بسم اللہ الرحمن الرحیم کے اعراب ومعانی

ہدایت اللہ فارس نے 'معلومات عامہ' میں ‏نومبر 27, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ہدایت اللہ فارس

    ہدایت اللہ فارس -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2020
    پیغامات:
    10
    " بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِیمِ " کے اعراب و معانی اور اس کے متعلقات کے بارے میں کچھ معلومات ...
    --------------------------------------------------------------------
    ✍️⁩: ہدایت اللہ فارس
    سوال : بِسم میں با حرف ہے اور حروف کی اصل یہ ہے کہ ان پر سکون یعنی جزم آئے، کیوں کہ وہ مبنی ہوتے ہیں اور مبنی میں اصل سکون ہے ، پھر باء پر سکون کے بجائے جر کیوں آیا ؟

    علمائے نحو نے اس کا جواب کچھ اس طرح سے دیا ہے : کہ باء پہ جر اس لیے کیوں کہ یہ ابتدا میں آیا ہے اور ابتدا بالساکن محال ہوتی ہے تو مجبوراً اس کو حرکت دینی پڑے گی ، پھر تینوں حرکتوں میں سے کسرہ اس لیے منتخب کیا گیا تاکہ اس کے عمل کے ساتھ مشابہت ہوجائے اور بائے حرفی و بائے اسمی( جوایک خاص نقشے یعنی " ب" کا نام ہے اور یہ مفتوح ہوتا ہے) میں امتیاز ہوجائے،اور قاعدہ نحویہ " الساكن إذا حُرِّك حُرِّك بالكسر " پر بھی عمل ہوجائے۔
    اور بسم میں باء کے الف کا حذف ہونا تو یہ کثرت استعمال کی وجہ سے ہے ورنہ دوسری جگہ الف کے ساتھ ہی آیا ہے " اقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِی خَلَقَ"

    رہی بات بسم اللہ میں کس فعل کو محذوف مانا جائے تو اس سلسلے میں علما نے بہت کچھ کہا ہے، ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں سب سے خوبصورت قول یہ ہے کہ یہ موقعہ و محل کی مناسبت سے متاخر فعل محذوف سے متعلق ہے ، مثلا جب اسے کھانا کھانے والا پڑھے گا تو تقدیری عبارت اس طرح ہوگی " بسم اللہ آکل " اور جب اسے قرآت کرنے والا پڑھے گا تو تقدیری عبارت ہوگی " بسم اللہ اقرأ " میں اللہ کے نام سے کھاتا ہوں، میں اللہ کے نام سے پڑھتا ہوں۔

    اس دوران فعل کو مقدر مانا جائے گا نہ کہ اسم کو اس لیے کہ عمل میں اصل افعال ہیں اسما نہیں، یہی وجہ ہے کہ افعال کسی شرط کے بغیر عمل کرتے ہیں جبکہ اسماء شرط کے بغیر عمل نہیں کرتے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عمل افعال میں اصل اور اسماء میں فرع ہے۔
    یاد رہیں۔۔ فعل کو بسم اللہ کے بعد محذوف مانا جائے بسم اللہ سے پہلے نہیں ، کیوں کہ فعل کو متاخر تسلیم کرنے کے دو فائدے ہیں۔ جو کہ متقدم ماننے سے وہ مفقود ہوجاتے ہیں

    پہلا فائدہ۔۔۔۔۔ حصر : اس لیے کہ معمول کی تقدیم حصر کا فائدہ دیتی ہے ، اس اعتبار سے بسم اللہ اقرأ ، یہ۔ لا اقرأ الا باسم اللہ کے مترادف ہوگا ۔
    دوسرا فائدہ ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے مقدس نام کے ساتھ ابتدا سے تبرک کا حصول۔
    { الرحمن }۔۔۔۔ عربی میں فعلان کا وزن وسعت اور امتلاء پر دلالت کرتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے " رجل غضبان " جب آدمی غصے سے بھر ہوجائے ۔ لہذا رحمن کا معنی ہوگا " وہ بڑی وسیع رحمت والا ہے "

    {الرحیم} ۔۔۔۔۔ فعیل کا وزن اسم فاعل اور اسم مفعول دونوں کے لیے آتا ہے۔ معلوم ہوا " الرحیم " یہ اسم فعل پر دلالت کرتا ہے ، کیوں کہ یہ فعیل بمعنی فاعل ہے ۔ اس طرح " الرحمن الرحیم" کے ایک ساتھ آنے سے یہ معنی پیدا ہوگا " رحمت باری تعالی بڑی وسیع ہے اور یہ کہ اس کی مخلوق تک رسائی ہے ۔
    واللہ اعلم بالصواب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں