گھر کے چراغ

اجمل نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اکتوبر، 29, 2021 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    570
    "دل کے پھپھولے جل اٹھے سینہ کے داغ سے
    اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے"

    ۔ ۔ ۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد مدتوں والد مرحوم یہ شعر گنگنایا کرتے تھے۔ میں اس وقت 10 سال کا تھا۔ سقوط ڈھاکہ کی وجہ سے ہر پاکستانی کے سینےمیں جو پھپھولے بن گئے تھے، اس کا مرہم شاید اس شعر کو گنگنانا ہی تھا۔ اس لئے والد صاحب اس دور میں یہ شعر گنگنایا کرتے تھے اور اپنے دل کے پھپھولے پر مرہم لگایا کرتے تھے۔ آج جب ملک کی حالت زار کو دیکھتا ہوں تو آج بھی مجھے ہر طرف آگ ہی آگ نظر آتا ہے اور یہ آگ لگانے والے آج بھی اسی گھر کے چراغ ہی ہیں۔ آج وہ کون سی آگ ہے جو وطن عزیز میں لگی ہوئی نہ یو۔
    ۔ یہاں بے روزگاری کی آگ نوجوان نسل کو جھلس رہی ہے
    ۔ مہنگائی کی آگ ہر ماہ غریب عوام کے سینے جلا دیتی ہے
    ۔ کرپشن، حرام خوری و رشوت خوری کی آگ ملک کی معیشت کو جلا کر بھسم کر چکی ہے
    ۔ امن و امان کا فقدان، معاشرتی بد نظمی و بے چینی کی آگ عوام کی نیند حرام کر چکی ہے۔
    یہ سب آگ لگانے کیلئے پڑس کے دشمن ملک سے کوئی نہیں آیا۔
    یہ سب آگ لگانے اور اسے بھڑکانے والے اس گھر کے چراغ ہی تو ہیں،
    لیکن ان سے کون نمٹے؟
    تحریر: انجنئیر #محمد_اجمل_خان
     
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں