ابن تیمیہ پر علامہ سُبکی کےمغالطات کا رد

ابوعکاشہ نے 'اسلامی کتب' میں ‏اکتوبر، 2, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,875
    ابن تیمیہ پر علامہ سُبکی کےمغالطات کا رد

    علامہ سُبکی نے کسی غلط فہمی میں ایک کتاب بنام شفاء السقام لکھی ۔۔ جو کہ شیخ الاسلام ابن تیمیة رحمه اللہ کے رد میں تھی ۔۔ شیخ الاسلام کے شاگردِ رشید امام ابن عبدالھادی رحمه اللہ نے سُبکی کی کتاب کا جائزہ لیا ۔ مغالطات کو دور کیا نیز انکے غلط نظریے و عقیدے کا محکم انداز سے بہترین رد فرمایا۔ اور کتاب کا نام رکھا “الصارم المنکی فی الرد علی السبکی “ یعنی تَنی ہوئی تلوار سُبکی کی گردن پہ ۔۔
    ایک جگہ علامہ سُبکی نے لکھا کہ
    إن المبالغة في تعظیمه واجبة
    یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم کی تعظیم میں مبالغہ کرنا واجب ہے ۔
    اس عبارت پر امام ابن عبدالھادی رحمه اللہ تعلیقا لکھتے ہیں
    سُبکی کیا آپکا اس عبارت سے یہ مقصد ہے کہ جو بندہ جیسے چاہے اپنی مرضی سے تعظیم کرتا پھرے ؟ حتی کہ وہ محبت و تعظیم سے آپکی قبر کی طرف حج کے لیے آیا کرے؟ اور اسکو سجدہ کرنے لگے ؟ اور قبر کا طواف شروع کردے ؟
    سُبکی !! کیا آپکی بات کا یہ مطلب ہے ہے کہ کوئی بندہ آپ صلی اللہ علیه وسلم بارے تعظیم کرتے ہوئے علمِ غیب جاننے کا عقیدہ رکھ لے ؟ یا یہ سمجھے کہ آپ جو چاہتے ہیں عطا کرتے ہیں جو چاہتے ہیں روک لیتے ہیں ؟ اور آپ کو اللہ کے ساتھ ہر چیز کے اختیارات حاصل ہیں کہ جو آپ سے مصیبتوں میں مدد چاہے آپ فورا دور کر دیا کریں؟ کیا آپ اس عبارت سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی شخص آپ کی تعظیم اس حد تک شروع کر لے کہ وہ آپ کو یہ سمجھنے لگے کہ آپ جس کو چاہتے ہیں جنت دیتے ہیں ؟
    اگر ایسا دعوی کر رہے ہیں کہ تعظیم میں اس طرح کا مبالغہ واجب ہے تو جان لو کہ یہ کوئی تعظیم نہیں بلکہ کُھلا ہوا شرک ہے اور شرک میں مبالغہ ہے اور دین سے خروج کے برابر ہے
    یا آپ کا مقصد یہ ہے کہ آپکی تعظیم میں مبالغہ واجب ہے یعنی جس کو اللہ اور رسول نے واجب قرار دیا ہے کہ آپ سے محبت کی جائے آپکی اطاعت کی جائے ، آپکی زندگی کو جانا جائے آپکے حقوق پہچانے جائیں آپ کی ثابت احادیث کی تصدیق کی جائے اور آپکے کلام کو باقی تمام لوگوں کے کلام سے اوپر رکھا جائے اور آپکی مخالفت کرنے والے کی مخالفت کی جائے اور آپ سے محبت اپنے والدین اور ہر چیز سے بڑھ کر کی جائے ۔
    تو بھئی اگر یہ مراد ہے تو یہ تعظیم واجب بلکل ایمان اس کے بغیر سِرے سے ہے ہی نہیں ۔۔
    لیکن سُبکی صاحب آپ اور آپکے سبھی ماننے والے اسی تعظیم سے دُور بھاگنے والے ہو
    (الصارم المنکی ، ص: ۸۵۲)
    منقول
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں