اللهم کی وضاحت

اسرار حسین الوھابی نے 'عربی علوم' میں ‏جولائی 11, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اسرار حسین الوھابی

    اسرار حسین الوھابی نوآموز

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2020
    پیغامات:
    3
    تحریر: ایچ ایف ذیشان (ہدایت اللہ فارس)

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    اللهم کے معنی يا الله ہیں اس میں کوئی اختلاف نہیں، اسی لیے اس کا استعمال طلب کے مواقع پر ہوتا ہے۔ جیسے ہم
    "اللهم غفور رحيم" نہیں کہتے، بلکہ "اللهم اغفرلي وارحمني" کہتے ہیں۔

    اختلاف "اللهم" کے آخر میں لفظ "میم" کو لے کر ہے۔

    بقول سیبویہ یہ (میم) حرف ندا کے عوض میں بڑھا دیا گیا ہے۔ اسی لیے ان کے نزدیک حرف ندا اور میم کا اکٹھا جمع کرنا درست نہیں۔ یعنی حرف ندا کے ساتھ "یا اللھم" نہیں کہ سکتے، بجز شاذ کے۔ جیسا کہ ایک شاعر نے اس کا استعمال کیا ہے:- إني إذا ما حدث ألمّا … أقول: يا اللهمّ يا اللهمّا

    (اسی طرح سے ایک شاعر نے اللھم کے بعد ایک اور میم کا اضافہ کیا ہے: وما عليك أن تقولي كلما صليت أو سبحت يا اللهم ما- {شرح ابن عقیل ٢/ ٢٦٥ })


    اس قسم کے حرف کو جب وہ غیر محل محذوف میں ہو عوض کہتے ہیں۔ اور جب محل میں ہو تب بدل جیسے "قام وباع" کا الف یہ واؤ اور یا کا بدل ہے۔

    سیبویہ کے نزدیک اس اسم کو موصوف کرنا جائز نہیں لہذا
    "اللهم الرحيم ارحمني" نہیں کہا جایے گا (ایسا کہنا جائز نہیں) اور نہ ہی اس کا بدل جائز ہے۔

    اور اللھم کے"ہ" پر جو ضمہ ہے یہ اسم منادی مفرد کی علامت ہے۔ اور "میم" پر فتح اس لیے دیا گیا کیوں کہ اس سے پہلے ایک "میم" ساکن تھا (میم مشدد کو دو میم شمار کیا گیا ہے)

    اور یہ اس اسم (اللہ) کے خصائص میں سے ہے۔ جیسا کہ یہ اسم مخصوص ہے قسم میں حرف "تا" کے ساتھ، (یعنی تا جو کہ قسم کے لیے آتا یہ صرف اسم "اللہ" کے ساتھ خاص ہے) اور الف لام تعریف کے ساتھ حرف ندا کے داخل ہونے سے، اور ندا میں ہمزه وصل کے قطع ہونے سے، اور تفخیم لام بطور وجوب غیر مسبوق کے صرف اطباق کے ساتھ۔

    یہ خلاصہ ہے مذہب خلیل اور سیبویہ کا (الکتاب لسیبويه : ٢/ ١٩٦)

    بعض کہتے ہیں کہ اللھم میں "میم" ایک جملہ محذوفہ کے عوض ہے۔ اس کی تقدیر ہے "يا الله أمَّنا بخير (أي: اقصدنا) پھر جار مجرور اور مفعول کو حذف کردیا تو "یا الله أمّ" رہ گیا۔ پھر چونکہ دعا میں بکثرت اس کا استعمال ہوتا ہے اس لیے ہمزہ کو حذف کردیا تو "یا اللھم" رہ گیا۔ یہ قول فراء کا ہے۔

    اس قول کا قائل اللھم پر حرف ندا "یا" کا داخل کرنا جائز سمجھتا ہے۔ انہوں نے شاعر کا قول یا اللھم (المذکور) سے حجت پکڑی ہے۔ (معانی القرآن للفراء ١/ ٢٠٣)

    لیکن بصریوں نے چند وجوہات کی بنا پر اس سے انکار کیا ہے۔

    ان میں سے چار پانچ کو یہاں بیان کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

    ۱۔ اس جملہ کے مقدر ہونے پر کوئی دلیل نہیں اور قیاس بھی اس کا تقاضا نہیں کرتا، پھر بغیر دلیل کے کیوں کر مان سکتے ہیں۔

    ۲۔ اصل عدم حذف ہے اور ان محذوفات کثیرہ کا مقدر ماننا خلاف اصل ہے۔

    ۳۔ دعا مانگنے والا کبھی اپنے لیے اور کبھی دوسرے کے لیے دعاء بد بھی "اللھم" کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ لہذا اس وقت "أمنا بخیر" کا مقدر ہونا درست نہیں ہوسکتا۔

    ۴۔ محاورہ جو فصیح وشائع ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ عرب "یا اور اللھم" کو جمع نہیں کرتے۔ اگر فراء کا قول درست ہوتا تو جمع کرنا ممتنع نہ ہوتا بلکہ استعمال فصیح وشائع ہوتا، جب کہ ایسا نہیں ہے ۔

    ۵۔ اگر یہ مقدر صحیح ہے تو "اللھم" کو جملہ تامہ کہنا چاہیے جس پر سکوت کرنا ٹھیک ہے، کیوں کہ اسم منادی اور فعل طلب دونوں پر مشتمل ہے، لیکن ظاہر ہے کہ ایسا کرنا باطل ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ

    (تفصیل کے لیے دیکھیں : معانی القرآن وإعرابه للزجاج ١/ ٣٩٣ - ٣٩٤، وتفسير القرطبي ٤/ ٥٤، وجلاء الأفھام فی فضل الصلاۃ والسلام علیٰ خیر الأنام ص: ١٤٣)

    بعض کا کہنا ہے کہ "میم" تعظیم وتفخیم کے لیے زیادہ کردیا گیا ہے جیسے ازرق سے زرقم جب نیلاہٹ گہری ہوجائے۔ اسی طرح سے ابنم جو ابن سے ہے۔ یہ قول صحیح ہے لیکن ایک تتمہ کا محتاج ہے۔ جس میں قائل کے صحیح معنی اور پورے مدعا کو بیان کردیا جائے۔ واضح ہو کہ "میم" جمع پر دلالت اور تقاضا کرتا ہے اور اس کا مخرج بھی اس کا مقتضی ہے۔ یہ قول اس بنیاد پر ہے کہ لفظ اور معنیٰ کے اندر باہمی مناسبت ہوتی ہے۔ جیسا کہ عربیت کے اعلی ارکان (فضلا) کا مذہب ہے۔ (جلاء الأفھام فی فضل الصلاۃ والسلام علیٰ خیر الانام ص: ١٤٦)

    (ابو الفتح بن جنی نے "میم" کی خصوصیات میں سیبویہ کی روایت سے ایک جداگانہ باب قائم کیا ہے۔ جسے ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی مذکورہ کتاب میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ص: ١٤٦-١٥٥)

    حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: "اللھم" یہ تمام دعا کا جامع ہے۔ اسی طرح سے نضر بن شمیل رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ: جس نے اللھم کہہ دیا اس نے اللہ تعالیٰ کو تمام اسماء کے ساتھ پکار لیا۔ (تفسیر القرطبی ٤/ ٥٤، وفی البحر المحیط ٢/ ٤٣٦)


    ایک گروہ نے اس قول میں یہ توجیہ نکالی ہے کہ اللھم کا میم بمنزلہ واؤ کے ہے جو جمع پر دلالت کرتا ہے، کیوں کہ واؤ جمع کے مخرج سے ہے۔ گویا اللھم کے ساتھ دعا کرنے والا یہ کہا کرتا ہے کہ یا اللہ تیرے لیے اسماء حسنی اور صفات علیا مجتمع ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ علامت جمع (واؤ۔نون جیسے مسلمون وغیرہ میں ہے) کا عوض ہے۔

    ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: لیکن جس طریقے سے ہم نے ذکر کیا کہ "میم" خود ہی جمع پر دلالت کرتا ہے تو پھر اس توجیہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

    ۔(جلاء الأفھام فی فضل الصلاۃ والسلام علیٰ خیر الانام ص: ١٥٧)

    نوٹ: یہ پوری بحث اختصار کے ساتھ ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب "جلاء الأفھام فی فضل الصلاۃ والسلام على خير الأنام" سے ماخوذ ہے۔
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    عمدہ شیئرنگ. یہ ہدایت اللہ فارس صاحب کون ہیں؟
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں