زندگی اور موت

اجمل نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏جون 26, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    510
    زندگی اور موت

    زندگی کی کہانی لکھ رہا ہوں اور لکھتا ہی جا رہا ہوں۔
    روزانہ نہ جانے کتنے نئے نئے الفاظ چنتا ہوں اس کہانی کو رنگین بنانے کیلئے۔
    کبھی ایسے الفاظ ذہن میں آجاتے ہیں جو زندگی کو خوشیوں سے بھر دیتے ہیں۔
    اور کبھی غمگین کر دینے والے لفظوں سے زندگی میں اداسی چھا جاتی ہے۔
    بہر حال زندگی ان ہی دونوں لفظوں یعنی خوشی اور غم کی تخلیط سے ہی رنگین ہے۔ پھر بھی میں ان دونوں کے درمیان بے شمار نئے پرانے لفظوں سے اپنی زندگی کی اس کہانی کو اور بھی رنگین بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ زندگی میں بے شمار الفاظ آتے جاتے رہیں گے لیکن زندگی کی کہانی جس لفظ پر ختم ہوگی وہ پہلے سے ہی طے ہے،
    اور وہ لفظ ہے،
    "موت"
    اس لفظ "موت" پر میری زندگی کی کہانی ختم ہوگی،
    اور
    آپ کی بھی،
    اور اللہ کے سوا سارے مخلوقات کی۔
    اس لئے اس ’’موت‘‘ کو ہر وقت یاد رکھیں
    اور ہر وقت یاد کرتے رہیں۔
    کیونکہ یہ موت بھی اللہ تعالی کی ایک بڑی نعمت ہے
    اور
    یہ ’’موت‘‘ بہت قیمتی ہے۔
    کیونکہ اس ’’موت‘‘ پر ہی ہماری دنیا کی اس عارضی زندگی کا اختتام ہونا ہے،
    دنیا کے سارے دکھ درد سے ہمیں چھٹکارا ملنا ہے۔
    موت زندگی کی ساری لذتیں ختم کردینے والی ہے۔
    رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ’’(دنیا کی) لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت کے ساتھ یاد کیا کرو‘‘۔ (جامع ترمذی ۔ جلد دوم ۔ گواہیوں کا بیان ۔ حدیث 193)
    موت کو کثرت سے یاد کرنے میں دنیا و آخرت کے بڑے فائدے ہیں۔
    موت کی یاد سے
    عبادت میں دل لگتا ہے۔
    دل قناعت پسند بن جاتا ہے۔
    گناہوں سے حفاظت ہوتی ہے۔
    عبادت میں نشاط پیدا ہوتی ہے۔
    گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے۔
    بہت ساری دشواریاں آسان ہوجاتی ہیں۔
    لمبی لمبی امیدیں اور امنگیں کم ہوجاتی ہیں۔
    انسان کو رب کی یاد سے غافل ہونے نہیں دیتی۔
    انسان صدقہ و خیرات اور نیک اعمال کرنے میں پہل کرتا ہے۔
    اخروی زندگی یاد رہتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔
    سخت دل نرم ہوجاتا ہے اور وقتاً فوقتاً آنکھوں سے آنسو بہہ جاتے ہیں۔
    تواضع و انکساری پیدا ہوتی ہے جس سے انسان دوسروں پر ظلم کرنے اور کبر کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔
    اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی اور بُرے کاموں سے بچتا رہتا ہے، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں زندگی گزارتا ہے اور دنیا سے سرخرو ہوکر موت کی آغوش میں جاتا ہے۔
    یہ ’’موت‘‘ بہت قیمتی ہے۔
    اور ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے والے مومن کیلئے تو بہت ہی قیمتی ہے کیونکہ موت کے آغوش میں جاتے ہی اسے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔
    جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”جس نے ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی کی تلاوت کی تو اس کے اور جنت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی، سوائے موت کے‘‘۔(سلسله احاديث صحيحه: 704، ترقیم البانی: 972)
    یہ ’’موت‘‘ بہت قیمتی ہے۔
    اسے یاد کرتے رہنا بھی قیمتی ہے۔
    لیکن اس کی آرزو اور تمنا کرنا ٹھیک نہیں، موت کی دعا کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ اللہ کے پیارے نبی ﷺ نے ہمیں اس سے منع کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی (شدید) تکلیف میں (بھی) اگر کوئی شخص مبتلا ہو تو اسے موت کی تمنا ہرگز نہیں کرنی چاہئے پھر بھی اگر کوئی موت کی تمنا کرنے ہی لگے تو یہ کہنا چاہیئے:

    اللهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي
    اے اللہ! جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھ کو اٹھا لے۔“ (صحیح بخاری، سنن نسائی)

    تو آئیے لذتوں کو ختم کرنے والی موت سے پہلے اس کی تیاری کریں، اللہ تعالٰی کی نافرمانی کرنا چھوڑ دیں، ہر طرح کی گناہ اور ظلم و سرکشی کرنے سے باز آجائیں، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں زندگی گزاریں تاکہ موت ہمارے لئے جنت کا پیغام لے کر آئے۔ آمین۔
    تحریر: #محمد_اجمل_خان
    ۔
     
  2. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,468
    جزاك اللہ خيرا
    بيشك موت سب سے بڑی حقیقت ہے جس سے انسان غافل ہے۔
     
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں