تفسیر قرآن میں اپنی رائے َسے بات کہنا بڑا گناہ ہے

ابوعکاشہ نے 'مطالعہ' میں ‏مارچ 22, 2021 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    تفسیر قرآن میں اپنی رائے َسے بات کہنا بڑا گناہ ہے

    ولو تقول علينا بعض الأقاويل.
    قرآن كريم کی تفسیر بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے, اس میں آپ اللہ کے کلام کی تشریح کرتے ہیں, اس لئے اس میں کوئی ایسی بات بیان کرنا جو اللہ کا مقصود نہیں ہے بہت بڑا گناہ ہے, کیونکہ آپ اللہ تعالى کی طرف ایسی بات منسوب کر رہے ہیں جو اس نے کہا ہی نہیں ہے,اس لئے اسلاف میں سے بہت سے علماء قرآن کی تفسیر بیان کرنے میں بہت زیادہ احتیاط سے کام لیتے تھے, اگر انہیں کسی بات کا علم نہ ہوتا تو وہ خاموش رہتے تھے, ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ (وفاكهة وأبًّا) کی تلاوت کر رہے تھے تو کہا: هذه الفاكهة عرفناها فما الأبّ؟، کہ فاکہۃ تو ہمیں معلوم ہے, لیکن یہ أبّ کیا ہے, حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ أبّ کیا ہے تو انہوں نے کہا: (أي سماء تظلني وأي أرض تقلني إن قلت في كتاب الله ما لا أعلم)، یعنى کون سا آسمان ہمیں سایا دے گا, اور کون سی زمین ہمیں قرار دے گی, اگر میں اللہ کی کتاب میں ایسی باتیں کہوں جو میں نہیں جانتا ہوں.
    قرآن کی تفسیر میں اپنی رائے سے کوئی بات کہنا بہت بڑے گناہ کا سبب ہے, اور بہت ہی خطرناک امر ہے, میں نے اس زمانے میں بھی لوگوں کو قرآن میں حد درجہ احتیاط برتتے دیکھا ہے, میں عمرآباد میں عالمیت سال آخر میں تھا, استاذ محترم مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری حفظہ اللہ ورعاہ ترجمہ قرآن پڑھا رہے تھے, ایک آیت کے ترجمہ میں میں نے کہا مولانا اس کا ترجمہ ایسے بھی تو ہو سکتا ہے, آپ نے فورا کہا کہ آپ کا ترجمہ ٹھیک ہے, لیکن دیکھنا ہوگا کہ اسلاف میں سے کسی نے یہ معنى بتایا ہے یا نہیں, تب اسی وقت مجھے قرآنی تفسیر کی عظمت کا احساس ہوا, میرے ایک استاد تھے, ترجمہ قرآن یاد کر کے آتے تھے, میں نے ان سے کہا آپ یاد کر کے کیوں آتے ہیں, انہوں نے کہا: میاں یہ اللہ کی کتاب ہے, اس میں اگر اپنی طرف سے کچھ کہہ دوں اور غلطی ہو جائے تو اللہ کے پاس پکڑا جاؤں گا.
    قرآن عربی زبان میں نازل ہوا اس لئے اس کو سمجھنے کے لئے عربی جاننا ضروری ہے, اس کی صحیح تفسیر کے لئے عربی کے قواعد, عربی الفاظ کے صحیح استعمال اور معانی کا علم ضروری ہے, عربی قواعد بنانے کے لئے علماء نے بہت سارے شروط رکھے ہیں, عربی الفاظ کی روایت میں بھی علماء کہ سخت شروط ہیں, ٹھیک احادیث کی روایت کی طرح شرائط ہیں, بلکہ بعض علماء کی رائے ہے کہ محدثین نے روایت کی شرطیں اور اس کے طریقے علماء لغۃ سے ہی لئے ہیں, علامہ سیوطی کی کتاب ہے (المزهر في علوم اللغة) اس میں انہوں نے طرق الأخذ والتحمل کے نام سے باب ذکر کیا ہے, اور روایت کے جتنے طریقے اور شروط ہیں انہیں تفصیل سے بیان کیا ہے, اس لئے عربی الفاظ یا قواعد کی تشریح من مانی نہیں کر سکتے, کلام عرب میں جب تک اس کی دلیل نہ مل جائے اپنی طرف سے قواعد نہیں گڑھ سکتے, حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ترجمان القرآن کہا جاتا ہے, تفسیر میں ان کی رائے سب سے بہتر ہوتی ہے, صحابہ کرام بھی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے بعد زیادہ تر انہی سے تفسیر پوچھا کرتے تھے, ایک مرتبہ انہوں نے کہا کہ (فاطر السماوات والأرض) کا مفہوم مجھے اس وقت معلوم ہوا جب دو دیہاتی ایک کوئیں کے بارے میں لڑتے ہوئے میرے پاس آئے, اور اس میں سے ایک نے کہا: (أنا فطرتها).
    قرآن کی تفسیر میں کلام عرب کی بڑی اہمیت ہے, اس لئے علماء نے عربی اشعار کے جمع کرنے, اس کے یاد کرنے کا اہتمام کیا, حضرت ابن عباس رضي الله عنه کہ بارے میں آتا ہے کہ قرآن کے ہر لفظ کے متعلق انہیں عربی شعر یاد تھا, علماء عرب اور تفسیر کے پاس عربی اشعار کی اہمیت کی وجہ سے ہی انہوں نے امرؤ القیس اور طرفہ جیسے شعراء کے اشعار کو جمع کیا اور اسے یاد کیا, ہمارے یہاں ہندوستان میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ المعلقات السبع وغیرہ کتابیں ایسے ہی ذہنی عیاشی کے لئے پڑھائی جاتی ہیں, جب کہ مفسرین کے پاس قرآنی الفاظ کی تفسیر میں سب سے بہتر رائے مشہور لغوی ابو بکر ابن الانباری کی مانی جاتی ہے, اور المعلقات السبع کی سب سے معتبر رایت بھی ابن الأنباری ہی کی ہے, علماء جب امرؤ القیس کا شعر پڑھتے ہیں کہ:
    ويوم دخلت الخدر خدر عنيزةٍ فقالت لك الويلات إنك مرجل.
    وہاں شعر کی معنوی حقائق, اور عنیزۃ کے کجاوے سے زیادہ لغویوں کے پاس (عنيزة) کے منصرف ہونے کی اہمیت ہے, تاکہ اس سے (إنا أعتدنا للكافرين سلاسلا وأغلالا وسعيرا ) میں (سلالا)کے منصرف ہونے والي قراءت پر استدلال کر سکیں.
    جب وہ امرؤ القیس كا شعر:
    فَمِثْلِكِ حُبْلَى قَدْ طَرَقْتُ وَمُرْضِعٍ, فَأَلْهَيْتُهَا عَنْ ذِي تَمَائِمَ مُحْوِلِ
    یاد کرتے ہیں تو اس کے معنى سے زیادہ ان كے پاس (طرق, اور ألهى) لفظ کی اہمیت رہتی ہے, تاکہ اس سے وہ (والسماء والطارق, اور (ألهاكم التكاثر) کے معنى کو سمجھ سکیں. اس لئے یہ سمجھنا کہ قرآن کی لغوی تفسیر جیسے چاہیں من مانی کر سکتے ہیں, یہ جہالت ہے, علماء کرام ساری عمر گزار دیتے تھے تب جا کر قرآن کی تفسیر کرنے کی ہمت جٹا پاتے تھے, ابو حیان کی مشہور تفسیر ہے البحر المحیط ہے, کہتے ہیں یہ کتاب انہوں نے عمر کے آخری حصے میں تالیف کی.
    اور یہ سمجھنا کہ آفاق وانفس کی آیتیں صحابہ کرام کو سمجھ میں نہیں آتی تھیں یہ تو اور بہت بڑی جہالت ہے, ہر زمانے میں آفاق وانفس کی چیزوں کو سمجھنے والے لوگ موجود رہے ہیں, اس لئے قرآن نے ان آیتوں کو بار بار دہرایا, اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لئے ایک دیہاتی کا مشہور قول ہے, اس سے کسی نے پوچھا تم نے اللہ کو کیسے جانا؟ تو اس نے کہا: (البعرة تدل على البعير, والأثرة تدل على الأثير، فسماء ذات أبراج، وأرض ذات فجاج، وبحار ذات أمواج، كيف لا تدل على العليم الخبير), کہ اونٹ کی مینگنی اونٹ کے وجود کا پتہ دیتی ہے, اور شوخی نقش پا راہ سے گزرنے والے کی طرف اشارہ کرتی ہے, تو بہ برجوں اور ستاروں والا آسمان, یہ پہاڑوں اور راستوں والی زمین, اور موجوں والے سمندر اللہ کے وجود کی دلیل کیوں نہیں ہیں.
    بشکریہ د/عبداللہ مشتاق
     
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں