مولوی اسحاق سے خبردار رہیئے

محمد نعیم نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جولائی 10, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !

    میرا آج کل فورمز پر آنا جانا کافی کم ہو چکا ہے ۔ اگر آؤں بھی تو ایک دو فورمز کو دیکھ کر چلا جاتا ہوں ۔
    لیکن آج کافی عرصے کے بعد ویسے ہی " ہماری اردو " والوں کے فورم پر گیا تو " اسلام اور عصر حاضر" کا سیکشن چیک کرتے ہوئے اچانک اس تھریڈ پر نظر پڑی ۔ دیکھا تو محمد اسحاق نامی ایک عالم دین کی ایک تقریر کا لنک دیا گیا تھا۔ حیران ہو کر وہ لنک کھولا تو آگے اس سائٹ پر جا نکلا ۔ میں نہیں جانتا کہ یہ " اسلامکساؤنڈ " نامی سائٹ کن حضرات کی ہے ۔ لیکن اس سائٹ پر محمد اسحاق صاحب کی اس تقریری کا لنک دیکھ کر ضرور حیران ہوا ۔ اور پھر یہ تقریر بھی ، جیسا کہ " ہماری اردو " فورم پر لنک دیا گیا تھا ، " فرقہ واریت اور اتحاد امت " کے دلفریب عنوان پر تھی ۔ جو مولانا اسحاق صاحب کا پسندیدہ موضوع ہے ۔ لیکن شکر ہے کہ فورم پر" رپلائی " کے خانے میں صرف ایک صاحب کا ہی جواب تھا جس کا مطلب یہ تھا زیادہ لوگوں نے ابھی اس پوسٹ کو دیکھا نہیں اور یہ کہ فتنہ ابھی زیادہ لوگوں تک نہیں پھیلا ( کم از کم میری معلومات کے مطابق شاید آپ بھائی اس سے زیادہ جانتے ہوں ) ۔
    ابتدائی طور پر میں نے یہ ضروری خیال کیا ہے کہ آپ بھائیوں کو اس سلسے میں آگاہ کروں ۔ کہ ان اسحاق صاحب کا مسلک اہلحدیث سے اب قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے اس سسلے میں ان کے شہر کی جماعت اور گردو نواح کے احباب سلفیت مشترکہ طور پر " اسحاق صاحب " کے افکار و نظریات کے سلسلے میں انہیں مسلک اہل حدیث سے خارج قرار دے چکے ہیں تاکہ وہ جس لبادے میں ملفوف ہو کر مسلک کتاب و سنت پر کاری ضرب لگانا چاہتے ہیں ، ان کی گمراہیوں سے عامۃ المسلین کو بچایا جا سکے ۔

    میں اس سلسلے میں عنقریب باقاعدہ مفصل رپورٹ لے کر آپ بھائیوں کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں ۔

    والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
  2. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,800
    شکریہ ۔ نعیم صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے یہ ویڈیو میں نے بھی دیکھی تھی ۔ لیکن مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ موصوف اپنے آپ کو سلفی ظاہر کرتا ہے ۔
    اس کا بیان دیکھ کر ہی میں یہ سمجھا کہ دال میں کچھ کالا ہے بلکہ مکمل کالا ہے ۔۔۔ وہاں پر لوگوں نے اس کو فراخ دل تک کہا ہے ۔۔۔۔۔۔ شیعہ کو بھی صحیح کہا اور سنی کو بھی۔۔۔۔۔۔ بھئی یہ تو ناممکن ہے کہ کالا بھی سفید ہو اور سفید بھی سفید ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑی حیرانی کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بھائی محمد نعیم بہت بہت شکریہ۔
    ان شاء اللہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کالی بھیڑوں کا تعاقب کرکے ان کو عوام الناس کے سامنے پیش کریں تاکہ ان کے گمراہ کن عقائد کا لوگوں کو پتہ چل سکے۔
    اس سلسلہ میں ان شاء اللہ کچھ سرچ کرتا ہوں۔ جزاک اللہ خیر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ویڈیو میں نے کچھ دیکھی ہے۔ ایک چمچہ سوال میں شیعوں کے بارے میں کسی کا سوال پیش کرتا ہے جس کا مفہوم کچھ اسطرح ہے کہ آپ (اسحاق) کہتے ہیں کہ شیعہ بھی مسلمان ہیں جبکہ ہمارے استاد کہتے ہیں کہ شیعہ کا کلمہ کچھ اور ہے ان کا نماز کا طریقہ بھی کچھ اور ہے اور وہ تین نمازیں پڑھتے ہیں اور صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں۔ جواب میں وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتا ہے مثال کے طور پر تاریخ میں مختلف قسم کے لوگوں نے باتیں کی ہیں اور ہر کوئی جو عمل کرتا ہے وہ یہی کرتا ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہیں جیسے ہم (اہل حدیث) تک یہ بات پہنچی کہ ہم سینے پر ہاتھ باندھیں اور حنفیوں کو یہ کہ وہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھیں۔ بہر حال اس شخص کی تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کے نزدیک ہر چیز ٹھیک ہے۔ کوئی بدعت بھی کرے تو یہ کہتا ہے کہ ٹھیک ہے اور کوئی نئے کلمے میں بنائے تو کہتا ہے کہ ٹھیک ہے۔
    اللہ ہمیں اس بوڑھے کی شر سے بچائے آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    میں نے اس کی تمام ویڈیو دیکھی ہے اس کا بنیادی دعوی یہ ہے کہ جو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھے اور ان سے محبت کرے وہ بس مسلمان ہے چاھے وہ صحابہ کرام کو گالیاں دے۔ یا بدعت کرے یا مردوں سے دعا مانگے۔ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنیادی چیز ہے۔
    میں سمجھتا ہوں یہ جاہل شخص اتحاد بین المسلمین کے نام پر حق وباطل کو ایک کرنے کی مذموم کوشش کررہا ہے۔
    چاھے کوئی شرک کرے اور قبروں میں مدفون لوگوں کو پکارے تو یہ شخص اس کو بھی مومن قرار دے گا۔ لاحول ولاقوہ الاباللہ۔
    شیعوں کے بارے میں بھی اس کا عقیدہ سرار اہل سنت والجماعت سے ٹھکراتا ہے۔ یہ اسحاق ڈار کی شکل میں گوہر شاہی کا دوسرا فتنہ ہے۔ وہ بھی یہی کہتا تھا کہ اللہ کہ محبت سب کچھ ہے۔ حالانکہ عمل کی قبولیت کیلئے یہ شرط لازمی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر ہو۔
    یہ شخص بس اپنی بڑھائی بیان کرتا ہے اور خود کو بڑا عالم سمجھتا ہے۔ پوری ویڈیو اسی سےبھری پڑی ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ بس لوگ خوش ہو ہر طرح سے۔
    اللہ ان دجالوں سے امت مسلمہ کو بچائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    میں اس سلسلے میں علماء کرام کا مولوی اسحاق کے بارے میں جاری کیا جانے والا فتویٰ اور چند دیگر حوالہ جات کمپوز کر چکا ہوں اور ا س سلسلے میں علمائے کرام کے دستخطوں کے ساتھ جاری ہونے والے ایک پرچے کی تلاش میں ہوں جسے انشاء اللہ " سکین " کرکے مجلس پر آپ بھائیوں کی خدمت میں بطور ثبوت پیش کروں گا تاکہ آئندہ کے لئے کہیں بھی بطور حوالہ پیش کیا جا سکے ۔
    نیز آپ اس سلسلے میں ہفت روزہ اہلحدیث لاہور کی سائٹ بھی چیک کر سکتے ہیں جہاں کسی شمارے میں موصوف کے بارے میں ایک فتویٰ بھی شائع کیا جا چکا ہے جس میں مولوی اسحاق کے غلط اور بدعتی رافضی عقائد کی بناء پر انہیں خارج از مسلک کتاب و سنت قرار دیا جا چکا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    علماء کرام کی خدمت میں سوالات جو کئے گئے ۔

    السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    ایک عرصہ سے مولانا محمد اسحاق صاحب خطیب جامع مسجد کریمیہ اہل حدیث کے محرم الحرام میں خطبات اور ان کی ٹیپ یا سی ڈیز سننے والے کچھ حضرات گاہے بگاہے اہل حدیث علمائے کرام کے سامنے اپنے خدشات کا اظہار کرتے تھے کہ مولانا موصوف حضرات صحابہ کرام بالخصوص حضرت امیرمعاویہ ، حضرت عمر و بن العاص ، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں ناروا گفتگو کرتے ہیں اور ان کے بارے میں نازیبا کلمات کہتے ہیں ۔ علمائے کرام انہیں ان کی غلط فہمی پر محمول کرتے اور سمجھتے تھے کہ اہل حدیث مسجد کا خطیب یہ باتیں کیونکر کر سکتا ہے ، مگر چند ماہ قبل مولانا موصوف کے خطابات کی سی ڈیز کا عام چرچا ہوا حتیٰ کہ امام بارگاہوں میں بھی وہ تقسیم ہونے لگیں ۔ درد دل رکھنے والے احباب نے علمائے کرام کو وہ سی ڈیز پیش کیں جس کے نتیجہ میں علمائے اہل حدیث فیصل آباد کے نمائندہ اجتماع میں ان سی ڈیز کو سناگیا جنہیں سن کر اور دیکھ کر علمائے کرام حیران اور ششدر رہ گئے ۔ انہی سی ڈیز سے کچھ اقتباسات نقل کرکے علمائے کرام سے فتویٰ طلب کیا گیا تو انہوں نے بالاتفاق جو فتویٰ دیا وہ بعد میں ہفت روزہ الاعتصام اور اہل حدیث میں شائع ہوا ۔ علماء کرام سے پوچھے گئے استفتاء کے مندرجات یہ ہیں :

    فیصل آباد میں موجود ایک شخص مولوی محمد اسحاق سر عام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا ہے ۔ جس کے چند اقتباسات درج ذیل ہیں ؛
    1۔ ۔۔۔۔۔۔۔" صحابہ کرام کے تقدس کا کابوس ذہن سے اتار پھینکنا چاہیئے ۔ ان پر طعن ، جرح عین ایمان ہے اور یہ میرے خطبوں کا نچوڑ ہے ۔ اللہ تعالٰی نے تو انبیاء کے بیٹوں کو معاف نہیں کیا اور تم صحابہ کو لئے پھرتے ہو "۔
    2۔ ۔۔۔۔۔۔۔ جہاد کے بارے میں اس کا یہ نظریہ ہے " شیخین (ابو بکر و عمر ) کے دور کے بعد کوئی جہاد اسلام کا جہاد نہیں ۔ ملک فتح کرنا کوئی جہاد نہیں ہے ہلاکو نے کم ملک فتح کئے ؟ "۔
    یہ اشارہ گویا حضرت علی ، حضرت عثمان اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کے جہاد کی طرف ہے ۔
    حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فتوحات کے بارے میں کہتا ہے :
    " ہلاکو نے بھی ملک چھینے ابو بکر و عمر کے علاوہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ۔ نیز ہمارے سارے بادشاہ مجرم ہیں جنہوں نے ہندوستان پر حملے کئے، یہ لٹیرے ہیں ۔ صرف ابو بکر و عمر کا جہاد اسلامی تھا " ۔
    3 ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور اور شاہ ولی اللہ رحمہا اللہ کے بارے میں ایک جگہ اس کے تاثرات یہ ہیں:
    " شاہ ولی اللہ اور ابن تیمیہ نے بہت جھوٹ بولا ، جھوٹی روایات اکٹھی کرکے کتابوں میں بھر دیں اور ذرا خوف خدا نہ آیا"۔ ( کہ انہوں نے یہ لکھ دیا کہ )
    " حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کاش میں ان حوادثات سے پہلے فوت ہو چکا ہوتا "۔
    4۔ ۔۔۔۔۔۔۔ رافضی حضرات کلمے میں تیسری شہادت کے قائل ہیں ، اس میں اضافہ کیا حرج ہے ؟ اگر اہل سنت نے اضافہ کرلیا ہے تو تیسری شہادت کے اضافہ میں کیا حرج ہے ؟
    5۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ایران کے مذہبی قائد علامہ خمینی کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے :
    " نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے آنے کا انتظار کیا ، پھر اس کے ماتھے کا بوسہ لیا اور فرمایا میرے اس فرزند نے ایران میں اسلام کو زندہ کیا ہے " ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ساتھ ہی اسے " امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ " کے الفاظ سے یاد کرتا ہے ۔
    6۔ ۔۔۔۔۔۔۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کرتے ہوئے " مُلکًا عَضُوضًا " کا ترجمہ کرتا ہے " جیسے ہلکا کتا ہوتا ہے "۔ نیز خلافت معاویہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے " حضرت معاویہ کی حکومت دین کے لئے نہیں تھی بلکہ دنیا داری کے لئےتھی "۔ اسی طرح اس کا کہنا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " مسقط عمان والے کہتے ہیں عثمان رضی اللہ عنہ نے دین چھوڑ دیا ، غالی ہو گیا ۔ ان کی تاریخ ٹھیک ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم معاویہ کو مسلمان ہی نہیں مانتے ۔ یہ صحیح نمونہ ہیں ، باقی نہیں " ۔
    7۔ ۔۔۔۔۔۔۔ قاتلین عثمان کے بارے میں کہتا ہے " وہ صاحب کرامات ولی تھے اور ان کے لئے آسمانوں سے گرم پانی نازل ہوتا تھا اور وہ انصار صحابہ تھے اور انہیں شہید کرنے والوں اور سبکدوش کرنے والوں کا موقف مبنی برحق تھا ، مزید یہ کہ حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کرنے والے اور جنازہ پڑھنے سے روکنے والے سب صحابہ کرام تو تھے ۔ نیز شہادت عثمان کے بارے میں کہتا ہے وہ شہادت جس پر صحابہ کرام ناراض ہوں وہ شہادت ہے؟
    8۔ ۔۔۔۔۔۔۔ شہادت عثمان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح پیش گوئی " اے عثمان ! اللہ تجھے ایک قمیص پہنائے گا ۔ ۔ ۔" (الحدیث)
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے شہادت کے بعد یہ روایت سنائی تو لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے اس وقت یہ روایت کیوں نہ سنائی ؟ تو کہنے لگیں میں بھول گئی تھی ۔ چنانچہ بقول مولوی اسحاق صاحب کے " یہ سب راویوں کی بناوٹی باتیں ہیں "۔
    9۔ ۔۔۔۔۔۔۔ روافض کا صحابہ کرام کے بارے میں بغض رکھنے اور دیگر غلط عقائد رکھنے کی بناء پر تمام اہل سنت نے انہیں اہل بدعت قرار دیا ہے ۔ اس کے باوجود مولوی اسحاق انہیں سینے سے لگانے کی تلقین فرماتے ہیں ۔
    10۔ ۔۔۔۔۔۔۔ جب وہ (روافض) کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رد کردیا اور تحریرنہ لکھنے دی اور اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بازو توڑا اور ان کا حمل گرایا اور اسی غم سے ان کی وفات ہو گئی ۔ جب یہ سب کتابوں میں لکھا ہوا ہے تو جنہوں نے یہ پڑھا ہے وہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کو گالیاں نہ دیں تو کیا کریں ؟
    11۔ ۔۔۔۔۔۔۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے باہمی اختلافات کے بارے میں کہتا ہے:
    " بدر کے 24 مقتول علی رضی اللہ عنہ نے مارے ۔ علی کی شامت تو آنی تھی ۔ معاویہ کا بھائی حنظلہ اورنانا قتل ہوا ۔ عقبہ بن ابی معیط کا بیٹا ولید بن عقبہ گورنر بنا ۔ یہ لوگ کلمہ پڑھ گئے لیکن بیٹے تو انہی کے تھے جو(بدر) میں مارے گئے تھے ( چنانچہ بعد میں انہوں نے علی سے بدلے لئے )"۔
    12۔ ۔۔۔۔۔۔۔ "عمرو بن العاص ظالم تھا اور اس نے بہت جھوٹ بولا "۔

    علمائے کرام اور مفتیان شرع متین سے استفتا ہے کہ کیا ایسا شخص منہج کتاب و سنت اور مسلک اہل حدیث کا حامل ہے ؟ کیا اسے مسلک اہل حدیث کا ترجمان کہا جا سکتا ہے؟ اس کا طرز فکر اہل سنت کا منہج ہے ؟ اہل حق کو ایسے شخص کے بارے میں کیا رویہ اپنانا چاہیئے ؟
    بینوا و توجروا ۔
     
  8. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    علماء کرام کا دستخطوں کے ساتھ جاری ہونے والا فتویٰ

    علمائے کرام کا جوابی فتویٰ یہ ہے :

    الجواب بعون الوھاب وھوالموافق للصواب
    الحمد للہ رب العٰلمین والصلاۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم اما بعد :
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اہل سنہ والجماعۃ کا یہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ عادل اور امین ہیں اور رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کی بشارت اور وکلا وعداللہ الحسنٰی کی نوید کے مطابق سب صحابہ کرام جنتی ہیں اور جملہ اصحاب رسول سے محبت جزوایمان ہے ۔ اس پر قرآن پاک کی آیات اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نہایت واضح ہیں ۔
    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
    وَالسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ مِنَ الْمُھَاجِرِينَ وَالاَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوھُم بِاِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّہُ عَنْھُمْ وَرَضُواْ عَنْہ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَھَا الاَنْھَارُ خَالِدِينَ فِيھَا اَبَداً
    ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوبہ 100)
    اور جن لوگوں نے مہاجرین و انصار میں سے سبقت کی ( اور ایمان لانے میں ) پہل کی اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی ، اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ( اور وہ ) ہمیشہ ان میں رہیں گے ، یہ بڑی کامیابی ہے ۔
    اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انصارو مہاجرین کے بعد آنے والوں کا یہ وصف بیان کیا ہے :

    وَالَّذِیْنَ جَاؤُوا مِن بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُونَا بِالْإِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوبِنَا غِلّاً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّکَ رَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ
    اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار! ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے اے ہمارے پروردگار! تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے۔ (الحشر 10)

    صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
    " لا تسبوا احدا من اصحابی "
    میرے صحابہ میں سے کسی کو برا مت کہو (صحیح مسلم کتاب فضائل صحابہ حدیث 2541)

    اہل سنت کا عقیدہ نقل کرتے ہوئے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
    "ونحب اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا نفرط فی حب احدا منھم ولا نتبرا من احد منھم ونبغض من یبغضھم و بغیر الخیر یذکرھم ولا نذکرھم الا بخیر و حبھم دین و ایمان واحسان وبغضھم کفر و نفاق و طغیان "۔
    " اور ہم ( اہل سنہ والجماعۃ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے محبت رکھتے ہیں ، ان میں سے کسی کی محبت میں غلو نہیں کرتے اور نہ ان میں سے کسی سے برات کا اظہار کرتے ہیں ، جو ان سے بغض رکھے اور خیر کے علاوہ ان کا ذکر کرے ، ہم ان سے بغض رکھتے ہیں ۔ اور ان کا خیر کے علاوہ ذکر نہیں کرتے۔ ان کی محبت دین ، ایمان اور احسان ہے ۔ جبکہ ان سے بغض رکھنا کفر ، نفاق اور سرکشی ہے "۔
    ان آیات و احادیث کی رو سے اہل سنت کے عقیدے کے مطابق درج بالا نطریات کا حامی شخص بدعتی ، روافض کا ہمنوا اور اہل سنت کے عقائد صحیحہ سے منحرف ہے اور غیر سبیل المومنین کا پیروکار ہے ۔ ایسے شخص کو اہل حدیث کہنا ، سمجھنا یا لکھنا قطعا صحیح نہیں ہے بلکہ حب صحابہ کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے شخص سے اظہار براءت کیا جائے ۔

    دستخط علمائے کرام

    Sign Ulma e Hadees 1.jpg Sign Ulma e Hadees 2.jpg

     
  9. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    جزاک اللہ نعیم بھائی
    اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
    والسلام علیکم
     
  10. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام
    محمد نعیم بھائی بہت ہی عمدہ کام کیا ہے آپ نے۔ صرف ویڈیو سے پتہ کہاں چلتا ہے۔ جزاک اللہ خیرا
     
  11. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    نوٹ :
    استفتاء میں مذکور مولانا محمد اسحاق کے اقتباسات کے بارے میں براہ راست ان سے ایک مجلس میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے دو کی بجائے باقی تمام باتوں کی تصدیق کی کہ میرا یہی موقف ہے ۔ اس پر انہوں نے دستخط بھی کیے ۔
    جن دو باتوں کو انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کیا ان میں سے ایک تو اقتباس نمبر دو ہے کہ " شیخین کے دور کے بعد کوئی جہاد اسلام کا جہاد نہیں" ۔ انہوں نے کہا شیخین نہیں ، خلفاء راشدین کے بعد کوئی جہاد اسلامی جہاد نہیں ۔
    حالانکہ سی ڈیز میں مولانا نے شیخین کا لفظ ہی بولا ہے ۔ اور اپنی تقریر کو بھی اسی دائرے میں رکھا ہے ۔ نیز یہ سی ڈیز بھی ان کے اپنے زیر نگرانی چلنے والے ادارے کی ہی جاری کردہ ہیں ۔ جس میں وہ لوگ یقینا غلط ترمیم کرنے کا سوچ نہیں سکتے ۔
    دوسری بات جس پر مولانا نے اپنی وضاحت کی ہے وہ اقتباس نمبر 6 میں ہے ۔ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں " مُلکًا عَضُوضًا " کا ترجمہ " ہلکا کتا " کرنے پر انہوں نے معذرت کرلی ۔
    اس کے علاوہ انہوں نے بقیہ تمام باتوں کی تصدیق کی ہے جس ثبوت درج ذیل کے عکس میں دیا جا رہا ہے۔ اس تحریر پر مولانا کے تصدیقی دستخط بھی موجود ہیں۔
     

    منسلک فائلیں:

  12. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    اب جب یہ صورتحال بنی تو مولانا کو اپنے لئے میدان خراب ہوتا نظر آیا ۔ کیونکہ ان کا کچا چٹھا سامنے آرہا تھا ۔ اس پر مولانا نے علماء کرام کی خدمت میں درج ذیل تحریربھیجی ؛

    برادران اسلام !
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    فقیر پر تقصیر محمد اسحاق آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ مسلک اہل حدیث کے مختلف رسائل میں مفتیان کرام مسلک اہل حدیث فیصل آباد نے بندہ کی طرف مختلف غلط عقائد دربارہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ منسوب کئے ہیں جو کہ قطعاَ غلط ہیں اور بندہ ان سے صریحاَ برات کا اعلان کرتا ہے ۔
    نہ بندہ کے عقائد پہلے کبھی ایسے تھے اور نہ ہی اب ہیں ۔ سبحنک ھذا بہتان عظیم ۔ کیونکہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شخصیات اور خدمات کا دل وجان سے قائل ہوں اور سلف صالحین کی طرح ان کی عظمت پر ایمان و یقین اور انہیں قدوۃ الصالحین میں سے شمار کرتا ہوں ۔
    فضیلۃ الشیخ حامد اشرف صاحب حفظہ اللہ تعالٰی رئیس جامعہ تعلیمات اسلامیہ کی زیر سر پرستی ان مفتیان کرام میں سے تین محترم حضرات سے تبادلہ خیالات کا پہلا دور بحسن و خوبی سرانجام پایا اور محترم حامد اشرف صاحب نے دوبارہ ان علمائے کرام سے دلائل کے تبادلہ کے لیے وقت بھی مجھ سے طے کیا تھا۔ مگر یہ نوبت آنے سے پہلے ہی علمائے عظام نے فتویٰ شائع کرنے میں کوئی مصلحت محسوس کی۔
    مذکورہ ملاقات میں ان مفتیان کرام نے مجھ سے ان عقائد کے بارے میں استفسار کیا ۔ بندہ نے ان عقائد سے برات کا اعلان کیا تھا میں ان کے حسن سلوک کا قائل ہوں جس کا مظاہرہ مذکورہ نشست بتاریخ 14 مئی 2007 کے دوران انہوں نے کیا اور اسی حسن سلوک کی بناء پر سمجھتا تھا کہ وہ میری طرف منسوب الزامات کی وضاحت اپنے حلقے میں کر دیں گے ۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس فتوے پر تمام مفتیان کرام کے دستخط مجھ سے ملاقات سے قبل ہی کروا لیے گئے تھے ۔
    رہا دوسرا امر کہ میری ریکارڈر سی ڈیز ان کے پاس ہیں جسے وہ بطور ثبوت عوامی استفسار پر پیش کرنے کو تیار ہیں تو عرض ہے کہ یہ کلپس مختلف سیڈیز کے سیاق و سباق کو کاٹ کر تیار کئے گئے ہیں اور اگر کوئی صاحب علم چاہے تو ہم اس کی وضاحت کے لئے اپنا ریکارڈ دکھانے کو تیار ہیں اور میں اسے صرف ھذا بہتان عظیم سے ہی تعبیر کرتا ہوں اور اس کے بعد بھی اگر کوئی ان الزامات کی تشہیر میری طرف منسوب کرکے کرتا ہے تو میں " وافوض امری الی اللہ "کہہ کر معاملہ اللہ عزوجل کے سپرد کرتا ہوں ۔ وھو خیر الفاصلین ۔
    محترم المقام علمائے کرام نے ( فتوے کے آخر میں )نوٹ کے زیر عنوان جو خلاصہ بیان کیا ہے اس پر سوائے الی اللہ المشتکی کے اور کچھ نہیں کہوں گا اور صرف قرآنی ہدایت کہ " گواہ ہونے چاہیئیں" اس کا شدت سے احساس ہوا ۔ کاش وہ گفتگو ریکارڈ کی جاتی جس گفتگو اور ملاقات کے محرک محبی المخلص حامد اشرف حفظہ اللہ نے اصرار کے باوجود اجازت نہ دی یا وہاں کچھ معتبر غیر جانبدار ثالثی حکام ہوتے تو فتویٰ کی صحیح حقیقت سامنے آجاتی ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
    آخر میں میں اس بات کی وضاحت لازم سمجھتا ہوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دلی عقیدت اور محبت رکھتا ہوں اور ان کا احترام ہمارے ایمان و یقین کا حصہ ہے ۔ واللہ علیٰ ما نقول و کیل ۔
     
  13. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    مولانا اسحاق صاحب کی وضاحت کا جائزہ
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    الحمد للہ رب العٰلمین والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہ و صحبہ ومن تبعھم باحسان الیٰ یوم الدین ۔اما بعد:
    محترم ومکرم حضرات !
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
    مولانا اسحاق صاحب کے متعلق اس فتوے کی شاعت سے پہلے یہ طے ہوا کہ محترم مولانا موصوف اور ان کی مسجد کی انتظامیہ سے بات کر لی جائے کہ فی الواقع مولانا اپنے ان نظریات پر قائم ہیں جو سی ڈیز میں بیان ہوئے ہیں؟ یا نہیں ۔
    چنانچہ ایک محترم و محسن نے مولانا موصوف سے بات کرنے کے بعد علمائے کرام سے فرمایا کہ مولانا اسحاق صاحب بات کرنے کے لیے تیار ہیں ، آپ ان سے بات کر لیں ۔علمائے کرام نے بسر و چشم اس چیلنج کو قبول کیا۔ اس کے لیے 13 مئی اتوار 11 بجے گفتگو کے لیے وقت طے پا گیا اور عرض کیا گیا کہ جگہ کا تعین کر کے ہمیں مطلع کردیں ، ہم ان شاء اللہ وہاں حاضر ہو جائیں گے ۔ لیکن اگلے دن ہی مولانا اسحاق صاحب نے پیغام بھیج دیا کہ میں اکیلا ہوں گا اور دوسری طرف سے دو علماء آجائیں اور بات کر لیں ۔
    علمائے کرام نے عرض کیا کہ فریقین کی طرف سے دس دس افراد شریک ہوں تا کہ امر واقعی کے وہ گواہ قرار پائیں ۔ مگر مولانا اسحاق صاحب نے جواب دیا کہ دس افراد زیادہ ہیں ۔ عرض کیا گیا کہ پانچ افراد رکھ لیں ، مگر اسحاق صاحب اس پر بھی راضی نہ ہوئے بلکہ جواباَ طنزیہ طور پر کہا کہ چلو پچاس پچاس افراد جمع ہوں ۔ علمائے کرام نے اس بات کو بھی تسلیم کر لیا ۔ ابھی یہ پروگرام بھی مکمل نہ ہونے پایا تھا کہ ایک محسن نے یہ تجویز دی کہ متنازعہ اقتباسات کے بارے میں تین حضرات کی موجودگی میں مولانا موصوف سے بند کمرے میں بات کر لی جائے کہ وہ کیا فرماتے ہیں ۔ چنانچہ یہ بات بھی تسلیم کر لی گئی ۔
    14 مئی 2007 کو ان کی خدمت میں 12 اقباسات پیش کئے گئے ۔ حضرت موصوف نے ان میں سے صرف دو کے بارے میں ترمیم و وضاحت کی اور دیگر اعتراضات کی تصدیق کرتے ہوئے اس سوال نامہ پر اپنے دستخط کر دئیے ۔ کہ ان کے بارے میں میرا یہی موقف ہے ۔
    چنانچہ جب استفاء میں پوچھے گئے سوالات کی صحت کو مولانا نے تسلیم کر لیا تو بالاتفاق یہ طے پایا کہ اب اس فتویٰ کو عمومی رسائل و مجلات میں شائع کرنے میں کوئی قباحت نہیں ، بلکہ اسے نہ شائع کرنے سے بہت سے شکوک و شبہات جنم لیں گے ۔ یہ ہے اس فتویٰ کا مختصر پس منظر ۔
    مگر جب مولانا اسحاق صاحب نے اپنی تحریر کے ذریعے سی ڈیز میں اپنے افکار سے براءت کا اظہار فرمایا کہ " بندہ کی طرف مختلف غلط عقائد دربارہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ منسوب کئے ہیں جو کہ قطعاَ غلط ہیں اور بندہ ان سے صریحاَ برات کا اعلان کرتا ہے" ۔ اس پر بجز انا للہ وانا الیہ راجعون کے اور کیا کہا جائے کہ جس سوال نامہ پر اپنے دستخط فرماتے ہوئے انہوں نے بجز دو باتوں کی ترمیم اور معذرت کے باقی تمام باتوں کی تصدیق کی تھی ، آج انہی باتوں پر بڑی سادہ لوحی سے کہتے ہیں کہ " میں نے تو ان سے براءت کا اظہار کیا تھا "۔
    اب اس حوالے سے مولانا سے صرف اتنا ہی عرض ہے کہ حضرت موصوف کسی عمومی مجلس میں ان تمام بارہ شقوں سے تفصیلاَ براءت کا اظہار فرما دیں ۔ چشم ما روشن دل ما شاد ۔ لیکن اگر وہ چاہیں کہ الفاظ کے سحر سے لوگوں کو فریب دیں اور حضرت عثمان ، حضرت معاویہ ، اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کے بارے میں اپنے مسموم عقائد پر قائم بھی رہیں تو ایسی دو رخی اب ان شاء اللہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گی ۔
    ہمیں یہ بھی افسوس ہے کہ ابتداَ بند کمرے میں گفتگو پر علمائے کرام کے جو خدشات تھے، مولانا موصوف کی تحریر نے اس کی تصدیق کر دی۔ کاش فریقین کے مابین کچھ اور حضرات بھی موجود ہوتے تو یہ ابہام پیدا نہ ہوتا۔
    ہم آج بھی عرض کرتے ہیں کہ جانبین کی جانب سے کم از کم دس افراد کی موجودگی میں وہ استفتاء میں پیش کئے گئے تمام اقتباسات سے تفصیلاَ براءت کا اظہار کریں یا پھر ان پر مناظرہ کر لیں تاکہ یہ حقیقت بھی کھل جائے کہ سی ڈیز میں قطع و برید کی گئی ہے یا یہ گفتگو کا تسلسل اور مبنی بر حقیقت مولانا اسحاق صاحب کے مذموم عقائد ہیں ۔

    لیھلک من ھلک عن بینۃ و یحی من حی عن بینۃ

    دستخط علمائے کرام

    Fatwa Ulma e Hadees.jpg
     
  14. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    جزاک اللہ خیر نعیم بھائی بہت ہی اچھا کام کیا ہے آپ نے۔ اب جو لوگ اسے اہل حدیث بنا کر پیش کریں گے ہم لوگ اس تھریڈ کا ہی ربط دیں کر اس پر حجت قائم کرسکتے ہیں۔
    اللہ آپ کو اجر عظیم دے۔ آمین
     
  15. اھل السنۃ

    اھل السنۃ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 24, 2008
    پیغامات:
    295
    السلام علیکم
    جزاک اللہ خیرا یا اخی
     
  16. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    السلام علیکم
    جزاک اللہ خیر بھائی
     
  17. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    753
    جزاك اللہ خيرا
    الف الف مشکور نعیم بھائی
     
  18. معصوم

    معصوم -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 5, 2010
    پیغامات:
    84
    جزاک اللہ خیرا
     
  19. طالب نور

    طالب نور -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2008
    پیغامات:
    366
    نعیم بھائی جزاک اللہ، اللہ آپ کو خوش رکھے۔ میرے بھائی اگر ہو سکے تو جو بات آپ نے کمپوز کی ہے اس کے ساتھ ہی اصل سکین بھی اس کا لگا دیں تو بطور حوالہ اسے کہیں بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ آخر میں تمام علماء کے دستخط تو سکین کی صورت میں موجود ہیں مگر کس بات پر ہیں اس کا سکین بھی موجود ہو تو فائدہ دوچند ہو جائے گا۔ والسلام
     
  20. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,637
    جزاک اللہ‌خیرا محمد نعیم بھائی،
    بہت محنت سے آپ نے سارا مواد فراہم کیا اور ان شاءاللہ ضرورت پڑنے پر اس تھریڈ کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں