اسلام میں پورے داخل ہوجاؤ !

سعیدہ شیخ نے 'اسلامی کتب' میں ‏اکتوبر، 30, 2024 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سعیدہ شیخ

    سعیدہ شیخ محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    83
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ”

    ترجمہ: "اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔ بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔”


    دراصل آج مسلمانوں نے دو طرح کے رویے اپنائے ہوئے ہیں۔ کچھ دین کے جزئیات کو اپناتے ہیں باقی چھوڑ دیتے ہیں۔ اور دوسری دین کو پوری طرح اپناتے ہیں۔ مثلا

    ● جزوی مسلمان —-جو اللہ اور رسولؐ کا اقرار کرکے اسلام کو بحیثیت مذہب مان لیتے ہیں۔ لیکن زندگی کے ہر شعبے میں اسکے مطابق عمل نہیں کرتے۔ بعض شعبوں میں تو اسلام کی پیروی کریں اور بعض میں دین سے آزاد ہو کر عمل کریں۔

    ● پورے مسلمان —-جو اپنی پوری شخصیت کو اور اپنے سارے وجود کو اسلام کے اندر پوری طرح دے دیں۔ ان کی ساری حیثیتیں ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت میں گم ہو جاـٔیں۔ ان کی ہر چیز جذبات ، خواہشات ، نفرت ، پسند نا پسند وغیرہ سب کچھ اسلام کے تابع ہو اور انکا یہ طرز عمل صرف انفرادی حد تک ہی نہ ہو بلکہ انکی اجتماعی زندگی بھی سراسر اسلام کی بنیاد ہی پر قائم ہو۔

    اسی لئے اس آیت میں "اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ” جس سے مراد ہے کہ دین کو اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اختیار کیا جائے۔ یعنی اسلام محض عبادات (نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج) تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر معاملے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

    "آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا" (3:5 قرآن)

    اللہ تعالی نے انسانیت کے لئے دین کو مکمل کردیا اب اس میں کوئی کمی یا اضافہ نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے اب ہمیں دین کو کل اپنانا ہے۔

    دین میں پوری طرح داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ:

    ● اخلاق و کردار : اسلام میں اخلاقی اصولوں کی بڑی اہمیت ہے۔ ہمیں جھوٹ، فریب، غیبت، بدگوئی اور دیگر اخلاقی برائیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اچھے اخلاق، راست گوئی، عدل و انصاف اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کو اپنانا ایمان کا حصہ ہے۔ سورہ احزاب اور سورہ قلم میں اللہ کے رسولؐ کے اخلاق کے بارے میں بیان کیا گیا۔

    "البتہ تمہارے لیے اللہ کے رسولؐ میں اچھا نمونہ ہے"۔ (33:21 قرآن)

    "اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں"۔ (68:5 قرآن)

    ● حقوق انسانی : اسلامی تعلیمات کے مطابق، انسان کو دوسروں کے حقوق کی پاسداری کرنی چاہیے، چاہے وہ والدین ہوں، ہمسائے ہوں یا معاشرے کے دیگر افراد۔ دین ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو انصاف اور محبت کے ساتھ نبھائیں، اور اپنے معاشرتی حقوق و فرائض کو ذمہ داری کے ساتھ پورا کریں۔

    ● معاشرہ اور معیشت : اسلام میں تجارت کے اصول اور معاشی لین دین کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔ مثلاً، حلال و حرام کمائی، سود سے بچنا، دیانت داری، وعدہ پورا کرنا، اور کسی کے حق کو نہ مارنا۔ دین ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں اپنی تجارت، ملازمت اور مالی امور کو اللہ کے حکم کے مطابق سر انجام دینا ہے۔

    ● قوانین و انصاف : اسلام میں قانون و انصاف کے اصول بھی بیان کیے گئے ہیں۔ دین ہمیں ہر قسم کے ظلم، ناانصافی اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کی تعلیم دیتا ہے۔ چاہے ذاتی زندگی ہو یا اجتماعی، ہمیں عدل و انصاف کو برقرار رکھنا ہے۔

    ● تعلق باللہ : قربِ الٰہی حاصل کرنے کے لیے تعلق باللہ کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ اس تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے نماز، قرآن کی تلاوت، اذکار، صبر اور توکل لازم ہیں۔ جتنا تعلق باللہ مضبوط ہوگا، اتنی ہی اعمال میں پختگی اور خلوص پیدا ہوگا۔


    اسلام میں "پورے کے پورے داخل ہو جاؤ” کا پیغام یہی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں کو دین کی روشنی میں ڈھالیں۔ یہ ایک ایسی ہمہ گیر ہدایت ہے جو انسان کو دنیوی زندگی کے ہر میدان میں کامیاب اور آخرت میں سرخرو ہونے کا راستہ دکھاتی ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں