حافظ ثناءاللہ مدنی رحمہ اللہ

ابوعکاشہ نے 'مسلم شخصیات' میں ‏فروری 12, 2021 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    شیخ الحدیث مفتی حافظ ثناءاللہ مدنی رحمہ اللہ
    امت کا گوہر نایاب

    (حالات و علمی خدمات)
    وہ زعیم ملک وملت وہ امیر کارواں
    زہد وتقوی وتقدس کا نشاں جاتا رہا
    آہ۔۔۔
    علم حدیث کے بحر بے کراں،مخدوم العلماء والصلحاء، یادگار اسلاف شیخ الحدیث مولانا مفتی ثناءاللہ مدنی وفات پاگئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔
    قدرت حق نے آپ کو خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔جذبہ صادق کے ساتھ حدیث کی خدمت وصیانت کے آپ زندگی بھر کوشاں رہے۔
    حضرت شیخ الحدیث کی رحلت تنہا لاہور نہیں،پنجاب نہیں پاکستان نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے لئے صدمہ ہے۔۔اس پر جتنا افسوس کیا جائے،کم ہے۔
    آسمان را حق بود گر خوں ببارد برزمین
    حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ دور حاضر کے محدث،جلیل القدر عالم دین اور مبلغ تھے کہ جنہوں نے افکار وتصورات کی دنیا اور قوم وملت کی زندگی میں علم وعمل اور روحانیت کا انقلاب برپا کر دیا تھا۔۔آپ کی رحلت سے دعوت وتبلیغ اور علم وعرفان کی وہ شمع فروزاں ہو گئی یے جس کی روشنی میں علوم ومعارف کا ہر گوشہ منور تھا۔وہ روشن ضمیر عالم دین تھے،جن کی نور بصیرت سے تاریک دماغوں کو انوار حق میسر آیا۔
    جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
    دریاوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفاں
    حضرت محدث العصر کی رحلت سے اسلاف اہل الحدیث کی ایک اہم تاریخی اور روحانی یادگار مٹ گئی۔
    ان کے علمی،حدیثی،قرآنی اور اصلاحی کارناموں سے ایک دنیا نے استفادہ کیا۔فقہ وفتاوی،علوم ومعارف،دعوت وتبلیغ اور وعظ ونصیحت الغرض وہ ہر میدان کے شناور تھے۔
    آئیے اس مرد جلیل کے حالات وکوائف زندگی اور علمی خدمات کی طرف چلتے ہیں۔
    شخصیت
    پورا قد،چوڑا چہرہ،کشادہ پیشانی،نکھری ہوئی گندمی رنگت،سفید لباس اور سر پر بڑا سا رومال،کم گو،نرم خو اور علم وعمل کا خوش نما پیکر۔یہ ہیں مولانا مفتی حافظ ثناءاللہ مدنی رحمہ اللہ۔
    سلسلہ نسب اور خاندان کا تعارف
    حضرت حافظ صاحب کا مختصر سلسلہ نسب یہ ہے: ثناءاللہ بن عیسی خاں بن اسماعیل خاں۔
    ضلع قصور کا ایک مقام کلس کے نام سے ہے۔۔یہیں فروری 1940ء میں پیدا ہوئے۔۔اس خاندان کا آبائی گاوں موضع سرہالی کلاں ہے۔۔جو قصور کامضافاتی علاقہ ہے۔شیخ کی ابتدائی تعلیم وتربیت سرہالی کلاں میں ہوئی۔ یہ گاوں قدیم زمانے سے علمائے حدیث کی آمد کا مرکز رہا ہے۔ گزرے وقتوں میں یہاں سالانہ جلسے اور کانفرنسیں بھی منعقد ہوتی رہی ہیں۔۔روپڑی علمائے حدیث خصوصیت سے دعوت وارشاد کے سلسلے میں تشریف لاتے اور کئی کئی روز قیام فرماتے۔
    محدث العصر مولانا حافظ عبداللہ محدث روپڑی اور ان کے بھتیجے سلطان المناظرین حضرت مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی اور مولانا محمد اسماعیل روپڑی رحھمم اللہ تعالی کی اس علاقے میں کافی دینی وتبلیغی خدمات ہیں۔لوگ ان کے اسلوب تقریر سے بہت متاثر تھے اور بار بار انہیں بلایا کرتے تھے۔ 1953ء میں اس علاقے میں ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا،جس میں روپڑی علماء کے علاوہ لکھوی حضرات بھی تشریف لائے۔یہ ایک مشہور تاریخی جلسہ تھا۔۔ان دنوں تحریک ختم نبوت جوبن پر تھی اور تمام علما کی گفتگو کا موضوع سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور عقیدہ ختم نبوت بن گیا۔حضرت شیخ الحدیث اس وقت تیرہ برس کی عمر میں تھے۔وہ اس جلسے میں شریک تھے۔اور وہ ان دنوں کی بہت سی باتیں بیان فرمایا کرتے تھے۔
    تعلیم وتربیت
    شیخ مدنی رحمہ اللہ کی دینی تعلیم کا آغاز حفظ قرآن مجید سے ہوا۔ان کے گاوں سرہالی کلاں کے ایک نیک سیرت بزرگ حاجی عبدالعزیز مرحوم کی علماء سے بہت قربت تھی۔اکثر علماء ان کے پاس ہی آ کر ٹھہرتے تھے۔انہوں نے حضرت مدنی رحمہ اللہ کے والد کو ترغیب دی کہ اپنی آخرت سنوارنے کے لئے ثناءاللہ کو دینی تعلیم پڑھاو۔یہ سادہ ترین دور تھا لوگوں کو اپنی آخرت کی فکر بھی رہتی تھی۔وہ اپنے جگر گوشوں کی تربیت کے لئے انہیں نیک خصال بزرگوں کی صحبت میں داخل کرتے۔شیخ رحمہ اللہ کے والد نیک اور متقی انسان تھے، آثار صالحیت ان کے چہرے مہرے سے ہویدا تھے۔انہوں نے اپنے بیٹے کی دینی تعلیم کے حصول کے لئے رضامندی ظاہر کردی۔چناچہ حاجی عبدالعزیز مرحوم انہیں لے کر سیدھے جامعہ اہل حدیث ،دالگراں چوک لاہور آگئے اور حافظ صاحب کو محدث العصر مولانا حافظ عبداللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔انہیں جامعہ میں داخل کر لیا گیا۔یہ 1954ء کی بات ہے۔اب ان کی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔
    حضرت محدث روپڑی رحمہ اللہ سے دینی تعلیم کا آغاز
    شیخ گرامی نے حضرت محدث روپڑی سے درس نظامی کی ابتدائی کتب اور ترجمہ قرآن وغیرہ بھی پڑھا۔اللہ نے ان پر ایسا فضل کیا کہ جامعہ اہل حدیث کے توسط سے ان کا داخلہ مدینہ یونیورسٹی میں ہو گیا۔وہاں انہوں نے عالم اسلام کے جلیل القدر شیوخ سے کسب فیض کیا۔
    آپ کی اوائل دینی تعلیم وتربیت سے لے کر مدینہ یونیورسٹی داخلہ اور بعد ازاں وہاں سے فراغت تک کی دلربا کہانی مورخ اہل حدیث حضرت مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کے قلم سے ملاحظہ فرمائیے:
    "حافظ ثناءاللہ(رحمہ اللہ) کو مختلف علوم کی ابتدائی کتابیں میزان الصرف،میزان منشعب،صرف میر،زرادی،نحو میر،ہدایةالنحو، ابواب الصرف،مرقات وغیرہ حافظ محدث روپڑی رحمہ اللہ نے پڑھائیں۔ابواب الصرف کے ابواب بھی وہ خود ہی سنتے تھے۔یہ حافظ ثناءاللہ مدنی رحمہ اللہ کی خوش نصیبی ہے کہ بالکل ابتدائی درجات کی درسی کتابیں اتنے بڑے محدث سے پڑھنے کی سعادت ان کے حصے میں آئی۔
    قرآن مجید کا ترجمہ بھی حضرت حافظ عبداللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ سے پڑھنا شروع کیا۔ترجمہ قرآن حضرت حافظ صاحب نے سورة ق سے پڑھانے کا آغاز کیا اور فرمایا:میں نے اپنے استاذ مکرم حضرت امام عبدالجبار غزنوی رحمہ اللہ سے اسی مقام سے پڑھنا شروع کیا تھا۔ترجمہ پڑھاتے وقت حافظ صاحب روپڑی کی آنکھوں سے عام طور پر آنسو جاری رہتے۔
    حافظ ثناءاللہ مدنی رحمہ اللہ ابتداء سے ہی علمی ذوق رکھتے تھےاور اس کے ساتھ اللہ نے عمل کی توفیق مرحمت فرمائی اور ذہانت کی نعمت بھی بارگاہ الہی سے میسر آئی۔اس طرح وہ رفتہ رفتہ جلد ہی استاذ عالی قدر کے رنگ میں رنگے گئے۔اور علمی تحقیق وکاوش ان پر غالب آ گئی۔انہوں نے حضرت حافظ صاحب سے بہت استفادہ کیا اور ان سے خوب فیض یاب ہوئے۔جامعہ قدس اہل حدیث میں 1963ء میں انہیں اور ان کے بعض ہم جماعت طلباء کو حضرت حافظ عبداللہ روپڑی اور حافظ عبدالقادر روپڑی کی مساعی جمیلہ سے مدینہ یونیورسٹی میں داخلے کی اطلاع موصول ہوئی تو یہ لوگ انتہائی خوش ہوئے۔
    جامعہ قدس سے ان کی روانگی کے موقع پر خاص تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا،جس میں کئی معروف علمائے کرام نے شرکت فرمائی۔حافظ عبدالقادر صاحب کراچی تک بذریعہ ریل ان حضرات کے ساتھ گئے۔حافظ ثناءاللہ صاحب نے کلیةالشریعة میں داخلہ لیا اور وہاں کا نصاب مکمل کر کے سند فراغ لی۔واپس وطن آ کر پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے امتحانات دیئے اور دونوں امتحانات میں اول پوزیشن حاصل کی۔
    (چمنستان حدیث:578،579)
    جلیل القدر اساتذہ حدیث
    حضرت حافظ صاحب رحمہ اللہ نے پاکستان اور مدینہ منورہ میں جن جید اساتذہ کرام کے حضور زانوئے ادب تہہ کرنے کی سعادت حاصل کی،وہ ہیں:
    1-حضرت حافظ عبداللہ روپڑی رحمہ اللہ
    2-حضرت حافظ محمد محدث گوندلوی رحمہ اللہ
    3-شیخ الحدیث مولانا محمد عبدہ الفلاح رحمہ اللہ
    4-شیخ الحدیث مولانا عبدالغفار حسن رحمہ اللہ
    5-مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ
    6-شیخ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ
    7-شیخ الاسلام علامہ ابومحمد عبدالحق محدث الہاشمی رحمہ اللہ
    8-شیخ محمد امین الشنقیطی رحمہ اللہ
    9-شیخ شیبةالحمد رحمہ اللہ
    10-شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ
    11-شیخ حماد انصاری رحمہ اللہ
    12-شیخ محمد بن ارمان علی رحمہ اللہ
    تدریسی خدمات
    حضرت محدث العصر رحمہ اللہ نے مدینہ یونیورسٹی سے سند فراغت کے بعد اپنے آبائی گاوں سرہالی کلاں میں درس وتدریس کا آغاز کیا۔اس دوران انہیں اپنے عظیم استاذ حضرت محدث روپڑی رحمہ اللہ کا ایک مکتوب ملا،جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ وہ مدینہ یونیورسٹی سے جو علم پڑھ آئے ہیں۔دیگر لوگوں کو بھی اس مستفید کریں اور اس کے لئے ان کی مادر علمی جامعہ اہل حدیث لاہور منتظر ہے۔۔شیخ مرحوم فرماتے تھے کہ میں نے اپنے استاذ کے مکتوب کو حکم سمجھ کر ان کی خدمت میں جامعہ اہل حدیث آ گیا"۔
    حضرت نے جامعہ میں مسند تدریس بچھا کر طلبائے حدیث کو علم حدیث سے مستفید کرنا شروع کر دیا۔
    یہ بارگاہ الہی کی طرف سے انہیں بہت بڑا اعزاز ودیعت ہوا تھا کہ جس مسند پر ان کے استاذ حدیث،تشریف رکھتے تھے اور وہ ان کے سامنے بیٹھ کر حدیث کا درس لیتے تھے۔آج اسی مسند پر بیٹھ کر انہیں درس حدیث ارشاد فرمانے کا موقع میسر آیا۔
    شیخ گرامی کا سلسلہ تدریس جاری تھا کہ 1972ء میں انہیں سعودی عرب کی طرف سے جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں مبعوث کر دیا گیا۔یہاں انہیں مدیرالتعلیم اور شیخ الحدیث کے منصب سے نوازا گیا۔
    پھر ایک وقت آیا کہ وہ ملک پاکستان کے بڑے ادارے جامعةالاہور الاسلامیہ لاہور میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز کئے گئے۔اس ادارے کے بانی مبانی اسلاف کی نشانی فضیلةالشیخ حضرت حافظ عبدالرحمان مدنی مدظلہ ہیں۔جن کی علمی خدمات تاریخ اہل حدیث کا ایک نادر باب ہے۔اللہ تعالی شیخ محترم کو صحت والی زندگی عطا فرمائے۔پیرانہ سالی کے باوجود درس حدیث کے سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    حضرت شیخ الحدیث مولانا ثناءاللہ مدنی رحمہ اللہ نے لاہور میں اپنا ایک بہترین علمی ادارہ قائم کیا،جس کا نام "انصار السنہ" رکھا۔جس میں وہ درس نظامی سے فراغت پانے والے یا منتہی طلباء کو رسوخ فی العلم کے لئے تحریر وتدریس کی تربیت دیتے تھے۔یہ بہت اہم علمی نوعیت کی سرگرمیاں ہیں جس کی اللہ رب العزت کی بارگاہ سے انہوں نے توفیق پائی۔
    تصنیفی خدمات
    حضرت مرحوم تاحیات علمی نوعیت کے کاموں میں مصروف رہے۔۔فقہ وفتاوی اور شروحات حدیث آپ کا خاص موضوع تھا۔جس طرح آپ کی زندگی متنوع کمالات اور جمالات کا مجموعہ تھی،اس طرح آپ کی علمی وتحقیقی تصانیف بھی اپنے موضوع کے اعتبار سے تنوع کا ایک جہان لئے ہوئے ہے۔حدیث،فقہ،تاریخ وآثار سمیت مختلف موضوعات کو انہوں نے اپنی تصانیف کا موضوع بنایا ہے۔اور جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا،اس کا حق ادا کر دیا۔ان کے خامہ گہر بار سے جو کتب منصہ شہود پر آئیں ہیں۔ ذیل میں ان کے نام ملاحظہ فرمائیں:
    1-جائزةالاحوذی
    یہ جامع ترمذی کی عربی زبان میں شرح ہے جو تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔
    2-صحیح بخاری کی عربی شرح
    حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے اصح الکتب بعد کتاب اللہ یعنی صحیح البخاری کی عربی شرح لکھ رہے تھے۔گزشتہ کئی سالوں سے اس پر کام جاری تھا۔اللہ معلوم یہ رفیع الشان کام کس درجے پہنچا تھا۔۔امید واثق یہی ہے کہ اس کی تکمیل ہو چکی ہو گی۔
    3-فتاوی ثنائیہ مدنیہ
    حضرت محدث العصر کو فقہ وفتاوی پر خصوصی دسترس حاصل تھی۔ان کے سینکڑوں فتاوی جات ہفت روزہ:"تنظیم اہل حدیث"،ہفت روزہ "الاعتصام" اور ماہنامہ "محدث" میں شایع ہوتے ہو چکے ہیں۔
    "تنظیم اہل حدیث" اور ماہنامہ محدث میں 1970ء سے ان کے فتاوی اور فقہ پرمضامین کی اشاعت شروع ہوئی۔جب کہ
    "الاعتصام"میں 1990ء سے ان کے تسلسل کےساتھ فتاوی جات چھپنا شروع ہوئے۔اسی طرح جماعت اہل حدیث کے دیگر جراید میں بھی ان کے فتاوے اور فقہی نوعیت کے مقالات شایع ہوئے۔
    فتاوی میں ان کا منہج قرآن وحدیث اور آثار سلف کے حوالوں سے ماخوذ نظر آتا ہے۔
    ان کے سینکڑوں فتاوے جو مختلف رسائل وجراید میں منتشر تھے۔انہیں شیخ مرحوم کے ایک تلمیذ خاص،عالم دین مولانا عبدالشکور مدنی حفظہ اللہ نے کافی محنت کے بعد چار مبسوط ،جامع اور ضخیم جلدوں میں جمع کر دیا ہے۔ابھی مزید جلدوں پر کام جاری ہے۔
    مرتب فتاوی صاحب علم شخصیت ہیں۔مدینہ یونیورسٹی کے فاضل ہیں۔انہوں نے اپنے ادارے دارالارشاد 214-بی سبزہ زار سکیم لاہور کی طرف سے اسے شایع کیا ہے۔یعنی مرتب بھی خود اور ناشر بھی خود۔
    "فتاوی ثنائیہ مدنیہ" کی پہلی جلد کا تعلق عقاید سے ہے اور وہ بڑے سائز کے 888 صفحات پر مشتمل ہے۔
    مرتب جناب مدنی صاحب نے اس کی تدوین میں کمال مہارت کا ثبوت دیا ہے۔۔ہر جلد میں۔الگ الگ ہر مسئلے کا عنوان بنا کر ابواب بندی کی ہے۔احادیث وآثار کی تخریج بھی کر دی ہے۔بہترین پروف خوانی کے ساتھ یہ فتاوی منظر عام پر آیا ہے۔یہ خالصتا علمی نوعیت کا موسوعہ ہے۔۔اس قسم کے کاموں کی ذہنی مشقت صرف وہی جان سکتے ہیں،جو اس میدان کے شناور ہیں۔اللہ تعالی مرتب فتاوی جناب مولانا عبدالشکور صاحب کو اپنی بارگاہ سے خصوصی اجر سے نوازے کہ انہوں نے ایک مفید علمی کام عنداللہ اجر کی امید پر کیا ہے۔
    اس فتاوی کی پہلی جلد پر تفصیلی مقدمہ حضرت ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ نے اپنے گوہر بار قلم سے رقم فرمایا ہے۔۔مقدمہ کیا ہے۔۔علم وادب کا سیل رواں۔۔۔
    تلامذہ
    حضرت شیخ الحدیث رحمہ پچاس برس کے لگ بھگ درس حدیث ارشاد فرماتے رہے۔اس دوران ان سے سینکڑوں اہل علم نے استفادہ کیا۔ان کے تمام تلامذہ کا احاطہ تو ممکن ہی نہیں۔چند حضرات کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
    فضیلة الشیخ مولانا قاری محمد ابراہیم میر محمدی حفظہ اللہ،فضیلة الشیخ مولانا قاری محمد صہیب احمد میر محمدی حفظہ اللہ ،فضیلة الشیخ ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد حفظہ اللہ،فضیلة الشیخ حافظ عبدالخالق مدنی حفظہ اللہ،پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد اسرائیل فاروقی حفظہ اللہ،ڈاکٹر حافظ حسن مدنی حفظہ اللہ،ڈاکٹر حافظ انس مدنی حفظہ اللہ،ڈاکٹر حافظ محمد حمزہ مدنی حفظہ اللہ،ڈاکٹر محمد انور حفظہ اللہ (اسلامیہ یونیورسٹی،اسلام آباد)،ڈاکٹر عبدالقادر گوندل حفظہ اللہ،ڈاکٹر طاہر محمود حفظہ اللہ،ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر حفظہ اللہ، پروفیسر حافظ طاہر اسلام عسکری حفظہ اللہ ،مولانا حافظ شفیق الرحمان مدنی حفظہ اللہ،مولانا سیف اللہ خالد رحمہ اللہ۔
    سفر آخرت
    مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو تیرا
    نور سے معمور یہ خاکی شبستان ہو تیرا
    حضرت حافظ صاحب اسی برس کے تھے۔چند دن قبل اپنے گھر میں گر گئے اور ہڈی ٹوٹ گئی۔جس کے علاج کے لئے لاہور کے ہسپتال میں داخل رہے۔اس دوران یکسوئی سے نماز پڑھتے رہے اور معمول کے مطابق اوراد وظائف بھی جاری رہے۔کل ان کا آپریشن تھا کہ اچانک بے ہوشی میں چلے گئے۔اور آج دن 12 بجے خالق حقیقی سے جا ملے۔ان کے دو نماز جنازہ ادا کئے جائیں گے۔جس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
    پہلا جنازہ
    پہلا نماز جنازہ مغرب کی نماز کے فوری بعد مجلس التحقیق الاسلامی 99 جے ماڈل ٹاؤن کے سامنے پارک میں ہوگا۔اس کی امامت شیخ الحدیث مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ فرمائیں گے ان شاء اللہ
    (کسی وجہ سے نماز جنازہ کی امامت شیخ موصوف نہیں فرما سکے، مولانا عبد الرحمان مدنی حفظہ اللہ نے امامت فرمائی)
    دور سے آنیوا لے کے لیے کھانے کا انتظام بھی 99 جے بلاک میں ہوگا۔
    دوسرا نماز جنازہ
    دوسرا جنازہ عشاء کی نماز کے بعد ان کے آبائی گاوں سرہالی کلاں ضلع قصور میں ادا کیا جائے گا۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالی حضرت شیخ الحدیث مفتی حافظ ثناءاللہ مدنی کی کامل مغفرت فرمائے۔ان کی بشری لغزشوں سے صرف نظر فرمائے۔ اور ان کے پسماندگان،تلامذہ ومنتسبین کو صبر جمیل بخشے۔۔
    اللهم اغفر له و ارحمه و عافه ۔، ﻭَاﻋْﻒُ ﻋَﻨْﻪُ، ﻭَﺃَﻛْﺮِﻡْ ﻧُﺰُﻟَﻪُ، ﻭَﻭَﺳِّﻊْ ﻣُﺪْﺧَﻠَﻪُ، ﻭَاﻏْﺴِﻠْﻪُ ﺑِﺎﻟْﻤَﺎءِ ﻭَاﻟﺜَّﻠْﺞِ ﻭَاﻟْﺒَﺮَﺩْ، ﻭَﻧَﻘِّﻪِ ﻣِﻦَ اﻟْﺨَﻄَﺎﻳَﺎ ﻛَﻤﺎ ﻧَﻘَّﻴْﺖَ اﻟﺜَّﻮْﺏُ اﻷَﺑْﻴَﺾَ ﻣِﻦَ اﻟﺪَّﻧَﺲِ، ﻭَﺃَﺑْﺪِﻟْﻪُ ﺩَاﺭاً ﺧَﻴْﺮاً ﻣِﻦْ ﺩَاﺭِﻩِ، ﻭَﺃَﻫْﻼً ﺧَﻴْﺮاً ﻣِﻦْ ﺃَﻫْﻠِﻪِ، ﻭَﺯَﻭْﺟﺎً ﺧَﻴْﺮاً ﻣِﻦْ ﺯَﻭْﺟِﻪِ، ﻭَﺃَﺩْﺧِﻠْﻪُ اﻟْﺠَﻨَّﺔَ، ﻭَﺃَﻋِﺬْﻩُ ﻣِﻦْ ﻋَﺬَاﺏِ اﻟْﻘَﺒْﺮِ ﻭَﻋَﺬَاﺏِ اﻟﻨَّﺎﺭِ۔آمین
    تحریر:حمیداللہ خان عزیز
    ایڈیٹر:ماہنامہ مجلہ "،تفہیم الاسلام"
    جنرل سیکرٹری:مجلس خدام اہل حدیث پاکستان
     
Loading...
Similar Threads
  1. اہل الحدیث
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    209
  2. اہل الحدیث
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    166
  3. اہل الحدیث
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    222
  4. اہل الحدیث
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    211
  5. اہل الحدیث
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    191

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں