اللہ کی محبت اور خوشنودی!

سعیدہ شیخ نے 'اسلامی کتب' میں ‏نومبر 12, 2024 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سعیدہ شیخ

    سعیدہ شیخ محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    83

    "اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو، جبکہ اللہ بے نیاز ہے، سب خوبیوں والا ہے۔" (قرآن 35:15)

    کہو، "بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی، اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔" (قرآن 6:162)


    ہمارے تمام اعمال کا مقصد اللہ کو راضی کرنا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اللہ کو اپنی مخلوق سے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے کیونکہ اللہ ہر چیز سے بے نیاز اور ہر ضرورت سے مبرّٰہ ہے۔ ہم انسان ہی اس کے محتاج ہیں، اس کے احسانات تلے دبے ہیں اور باوجود کوشش کہ ہم ایک سانس یا پانی کے چند قطرے کا بدلہ بھی نہیں دے سکتے، ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے کیونکہ ہماری شکرگزاری اس کے احسان کے مقابلے میں کوئی معنی نہیں رکھتے ۔ مالک کا حق اسی صورت میں ادا ہوسکتا ہے جب ہم اللہ کو اپنا حاکم اور مالک مانیں اور اس کے بتائے ہوئے طریقے پر اطاعت اور فرمانبرداری کریں۔ اس لئے کہ ہم اللہ کے رحمت اور عنایات کے محتاج ہیں۔ جب یہ بات ہمارے ذہن نشین ہو جائے گی تو ہمارے دل اللہ کی محبت اور خشیت سے لبریز رہیں گے۔ اور عاجز بندے کی طرح کہے گا، "بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی، اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔" یہ ہر اس دل کی پکار ہے جس کے دل میں اللہ کی محبت اور تقویٰ ہوگا۔

    هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ

    نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے۔ (قرآن 55:60)


    اللہ کو راضی کرنے کے لیے انسان کو اس کے احکام کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، جو دو اہم ذمہ داریوں پر مشتمل ہیں:

    ● حقوق اللہ اور حقوق العباد۔

    آئیے ان دونوں پہلوؤں پر غور کریں:

    ● حقوق اللہ:
    یہ وہ حقوق ہیں جو اللہ کے ساتھ تعلق میں شامل ہیں:

    • اللہ کی واحدنیت پر ایمان (توحید)، جو ایمان کا سب سے بنیادی اصول ہے۔
    • نماز قائم کرنا۔
    • رمضان کے روزے رکھنا۔
    • زکاة ادا کرنا۔
    • حج کی ادائیگی صاحب استطاعت۔

    اس کے علاوہ صدقہ و خیرات دیتے رہیں جو ناگہانی آفات سے ہماری حفاظت کرتے ہیں اور اعمال صالحات کرنے کی کوشش کریں، برے کاموں سے بچیں۔ توبہ بھی ایک اہم عمل ہے، جو انسان کو اپنے گناہوں سے پاک کرتا ہے اور اس کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ کے فرائض کی ادائیگی کے علاوہ یہ ساری چیزیں اللہ کے تقرب کا ذریعہ بنتی ہیں۔

    ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، "سب سے بہتر عمل کون سا ہے؟" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "(1) فرض نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات میں ادا کرنا، (2) اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، (3) اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔" (بخاری)

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "اللہ فرماتا ہے: 'میں اپنے بندے کے بارے میں ویسا ہی ہوں جیسا وہ میرا گمان کرتا ہے، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے۔ اگر وہ مجھے اپنی ذات میں یاد کرتا ہے، تو میں بھی اسے اپنے اندر یاد کرتا ہوں؛ اور اگر وہ مجھے لوگوں کے درمیان یاد کرتا ہے، تو میں اسے ایک بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں؛ اور اگر وہ مجھ تک ایک ہاتھ بڑھتا ہے، تو میں اس تک دو ہاتھ بڑھاتا ہوں؛ اور اگر وہ مجھ تک ایک ہاتھ چل کر آتا ہے، تو میں اس تک دو ہاتھ دوڑ کر آتا ہوں۔' "(بخاری)

    ● حقوق العباد:
    یہ حقوق انسانوں کے ساتھ تعلقات سے جڑے ہیں اور ان کی ادائیگی بے حد ضروری ہے۔

    • عدل (دوسروں کے ساتھ انصاف کرنا)
    • والدین کے ساتھ احترام (انہیں محبت اور عزت دینا)
    • محتاجوں کی مدد (کمزوروں کی مدد کرنا)
    • خاندان اور کمیونٹی کے ساتھ تعلقات (اتحاد اور ہمدردی کو فروغ دینا)
    • سچائی (ایمانداری اور اعتماد)
    • غیبت سے بچنا (دوسروں کی عزت کا احترام کرنا)

    حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ حقوق اللہ و حقوق العباد کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر جو زکٰوۃ، صدقات اور مالی قربانی کی جاتی ہے، وہ بطور حقوق اللہ کی ادائیگی کے ہے۔ یہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی غریب، مسکین، مجبور اور حقدار مخلوق کے لیے ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عیال اور کنبہ قرار دیا ہے۔ اس نظر سے دیکھا جائے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حقوق العباد کی ادائیگی گویا حقوق اللہ کی ادائیگی ہی ہے۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ اپنے بندے سے کہے گا:
    "اے ابن آدم، میں بیمار تھا اور تم نے میری عیادت نہیں کی۔"
    بندہ کہے گا، "اے میرے رب، میں کیسے آپ کی عیادت کر سکتا ہوں جب کہ آپ رب العالمین ہیں؟"
    اللہ فرمائے گا، "کیا تمہیں نہیں پتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تم نے اس کی عیادت نہیں کی؟ اگر تم نے اس کی عیادت کی ہوتی تو تم مجھے وہاں پاتے۔"
    پھر اللہ فرمائے گا: "اے ابن آدم، میں نے تم سے کھانا مانگا تھا اور تم نے مجھے نہیں کھلایا۔"
    بندہ پوچھے گا، "اے میرے رب، میں کیسے آپ کو کھانا دے سکتا ہوں جب کہ آپ رب العالمین ہیں؟"
    اللہ فرمائے گا، "کیا تمہیں نہیں پتا کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانا مانگا تھا اور تم نے اسے نہیں دیا؟ اگر تم نے اسے کھانا دیا ہوتا تو تم اس کا بدلہ میرے پاس پاتے۔"
    اللہ یہ بھی فرمائے گا: "اے ابن آدم، میں نے تم سے پانی مانگا تھا اور تم نے مجھے پانی نہیں پلایا۔"
    بندہ سوال کرے گا، "اے میرے رب، میں آپ کو پانی کیسے پلا سکتا ہوں جب کہ آپ رب العالمین ہیں؟"
    اللہ فرمائے گا، "کیا تمہیں نہیں پتا کہ میرے فلاں بندے نے تم سے پانی مانگا تھا اور تم نے اسے نہیں دیا؟ اگر تم نے اسے پانی دیا ہوتا تو تم اس کا بدلہ میرے پاس پاتے۔" (مسلم / صحیح بخاری)

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدکار عورت کو اللہ نے معاف کر دیا۔ وہ ایک کتے کے پاس سے گزری جو ایک کنویں کے قریب پیاس سے تڑپ رہا تھا۔ اس نے اپنا جوتا اُتارا، اسے اپنے دوپٹے میں باندھا اور پانی نکال کر کتے کو پلایا، اور اسی وجہ سے اللہ نے اس کے گناہ معاف کر دیے۔ (بخاری)

    بلا شبہ اللہ تعالٰی کی رحمتیں و کرم اور نوازشیں بے پناہ ہیں، اور اللہ کے قریب پہنچنے کے بے شمار راستے ان میں ایک ذریعہ دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور تعاون ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور مدد کرنا، چاہے وہ انسان ہوں یا جانور، اللہ کی رضا کا سبب بنتا ہے۔

    ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ کون سے لوگ اللہ تعالٰی کو محبوب ہیں اور کون سے اعمال اللہ کو زیادہ پسند ہیں؟ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ کو زیادہ محبوب وہ لوگ ہیں جو دوسرے لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوں۔ لہذا، اللہ کی مخلوق سے محبت کرنا اور ان کی خدمت کرنا، چاہے وہ انسان ہو یا جانور، جو بھی مستحق ہو، مخلوق کی خدمت گویا اللہ کی خدمت کرنے کے مترادف ہے۔ یہی اعمال میزان میں بھاری ہوں گے۔

    اللہ ہمیں ایمان ، اپنی محبت اور دین کی سمجھ عطا کر، آمین!
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں