خلع کا طریقہ اور اس کے بعض مسائل

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جولائی 4, 2024 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    878
    خلع کا طریقہ اور اس کے بعض مسائل​
    تحریر: مقبول احمد سلفی ​
    جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب

    نکاح میاں بیوی کے درمیان عقد زواج کا نام ہے ، جب کبھی شوہر کو شرعی عذر کی بناپر بیوی سے الگ ہونا ہوتو بیوی کوطلاق دے کر عقد نکاح ختم کرسکتا ہے یا بیوی کو شرعی عذر کی بناپر شوہر سے جدائی حاصل کرنا تو حق خلع کا استعمال کرکے عقد نکاح ختم کرسکتی ہے یعنی اسلام نے میاں بیوی میں سے ہرایک کو عذر کے تحت الگ ہونے کا اختیار دیا ہے ۔ مندرجہ ذیل سطور میں خلع جو بیوی کا حق ہے اس کا طریقہ اور اس کے بعض مسائل بیان کئے جائیں گے ۔

    خلع کا معنی :
    میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے لباس کی طرح ہوتے ہیں اس لئے خلع کہتے ہیں اتارنے کو اور شرعی اصطلاح میں خلع کہتے ہیں بیوی کے مطالبہ پراس سے معاوضہ لے کرشوہر اپنی بیوی کو عقد نکاح سے آزاد کردے۔معاوضہ میں مکمل مہر بھی ہوسکتا ہے یا مہر سے کم کوئی بھی معاوضہ ہوسکتا ہے جس پر شوہر راضی ہوجائے اسے پیش کرکے زوجیت سے آزاد ہوجائے اسی کا نام خلع ہے ۔ چونکہ خلع میں فدیہ کے بدلے شوہر سے جدائی حاصل کی جاتی ہے اس لئے اسے فداء بھی کہا جاتا ہے اور اسے طلاق علی المال یا طلاق علی العوض بھی کہا جاتا ہے جو دراصل خلع ہے، طلاق نہیں ہے .

    خلع کے صحیح ہونے کی شرائط:
    ٭خلع بیوی کا حق ہے اس لئے یہ مطالبہ صرف بیوی کرسکتی ہے ، کوئی دوسرا اس حق کا استعمال نہیں کرسکتا ہے۔
    ٭خلع کی صحت کے لئے معاوضہ ہونا اور معاوضہ کا متعین ہونا ضروری ہےیعنی بیوی مکمل مہر یا اس سے کم یا جس معاوضہ پر شوہر راضی ہوجائے وہ متعین ومعلوم ہواس کے بدلے خلع حاصل کرےیعنی خلع کے لئے معاوضہ کا ہونا اور معاوضہ متعین ہونا دونوں ضروری ہے ۔خلع کے بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ فَلا جُناحَ عَلَيْهِما فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ(البقرة: 229)
    ترجمہ: اگر تمہیں ڈر ہو کہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت رہائی پانے کے لئے کچھ دے ڈالے، اس پر دونوں پر گناہ نہیں۔
    سنت سے دلیل یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں :أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ، وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً(صحیح البخاری:5273)
    ترجمہ: ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے ان کے اخلاق اور دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ البتہ میں اسلام میں کفر کو پسند نہیں کرتی۔ (کیونکہ ان کے ساتھ رہ کر ان کے حقوق زوجیت کو نہیں ادا کر سکتی)۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ (جو انہوں نے مہر میں دیا تھا) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ثابت رضی اللہ عنہ سے) فرمایا کہ باغ قبول کر لو اور انہیں طلاق دے دو۔
    یہاں پراللہ اور اس کے رسول کے فرمان میں فدیہ ومعاوضہ کے بدلے خلع حاصل کرنے کا واضح بیان ہے۔اب یہاں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر خلع میں معاوضہ نہ ہو تو کیا وہ خلع ہوگا یا نہیں ؟ اس بارے میں اکثر اہل علم یہی کہتے ہیں کہ خلع کے لئے معاوضہ کا ہونا ضروری ہے، ورنہ خلع نہیں ہوگااور یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے اس لئے خلع لینے کی صورت میں شوہر کو کچھ نہ کچھ دینا چاہئے ، کوئی ضروری نہیں کہ مکمل مہر دیا جائے، معمولی چیز بھی چل جائے گی اور شوہر معاوضہ معاف کردے تب بھی خلع واقع ہوجائے گا اور معاوضہ میں شوہر کا مہر سے زیادہ کا مطالبہ کرنا غلط ہے کیونکہ ثابت بن قیس کے مذکورہ واقعہ میں نبی ﷺ نے فقط مہر لوٹانے کا حکم دیا ہے بلکہ ابن ماجہ میں یہ بھی ہے کہ آپ نے انہیں مہر میں دیا ہوا باغ ہی لینے کو کہا اور زیادتی سے منع فرمایا، آپ ﷺثابت بن قیس سے فرماتے ہیں :
    أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا حَدِيقَتَهُ وَلَا يَزْدَادَ(صحيح ابن ماجه:1686)
    ترجمہ: کہ وہ اپنی بیوی (جمیلہ) سے اپنا باغ لے لیں اور زیادہ نہ لیں ۔
    گویا خلع میں دونوں طرف سے مطالبہ ہوتا ہے ، بیوی کی طرف سے خلع کا
    مطالبہ ہوتا ہے اور شوہر کی طرف سے معاوضہ کا مطالبہ ہوتا ہے ، دونوں جب ایک دوسرے کا مطالبہ پورا کردیتے ہیں تو خلع واقع ہوجاتا ہے ۔ ممکن ہے کبھی شوہر معاوضہ کا مطالبہ نہ کر ے پھربھی بیوی خلع کے لئے کچھ نہ کچھ معاوضہ پیش کرے تاکہ خلع بعوض ہوجائے۔
    ٭ خلع کی صحت کے لئے ایک شرط اتحاد مجلس بھی بیان کی جاتی ہے یعنی ایک ہی مجلس میں میاں بیوی کے درمیان خلع کے لئے ایجاب وقبول ہو۔ ایجاب شوہر کی طرف سے اور قبول بیوی کی طرف سے ہوگامثلا شوہر کہے کہ میں نے ایک ہزار روپئے میں تجھ کو خلع دیا اور بیوی کہے کہ میں نے قبول کیا تو اس سے خلع واقع ہوگا لیکن اگر میاں بیوی کے درمیان ایجاب وقبول میں اتحاد مجلس نہ ہو جیسے شوہرصبح میں ایجاب کرے اور بیوی دوسری مجلس میں یا شام میں یا بعد میں قبول کرے تو اس سے خلع واقع نہ ہوگاکیونکہ ممکن ہے کہ بیوی اپنے مطالبہ کو واپس لے لے اور خلع قبول نہ کرے ۔ اس مسئلے پر ائمہ اربعہ کا اتفاق منقول کیا جاتا ہے ۔ (دیکھیں:الموسوعة الفقهية:1/209)
    ٭ خلع میں شوہر یا بیوی یا زوجین کی طرف سے وکیل بنانا جائز ہے ، یہ وکالت اسی وقت درست ہوگی جب صاحب امر نےواقعتا کسی کو وکیل بنایاہو اور وکالت کے جواز پر اہل علم نے اجماع نقل کیا ہے۔(تفصیل کے لئے المغنی لابن قدامہ دیکھ سکتے ہیں )
    ٭ خلع کی صحت کے لئے مخصوص الفاظ کی ضرورت نہیں ہے ، معاوضہ کے بدلے طلاق، خلع، آزادی ، فراغت اور اس قسم کے کوئی بھی جملے سے خلع حاصل ہوجائے گا۔

    خلع کے اسباب :
    خلع بیوی کی طرف سے طلب کیا جاتا ہے اس لئے بیوی کے پاس خلع حاصل کرنے کے لئے شرعی عذر ہونا چاہئے جیسے بیوی شوہر کو ناپسند کرے اس طرح کہ شوہر کی ناشکری میں واقع ہونے کا خطرہ ہوجیسے ثابت بن قیس کی بیوی کو محسوس ہوا اور ہمیں معلوم ہے کہ شوہر کی ناشکری جہنم میں لے جانے کا سبب ہے اس وجہ سے عورت شوہر سے خلع طلب کرسکتی ہے ۔ اسی طرح شوہر بیوی سے محبت نہ کرےجبکہ نکاح کی بنیاد ہی الفت ومحبت پر قائم ہے، یا نان ونفقہ نہ دے، یا شوہر نامرد ہو، یا خطرناک بیماری میں مبتلا ہو، ظلم وتشدد برتنے والا ہو، بے دین ، بداخلاق اور زانی وشرابی ہو تو ایسے حالات میں بیوی اپنے شوہر سے خلع حاصل کرسکتی ہے ۔
    الہم خلع کے لئے شرعی عذر کا ہونا ضروری ہے ، اگر بغیر شرعی عذر کے بیوی خلع حاصل کرتی ہے تو خلع واقع ہوجائے گا مگر وہ اس صورت میں گنہگار ہوگی ۔ ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ(صحيح أبي داود:2226)
    ترجمہ:جس عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو اسے طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔
    یہ حدیث خلع کے بارے میں ہے کیونکہ یہاں بیوی اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اس لئے امام ابوداؤد نے اس حدیث پر "باب فی الخلع " کا باب باندھا ہے ۔ ایسی عورت کو ایک حدیث میں منافق بھی کہا گیا ہے۔ ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المختلعاتُ هنَّ المنافقاتُ(صحيح الترمذي:1186)
    ترجمہ: خلع لینے والی عورتیں منافق ہیں (جو بلاسبب خلع لے)۔

    خلع کا طریقہ:
    (1)خلع کے لئے کسی حاکم وقاضی یا مفتی وعالم کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے ، یہ معاملہ گھر میں ہی میاں بیوی کے درمیان طے پاسکتا ہے ۔ جب بیوی شوہر میں کوئی شرعی خامی دیکھے اور اس کا اپنے شوہر کے ساتھ نباہ مشکل ہو تو وہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے ، اگر وہ اپنی مرضی سےطلاق کی نیت سے طلاق دے دیتا ہے تو عورت طلاق کے ذریعہ شوہر سے جداہو جائے گی لیکن اگر وہ طلاق نہیں دیتا ہے تو معاوضہ (مہریا کوئی چیزجو آپس میں طے ہوجائے ) کے بدلے شوہر سے خلع طلب کرے ۔ شوہر کو چاہئے کہ اگر اس کی بیوی کسی شرعی عذرکی وجہ سے اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے اور خلع کا مطالبہ کررہی ہے تو مہر یا کوئی معاوضہ (جو مہرمثل یا اس سے کم ہو) لے کر خلع دیدے ۔ خلع کی شکل یہ ہوگی کہ شوہر معاوضہ لے کر اپنی بیوی سے کہے کہ میں فلاں مال کے بدلے تجھ کو آزاد کرتا ہوں یا خلع دیتا ہوں اور بیوی کہے کہ مجھے قبول ہے تو اس سے خلع ہوجائے گااور یہ معاملہ ایک ہی مجلس ہوکیونکہ ایجاب وقبول الگ مجلس میں ہو تو خلع نہیں ہوگا۔

    (2)اسی طرح شوہربیوی کے مطالبہ پر معاوضہ لے کرشوہر کہے میں تجھے آزاد کرتا ہوں، میں تجھے طلاق دیتا ہوں، میں تجھ سے خلع کرلیاہوں ، ان سب باتوں سے خلع واقع ہوجائے گایعنی خلع کے وقوع کے لئے مخصوص الفاظ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ، اس قسم کے کوئی بھی جملے خلع کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔
    ثابت بن قیس کے خلع کے سلسلے میں تین قسم کی عورتوں کا ذکر ہے ، ایک خاتون کا نام جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی، دوسری خاتون کانام مریم مغالیہ اور تیسری خاتون کا نام حبیبہ بنت سہل ہے، یہ تینوں الگ الگ واقعات ہوسکتے ہیں اور ان تینوں قسم کی احادیث میں خلع کے لئے مختلف قسم کے صیغے وارد ہیں ۔
    ٭ایک حدیث میں خلع کا یہ طریقہ مذکور ہے کہ نبی ﷺ نے ثابت کی زوجہ کو مہر میں دیا گیا باغ لوٹانے کا حکم دیا اور شوہر کو حکم دیا : اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ، وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً (باغ قبول کر لو اور انہیں طلاق دے دو) ،یہی خلع ہوگیا۔
    ٭دوسری حدیث میں مذکور ہے کہ نبی نے بیوی کو باغ لوٹانے کا حکم دیا اور شوہر کو حکم دیا کہ بیوی کو جدا کردو پس انہوں نے جدا کردیا۔حدیث کے الفاظ ہیں :
    فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ،وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا(صحیح البخاری: 5276)
    ترجمہ: کیا تم ان کا باغ (جو انہوں نے مہر میں دیا تھا) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ چنانچہ انہوں نے وہ باغ واپس کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سے جدا کر دیا۔
    ایک دوسری حدیث میں خلع سے جدائی کا ذکر اس طرح آیا ہے ۔
    قَالَ: فَإِنِّي أَصْدَقْتُهَا حَدِيقَتَيْنِ، وَهُمَا بِيَدِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذْهُمَا فَفَارِقْهَا، فَفَعَلَ(صحيح أبي داود:2228)
    ترجمہ: ثابت نے کہامیں نے اسے دو باغ مہر میں دیئے ہیں یہ ابھی بھی اس کے پاس موجود ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان دونوں کو لے لو اور اس سے جدا ہو جاؤ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
    ٭بعض روایات میں یہ ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے مہرواپس دلاکر میاں بیوی کے درمیان خود سے جدائی کردی جیسے عدالت کے ذریعہ جدائی کی جاتی ہے۔چنانچہ ابن ماجہ کی روایت میں ہے:
    فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ، قَالَ: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(ابن ماجة:2057)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کا باغ واپس لوٹا دو گی؟ کہا: ہاں، اور ان کا باغ انہیں واپس دے دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔
    اس حدیث کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے اور بیہقی میں اس طرح وارد ہے۔
    أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرُدَّ عَلَيْهِ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا(السنن الکبری للبیہقی:14840)
    ترجمہ:کیا تم اس کا باغ لوٹاؤگی تو بیوی نے کہا ہاں ۔ پس آپ نے عورت کو حکم دیا کہ ثابت کو واپس کردے اور دونوں کے درمیان تفریق کرا دی۔
    ٭بعض روایت میں خلع کے لئے کہا گیا ہے کہ دی ہوئی چیز لے کر بیوی کا راستہ چھوڑ دو۔سنن نسائی کی روایت دیکھیں، جب جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی اپنے شوہر کی شکایت لے کر آتی ہیں تو رسول نے ثابت سے کہا :
    خُذْ الَّذِي لَهَا عَلَيْكَ، وَخَلِّ سَبِيلَهَا"، قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ تَتَرَبَّصَ حَيْضَةً وَاحِدَةً، فَتَلْحَقَ بِأَهْلِهَا( صحيح النسائي:3497)
    ترجمہ:تمہاری دی ہوئی جو چیز اس کے پاس ہے اسے لے لو اور اس کا راستہ چھوڑ دو،انہوں نے کہا: اچھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (یعنی عورت جمیلہ کو) حکم دیا کہ ایک حیض کی عدت گزار کر اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔
    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت خلع کی عدت ایک حیض شوہر کے گھر گزار سکتی ہے پھر اپنے میکے چلی جائے لیکن یہ ضروری نہیں ہے، وہ اپنے گھر بھی عدت گزار سکتی ہے۔
    بہرکیف! خلع دینے کے لئے شوہر عوض لے کر کسی بھی قسم کی آزادی والے الفاظ کہہ کر بیوی کو آزاد کرسکتا ہے اور خلع واقع ہوجائے گا جیساکہ میں نے مختلف قسم کی احادیث جمع کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔
    جب گھر میں آپسی رضامندی سے خلع کرنا ہو تو بہتر ہےکہ دو عادل گواہ بھی رکھ لئے جائیں کیونکہ بسا اوقات اس سلسلے میں نزاع پیدا ہوجاتا ہے تاہم بغیر گواہ کے بھی خلع ہوجائے گا اور کاغذپر تحریری صورت میں خلع درج ہوجائے تو اور بھی بہتر ہے تاکہ برہان وحجت تحریری طور پرمحفوظ رہے تاہم صرف زبانی طور پر بھی خلع ہوجائے گا۔
    (3) جب شوہر نہ طلاق دینے پر راضی ہو اور نہ ہی خلع دینے پر تب بیوی کے لئے مسئلہ درپیش ہوتا ہے اس کا بھی حل موجود ہے ۔ ایسی صورت میں بیوی شرعی عدالت میں خلع کا کیس کرے اور عدالت کے ذریعہ خلع حاصل کرے ۔عدالت میاں بیوی دونوں کو حاضر کرکے پہلے اصلاح کی کوشش کرے اور اصلاح کی گنجائش نہ ہواور زوجین میں تفریق کا عذر موجود ہوتوشوہرکو طلاق کے لئے کہے اور طلاق کے لئے وہ راضی نہ ہو تومعاوضہ کے بدلے خلع کرادے ۔
    جب شوہر نہ طلاق دے اور نہ خلع پر راضی ہو تو ایسا آدمی عموما عدالت میں بھی حاضر نہیں ہوتا ایسی صورت میں عدالت کیا کرے ؟ عدالت کو چاہئے کہ ہرممکن طور پر شوہر تک خبر پہنچائے اور اسے عدالت میں حاضر ہونے کی مناسب مہلت بھی دے حتی کہ کئی بار شوہر کو باخبرکرے تاکہ بعدمیں اس کے پاس بیوی کو یا عدالت کو موردالزام ٹھہرانے کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔باربار شوہر کو خبر کرکے اور مہلت دے کر بھی شوہر عدالت میں حاضر نہ ہو جبکہ بیوی کے پاس شوہر سے جدائی حاصل کرنے کا شرعی عذر موجود ہو تو عدالت ایسی صورت میں شوہر کی حاضری اور رضامندی کے بغیر نکاح کو فسخ کردے گی تاکہ بیوی اس مرد سے آزاد ہوجائے ۔
    (4)بہت ساری جگہوں پر شرعی عدالت اور دارالقضاء نہیں ہوتے تو ایسی جگہ پر غیرشرعی عدالت میں غیرمسلم کے پاس خلع کا کیس نہ لے جائے کیونکہ یہ عدالت جمہوری دستور کے مطابق فیصلہ کرے گی ، اس کو اسلامی شریعت سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔
    سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر عورت خلع کے لئے کہاں جائے ؟ ایسی عورت خلع کے لئے مستند عالم کے ذریعہ دونوں فریق کے ساتھ پنچایت بلائے یا قریب میں کوئی مستندعلمی ادارہ اور دینی مرکز ہو تو اس کے ذمہ داروں کے ذریعہ خلع کروائے ، یہ پنچایت یا ادارہ ومرکز عدالتی کاروائی کی طرح خلع کا عمل انجام دے یعنی پہلے مرحلہ میں کوشش کرے کہ شوہر مجلس میں حاضر ہواور اصلاح یا طلاق یا خلع جو صورت ممکن ہو اس پر عمل کرے اور شوہر کو خبر کرنے اور کوشش کرنے کے باوجود مجلس میں حاضر نہ ہو تو بغیر اس کی رضامندی کے نکاح فسخ کردے ، اس طرح عورت کا نکاح فسخ ہوجائے گا۔
    ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ جب عورت شرعی عذر کی بناپر شوہر کے ساتھ رہنا ناپسند کرے تو اس سے جدائی حاصل کرنے کا ایک طریقہ تو طلاق ہے جو شوہر کا حق ہے یعنی شوہر سے طلاق لے کرآزاد ہوجائے ، دوسرا طریقہ خلع ہے جو عورت کا حق ہے یعنی وہ شوہر کو معاوضہ دے کر اس سے خلع حاصل کرلے گی یا عدالت وپنچایت کے ذریعہ اپنا نکاح فسخ کرکے شوہر سے آزادی حاصل کرلے گی ۔

    خلع طلاق ہے یا فسخ؟
    اہل علم کے درمیان اس معاملہ میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ خلع طلاق ہے یا فسخ نکاح ؟ اس مسئلہ میں راجح اور قوی موقف یہ ہے کہ خلع ، فسخ نکاح ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے سورہ بقرہ کی ایک سو انتیس نمبر آیت میں دو طلاقوں کے ذکر کے بعد خلع کا ذکرکیا پھراگلی آیت میں تیسری طلاق کا ذکر کیا ہے ۔اگر خلع کو طلاق مانا جائے تو جو تیسری طلاق کا ذکر ہے اسےچوتھی طلاق ماننا پڑے گاجبکہ چوتھی طلاق کا کوئی قائل نہیں ہے ۔ اسی لئے خلع طلاق نہیں ہے ، فسخ ہے اور اسی سبب طلاق اور خلع میں کئی وجوہ سے فرق ہے مثلا طلاق کی عدت تین حیض جبکہ خلع کی عدت ایک حیض ہے اور پہلی و ودسری طلاق میں رجوع ہے جبکہ خلع میں رجوع نہیں ہے ۔

    خلع کی عدت :
    ٭خلع چاہے میاں بیوی کے درمیان گھر میں طے پائے یا عدالت اور پنچایت کے ذریعہ خلع یا فسخ نکاح ہو ان تمام صورتوں میں عورت کی عدت ایک حیض ہوگی ۔ خلع کے بعد ایک حیض آئے اور عورت اس سے پاک ہوجائے تو عدت ختم ہوگئی ۔ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں:
    أنَّها اختلعت على عَهدِ النَّبيِّ صلى الله عليه وسلم فأمرَها النَّبيُّ صلى الله عليه وسلم، أو أمرت أن تعتدَّ بحيضةٍ(صحيح الترمذي:1185)
    ترجمہ: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خلع لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا (یا انہیں حکم دیا گیا) کہ وہ ایک حیض عدت گزاریں۔
    اسی طرح ابوداؤد کی ایک موقوف روایت میں ہے ۔عن ابنِ عمرَ قال : عدَّةُ المختلعةِ حَيْضَةٌ( صحيح أبي داود:2230)
    ترجمہ:عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ خلع کرانے والی عورت کی عدت ایک حیض ہے۔
    شیخ البانی نے کہا ہے کہ یہ روایت موقوفا صحیح ہے ۔
    جنہوں نے خلع کو طلاق شمار کیا اور تین حیض عدت گزارنے کو کہا یہ صحیح نہیں ہے، نہ خلع طلاق ہے اور نہ ہی خلع میں تین حیض عدت ہے، مختلعہ ایک حیض عدت گزارے ، طلاق میں تین حیض عدت کی حکمت یہ ہے کہ طویل مہلت میں ممکن ہے شوہر رجوع کرلے جبکہ خلع میں رجوع نہیں ہے، ایک حیض فقط استراء رحم کے لئے ہے ۔
    ٭ حیض یا حمل یا جماع والے طہر میں کبھی بھی خلع ہوسکتا ہے اور حیض کی حالت میں خلع ہوا ہو تو وہ موجودہ حیض شمار نہیں ہوگا بلکہ اگلا حیض بطور عدت شمار ہوگااور حمل میں خلع ہونے سے وضع حمل عدت ہوگی ۔
    ٭ سابق شوہر کے گھر میں خلع کی عدت گزارنا ضروری نہیں ہے ، کہیں بھی عدت گزار سکتی ہےحتی کہ شوہر کے گھر بھی عدت گزار سکتی ہے لیکن چونکہ خلع سے دونوںمیں اجنبیت قائم ہوگئی ہے اس لئے خلوت سے پرہیز کیاجائے گااور سابق شوہر سے پردہ بھی کرنا ہے ۔ حمل والی عورت کا خلع ہو تو شوہر اس کے لئے سکنی اور نفقہ دونوں کا انتظام کرے یہاں تک کہ وضع حمل ہوجائے ۔
    ٭ مختلعہ عدت میں اپنے گھر سکونت پذیر رہے اور بلاضرورت گھر سے باہر نہ جائے ، ہاں ضرورت پڑنے پر وہ باہر جاسکتی ہے ۔

    خلع میں رجوع اور نکاح :
    خلع کے ذریعہ میاں بیوی کے درمیان جدائی حاصل ہوجاتی ہے، یہ بینونہ صغری ہے ۔اس کامطلب یہ ہے کہ جس عورت کو خلع ہو اس سے شوہر رجوع نہیں کرسکتا ہے لیکن اگر شوہر اسی بیوی کو منتخب کرناچاہے تو خلع کی عدت گزرجانے کے بعد دوبارہ اس سے نیانکاح نئے مہر کے ساتھ کرسکتا ہے۔جس طرح پہلی یا دوسری طلاق کی عدت ختم ہوجائے اور شوہر، سابقہ بیوی کو اختیار کرنا چاہے تو نئے نکاح اور نئے مہر کے ذریعہ اختیار کرسکتا ہے ۔ ایک بینونہ کبری ہے جو تیسری طلاق سے واقع ہوتی ہے ، اس میں نہ رجوع ہے اور نہ میاں بیوی آپس میں نکاح کرسکتے ہیں جب تک کہ کسی دوسرے مرد سے شادی نہ ہوجائے اور وہ چھوڑ نہ دے ۔

    طلاق تفویض کا حکم :
    عموما دیکھا یہ جاتا ہے کہ جب شوہر بیوی کو چھوڑنا چاہے تو طلاق دے کر اسےجدا کردیتا ہے لیکن جب عورت کوشرعی عذر کے تحت اپنے شوہر سے جدائی حاصل کرنا ہو تو شوہر پریشان کرتا ہے ، نہ اسے گھر میں سکون سے رہنے دیتا ہے، نہ اس کو طلاق دیتا ہے اور نہ ہی خلع دینے پر راضی ہوتا ہے ۔ ایسی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشرے میں ایک نیا رواج پیدا ہوا ہے وہ ہے طلاق تفویض کا ۔ طلاق تفویض کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کے وقت مرد اپنی بیوی کو طلاق تفویض سونپ دیتا ہے جس کی بنیاد پر جیسے شوہر بیوی کو طلاق دے سکتا ہے ، ویسے ہی بیوی بھی شوہر کو طلاق دے سکتی ہے گویا اس طلاق تفویض کا استعمال کرکے عورت جب چاہے وہ شوہر کو طلاق دے کر اس سے آزاد ہوسکتی ہے ۔دراصل یہ طلاق تفویض دین میں نئی ایجاد ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگاکیونکہ طلاق دنیا صرف مرد کا حق ہے اور خلع حاصل کرنا عورت کا حق ہے اس لئے مسلمانوں کو طلاق تفویض کا من مانی طریقہ نہیں اختیار کرنا چاہئے اور غلطی سے یا جبرا کسی عورت کو طلاق تفویض سونپ دی گئی ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگااور نہ ہی عورت کے طلاق دینے سے شوہر سے جدائی حاصل ہوگی ۔

    احناف اور خلع :
    چونکہ ہمارے سماج میں احناف کی اکثریت ہے اور ان کے یہاں خلع کے سلسلے میں کئی مسائل بے دلیل ہیں اس لئے ان کو جان لینا ضروری ہے ۔
    (1)احناف خلع کو طلاق مانتے ہیں جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ خلع طلاق نہیں ہے بلکہ فسخ نکاح ہے لہذا خلع والی عورت پر طلاق کا حکم نافذ نہیں ہوگا ، فسخ نکاح کا حکم لگے گا۔
    (2) احناف خلع کی عدت تین حیض مانتے ہیں جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض ہےجس کی دلیل پہلے پیش کی جاچکی ہے ۔
    (3) شوہر کی رضامندی کے بغیر احناف خلع کو تسلیم نہیں کرتے ہیں خواہ عدالت سے خلع ہو یا پنچایت سے خلع ہوجبکہ اس بارے میں صحیح موقف یہ ہے کہ حالات اور ظروف کا مشاہدہ کرکے شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی خلع یا فسخ نکاح ہوسکتا ہے کیونکہ بسا اوقات شوہر اپنی بیوی پر اس قدرظلم کرتا ہے کہ اس سے محبت کرنااور زوجیت کا حق ادا کرناتو دور ،اس کی معاشی کفالت تک نہیں کرتا یعنی اس کی ذرہ برابر پرواہ نہیں کرتا اوراس حال میں وہ نہ طلاق دیتا ہے اور نہ ہی خلع پر راضی ہوتا ہے ایسی صورت میں بیوی عدالت یا پنچایت کا سہارا لے کر شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی نکاح فسخ کراسکتی ہے اور اس ظالم مرد سے چھٹکارا حاصل کرسکتی ہے ۔

    خلاصہ مباحث:
    اس بحث کے آخرمیں خلع سے متعلق چند اہم اور موٹی موٹی باتیں درج کردیتا ہوں تاکہ مضمون کا خلاصہ اوراصل مقصود واضح رہے ۔
    ٭خلع کہتے ہیں شوہر کا معاوضہ لے کر بیوی کو جدا کردینا۔
    ٭ خلع بیوی کا حق ہے ، جب بیوی کو شوہر سے علاحدگی کی شرعا ضرورت پڑے تو بیوی معاوضہ دے کر اپنے شوہر سے خلع کے ذریعہ الگ ہوسکتی ہے۔
    ٭ معاوضہ کے بدلے شوہر کا اپنی بیوی کو آزاد کرنا لفظ طلاق یا خلع یا فسخ یا جدائی یا آزادی جیسےکسی قسم کے الفاظ کے ذریعہ خلع ہی مانا جائے گا۔
    ٭خلع کا مطالبہ عورت اسی وقت کرے گی جب شوہر کے ساتھ کسی شرعی عذر کی وجہ سے نباہ مشکل ہولیکن معمولی تکلیف اور معمولی مشکل کی وجہ سے خلع حاصل نہ کرے بلکہ صبر کے ساتھ اسی شوہر کے ساتھ زندگی گزارے کیونکہ زندگی دکھ وسکھ دونوں کے مجموعہ کا نام ہے اوردنیا میں کوئی ایسا شوہر نہیں ملے گا جس کے پاس صرف آرام ہی آرام ہواور کوئی تکلیف نہ ہو۔
    ٭ اصلا خلع میاں بیوی کی رضامندی سے ہی منعقد ہوگا لیکن ناگزیرحالات میں جب بیوی کے لئے الگ ہونا مباح ہو اور شوہر بیوی کو طلاق یا خلع کے ذریعہ جدائی نہ دیتا ہوتو عدالت یا پنچایت کے ذریعہ مکمل تحقیق وتفتیش اور شوہر کو آگاہی کے ساتھ بغیر شوہر کی رضامندی کے بھی نکاح فسخ کیاجاسکتا ہے ۔
    ٭ خلع کے بعد عورت کو اپنی عدت اپنے گھر گزارنا ہے کیونکہ میاں بیوی کا رشتہ ختم ہوچکا ہے اور رجوع کا امکان نہیں ہےتاہم شوہر کے گھر بھی عدت گزار سکتی ہے ۔ خلع کی عدت ایک حیض ہے ، عورت کو خلع کے بعد ایک حیض آجائے اور پاک ہوجائے تو اس کی عدت ختم ہوگئی ۔
    ٭ خلع کی عدت میں رجوع نہیں ہے لیکن اگر پھر سے میاں بیوی اکٹھا ہونا چاہیں تو عدت کے بعد نئے نکاح اور نئے مہر کے ساتھ دونوں اکٹھا ہوسکتے ہیں ، واضح رہے کہ یہ نکاح شرعی طور پر اسی طرح منعقد کیا جائے گا جیسے پہلی بار کیا تھا کیونکہ یہ مستقل نکاح ہے ،اس میں ولی ، مہر، دوعادل گواہ اور نکاح کا اعلان سب کچھ ہونا چاہئے ۔
    ٭ کسی نے اپنی بیوی کو پہلے دو طلاقیں دے دیا ہے اس کے بعد خلع ہوا ہے تو اس صورت میں بھی خلع کی عدت گزرجانے کے بعد نکاح کیا جاسکتا ہے کیونکہ خلع طلاق نہیں ہے محض میاں بیوی میں جدائی اور نکاح فسخ کرنا ہے ۔
    ٭ خلع کی عدت میں شوہر پر نفقہ یا سکنی نہیں ہے لیکن عورت اگر حاملہ ہو تو پھر وضع حمل تک نفقہ وسکنی دینا پڑے گا۔
    ٭ طلاق تفویض دین میں نئی ایجاد ایک قسم کی بدعت ہے جس کا مسلم معاشرے سے خاتمہ ہونا چاہئے اور الحمدللہ شرعی عذر کے تحت عورت کو بھی شوہر سے آزادی حاصل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے لہذا کسی قسم کے خودساختہ طریقہ کی ضرورت نہیں ہے اوراصلا ہمیں اس کی اجازت بھی نہیں ہے ۔
     
  2. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    592
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں