محاورہ سمجھیں۔۔۔1

اہل الحدیث نے 'ادبِ لطیف' میں ‏ستمبر 22, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,047
    محاورہ سمجھیں۔۔۔1

    اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ
    مصنف: ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی

    محاورے محض کسی زبان کا حصہ ہی نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے مختصر وجود میں نہ صرف کسی بھی معاشرہ کی نمائندگی کا کردار ادا کرتے ہیں، بلکہ ایک بھر پور تہذیبی عکسبندی کا بار بھی اٹھاتے ہیں۔

    آج کا محاورہ
    اُبلا سُبلا پکانا، اُبالا سُبالا ہونا:
    اگر ہم اس محاورہ کی لفظی ترکیب پر غور کریں تو اس سے ایک بات پہلی نظر ہی میں سمجھ میں آ جاتی ہے کہ ہمارے ہاں الفاظ کے ساتھ ایسے الفاظ بھی لائے جاتے ہیں جن کا اپنا کسی خاص موقع پر کوئی خاص مفہوم نہیں ہوتا لیکن صوتی اعتبار سے وہ اس لفظی ترکیب کا ایک ضروری جُز ہوتے ہیں۔ اس طرح کی مثالیں اور بھی بہت سی مل سکتی ہیں، جیسے "الاَبُلَّا"، "اٹکل پچو"، "اَبے تبے"، "ٹال مٹول"، "کانچ کچُور" وغیرہ۔

    "اُبلا سُبلا" ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کسی عورت کو اچھا سالن بنانا نہیں آتا۔ ہمارے ہاں کھانا بنانے کا آرٹ گھی، تیل، بگھار، گرم مصالحہ، گوشت وغیرہ ڈال کر اس کو خوش ذائقہ اور لذیذ بنایا جاتا ہے۔ سالن میں جتنی ورائٹی ) variety (ہو سکتی ہے، اُن سب میں ان کو دخل ہے کہ وہ بھُنے چُنے ہوں، شوربہ، مصالحہ، اس میں ڈالی ہوئی دوسری اشیاء اگر خاص تناسب کے ساتھ نہیں ہیں تو پھر وہ سالن دوسروں کے لیے "اُبلا سُبلا" ہے، یعنی بے ذائقہ ہے اور اسی لیے بے نمک سالن کا محاورہ بھی آیا ہے، یعنی بے ذائقہ چیز۔

    اس سے ہم اس گھریلو ماحول کا پتا چلا سکتے ہیں جس میں ایک عورت کی کھانا پکانے کی صلاحیت کا گھر کے حالات کا ایک عکس موجود ہوتا ہے کہ اس کے ہاں تو "اُبالا سُبالا" پکتا ہے۔


    منقول
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں