جمعہ کے دن عذر کی وجہ سے نماز جمعہ نہ پڑھ سکیں تو کیا کریں ؟

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏مارچ 19, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    741
    جمعہ کے دن عذر کی وجہ سے نماز جمعہ نہ پڑھ سکیں تو کیا کریں ؟

    مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر -مسرہ- طائف

    جمعہ بہت ہی اہم ترین دن ہے ، بڑی اہمیت وفضیلت کا حامل ہے لیکن اس دن کبھی ایسا عذر بھی درپیش ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے کبھی ہم انفرادی طور پر تو کبھی اجتماعی طور پرنماز جمعہ ادا نہیں ادا کرسکتے ہیں مثلا شدید بیمار ہوگئے مسجد میں حاضر نہیں ہوسکتے ہیں یا سفر درپیش ہوگیا یا موسلا دھار بارش ہونے لگے اور گھر سے نکلنا دشوار ہوجائے تو ایسی صورت میں شریعت ہمیں ظہر ادا کرنے کی رخصت دیتی ہے۔ سنت میں اس کی نظیر ملتی ہے کہ بارش وکیچڑ کی وجہ سے لوگوں کو اپنے گھروں میں ہی نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا اورہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ گھر میں جمعہ کی نمازقائم نہیں کی جاتی بلکہ ظہر کی نماز ہی ادا کی جاتی ہے ۔صحیح بخاری کی مندرجہ ذیل روایت دیکھیں۔
    حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے:
    خَطَبَنَا ابنُ عَبَّاسٍ في يَومٍ ذِي رَدْغٍ، فأمَرَ المُؤَذِّنَ لَمَّا بَلَغَ حَيَّ علَى الصَّلَاةِ، قَالَ: قُلْ: الصَّلَاةُ في الرِّحَالِ، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إلى بَعْضٍ، فَكَأنَّهُمْ أنْكَرُوا، فَقَالَ: كَأنَّكُمْ أنْكَرْتُمْ هذا، إنَّ هذا فَعَلَهُ مَن هو خَيْرٌ مِنِّي، - يَعْنِي النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ - إنَّهَا عَزْمَةٌ، وإنِّي كَرِهْتُ أنْ أُحْرِجَكُمْ وعَنْ حَمَّادٍ، عن عَاصِمٍ، عن عبدِ اللَّهِ بنِ الحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ، غيرَ أنَّه قَالَ: كَرِهْتُ أنْ أُؤَثِّمَكُمْ فَتَجِيئُونَ تَدُوسُونَ الطِّينَ إلى رُكَبِكُمْ(صحيح البخاري:668)
    ترجمہ:انہوں نے بارش اور کیچڑ کے دن لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور مؤذن کو حکم دیا کہ جب وہ حي على الصلاة پر پہنچے تو اس طرح کہے: "لوگو! اپنی اپنی قیام گاہوں پر نماز پڑھ لو۔" یہ سن کر وہاں موجود لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے: گویا انہوں نے اسے برا محسوس کیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے شاید اس کو برا جانا ہے۔ ایسا تو مجھ سے بہتر ذات یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا تھا۔ بیشک جمعہ واجب ہے مگر میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ «حى على الصلاة‏» کہہ کر تمہیں باہر نکالوں (اور تکلیف میں مبتلا کروں)۔ عاصم کی روایت بھی اسی طرح ہے، البتہ اس کے آخری الفاظ اس طرح ہیں کہ عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ تمہیں گناہ میں مبتلا کروں، تم تنگ دلی کے ساتھ گھٹنوں تک کیچڑ کو روندتے ہوئے مسجد میں آؤ۔
    یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کسی عذر کی وجہ سے مسجد میں جمعہ کی نماز نہ قائم کی جاسکے تو بستی کے لوگ اپنے اپنے گھروں میں نماز ظہر ادا کرسکتے ہیں جیساکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو بارش کی وجہ سے گھروں میں نماز پڑ ھنے کا حکم دیا اور اس عمل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قرار دیا ۔
    آج کل کرونا وائرس کی وجہ سے بعض خلیجی ممالک میں مسجدوں میں جماعت سے نماز نہیں ہوتی ، گھروں میں ہی لوگ نماز ادا کرتے ہیں ایسے میں لوگوں کے سامنے جمعہ کے دن سے متعلق مختلف قسم کے مسائل ہیں انہیں اختصار سے بیان کردیتا ہوں ۔
    پہلی بات تو یہ ہے کہ خلیجی ممالک ہوں یا اور کوئی ملک یا شہر جہاں مسجد میں پنچ وقتہ اور نماز جمعہ نماز پڑھنے سے روک دیا گیا وہاں کے لوگ جمعہ کے دن اپنے گھروں میں ظہر کی نماز ادا کریں گے ۔اہل خانہ مل کر ظہر اور دیگر فرائض ادا کریں تو جماعت کا اجر ملے گا۔
    دوسری بات یہ ہے کہ مسجدوں میں زوال کے بعد اذان بھی دی جائے گی مگر ان مسجدوں میں جہاں جمعہ کی نماز ہوتی تھی اور جس میں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی تھی اس میں اذان نہیں دی جائے گی ۔
    تیسری بات یہ ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا نماز جمعہ کے واسطے مشروع تھا اس لئے ظہر پڑھنے والوں کے حق میں غسل جمعہ مشروع نہیں ہے جیساکہ نماز جمعہ نہ پڑھنے والی عورتوں کے حق میں مشروع نہیں ہے ۔
    چوتھی بات یہ ہے کہ جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنا، سورہ کہف کی تلاوت کرنا اور قبولیت کی گھڑی میں دعا کرنا بڑا اہم ہے اس لئے تمام لوگوں کو خواہ عورت ہوں یا مرد ان باتوں کا اہتمام کرنا چاہئے ۔
    ایک آخری بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مومنوں کا جمعہ کے دن نماز جمعہ سے محروم ہونے پر غمگین ہونا فطری بات ہے مگر ہمیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی کسی کو نماز جمعہ بند ہونے پر کوسنا چاہئےبلکہ ایسے موقع سے کثرت سے توبہ واستغفار کرنا چاہئے ، تضرع کے ساتھ مسلمانوں کی بھلائی ، ملکی امن وامان اور اپنے دین وایمان کی سلامتی کے لئے دعا کرنا چاہئے ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو اور ہمیں ہرقسم کے مرض اور خوف سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں