گھر دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو، تمہیں زیادہ سزا ہوگی۔سے ریاکارو فقیہو فریسیو تم پر افسوس!کہ ایک مرید کرنے کے لیے تری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو اور جب وہ مرید ہو چکتا ہے تو اسے اپنے سے دونا جہنم کا فرزند بنا دیتے ہو۔۔۔اے ریاکارو فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس!کہ پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تو ’دَہ یکی‘ دیتے ہو، پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔اے اندھے راہ بتانے والو، جو مچھر چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو۔۔۔ اے ریاکارو فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس!کہ تم سفیدی پھری ہوئی قبروں کی مانند ہو جو اوپر سے تو خوبصورت دکھائی دیتی ہیں مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہیں۔ اسی طرح تم بھی ظاہر میں تو لوگوں کو راستباز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہو ۔۔۔اے سانپو!اے افعی کے بچو!تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے؟(متی :باب 23)

    خیر القرون کے بعد امت مسلمہ کی اکثریت میں بھی باطن کی اصلاح یا تزکیہ نفس کی نسبت ظاہر شریعت یعنی فقہی مسائل اور ان پر عمل کی طرف توجہ زیادہ رہی ہے جس کی وجہ سے دین کا یہ اہم گوشہ نظر انداز ہوتا رہا ہے۔ کچھ طبقات نے اگر ہر دور میں اصلاح باطن کی طرف 'تصوف' کے نام توجہ دی بھی تو اس میں اصلاح کے شرعی منہج اور طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیااور اپنے ذاتی مشاہدات وتجربات کو اصلاح باطن اور تزکیہ کے نبوی طریق کار پر ترجیح دی گئی۔
    اصلاح باطن اور تزکیہ نفس کا ایک اہم موضوع رذائل سے اپنے نفس اور باطن کو پاک کرنا ہے۔ رذائل انسانیہ میں سے ایک اہم تروصف تکبر ہے۔تکبر سے ملتے جلتے کئی ایک رذائل کی کتاب و سنت میں نشاندہی کی گئی ہے جو درج ذیل ہیں:

    ١۔ کبر
    ٢۔ عجب
    ٣۔ حب جاہ
    ٤۔ حب تفوق
    ٥۔ ریا

    تکبر
    تکبر کا معنی اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور دوسرے کو حقیر جاننا ہے۔ کتاب وسنت میں تکبر کرنے والے کے لیے 'متکبر' کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔متکبرین کے بارے نصوص میں بہت شدید وعید آئی ہے ۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں:

    '' لا یدخل الجنة من کان فی قلبہ مثقال ذرة من کبر.'' (صحیح مسلم، کتاب الیمان، باب تحریم الکبر وبیانہ)
    ''وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی اپنی بڑائی ہو۔''

    تکبر کے بارے اس مضمون میں ہم نے تکبر کی حرمت اور شناعت پر نصوص کی کثرت نقل کی بجائے صالحین اور اہل علم کے قوال کی روشنی میں اس باطنی مرض کا ایک تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اس مرض کی تشخیص اور پہچان عام ہو سکے۔

    تکبر کی اقسام
    اہل علم نے تکبر کی تین بڑی اقسام بیان کی ہیں جو درج ذیل ہیں:

    اللہ پر تکبر

    اللہ پر تکبر کرنایعنی اللہ کے مقابلے میں اکٹرنا جیسا کہ فرعون اس تکبر کا اظہار کیا تھا اور اپنے آپ کو'أنا ربکم الأعلی' کا لقب دیا۔ تکبر کی یہ قسم دہریت کا لازمہ ہے۔ دہریہ یعنی اللہ کا منکر تکبر کی اس قسم میں لازماً مبتلاہوتا ہے۔

    عموماً دہریوں کی زبان سے یہ الفاظ سننے میں آتے ہیں کہ ہم نے اہل مذہب کے خدا کواس دنیا سے نکال دیا ہے ۔ یہ تکبر کی بدترین صورت ہے۔جو مسلمان یا آسمانی مذاہب کے قائلین اللہ کے وجود کے بارے مشکوک ہو جاتے ہیں یا کسی وہم کا شکار ہو جاتے ہیں،وہ بھی اس تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ایسے پریشان خیالوں کی زبان پر آپ اکثر یہ جملے نوٹ کریں گے کہ پتہ نہیں خدا ہے بھی یا نہیں؟ اگلی دنیا میں جزا وسزا ہے بھی یا نہیں؟ ہم نہ تو خدا کا اقرار کرتے ہیں اور نہ ہی انکار وغیرہ ذلک۔

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تکبر

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تکبر کرنایعنی حق کے معاملہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نہ کرنااور اکٹر جانا۔ایک روایت میں ہے کہ ایک صحابی نے آپ سے سوال کیا کہ کیا اچھے کپڑے یا نیاجوتا پہنا بھی تکبر میں داخل ہے تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جمیل ہے ور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے اور جہاں تکبر کا معاملہ ہے تو وہ یہ ہے:

    ''الکبر بطر الحق وغمط الناس.''(صحیح مسلم، کتاب الیمان، باب تحریم الکبر وبیانہ)
    '' تکبر تو حق بات کو جھٹلا دینا ہے اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔''

    تکبر کی اس قسم میں اعتقادی منافقین اور منکرین حدیث مبتلاہوتے ہیں۔ایسے حضرات کی زبانوں سے ایسے جملے بکثرت سننے کو ملیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو ہمارے جیسے انسان ہیں تو ان کی اتباع واطاعت کیوں؟ یا ہم بھی اللہ کی کلام کو ایسے ہی سمجھ سکتے ہیں جیسا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآنی تفسیر و تشریحات تو عرب کے غیر متمدن معاشرے کے لیے تھیں نہ کہ ہماری آج کی متمدن اور مہذب دنیا کے لیے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن سمجھنے کا جتنا حق حاصل تھا، اتنا ہمیں بھی حاصل ہے وغیرہ ذلک۔

    اللہ کے بندوں پر تکبر

    اللہ کے بندوں پر تکبر کرنایعنی کسی بھی وصف کے اعتبار سے دوسرے انسانوں کی نسبت اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور انہیں حقیر جاننا۔صحیح مسلم کی مذکورہ بالا روایت میں 'غمط الناس' کا معنی بعض اہل علم یہ بیان کیا ہے کہ اللہ کی دی ہوئی کسی نعمت میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور دوسروں کو اس نعمت میں حقیر جاننا 'غمط الناس' ہے جسے آپ نے تکبر کہا ہے۔انسانوں میں تکبر کی سب سے عام قسم یہی ہے۔

    اللہ کے بندوں پر تکبر کی صورتیں
    اسلامی معاشروں میں تکبر کی اس قسم کی بے شمار صورتیں پائی جاتی ہیں جن میں چند ایک کی ہم نشاندہی کر رہے ہیں :

    مال کے ذریعے تکبر کرنا

    مال کے ذریعے تکبر کرنا جو بادشاہوں، تاجروں اور مالداروں میں ہوتا ہے۔ اس صورت میں ایک مالدار شخص مال کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے۔ جو مالدار بھی غریب کو حقیر جانے یعنی اس کے پاس بیٹھنے یا اس کے ساتھ کھانے یا اس کے ساتھ چلنے یا اس سے گفتگو کرنے یا اس کے گھر جانے یا اس کے محلے میں جانے یا اس کے ساتھ دوستی کرنے میں ہچکچاہٹ اور حجاب محسوس کرے توبلاشبہ وہ اس تکبر میں مبتلا ہے۔ عموماًمالدار، دین دارگھرانوں میں بھی یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ اس تکبر میں مبتلا ہوتے ہیں ۔

    ایک دینی ادارے میں حفظ کی کلاس سے ایک مالدار دینی رجحان رکھنے والے خاندان نے اپنے بچے اس لیے اٹھا لیے کہ اس ادارے میں ان کے ملازمین کے بچے بھی ساتھ ہی حفظ کر رہے تھے۔عام طور پر اس کا بہانا یہ بنایا جاتا ہے کہ غربا کے بچوںمیں تہذیب نہیں ہوتی حالانکہ امراء کے بچے جس قدر مہذب ہوتے ہیں، اس کاایک جائزہ بھی انگلش میڈیم سکول کے بچوں کی چال چلن کی رپورٹس سے خوب لگایا جا سکتا ہے۔ اصل میں یہ تکبر ہے جس کی وجہ سے امرا اپنے بچوں کو اپنے ملازمین یا غربا کے بچوں کے ساتھ پڑھانے میں حجاب محسوس کرتے ہیں ورنہ تو بچے سبھی فطرت سلیمہ پرہوتے ہیں جسے دینی ماحول مل جائے اس کی تربیت ہو جاتی ہے اور جسے نہ ملے وہ چاہے غریب کا بچہ ہو یا امیر کا ، بگڑ جاتا ہے ۔

    جمال کے ذریعے تکبر کرنا

    جمال کے ذریعے تکبر کرنا جیسا کہ عموماً عورتوں میں ہوتا ہے۔ جب کوئی خاتون اللہ کی طرف سے عطا کیے گئے حسن پر اترائے اور دوسری خواتین کو اپنے سے کم تر سمجھے تو وہ تکبر کی اس قسم میں بلاشبہ مبتلا ہو چکی ہے۔ اس صورت میں حسین خاتون دوسری خواتین کے خدوخال یا رنگت یا پہننے اوڑھنے کے سلیقہ پر منفی تبصرے کرتی نظر آتی ہے کہ فلاں کو تو پہنے کا ڈھنگ ہی نہیں ہے یا فلاں اپنی شکل و صورت میں بہت ہی سادی ہے یا فلاں کے چہرے پر تو مسکینی ہی چھائی رہتی ہے یا فلاں سٹائلش نہیں ہے ۔ ایسے تمام تبصروں سے اگر تو حسین عورت کا مقصود اپنے آپ کو دوسری خواتین کے بالمقابل برتر سمجھنا یاثابت کرنا ہو تو یہ تکبر ہے ۔ اور اگر اس کے دل میں ان تبصروں کے وقت اپنے حسن کی بڑائی موجود نہ ہوتو یہ غیبت ہے جو تکبر ہی کی طرح حرام ہے اگرچہ حرمت میں اس کا گناہ تکبر سے کم ہے۔

    جاہ وجلال کے ذریعے تکبر کرنا

    اپنے پیروکاروں کی کثرت کے ذریعے تکبر کرناجیسا کہ علمایا صوفیا یاگدی نشینوں یاخطباء یا واعظین یا مذہبی و سیاسی جماعتوں یا انقلابی تحریکوں کے قائدین میں ہوتا ہے۔تکبر کی اس صورت میں ایک شخص اپنے متبعین یا متاثرین کی کثرت کی وجہ سے اپنے آپ بڑا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ مثلاً جب کوئی بڑا خطیب یا مشہور واعظ دوسرے خطبا وواعظین پر یہ تبصرہ کرے کہ انہیں تو منبر پر کھڑا ہونا ہی نہیں آتا یا انہیں تو پتہ ہی نہیں تقریر کیسے کرتے ہیں؟ یا فلاں خطیب تو بس جمعہ ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں وغیرہ ذلک تو یہ خطیب اور واعظ بھی بلاشبہ تکبر کے مرض میں مبتلا ہو چکا ہے۔

    بعض اوقا ت متبعین اور متاثرین بھی اس تکبر میں مبتلا ہوتے ہیں مثلاً کسی جماعت یا تحریک سے وابستہ کارکنان اپنی جماعت یاتحریک کے ممبران کی کثرت پر اتراتے نظر آتے ہیں یا علما،شیوخ ، اساتذہ، صوفیا اور مربیین کے پیروکارو اپنے عالم، پیر ،شیخ،مربی اور استاذکو دوسرے علما،صوفیا ، شیوخ ، مربیین اور اساتذہ کے مقابلے میں آسمان پر چڑھانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ حضرات اپنے شیخ ، استاذ ، پیر یا مربی کو دوسروں سے بالاتر قرار دیتے ہوئے دراصل یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ جب ہمارے شیخ اور استاذ تمہارے شیخ اور استاذ سے بہتر ہیں تو ہم ان شیوخ و اساتذہ کے شاگرد دوسرے شیوخ واساتذہ کے شاگردوں سے بہتر ہیں۔

    علم کے ذریعے تکبر کرنا

    اپنے علم پر تکبر کرناجیسا کہ بعض علماء میں یہ مرض پایا جاتا ہے۔ اس صورت میں ایک عالم دین اپنے علاوہ علماء کو اپنے سے حقیر سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو بڑا جانتا ہے۔ بعض شیوخ الحدیث ، مفتیان کرام ،کبار علماء اور محققین کو آپ دیکھیں گے کہ سائلین کیساتھ بیٹھنا اپنے وقار کے منافی سمجھتے ہیں یاطالبان دین اور نوجوان علما کے ساتھ علمی تبادلہ خیال میں عار محسوس کرتے ہیں یا کسی بدو مخلص سائل کی رہنمائی کو اپنے وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں یادوسرے علماکے دلائل پر اس لیے توجہ نہیں دیتے یا ان کی تحقیقات سے استفادہ نہیں کرتے کہ وہ علم میں ان کو اپنے سے کم تر سمجھتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ علمی تکبر کے اس دریا میں فقہی مسالک و مذاہب کے متبعین کی اکثریت سر تا پاؤں غرق ہے۔ ایک مسلک کے نمائندہ علمادوسرے مسالک و مذاہب کے علما کو حقیر جانتے ہیں اور انتہائی اخلاص سے یہ تکبر اپنے دل میں پالتے رہتے ہیں کہ علمی اعتبار سے اس جہاں میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے۔

    ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ اگرکسی بڑے عالم دین، شیخ الحدیث یا مفتی صاحب کو مذہبی جلسہ وتقریب کے دوران سٹیج پر جگہ نہ ملے اور وہ عوام الناس کے ساتھ نیچے فرش پر بیٹھنے میں حجاب محسوس کریں تو یہ عالم دین ، شیخ الحدیث اورمفتی صاحب علمی تکبر میں مبتلا ہو چکے ہیں۔اسی طرح اگر کسی عالم دین یا شیخ الحدیث یا مفتی صاحب کو مخاطب کرتے وقت القابات کا لحاظ نہ کیا جائے اور براہ راست ان کا نام لے لیا جائے اور وہ اس کو برا جانیں توبلاشبہ یہ بھی تکبر ہی کی ایک قسم ہے۔

    اس بحث سے مقصود کلام ہے کہ ہمارے ذہنوں میں عام طور پر تکبر کی یہ صورتیں نہیں ہوتی ہیں ۔ہم میں سے ہرشخص کو اپنے ہر ہر فعل اور عمل کا محاسبہ اور تجزیہ کرتے رہنا چاہیے کہ میرا یہ عمل کہیں میری باطنی نشوونما یا تزکیہ میں رکاوٹ تو نہیں بن رہا ہے۔

    ( جاری ہے )

     
    Last edited: ‏مارچ 17, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    ( گزشتہ سے پیوستہ)

    تکبر کے درجات

    بعض اہل علم نے تکبر کے تین درجات بیان کیے ہیں:

    پہلا درجہ
    دل میں اپنی بڑائی ہو اور ظاہر میں تواضع وانکساری ہو۔ تکبر کا یہ درجہ انتہائی خطرناک ہے اوراس کا تجزیہ کرنا بھی انسان کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔اس درجہ میں تکبر صرف دل تک محدود رہتا ہے اور انسان کے عمل یا قول میں داخل نہیں ہوتا۔

    دوسرا درجہ

    تکبر کا دوسرا درجہ دل کے بعد اپنے افعال واعمال میں تکبر کا اظہار کرناہے ۔ مثلاً کوئی شخص مجالس،محافل، دوستوں،خاندان اورمعاشرے میں اپنے عمل وفعل کے ذریعے اپنی بڑائی چاہے جیسا کہ ہم نے سابقہ صفحات میں اس کی کئی ایک مثالیں بیان کی ہیں۔حدیث میں تہبند یا شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا عملی تکبر میں شامل کیا گیا ہے۔گردن میں چادر ڈال کردونوں کندھوں سے نیچے لٹکانا بھی پنجاب کے چوہدریوں میں عملی تکبر کی ایک صورت ہے۔بعض اوقات جبوں اور قبوں کے ذریعے بھی عملاً اپنی بڑائی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

    تیسرا درجہ

    تکبر کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل اور عمل سے بڑھ کر ا پنی زبان سے فخر کا اظہار کرے مثلاً اپنے تزکیہ نفس یا نیک ہونے کے دعوے کرے۔ بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے وہ باتوں باتوں میں ہر کسی کو اپنے تہجد گزار ہونے یانیک ہونے یابڑا عالم دین ہونے یا تعلیمی اسناد کی تاریخ سنانے یا عظیم محقق ہونے یافل پروفیسر ہونے یا دین کا عظیم خادم بتلانے کے لیے بے چین ومضطرب ہوتے ہیں۔ بلاشبہ اس قسم کے ا قوال میں تکبر قولی کی واضح صورت جھلکتی نظر آتی ہے اور اگر کسی شخص میں یہ عادت ہو تو اسے اپنے اپنی باطنی اصلاح کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

    تکبر کے اسباب

    تکبر کیوں پیدا ہوتا ہے؟ یا اس کے اسباب کیا ہیں؟

    تکبر کے اسباب میں سے اہل علم نے حسد، بغض، کینہ ، عجب اور ریا کاتذکرہ کیا ہے۔ جب کوئی شخص مال، علم، حسن وجمال یا مقام ومرتبے میں دوسرے سے حسد محسوس کرتا ہے تو عموماً اس پر تکبر کے ذریعے بڑائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

    اسی طرح جب کوئی شخص کسی دوسرے سے اپنے دل میں بغض اور کینہ رکھتا ہے تو یہ بھی اس کے تکبر کا سبب بن جاتے ہیں۔

    اپنے نفس کے عشق میں مبتلا ہونا یعنی خود پسندی اور عجب بھی تکبر کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔

    اسی طرح ریاکاری بھی تکبر کے اسباب میں داخل ہے۔


    تکبر کا علاج

    اہل علم نے تکبر کے دو قسم کے علاج تجویز کیے ہیں جو ذیل میں بیان کیے جا رہے ہیں:

    علمی علاج

    تکبر کا علمی علاج یوں کیاجا سکتا ہے کہ انسان جب اللہ کی دی ہوئی کسی نعمت یا صفت یا کمال پر اپنے نفس میں بڑائی محسوس کرے تو یہ سوچ بار بار پیدا کرے:

    ١۔ میرے اندر کا یہ کمال حق سبحانہ وتعالیٰ کا پیدا کردہ ہے یعنی عطائی ہے اور اس کے حصول میں میرا کوئی ذاتی عمل دخل نہیں ہے۔

    ٢۔ میں کسی ذاتی اہلیت کی بنا پر اس نعمت خداوندی کا مستحق نہیںتھا لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ کمال عطا فرما کر مجھے اپنی رحمت سے مجھے نوازا ہے۔

    ٣۔ اس کمال کے اللہ کی طرف سے عطا کیے جانے کے بعد اس کا بقا میرے اختیار اور بس میں نہیں ہے اور کسی بھی وقت اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے سلب کر سکتے ہیں۔

    ٤۔ اگرچہ دوسرے شخص میں یہ کمال فی الحال نہیں ہے لیکن ممکن ہے مستقبل قریب یا بعید میں اسے یہ کمال مجھ سے بھی زائد درجہ میں حاصل ہو جائے۔

    ٥۔ اس کا بھی غالب امکان ہے کہ دوسرے شخص میں کچھ ایسے کمالات ہوں جو میری نظر سے مخفی ہوں اور ان کی بنا پر اس کا رتبہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ہاں مجھ سے زائد ہو۔

    عملی علاج

    تکبر کا عملی اور بہترین علاج یہ ہے کہ انسان جس کو اپنے نفس سے چھوٹا سمجھے، اس کے ساتھ بیٹھے ، کھائے، پئے، گفتگو کرے، دوستی کرے،اس کا احترام کرے، اس کے بارے تحسین کے کلمات کہے اور اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔مثلاً ایک امیر اپنے تکبر کو غربا میں بیٹھ کر اور ایک عالم دین اپنے تکبر کو طلبا میں بیٹھ کردور کر سکتا ہے۔


    یہ بھی واضح رہے کہ اہل علم نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ شریعت میں ازالہ نہیں بلکہ امالہ ہے یعنی معصیت کا مادہ ہی انسان سے ختم ہو جائے تو یہ شریعت کا مطالعہ نہیں ہے بلکہ شریعت کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان معصیت کے تقاضوں پر عمل نہ کرے اور ان کو کنٹرول کرے۔پس تکبر کا مادہ ختم کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ تکبر کے تقاضوں پر عمل نہ کرنا اور اس بیماری کا علاج کرنا مقصود شرع ہے۔


    تکبر سے متعلقہ بعض دوسری اصطلاحات
    مضمون کے شروع میں ہم نے تکبر سے متعلق بعض دوسری اصطلاحات کا تذکرہ کیا تھا، ان کا ایک مختصرتعارف ہم ذیل میں پیش کر رہے ہیں تا کہ تکبر کے علاوہ ان باطنی بیماریوں کی پہچان بھی سالکین کے لیے آسان ہو۔

    عجب
    اس سے مراد اپنے کو بڑا سمجھنا عجب ہے۔ اس میں دوسری قید شامل نہیں ہے یعنی دوسرے کو حقیر سمجھنا۔اسے خود بینی یا خود پسندی کا نام بھی دیا جاتا ہیں یعنی اپنے نفس کو ہی دیکھتے رہنا یا اپنے نفس ہی کے عشق میں مبتلا ہو جانا۔ قرآن میں خو دپسند کے لیے 'مختال' کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

    حب جاہ
    اپنے آپ کو دل ہی دل میں بڑا سمجھنا اور اس کی کوشش بھی کرنا کہ دوسرے بھی مجھے بڑاسمجھیں۔

    حب تفوق
    دوسروں پر غالب آنے کی شدید خواہش رکھنا اور اس پر عمل کرناحب تفوق کہلاتا ہے۔مشہور فلسفی 'ایڈلر' نے'urge to dominate' کے نام سے اس بارے ایک پورا فلسفہ متعارف کروایا ہے.

    ریا
    کسی دینی عمل کو لوگوں کی نظر میں بڑا بننے کا ذریعہ بنا نا ریاکاری کہلاتا ہے۔

    تکبر سے متعلق ان اصطلاحات میں ہر ایک مستقل مضمون کی متقاضی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس موذی مرض سے بچنے اور لگ جانے کی صورت میں اس کاعلاج کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

    حواشی : یہ مضمون ماہنامہ محدث مئی 2011ء کے شمارہ میں شائع ہوا ہے اور افادہ عام کے لیے اسے کچھ تہذیب واضافہ کے ساتھ یہاں فورم پر شیئر کیا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. صدف شاہد

    صدف شاہد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    308
    آمین یا رب العالمین
    بہت سے سوالات تھے جن کے جوابات اس مضمون میں مل گئے ہیں ۔
    شئیرنگ کا شکریہ
    اللہ پاک لکھنے والے کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے ۔آپ کو بھی اجرِ عظیم سے نوازےآمین
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں