ماہِ صفر کے بعض مسائل از محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ

اہل الحدیث نے 'اسلامی مہینے' میں ‏ستمبر 22, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,047
    ماہِ صفر کے بعض مسائل
    تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ
    تحریر: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ
    شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 11 صفحہ نمبر 22
    ۱: ایک صحیح حدیث میں آیاہے کہ:
    ’’ولا صفر‘‘
    اور صفر ( کچھ) نہیں ہے۔ (صحیح بخاری:۵۷۰۷ وصحیح مسلم:۳۲۲۰)
    اس حدیث کی تشریح میں محمد بن راشد المکحولی رحمہ اللّٰہ (متوفی بعد ۲۶۰ھ) فرماتے ہیں:
    ’’سمعنا أن أھل الجاھلےۃ یستشئمون بصفر‘‘
    ہم نے (اپنے استادوں سے) سنا ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ صفر کو منحوس سمجھتے تھے۔ (سنن ابی داود:۳۹۱۶ وسندہ حسن)
    ’’أيلما یتوھمون أن فیہ تکثر الدواھي والفتن‘‘
    یعنی انہیں یہ وہم تھا کہ صفر میں مصیبتیں او ر فتنے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ (ارشاد الساری للقسطلانی ج۸ ص۳۷۴)
    موجودہ دور میں بھی بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ صفر میں’’ ترہ تیزی‘‘ یعنی تیرہ تیزی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے برتن وغیرہ ٹوٹتے ہیں اور لوگوں کا نقصا ن ہوتاہے۔ حالانکہ یہ باطل عقیدہ بعینہ اہلِ جاہلیت کا عقیدہ ہے۔
    ۲: صفر کے آخر میں ’’چُوری‘‘کی رسم کا کوئی ثبوت کتاب و سنت میں نہیں ہے۔ ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کی کتاب’’تقویمِ تاریخی‘‘ سے صفر کے بارے میں چند معلومات درج ذیل ہیں:
    27 صفر 1ھ ہجرت شروع
    12 صفر 2ھ فرضیت جہاد
    صفر 32ھ وفات عبد الرحمن بن عوف
    صفر 35ھ وفات ابو طلحہ الالقاری
    صفر 43ھ وفات محمد بن سلمہ
    صفر 50ھ وفات صفیہ بن حي
    صفر 52ھ وفات عمران بن حصین
    صفر 56ھ وفات عبداللّٰہ بن عمرو
    صفر 66ھ وفات جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہم اجمعین
    صفر 157ھ وفات امام اوزاعی رحمہ اللّٰہ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں