زانیہ سے نکاح اور ولدالزنا کی نسبت

مقبول احمد سلفی نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏دسمبر 13, 2022 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    878
    زانیہ سے نکاح اور ولدالزنا کی نسبت
    سوال:اگر کسی خاتون سے زنا ہوجائے اور زنا سے حمل ہوجائے تو اس زانیہ سے نکاح جائز ہے ، اس کے حمل سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ حلال ہوگااور اس بچے کی نسبت کس کی طرف ہوگی ، قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی کریں ؟
    جواب:ایک مومن دیندار اور پاکدامن عورت سے شادی کرتا ہے لہذا کسی مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ زانیہ عورت سے نکاح کرے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ (النور:3)
    ترجمہ:بدکار مرد سوائے زانیہ یا مشرکہ عورت کے کسی (پاک باز عورت) سے نکاح نہیں کر سکتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے۔
    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زانیہ سے زانی شادی کرتا ہے، مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ زانیہ سے نکاح کرے ۔
    اور دوسری بات یہ ہے کہ حالت حمل میں کسی عورت سے نکاح نہیں ہوسکتا ہے یعنی حمل میں شادی کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ طلاق ، خلع اور وفات میں حمل کی عدت بیان کی گئی ہے تاکہ استبرائے رحم ہوجائے ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ(الطلاق:4)
    ترجمہ:اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کردیں۔
    مذکورہ باتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ ایک مومن زانیہ سے نکاح نہیں کرسکتا ہے اور زانیہ اگر حمل سے ہو توعدت میں ہونے کی وجہ سے ویسے بھی اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے ۔
    ہاں اگر زانیہ اپنے گناہوں پر شرمندہ و نادم ہوکر سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ تعالی توبہ کے سبب بڑے سے بڑے گناہ کو معاف کردیتا ہے ۔ سچی توبہ کے بعد جب وضع حمل ہوجائے یعنی بچہ پیدا ہوجائے تب اس عورت سے نکاح کرنا جائز ہوگا ۔
    رہازنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کا حلال ہونے اور اس کی نسبت کا مسئلہ ہے تو گوکہ بچے کو شرعی اصطلاح میں ولدالزنا کہاجاتا ہے مگر اس بچے کاکوئی قصور نہیں ہے ، زانی اور زانیہ کے جرم کا کچھ بھی حصہ اس بچے پر نہیں ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى(الأنعام:164)
    ترجمہ:اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
    اس لئے وہ بچہ حیثیت کے اعتبار سے مسلمانوں کے عام بچوں جیسا ہی ہے، وہ بھی تقوی کی بنیاد پر اللہ کے یہاں مقرب ہوسکتا ہے اور جنت میں داخل ہوسکتا ہے۔
    اورجہاں تک نسبت کا معاملہ ہے تو چونکہ ولدالزنا کا زانی سے نسب ثابت نہیں ہے اس لئے بچے کی نسبت زانی کی طرف نہیں ہوسکتی ہے ، ماں کی طرف نسبت ہوگی اور اس بچے کو فلانہ کا بیٹا کہا جائے گا یعنی فلاں عورت کا بیٹا۔
    واللہ اعلم بالصواب
    کتبہ
    مقبول احمد سلفی
    جدہ دعوہ سنٹر، سعودی عرب
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں