سیدنا یزید بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت

اسرار حسین الوھابی نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏اگست 26, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اسرار حسین الوھابی

    اسرار حسین الوھابی نوآموز

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2020
    پیغامات:
    6
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    حضرت ام حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُم

    ”میری امت میں سب سے پہلا لشکر جو قیصر روم کے دارالحکومت (قسطنطنیہ) پر حملہ آور ہوں گے وہ مغفرت یافتہ ہے۔“

    [صحیح البخاری الجھاد والسیر حدیث: ٢٩٢٤]

    حضرت یزید بن معاویہ کے زیر کمان روم کے دارالحکومت قسطنطنیہ پر مسلمانوں نے حملہ کیا۔ اس لشکر کے تمام سپاہی اللہ کے ہاں مغفرت یافتہ ہیں اور اسی لشکر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے اکابر صحابہ شامل تھے۔

    اس حملے میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے۔ انھوں نے شہادت کے وقت وصیت کی کہ انھیں قسطنطنیہ کے دروازے کے پاس دفن کیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔

    حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان کے مطابق اس لشکر کے سر براہ یزید بن معاویہ تھے۔اور ان میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے۔[صحیح البخاری، التھجد حدیث: ١١٨٦]

    تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ ٤٩ ہجری میں رومی پایہ سلطنت قسطنطنیہ پر پہلی مرتبہ چڑھائی کرنے والا مسلمانوں کا وہ لشکر تھا جس کا سربراہ یزید بن معاویہ تھے۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

    ”قسطنطنیہ پر پہلی چڑھائی کرنے والے لشکر کے سپہ سالار یزید بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ چونکہ معین تعداد کو لشکر کہا جاتا ہے، اس لیے اس فوج کا ہر ہر فرد بشارت مغفرت میں شریک ہے۔“

    [منھاج السنۃ ٢/٢٥٢]

    جب ایک بدبخت عبدالرحمٰن بن ملجم کے ہاتھوں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید کر دیے گئے تو ٤١ ہجری میں حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کتاب وسنت کی شرط پر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صلح کرلی۔تاریخ میں یہ سال "عام الجماعۃ" کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

    چونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساڑھے چار سالہ دور حکومت، اندرونی خلفشار اور باہمی کشت وخون کی نذر ہوا تھا اس دور میں نہ تو کفار سے جہاد ہوا اور نہ اسلامی فتوحات اور خدمات ہی میں اضافہ ہوا بلکہ دو مرتبہ ہلاکت خیز خانہ جنگی کی صورت میں خون مسلم کی ارزانی ہوئی، اس لیے پیش بندی کے طور پر ٥٠ ہجری میں کوفے کے گورنر ، تجربہ کار اور عمر رسیدہ صحابی جلیل سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دمشق آکر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ تجویز دی کہ آپ اپنی زندگی میں ہی کسی شخص کو ولی عہد مقرر کر دیں تاکہ حصول اقتدار کی خاطر ممکنہ رسہ کشی کا سد باب ہو سکے اور انتشار پسند عناصر کو شرانگیزی کا بھی موقع نہ مل سکے۔

    جانشین کے لیے انھوں نے آپ کے بیٹے یزید کا نام پیش کیا۔ لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی رائے سے فوری طور پر اتفاق نہ کیا بلکہ انھوں نے تمام صوبوں کے نمائندہ اجلاس پر موقوف رکھا چنانچہ اسی سال دمشق میں اجلاس ہوا جس میں اسلامی مملکت کے تمام معززین نمائندگان نے شرکت کی، اس میں یزید کی ولی عہدی پرغور ہوا۔

    بالآخر اس تحریک کو اکثریت کی حمایت حاصل رہی لیکن کسی طرح آپ کو معلوم ہوا کہ مدینہ طیبہ کے کچھ لوگ یزید کی ولی عہدی سے خوش نہیں ہیں، اس لیے آپ نے گورنر مدینہ مروان بن حکم کو خط لکھا کہ وہ اکابر مدینہ کو جمع کریں اور ان کی رائے معلوم کرکے ہمیں مطلع کریں۔

    چنانچہ مروان بن حکم نے مدینہ طیبہ میں ایک اجلاس کیا جس میں اکابر صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین وتابعین رحمۃ اللہ علیہ نے شرکت کی بلکہ اس اجلاس میں اس اہم قومی معاملے میں مشاورت کے لیے امہات المومنین رضوان اللہ عنھن اجمعین بھی تشریف فرما تھیں۔

    اس اجلاس میں حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کسی بھی قابل ذکر شخصیت نے یزید کی ولی عہدی کے متعلق کوئی اختلاف نہیں کیا۔اس کی تفصیل صحیح البخاری حدیث ٤٨٢٧ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

    بہرحال یزید بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولی عہدی کا فیصلہ ہوگیا اور تمام علاقہ کے لوگوں نے ان کی ولی عہدی کے متعلق بیعت کی۔

    [البدایہ والنھایۃ ٧/٧٩]

    ولی عہدی کی بیعت مکمل ہونے کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی: ”اے اللہ! اگر میں نے یزید کو اس کے فضل وکمال کی وجہ سے اپنا ولی عہد بنایا ہے تو اسے بلند مقام پر پہنچا جس کی مجھے اس سے اُمید ہے اور اگر اس بات پر مجھے اس محبت نے آمادہ کیا جو ایک باپ کو اپنے بیٹے سے ہوتی ہے اور وہ اس منصب کا اہل نہیں ہے تو اسے منصب تک پہنچنے سے پہلے ہی موت دے دے۔“

    [تاریخ الاسلام للذھبی ٢/٢٦٧]

    امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنانے کے دس سال بعد تک زندہ رہے، آخر ٢٢ رجب ٦٠ ہجری بروز جمعرات دمشق میں فوت ہوئے اور ان کی نماز جنازہ یزید نے پڑھائی۔ دس سالہ ولی عہدی کے دوران میں آپ تین سال متواتر امارت حج کے عہدے پر فائز رہے۔

    ان کی زیر امارت حج کے دوران میں بے شمار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہ نے حج کیا اور آپ کی امامت ہی میں نماز پنجگانہ ادا کیں۔ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یزید بن معاویہ نے ٥١۔٥٢۔٥٣۔ ہجری میں لوگوں کو حج کرایا۔

    [البدایہ والنھایہ ٨/٢٢٩]

    امارت حج کے علاوہ اس دوران میں انھوں نے متعدد ملکی و ملی خدمات سرانجام دیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد باضابطہ طور پر نئے سرے سے پوری اسلامی ریاست میں آپ کی بیعت ہوئی جس کا آغاز وفاقی دارالحکومت شام کے مرکزی شہر دمشق میں ایک اجتماع عام سے ہوا، پھر ہر علاقے میں تعینات گورنروں کے ہاتھ ان کے لیے بیعت کا انعقاد کیا گیا۔

    تاریخ میں صرف سعد بن حسین بن علی اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام ملتے ہیں جنھوں نے اس بیعت میں شمولیت نہیں کی۔ ان کے علاوہ کبار صحابہ نے بیعت امارت میں عملاً حصہ لیا، البتہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیاست سے قطعاً کنارہ کش تھے حتی کہ جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلافت کا اعلان کیا تو ان سے بھی بیعت نہیں کی۔ ان کے علاوہ چھوٹے بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین دو چار دس بیس نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں تھے۔۔۔ رضوان اللہ عنھم اجمعین

    یزید بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آخری ایام میں واقعہ حرہ پیش آیا۔ اس کا پس منظر اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ کچھ لوگ دمشق میں یزید کے پاس گئے تاکہ انھیں ان کے کردار کا پتاچلے۔ وہاں ان کی خوب مہمان نوازی ہوئی ، خاطر مدارات کی گئی۔

    واپس آکر انھوں نے بتایاکہ یزید شراب نوشی اور زناکاری میں مبتلا ہے اور مدینے کی اکثریت کو اپنے ساتھ ملائے بغیر علم بغاوت بلند کر دیا اور امیر مدینہ عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ بعیت توڑنے والوں میں عبداللہ بن حنظلہ اور عبداللہ بن مطیع پیش پیش تھے ، چنانچہ عبداللہ بن مطیع اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حضرت محمد بن علی بن ابی طالب جو ابن حنفیہ کے نام سے مشہور ہیں کے پاس گئے اور ان سے بیعت توڑ دینے کی درخواست کی لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

    ابن مطیع نے کہا: یزید شراب پیتا ہے ،نماز نہیں پڑھتا اور کتاب اللہ کے احکام کی پروانہیں کرتا۔ محمد بن علی نے جواب دیا: میں یزید سے خود ملا ہوں ، ان کے ساتھ رہا ہوں ، میں نے کوئی ایسی بات نہیں دیکھی بلکہ میں نے انھیں ہمیشہ نماز کاپابند، خیر کا متلاشی ، فقہ کا مسائل اور سنت کا متبع پایا ہے۔
    [البدایہ والنھایہ ٨/٢٣٣]

    بہرحال بیعت توڑنے والوں نے مدینہ طیبہ کے تین طرف خندق کھودی اور چوتھی طرف انصار کے اسی محلے کو حصار سمجھ لیا جو ان کے ہمنوا نہیں تھا۔

    جب یزید کو اس کی اطلاع ملی توانھوں نے مسلم بن عقبہ کی کمان سے ایک فوج بھیجی اور انھیں حکم دیا کہ پہلے ان لوگوں پر امان پیش کریں اگر نہ مانیں تو ان سے جنگ کریں، چنانچہ انھوں نے ان کی ہدایات کے مطابق عمل کیا۔

    جب اہل مدینہ نے انکار کیا تو انصارکے بڑے گھرانے بنو اشہل کے تعاون سے فوج شہر میں داخل ہوئی اور گنتی کے چند گھنٹوں میں شہر پر قبضہ ہوگیا۔ اس کے بعد مؤرخین نے دیومالائی انداز میں اس واقعے کی تفصیلات خودمرتب کی ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    بہرحال ہمارے رجحان کے مطابق ایک اسلامی سربراہ کی بیعت توڑنے کے جو شرعی تقاضے ہیں اہل مدینہ نے انھیں ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جو عنوان قائم کیا ہے اس سے مراد شاید ان لوگوں کی طرف سے اشارہ ہے جو دمشق میں سربراہ حکومت کے پاس گئے اور وہاں سے واپس آکر خلاف واقعہ باتیں بیان کیں۔

    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیعت توڑنے کے متعلق جس قسم کے رد عمل کا اظہار کیا ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات نے بغاوت کے لیے جس چیز کو پیش کیا وہ شریعت کے مطابق نہ تھی، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ

    جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ اطْرَحُوا لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً فَقَالَ إِنِّي لَمْ آتِكَ لأَجْلِسَ أَتَيْتُكَ لأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لاَ حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّة

    یزید بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ حکومت میں جب حرہ کا واقعہ پیش آیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبداللہ بن مطیع کے پاس گئے تو انھوں نے کہا: ابوعبدالرحمان کے لیے مسند لاؤ۔ آپ نے فرمایا: میں تمہارے پاس بیٹھنے کے لیے نہیں آیا بلکہ وہ حدیث بیان کرنے آیا ہوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اطاعت کا عہد کرنے کے بعد اسے توڑ دیا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس طرح حاضر ہوگا کہ اس کے پاس کوئی حجت اور دلیل نہیں ہوگی اور اگر ایسی حالت میں وہ مرگیا کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت نہ ہوتو وہ جاہلیت کی موت مرا۔“

    [صحیح مسلم، الامارۃ حدیث: ٤٧٩٣(١٨٥١)]

    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس امام کی حکمرانی پر امت کا اجماع ہو اس کی بیعت لازم اور اس کے خلاف خروج حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بغاوت میں حصہ لینے والوں کو معاف فرمائے اورقیامت کے دن ہم سب کو اپنے عرش کے سائے تلے جگہ عنایت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

    (منقول)
     
  2. انجینئر عبدالواجد

    انجینئر عبدالواجد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2010
    پیغامات:
    219
    یہ آپ کی رائے ہے اور اس سے میں ذاتی طور پراتفاق نہیں کرتا
    یزید کے دور حکومت میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا بلکہ ان کی اولاد کو بھی مظلومانہ طریقہ سے شہید کر دیا گیا
    لیکن یزید نے اس معاملے پر ابن زیاد کی کوئی باز پرس نہ کی اور نہ اسے عہدے سے معزول کیا
    جو کہ یزید کی ناہلی کا ثبوت ہے
    اگر یزید کے معاملے میں خاموش رہا جائے تو بہتر ہے جیسا کہ ہمارے سلف کا طریقہ ہے۔
    یزید کا معاملہ اب اللہ کے پاس پہنچ چکا۔ اللہ ہی اس کا فیصلہ کرے گا۔
    کسی اور فرد کے مومن ہونے سے یا نہ ہونے سے ہمارے جنت میں جانے کا راستہ یقینی نہیں بن جاتا۔ ہمیں اپنے اعمال و اقوال درست رکھنے کی ضرورت ہے
    شکریہ
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    ہر کسی کی اپنی رائے ہوتی ہے. کچھ سوالات ہمارے ذہن میں بھی آئے.
    لکھ دیتے ہیں، شاید جواب آجائے.
    یزید نے حکم دیا تھا؟
    یزید کے حکم پر حسین کو شہید کیا تھا؟
    یزید کے حکم پر اس کی اولاد کو شہید کیا تھا، وہ کونسی اولاد تھی؟
    ابن زیاد نے شہید کیا؟
    کیا بج جانے والے اہل بیت و دیگر کبار صحابہ کا بھی یہی موقف تھا؟
    یہ سب الزامات ہیں. جب تک جرم ثابت نا ہو جائے..
    آخر میں مجرم بنا کر معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا گیا. بندوں کی عدالت اس طرح لگتی ہے. اور ایسے ہی فیصلے ہوتے ہیں. اس طرح کے فیصلے کربلا و حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت پر لوگ کرتے رہتے ہیں
     
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں