کیا کسی کے لیے منصب خلت کا اثبات درست ہے؟

اسرار حسین الوھابی نے 'متفرقات' میں ‏ستمبر 7, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اسرار حسین الوھابی

    اسرار حسین الوھابی نوآموز

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2020
    پیغامات:
    6
    کیا کسی کے لیے منصب خلت کا اثبات درست ہے؟

    تحریر: ایچ ایف ذیشان (حافظ ہدایت اللہ فارس)

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    ہم میں سے بہت سارے بھائی اپنے دوست و احباب کیلئے جانے انجانے میں خلیل کا استعمال کردیتے ہیں تو کیا کسی انسان کے لیے منصب خلت کا اثبات درست ہے ؟

    آئیے سب سے پہلے ہم یہ جانتے ہیں کہ خلیل کسے کہتے ہیں۔

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ لکھتے ہیں : الخليل هو من كان في أعلى المحبة؛ فالخلة أعلى أنواع المحبة؛ لأن الخليل هو الذي وصل حبه إلى سويداء القلب وتخلل مجاري عروقه، وليس فوق الخلة شيء من أنواع المحبة أبدا۔

    ترجمہ: خلیل وہ ہوتا ہے جو محبت کے اعلی ترین مرتبہ پر فائز ہو۔ خلت محبت کی اعلی ترین قسم ہے، اس لیے کہ خلیل کی تعریف یہ ہے کہ جس کی محبت دانہ دل تک رسائی حاصل کر لے اور وہ اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کرجائے، محبت کی کوئی بھی قسم خلت سے برتر نہیں ہوسکتی۔

    [شرح العقيدة الواسطية: ١/ ٢٣٨]

    جیساکہ ایک شاعر اپنے معشوقہ سے کہتا ہے:

    قد تخللت مسلك الروح مني
    وبذا سمّى الخليل خليلا


    ترجمہ: تو میری روح میں رچ بس گئی ہے۔ خلیل کو اس نام سے موسوم کرنے کی یہی وجہ ہے۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کرتے تھے مگر ان میں سے کسی کو بھی خلیل نہیں بنایا۔

    ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

    لو كنت متخذا من أمتي خليلا؛ لاتخذت أبا بكر

    ترجمہ: اگر مجھے اپنی امت سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔

    [صحیح بخاری: ٢٣٥٦ ومسلم: ٢٣٨٣]

    کیوں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب لوگوں سے بڑھ کر محبوب تھے مگر وہ مقام خلت پر فائز نہ ہوسکے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی اپنا خلیل نہیں بنایا تھا، خلت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالی کے درمیان تھی۔ جیساکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

    إن الله اتخذني خليلا كما اتخذ ابراهيم خليلا

    یعنی بےشک اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیل بنایا ویسے ہی جیسے اس نے ابراہیم کو خلیل بنایا ہے۔

    [رواہ مسلم: ٥٣٢]

    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد آدم میں سے خلت صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ثابت ہے۔ جیساکہ مذکورہ بالا حدیث اس پر دال ہے۔

    سیخ آگے لکھتے ہیں کہ: خلت اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے اور یہ محبت کی اعلی ترین قسم ہے، اور یہ توقیفی ہے لہذا بدون دلیل ہم کسی بھی انسان کے لیے منصب خلت کا اثبات نہیں کرسکتے، حتی کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے بھی اس کا اثبات جائز نہیں ہوگا، سوائے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے۔

    [شرح العقيدة الواسطية: ١/ ٢٣٩]

    لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم دوست کے لئے یا کسی بھی انسان کے لیے خلیل کا استعمال نہ کریں۔ اس کے علاوہ دیگر الفاظ جو محبت کے معنی میں مستعمل ہیں ان سب کا استعمال کریں۔

    واللہ اعلم بالصواب
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں