جسم فروشی ایک سروس- میرا جسم میری مرضی۔ ایک مکالمہ

اہل الحدیث نے 'گپ شپ' میں ‏اکتوبر، 10, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,047
    یہ اچانک جسم فروشی کو نارملائز کرنے اور اسے معقول سمجھنے کا جو شوشہ چھیڑا جا رہا ہے، اس پر ایک بات یاد آئی۔۔
    کچھ سات آٹھ سال قبل ایک آنٹی سے مکالمہ ہو گیا تھا (آٹھ نو سال پہلے میں خود انکل نہیں تھا لہذا بھویں چڑھانے کی قطعی ضرورت نہیں) ۔۔۔ تو محترمہ وہی گھسی پٹی باتیں کرنے لگیں جو لمز یونیورسٹی کی پروفیسر جناب ندا کرمانی صاحبہ نے کی ہیں کہ جسم فروشی بھی ایک کام ہے، ایک سروس ہے، جس طرح ایک مزدور اپنے جسم کے اعضاء استعمال کر کے اپنے لئے روٹی کماتا ہے ویسے ہی ایک sexworker کماتی ہے مزید یہ کہ معاشرے میں یہ پیشہ موجود ہونے سے مردوں کے جنسی ہیجان سے پیدا ہونے والے جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    میں، عادت سے مجبور، محترمہ سے پوچھ بیٹھا۔۔
    "آپ کے میاں کبھی کسی سروس کی خاطر مزدور (پلمبر، الیکٹریشن، مستری) کو گھر لا کر کام کرواتے ہونگے اور یقینا آپ کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہوگا، فرض کریں کہ آج رات آپ کے میاں ایک جسم فروش خاتون کے ساتھ تشریف لائیں اور آپ سے عرض کریں کہ بیگم ذرا آج مجھے اِس 'مزدور' کی 'سروس' چاہیے تو آپ کا ردِ عمل کیا ہوگا؟

    بس پھر کیا تھا، ڈریگن کی طرح منہ سے آگ اگلنے لگیں "گھٹیا لوگ! فوراً ذاتیات پر اتر آتے ہو، بات کرنے کی تمیز نہیں"

    میں احتراماً مخاطب ہوا "محترمہ! بھلا یہ کیا بات ہوئی؟ کسی اور کا شوہر، بیٹا، باپ، بھائی 'سروسز' حاصل کرے تو معاشرے کی ضرورت کہلائے اور آپ کا میاں کرے تو ذاتیات؟ کیا اس بات کا امکان نہیں کہ آپ کے میاں میں بھی دیگر خواتین کے لئے جنسی ہیجان اٹھتا ہو اور وہ کسی جسم فروش کی سروس افورڈ بھی کر سکتے ہوں؟ تو بھلا آپ کون ہوتی ہیں کسی کی روزی روٹی پر لات مارنے والی؟"

    "الو کے ___ میں یہ نہیں کہ رہی کہ مرد کو 'cheating' کا لائسنس دے دیا جائے" منہ سے جھاگ نکالتے جواب دیا

    "چیٹنگ کیسی؟ دونوں کی مرضی سے کام ہو رہا ہے، دھوکا بازی بھی کوئی نہیں۔ سروس کے بدلے اتفاق شدہ رقم دی جا رہی ہے۔ آپ پلمبر، مستری سے بھی یونہی جلتی ہیں کیا؟"

    "چیٹنگ مطلببببب اپنے رشتوں کے ساتھ چیٹنگ، اپنی بیوی کے ساتھ چیٹنگ۔"

    "اوہ اچھا! یعنی آپ مانتی ہیں کہ یہ 'پروفیشن'، جسے آپ دیگر 'مزدوری اور سروس' سے تعبیر کر رہی تھیں، سماج پر اتنے شدید منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے کہ اگر اسے کسی کے شوہر، بیوی، بہن، بھائی سے منسوب کیا جائے تو یہ مخاطب کو غصے سے آگ بگولہ کر دیگا۔ اب آپ خود انصاف کیجئے کہ اگر یہ رائج ہو گیا تو اِس نے خاندانی نظام اور رشتوں کے تقدس کی کیا دھجیاں اڑانی ہیں۔"

    "میرا کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہر مرد اس سروس کو حاصل کرے اور نہ یہ مطلب تھا کہ کوئی بھی عزت دار عورت یہ 'سروس' فراہم کرنا شروع کر دے۔"

    "اوکے! تو آپ کا مطلب کیا تھا؟ یعنی یہ کوئی 'عزت دار' پیشہ نہیں ہے؟ لیکن باقی Service providers تو عزت دار ہی مانے جاتے ہیں معاشرے میں۔ پھر جہاں تک بات ہے اِس بات کی کہ آپ نے 'ہر مرد اور ہر عورت' کو یہ کام کرنے کو نہیں کہا تو ذرا مجھے بتائیے کہ یہ کام کس نے کرنا ہے اور کس نے نہیں، اِس کا فیصلہ وہ شخص خود کرے گا یا آپ؟"

    "اوہ پاگل! اس کا فیصلہ عورت خود کرے گی اپنے حالات دیکھتے ہوئے کہ اس نے یہ کام کرنا ہے یا نہیں اور معاشرے پر لازم ہے کہ اسے عزت کی نظر سے دیکھے۔"

    "تو پھر جو 'محترمہ' آپ کے میاں کے ساتھ تشریف لائی تھیں، اپنی مرضی سے آئی تھیں، آپ نے اُن کی عزت کیوں نہیں کی؟۔۔۔ کچھ چائے بسکٹ ہی پوچھ لیتیں انہیں۔"

    ".....۔۔۔ دفع ہو جا یہاں سےےےےے"

    "آپ کی تیاری ٹھیک نہیں اگلی بار کر کے آئیے گا" میں پٹاخہ پھوڑ کے نکل لیا

    ابو ابراھیم
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں