قرآن مجید میں حرف جر کی زیادتی کا مسئلہ

ہدایت اللہ فارس نے 'عربی علوم' میں ‏ستمبر 24, 2025 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ہدایت اللہ فارس

    ہدایت اللہ فارس -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2020
    پیغامات:
    18
    قارئین!
    یہ بات ہم سے مخفی نہیں کہ نحوی حضرات جب کوئی قاعدہ بیان کرتے ہیں تو بطور مثال قرآنی آیات یا حدیث و آثار سے کوئی ٹکڑا یا عربی شعر وغیرہ جو اس قاعدہ سے متعلق ہو پیش کرتے ہیں، تاکہ بات واضح ہوجائے اور اس قاعدہ کو سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔
    مثلا حروف جر کے باب کو ہی لے لیں، حرف جر "باء" عموما دس معانی کے لیے آتا ہے ان میں سے ایک زائد بھی ہے، اب اس کی وضاحت کے لیے ان جیسی آیتوں کو پیش کرتے ہیں۔ جیسے: وَلَا تُلۡقُوا۟ بِأَیۡدِیكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ...، وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِیدࣰا...
    اور ترکیب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہاں"باء" زائد ہے۔
    مسئلہ یہاں تک ٹھیک ہے پر جب قارئین کا سامنا پیش کردہ ان جیسی آیتوں سے ہوتا ہے تب ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں حرف جر کو زائد کیوں کہا جارہا ہے جبکہ قرآن میں کوئی چیز زائد نہیں ہے۔

    جی یہ بالکل یقینی ہے کہ قرآن میں کوئی بھی حرف زائد نہیں ہے، رہی بات اہل لغت کا یہ کہنا کہ فلاں جگہ فلاں حرف زائد ہے تو یہ صرف اعراب کے اعتبار سے ہے ناکہ معنی کے اعتبار سے، شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: أنه زائد من حيث الإعراب ، أما من حيث المعنى، فهو مفيد وليس في القرآن شيء زائد لا فائدة منه، ولهذا نقول: هو زائد؛ زائد بمعنى أنه لا يخل بالإعراب إذا حذف، زائد من حيث المعنى يزيد فيه. (شرح العقيدة الواسطية ١/ ١٩٩ )
    یعنی وہ صرف اعراب کے اعتبار سے زائد ہے، جبکہ معنی کے اعتبار سے مفید ہے۔
    قرآن مجید میں ایسی کوئی زائد چیز نہیں ہے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو، جب ہم قرآن میں کسی چیز کو زائد کہتے ہیں تو وہ اس معنی میں زائد ہوتی ہے کہ اگر اسے حذف کردیا جائے تو اس سے اعراب میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوگا۔

    آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ جب اعراب کے اعتبار سے زائد ہے تو معنی کے اعتبار سے مفید کیسے؟!
    جیسے آیت کریمہ: "وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِیدࣰا..." میں "باء" زائد ہے اگر اسے حذف کردیا جائے تو اعراب میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوگا، لیکن معنی کے اعتبار سے مفید ہے وہ اس طرح کہ یہاں "باء" کو لاکر مقصود کفایت کے معنی میں مبالغہ پیدا کرنا ہے۔

    مزید دیکھیں: وَمَا تَسۡقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا یَعۡلَمُهَا .. میں "من" زائد ہے لیکن اسے عظیم فائدہ کے لیے لایا گیا ہے۔
    یعنی ورقة سے پہلے من زائد لاکر یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ کو ہر گرنے والے پتے کا علم ہے چاہے وہ جس درخت کا بھی پتہ ہو اور جیسا بھی ہو اس سے گرنے والا ہر پتہ مراد ہے۔
    (نکرہ تو عموم کا فائدہ دیتا ہی ہے اور "من" داخل کرکے مزید اس میں تاکید پیدا کردی گئی۔)
    لہذا اگر "من" حذف کردیا جائے تو یہ فائدہ مفقود ہوجائے گا۔
    اسی طرح سے اللہ کا فرمان " مَا ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ مِن وَلَدࣲ وَمَا كَانَ مَعَهُۥ مِنۡ إِلَـٰهٍۚ ..."
    آیت میں دو جگہ "من" آیا ہوا ہے اور دونوں زائد ہے پھر لانے کا فائدہ کیا ہے؟
    آیت کے ترجمے پر غور کریں تو جواب مل جائے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے لیے اولاد بنانے یا اپنے ساتھ کسی اور کے اله ہونے (چاہے کسی بھی طرح کی اولاد یا الہ ہوں تمام) کی نفی کررہا ہے، اور اس نفی کی تاکید "ولد" اور "اله" پر حرف جر "من" کے داخل ہونے سے ہورہی ہے ۔
    کیوں کہ قاعدہ یہ ہے کہ جب نفی کے سیاق میں حرف جر کی زیادتی ہو تو وہ تاکید کا فائدہ دیتی ہے۔
    لہذا اگر "من" کو حذف کردیا جائے تو یہ عظیم فائدہ مفقود ہوکر رہ جائے گا۔
    یہی قاعدہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے: وَلَا تُلۡقُوا۟ بِأَیۡدِیكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ
    یہاں بھی حرف جر "باء" زائد ہے، لیکن یہاں یہ زیادتی تأکید کا فائدہ دے رہی ہے۔
    اپنے آپ کو ہرگز ہلاکت میں نہ ڈالو۔۔۔ یعنی ایسا کرنے سے سختی کے ساتھ روکا جارہا ہے
    قاعدہ: نفی کے سیاق میں حرف جر کی زیادتی تاکید کا فائدہ دیتی ہے۔
    لہذا ہمیں معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں کوئی بھی چیز زائد نہیں ہے، صرف ترکیبی اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ فلاں آیت میں فلاں حرف زائد ہے لیکن معنی کے اعتبار سے حروف زیادہ میں سے کوئی بھی حرف ہرگز فائدہ سے خالی نہیں ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
    اللہ ہمیں قرآن مجید صحیح سے سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے آمین

    (ہدایت اللہ فارس)
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں