قید خانہ میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے مشاغل

ابوعکاشہ نے 'امام ابنِ تیمیہ' میں ‏جولائی 9, 2021 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    قید خانہ میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے مشاغل

    ......

    "انسان نہ جانے کتنی بار ایسے حالات کا شکار ہوتا ہے کہ وقت گزاری کے لئے اُس کے پاس کوئی مشغلہ نہیں رہ جاتا سوائے کھیل کود کے، ہم نے بھی زندگی کے بعض مراحل میں ایسے حالات کا تجربہ کیا ہے، سن 1954 سے 1956 تک کا درمیانی عرصہ ہم نے مصر کے مختلف جیل خانوں میں گزارا ہے، وہاں ہم سے ہر طرح کی کتابیں اور لکھنے پڑھنے کا سامان چھین لیا گیا تھا، بعد میں وہ وقت بھی آیا کہ ہمارے ہاتھوں سے، قرآن مجید بھی چھین لیے گئے، اب کوئی چیز نہ تھی جس میں مصروف ہو کر ہم اپنا وقت گزارتے اور شائد قارئین کو تجربہ ہو کہ ایسے حالات میں وقت گزارنے کی رفتار بھی سست پڑ جاتی ہے اور اس کے پاؤں بھاری پڑنے لگتے ہیں، ہر دن ایک مہینہ اور ہر مہینہ ایک سال لگتا ہے، بالخصوص اُن بھائیوں کو اس کا خاص تجربہ ہوتا تھا جن کے بیوی بچے تھے اور اُنہیں کچھ علم نہ تھا کہ وہ کس حالت میں اور کہاں ہیں ۔اور نہ اُن کے اہل وعیال اُن کے بارے میں کچھ جانتے تھے کہ وہ کہاں ہیں اور کیسے ہیں، زندہ ہے یا مر گئے، اب آپ خود سوچئے کہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے یہ مظلومین بھلا کس طرح اپنا مشکل وقت گزارتے؟ چنانچہ ہمارے بھائیوں نے اِن قید خانوں کے اندر اپنی وقت گزاری کے لئے یہ مشغلہ ایجاد کیا کہ ہمیں جو گندہ اور بدبو دار صابون نہانے کے لئے دیا جاتا تھا اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے شطرنج کے مہر بنا لیتے اور فرش پر شطرنج کی خیالی بساط دراز کر لیتے اور جب جب گنجائش ہوتی اور حالات موافق ہوتے تو شطرنج کھیلتے ۔چھپ چھپا کر ہم شطرنج کھیلتے تھے کیونکہ جیل میں اس کی بھی اجازت نہ تھی، دراصل ارباب اقتدار کی کوشش یہ تھی کہ ہر وہ چیز جو مظلوموں کے لبوں پر مسکراہٹ لا دے یا انہیں کچھ راحت اور تسلی دے دے وہ جیل کی چار دیواری میں ممنوع ہو، اصل مقصد وہاں یہ تھا کہ کیسے ان قیدیوں کو زیادہ سے زیادہ ذہنی اور جسمانی طور سے ٹارچر کیا جائے، میں سمجھتا ہوں کہ شاید اسی قسم کے حالات و ظروف ہونگے جن میں بعض جلیل القدر تابعین جیسے کہ سعید بن جبیر اور شعبی - رحمہما الله- کے بارے میں آیا ہے کہ وہ شطرنج کھیلا کرتے تھے، ہو نہ ہو یہ ان کے اسی دورِحیات کا واقعہ ہو گا جن میں وہ حجاج بن یوسف کے ظلم و ستم سے چھپے چھپے پھر رہے تھے ۔۔۔۔۔!".
    امام ابن تیمیہ سات آٹھ سال شام ،قاہرہ اور اسکندریہ کے مختلف قید خانوں میں گزارے تھے، یہاں تک کہ ان کی موت دمشق کے قید خانہ میں ہوئی اور وہیں سے ان کا جنازہ اٹھا.
    قید خانوں میں ان کے مشاغل کیا تھے؟ اختصار کے ساتھ یہاں پیش کیا جاتا ہے.
    1 - قید وبند کی سزا سن کر مسرت کا اظہار:
    7 شعبان 726ھ کو ان کے محبوس کئے جانے کا فرمان صادر ہوا، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس اطلاع کا بڑا خیر مقدم کیا، اور اس پر بڑی مسرت کا اظہار کیا، انہوں نے اپنے حبس کی اطلاع پاتے ہی فرمایا :
    "أنا كنت منتظرا ذلك وهذا فيه خير كثير ومصلحة كبيرة"
    "میں تو اس کا منتظر ہی تھا، اس میں بڑی خیر اور بہت بڑی مصلحت ہے".
    امام موصوف نے گرفتاری اور نظربندی کا خیر مقدم کیوں کیا؟ ڈاکٹر محمد ابوزہرہ کے بقول شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اب وہ بوڑھے ہوچکے تھے، زندگی کے 65 بہاریں دیکھ چکے تھے، اب ہنگاموں سے وہ دور رہ کر پر سکون زندگی بسر کرنا چاہتے تھے، اس لئے اپنی دعوت کی تبلیغ کے فرض سے عہدہ برآ ہوچکے تھے، وہ سکون کے متلاشی تھے تاکہ اپنے افکار وخیالات کو تحریر کا جامہ پہنا دیں اور اخلاف کی ذہنی تربیت کا سامان چھوڑ جائیں.
    یہ وہی افکار وخیالات تھے جن کی نشر وتبلیغ کا کام اپنے معاصرین میں سرانجام دے کر وہ جدل وپیکار سے آشنا ہوچکے تھے، یہی وجہ تھی کہ بغیر کسی ناگواری کے انہوں نے قید وبند کی زندگی کا خیر مقدم کیا.
    2 - تجديد اسوۂ یوسفی:
    جیل کے احوال ان کے رفیق درس علامہ علم الدین البرزالی اور ان کے قابل وفاضل شاگرد علامہ ابن عبد الہادی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ‏"ولمّا دخل ابن تيمية الحبس، وجد المحابيس مشتغلين بأنواعٍ من اللعب يلتهون بها، كالشطرنجِ والنَرْدِ ونحو ذلك من تضييع الصلوات،‏ فأنكر الشيخ ذلك عليهم أشد الإنكار، وأمرهم بملازمة الصلاة، والتوجه إلى الله بالأعمال الصالحة، والتسبيح والاستغفار والدعاء. وعلّمهم من السنّة مايحتاجون إليه، ورغّبهم في أعمال الخير، وحضّهم على ذلك، حتى صار الحبسُ بما فيه من الاشتغال بالعلم والدين؛خيراً من كثير من الزوايا والخوانق والمدارس‏ وصار خلق من المحابيس إذا أُطلقوا يختارون الإقامة عنده... ".
    "شیخ جب محبس میں پہنچے تو دیکھا کہ قیدی لہو ولعب اور تفریحات میں مشغول ہیں، اور اسی طرح دل بہلاتے اور وقت کاٹتے ہیں، شطرنج، چوسر وغیرہ کا زور ہے، نمازیں بےتکلف قضا ہوتی ہیں، شیخ نے اس پر سخت اعتراض کیا، اور قیدیوں کو نماز کی پابندی کا حکم دیا ،ان کو اعمال صالحہ، تسبیح واستغفار اور دعا کی طرف متوجہ کیا، اور شرائع اسلام کی تعلیم دی، اعمال خیر کی ترغیب دی اور لوگوں کو اس پر ابھارا، یہاں تک کہ علم ودین کی ایسی مشغوليت ہو گئی کہ یہ جیل خانہ بہت سی خانقاہوں اور مدارس سے زیادہ بارونق اور بابرکت نظر آنے لگا، لوگوں کو ان کی ذات سے ایسا تعلق اور جیل کی اس دینی زندگی سے ایسی دلچسپی ہو گئی کہ بہت سے قیدی رہائی پانے کے بعد بھی جیل چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے تھے".
    مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم لکھتے ہیں :
    "دشمنانِ حق کے پاس سب سے بڑا آلۂ تعذيب قید خانوں کی کوٹھریاں ہیں مگر یہ چیز بھی شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی عزیمتِ دعوت کے مقابلے میں بیکار تھی، مصر میں جب قید کئے گئے، تو تصنیف وتالیف میں مشغول رہے، جب قلم دوات بھی چھین لی گئی، تو قید خانے کے اندر قیدیوں پر نظر ڈالی، ان کا بڑا حصہ ڈاکوؤں، رہزنوں اور قاتلوں کا تھا، لیکن چند دنوں کے اندر ان کو شیطان سے فرشتہ بنا دیا، علم وعمل کی جو برکتیں خانقاہوں اور مدرسوں کو نصیب نہ تھیں، وہ جیل خانے کے اندر ہر طرف نظر آنے لگیں، صاحب "الكواكب الدرية" لکھتے ہیں :
    "حتى صار المحبس بالاشتغال بالعلم والدين خيرا من كثير من الزوايا والربط والخوانق والمدارس"
    یہ معنی ہیں ایمان کامل اور مقام عزیمتِ علم وعمل کے، چراغ جہاں کہیں رکھا جائے گا، اجالا ہو جائے گا، اور پھولوں کا گلدستہ طاق کی جگہ کوڑے کرکٹ کی ٹوکری ہی میں کیوں نہ ڈال دو، لیکن اس کی خوشبو ضرور پھیلے گی، مور نے کہا :میرا چمن میرے ساتھ ہے، باغ و بہار کا محتاج نہیں، جہاں کہیں پروں کو کھول دوں گا، ایک تختۂ چمن کِھل جائے گا، یہی حال مومن کامل اور صاحب علم وعملِ حق کا ہے، وہ کسی زمان ومكان کا محتاج نہیں، جہاں کہیں بھی جائے گا، روشنی پھیلائیگا، اور جس جگہ سے گزرے گا، ہوا کی عطر بیزی بتلا دے گی کہ کوئی گزرنے والا یہاں سے گزرا ہے ".
    مشہور مورخ علامہ غلام رسول مہر لکھتے ہیں :
    " اس قید کے دوران میں اسوۂ یوسفی کی بوجہ احسن تکمیل عمل میں آئی اور مصر کے قید خانے کے اندر پھر ایک مرتبہ "ءأرباب متفرقون خير أم الله الواحد القهار "کی حقانی آواز گونج اٹھی، حضرت امام قید خانے میں پہنچے تو قیدیوں کی حالت نہایت ابتر پائی: وہ انواع واقسام کے لہو ولعب میں مشغول رہتے تھے، شطرنج کھیلتے تھے، نماز کا کسی کو خیال نہ تھا، حضرت امام نے جاتے ہی اصلاح کا کام ہاتھ میں لے لیا، انہیں نماز اور عبادت پر ثابت قدم کیا، تسبیح، استغفار اور دعا پر لگایا، ان کے عقائد کی اصلاح فرمائی، غرض چند روز کے اندر قید خانہ، اعلی درجے کی عبادت گاہ بن گیا".
    3 - جیل میں عبادتِ الہی میں انہماک :
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ پر اب بڑھاپا طاری ہو رہا تھا، جیل کے قیام نے انہیں اپنے رب سے مناجات اور عبادت وریاضت کے لئے کافی فرصت فراہم کی، موت آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہی تھی، وہ اس کے استقبال کی تیاری میں مصروف تھے، چنانچہ سنت کی پوری پابندی اور کامل خشوع وخضوع کے ساتھ وہ عبادتِ الہی میں مصروف ہو گئے، ان کی عبادت وریاضت کی شان یہ تھی کہ گویا فرطِ خشیت، کثرتِ خضوع، التزامِ شرع، اخلاصِ صادق، ایمانِ راسخ، عقلِ فکر انگیز اور نفسِ زکی کے باعث وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھ رہے ہیں، یہ سب کچھ ثمرہ تھا تلاوتِ قرآن کریم کا، اور کوئی شبہ نہیں یہ ذکر سب سے بہتر اور سب سے اعلی ہے.
    علامہ ابن عبد الہادی کے بقول تین پارے روزانہ تلاوت آپ کا معمول تھا اور 80 یا 81 مرتبہ قرآن مجید ختم کیا، آخری بار سورہ القمر کی آیت پاک {إن المتقين في جناتٍ ونهر في مقعد صدقٍ عند مَلِيكٍ مُقتدر} پر پہنچے تھے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے بلاوا آگیا، رحمہ اللہ.
    4 - جیل میں افکار وخیالات کی تدوین وتصنیف :
    فرصت اور تنہائی کے ان لمحات میں حضرت امام موصوف نے اپنے افکار وآراء کی تنقیح وتدوین کی طرف بھی توجہ مبذول فرمائی، چنانچہ تفسیر قرآن کی متعلق متعدد پہلوؤں پر انہوں نے خامہ فرسائی کی، یہ تفسیر نویسی نتیجہ تھی دوامِ تلاوت کا، یا ان استفسارات کا جو مختلف حلقوں اور گوشوں سے ان کے پاس آیا کرتے تھے، مختلف مسائل پر اپنے اختلافی خیالات کا کئی مجلدات میں انہوں نے اظہار فرمایا،
    انہی میں مصر کے مالکی قاضی عبد اللہ بن الاخنائی کی تردید میں ایک رسالہ تھا، جس کا نام ہی انہوں نے "الإخنائية" رکھا تھا، بعض دوسرے قضاۃ وفقہاء کے خیالات وافکار کی بھی تردید میں مستقل کتابیں لکھیں.
    شیخ جیل خانہ میں جو کچھ لکھتے تھے، لوگ اس کو ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے اور وہ ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ جاتا تھا.
    اب ایک بڑی مصیبت دشمنوں اور حاسدوں کے لئے یہ پیش آئی کہ جو لوگ امام صاحب کے افکار وآراء سے جنگ وپیکار میں مصروف تھے ان کو محسوس ہونے لگا کہ انہوں نے امام صاحب کے جسم کو تو آہنی سلاخوں کے پیچھے قید کر دیا لیکن ان کی فکر ورائے کو قید نہ کراسکے ،چنانچہ بارگاہِ شاہی میں انہیں جو رسوخ اور اقتدار حاصل تھا اس سے فائدہ اٹھایا ،کوشش کی کہ یہ نور جیل کے تاریک خانہ سے چھن چھن آرہا ہے زیر حجاب کر دیا جائے!
    علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں :
    "قید کی حالت میں علامہ نے نہایت اطمینان سے تصنیف وتالیف شروع کی، قرآن مجید کے حقائق پر بہت کچھ لکھا، کہا کرتے تھے افسوس ہے جو نکات اور حقائق خدا نے القا کیے کبھی نہیں کیے تھے، افسوس ہے کہ قرآن کے سوا میں نے اپنی زندگی اور تصنیفات میں کیوں صرف کی، جس مسئلہ پر علامہ کو سزا ملی تھی اس کے متعلق علامہ نہایت مفصل مضامین لکھے، احباب اور اہل فتویٰ کو خطوط اور فتوے بھی لکھتے رہتے تھے، یہ تحریریں ملک میں پھیلیں تو رفع فساد کے لئے حکم دیا گیا کہ علامہ کے پاس قلم ودوات وغیرہ کوئی چیز نہ رہنے پائے، اس کے بعد علامہ نے جو سب سے اخیر تحریر وہ چند سطریں تھیں جن کا مضمون یہ تھا "مجھ کو اگر اصلی سزا دی گئی تو وہ صرف یہی ہے" یہ سطریں علامہ نے کوئلے سے لکھی تھیں".
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی تصنیفات وتحریرات میں بڑی تعداد ایسی کتابوں کی ہیں جو انہوں نے مختلف قید خانوں کی کالی کوٹھڑیوں میں بیٹھ کر لکھی ہیں، ڈاکٹر غلام جیلانی برق صاحب نے بالکل درست لکھا ہے:
    "ایک بےنوا وبے برگ درویش کبھی میدان میں تلوار لے کر اعدا سے لڑتا نظر آتا ہے اور کبھی فراز منبر پر کلام مقدس کے اسرار کھول رہا ہوتا ہے، قید وبند اور شورشوں کی اضطراب انگیز فضا میں رہ کر 500 تصانیف چھوڑ جانا کوئی معمولی کارنامہ نہیں، آپ نے ان کتب پر زندگی کا ایک چھوٹا سا حصہ صرف کیا تھا لیکن آج انہیں پڑھنے کے لئے بہت لمبی عمر درکار ہے ".
    علامہ ابن عبد الہادی نے بھی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے :
    "وللشيخ من المصنفات والفتاوى والقواعد والأجوبة والرسائل وغير ذلك من الفوائد....وكثير منها صنفه في الحبس، وليس عنده ما يحتاج إليه من الكتب".
    5 - ایام اسیری کے چند ایمان افروز واقعات :
    امام ابن تیمیہ کے شاگرد اور ہمیشہ ساتھ رہنے والے ساتھی حافظ ابن قيم - رحمہ اللہ - قلعہ دمشق ميں ايامِ اسيرى كے چند ایمان افروز واقعات يوں تحرير فرماتے ہیں.
    أ - ايک دفعہ شيخ الاسلام ابن تيمیہ نے مجھ سے فرمايا :
    "ما يفعل بي أعدائي؟ أنا جنتي وبستاني في صدري، أين رحت فهي معي لا تفارقني، إن حبسي خلوة، وقتلي شهادة، وإخراجي من بلدي سياحة".
    "دشمن ميرا كيا بگاڑ لیں گے؟ ميرى جنت اور ميرا باغ تو ميرے سينے ميں ہے ،جہاں جاؤں وہ ميرے ساتھ ہوتے ہیں، كبھی مجھ سے عليحدہ نہیں ہوتے، قيد وحبس ميرى خلوت، قتل ميرے ليے شہادت اور جلا وطنى ميرى سيروسياحت ہے".
    ب - قلعے کے اندر قيد ميں فرمايا كرتے تھے:
    "والله لو أنفقتُ ملىء هذه القلعة ذهباً للذي سجنني ما وفّيت حقه...".
    "اس نعمت ( قيد وبند) كے شكرانے ميں یہ قلعہ سونے سے بھر كر خرچ كردينا بھی ميرے نزديك كم ہے اور ميں اس نعمت كے عوض اس قدر سونا نثار كرنے کو بالكل حقير رقم تصور كرتا ہوں".
    يا يوں فرماتے: "دشمنوں نے مجھے قيد وبند ميں ڈال كر مجھ پر جو احسان كيا ہے اور جو ميرے ليے خير وبھلائى كے اسباب مہیا کر دیئے ہیں ميں ان كا عوض ادا كرنے سے قاصر ہوں".
    ج - ايامِ حبس ميں سجدے ميں كثرت سے يہ دعا فرمايا كرتے :
    "اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك" یعنی "اے اللہ! اپنے ذكر وشكر اور حسنِ عبادت پر ميرى اعانت اور دستگیری فرمائیے".
    د - ايك دفعہ مجھ سے فرمانے لگے :
    "المحبوس من حُبِسَ قلبُه عن ربّه –تعالى- ، والمأسورُ من أسَرَهُ هواه.
    ولمّا دخل القلعة التى سُجن فيها وصار داخل سورِها نظرَ إليه وقال : { فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ له بابٌ باطِنُه فيهِ الرّحمة وظاهرُه من قِبَلِه العذابُ } [ الحديد :13 ]
    "محبوس (روكا گیا) وہ نہیں جو قيد ہو جائے، محبوس وہ ہے جس كا دل اپنے رب سے رك جائے، اصل اسير وہ ہے جو خواہشات كا اسير ہو جائے.
    گرفتار ہو كر جب قلعے ميں داخل ہوئے اور قلعے كى ديوار كے اندر چلے گئے تو قلعہ ديكھ كر كہا اور كيا خوب كہا :{فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ} - "ان كے درميان ديوار کھینچ دی گئی جس كا ايك دروازہ ہے اس كی اندرونى جانب رحمت اور بيرونى جانب عذاب و مصيبت ہے".
    ھ - حافظ ابن قیم کہتے ہیں:
    "اور اللہ ہی جانتا ہے كہ آج تك میں نے ايسا كوئى شخص نہیں دیکھا جو بحالتِ قيد ان جيسا خوش باش اور خوش دلى سے گذر اوقات كرتا نظر آيا ہو ۔ حالانکہ وہ قيد ميں از حد مشقت اور تنگی كے دن بسر كر رہے تھے ، قلعے ميں آرام و آسائش اور نعمت ورفاہیت كا نام تك نہیں تھا بلكہ ان كى اضداد كا دور دورہ تھا ۔ آپ کے ساتھ قيد خانے میں انتہائى تہديد اور بدتميزى كا سلوك كيا جاتا تھا كہ بدن كانپ اٹھتا ۔ اس كے باوجود آپ تمام لوگوں سے زيادہ منشرح الصدر ، سب سے مضبوط دل اور مطمئن نظر آتے كہ نعمت كى تازگی اور رونق كے آثار ان کے چہرے پر دكھائی دیتے ۔جب خطرات و وحشت كى گھٹائیں ہم پر چھا جاتيں اور ہم چاروں طرف سے خطرناك حالات ميں گِھر كرحوصلہ ہار بیٹھتے ، طرح طرح كى بدگمانياں اور وہم ستانے لگتے، زمين اپنی كشادگی كے باوجود تنگ لگنے لگتی تو ہم گھبرا كر آپ کے پاس آ جاتے ۔ شيخ الاسلام كو ديکھتے اور ان كى باتيں سنتے ہی ہمارى تمام وحشتيں كافور ہو جاتیں، تمام بدگمانياں اور وہم رفع ہو جاتے اور ہماری كايا پلٹ جاتى، تنگی كشادگی سے، كمزورى طاقت سے، گمان يقين سے اور گھبراہٹ طمانيت سے بدل جاتى، قربان جائیے مولائے كريم كےجس نے اپنے بندوں كو دنيا ميں ہی جنت دکھا دی اور دارالعمل ميں ہی ان كے ليے بہشت كے دروازے كھول دئیے، جہاں سے نسیمِ بہشتی كے جھونکے آ رہے ہیں اور مشتاقانِ جنت بڑھ چڑھ كر جنت كے حصول كے ليے محنت كر رہے ہیں".
    مولانا علی میاں ندوی نے لکھا ہے :
    "یہ نسبت سکینت ورضا زندگی میں اور بعد وفات ان کے ساتھ رہی، ابن قیم نے لکھا ہے کہ میں نے ایک مرتبہ ان کو خواب میں دیکھا، میں نے ان سے بعض اعمال قلبیہ کا ذکر کیا، اس پر شیخ نے فرمایا :
    " أما أنا فطريقي الفرح والسرورية"
    "یعنی بھائی میری نسبت تو فرحت وسرور کی ہے".
    ابن قیم لکھتے ہیں :
    " وهكذا كانت حاله في الحياة الدنيا يبدو ذلك على ظاهره وينادي به عليه حاله"
    "یعنی یہی حالت ان کی زندگی میں تھی کہ ان کے چہرہ پر فرحت وسرور کے آثار نظر آتے تھے، اور ان کی کیفیت اس کا اعلان کرتی تھی ".

    تحریر : ڈاکٹر یوسف قرضاوی
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں