خطبہ حرم مکی جب برائی ؛بھلائی لگنے لگے اور معیار بدل جائیں، از ڈاکٹر فیصل بن جمیل غزاوی حفظہ اللہ 15 شوال 1447 ھ

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏اپریل 6, 2026 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    759


    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن جمیل غزاوی حفظہ اللہ نے مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں 15شوال 1447ہجری کا خطبہ جمعہ " جب برائی بھلائی لگنے لگے اور معیار بدل جائیں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ انسان کی سب سے بڑی آزمائش دل کا الٹ جانا ہے، جس کے نتیجے میں وہ برائی کو اچھائی اور باطل کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب شیطان انسان کے اعمال کو خوش نما بنا دیتا ہے اور اسے ان کے انجام سے غافل کر دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی متعدد مثالیں بیان کی گئی ہیں، جیسے فرعون، قومِ لوط اور دیگر گمراہ اقوام۔ شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ یا تو برائی کو خوبصورت بنا دیتا ہے یا نیکی کو برا دکھاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان ہدایت چھوڑ کر گمراہی کو اختیار کر لیتا ہے اور بعض اوقات ایمان سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس مومن وہ ہے جو فطرتِ سلیمہ پر قائم رہتا ہے، اللہ کی روشنی میں چلتا ہے اور خواہشات کی پیروی سے بچتا ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ہدایت پر ثابت قدمی کی دعا کرتا رہے۔ آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

    پہلا خطبہ:
    حمد و صلاۃ کے بعد:

    بعد ازاں: اے اللہ کے بندو! اپنے رب سے ڈرو؛ کیونکہ جو اپنے رب سے ڈرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت پیدا فرما دیتا ہے، اور اسے خیر کے کاموں کی توفیق عطا فرماتا ہے؛ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ) ’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے (حق و باطل میں) فرق کرنے کی قوت پیدا کر دے گا، اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا، اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے‘‘ [الأنفال: 29]

    لوگو! انسان کو لاحق ہونے والی سب سے خطرناک آزمائشوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا دل الٹ جائے اور وہ چیزوں میں امتیاز نہ کر سکے؛ پھر وہ بدی کو نیکی، اور نیکی کو بدی، باطل کو حق، اور حق کو باطل، گمراہی کو ہدایت، اور ہدایت کو گمراہی، غلطی کو درست، اور درست کو غلط سمجھنے لگے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کا حال بیان فرمایا جن کے تمام اعمال تو ضائع اور برباد ہو گئے، لیکن وہ یہ گمان کرتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ في الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا) ’’وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہو گئی، اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں‘‘ [الكهف: 104]۔

    یہ سب اس وجہ سے ہوتا ہے کہ شیطان ان کے لیے خواہشات اور گناہوں کو مزین کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا) ’’کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کر دیا گیا ہو اور وہ اسے اچھا سمجھنے لگے (ہدایت یافتہ ہو سکتا ہے؟)‘‘ [فاطر: 8]۔ پس شیطان ان کے لیے برائیوں کو سجا سنوار کر پیش کرتا ہے، اور گناہوں کو مفادات، لذت اور بھلائی کی صورت میں دکھاتا ہے، اور انہیں ان کے نقصانات اور برے انجام پر غور کرنے سے غافل کر دیتا ہے۔

    اور اسی طرح—اے بھائیو!—اس شخص کا حال ہو جاتا ہے جس کے معیار بگڑ جائیں اور اس کے ہاں مفاہیم الٹ جائیں:

    يُقْضَى عَلَى الْمَرْءِ في أَيَّامِ مِحْنَتِهِ *** حَتَّى يَرَى حَسَنًا مَا لَيْسَ بِالْحَسَنِ

    ’’انسان پر آزمائش کے دنوں میں ایسا وقت آ جاتا ہے کہ وہ اس چیز کو بھی اچھا سمجھنے لگتا ہے جو در حقیقت اچھی نہیں ہوتی۔‘‘

    اللہ کے بندو! جو شخص اللہ کی کتاب میں غور و فکر کرتا ہے اور اس کی آیات میں تدبر کرتا ہے، اس پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اعمال کو خوبصورت بنانے کی نسبت دو طرح کی ہوتی ہے: ایک اچھی اور ایک بری۔

    اچھی نسبت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ) ’’اسی طرح ہم نے ہر امت کے لیے ان کے اعمال کو خوش نما بنا دیا‘‘ [الأنعام: 108]۔ اس آیت میں تزیینِ عمل کو اللہ تعالیٰ کی طرف اس لیے منسوب کیا گیا ہے کہ یہ اس کی تخلیق اور اس کے ارادے کے تحت ہوتا ہے۔

    جبکہ بری تزیین وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے سبب اور اس کے کرنے والے کی طرف منسوب کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ) ’’اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال کو خوش نما بنا دیا، پھر انہیں سیدھے راستے سے روک دیا‘‘ [النمل: 24]۔ یہاں تزیین کو شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے، اور یہ براہِ راست عمل کو مزین کرنا ہے؛ چنانچہ شیطان برے اعمال کو خوبصورت صورت میں پیش کرتا ہے۔

    اللہ کے بندو! قرآنِ کریم ان لوگوں کی مختلف مثالوں سے بھرا ہوا ہے جنہیں شیطان نے بہکا دیا اور اپنے جال میں پھنسا لیا؛ شیطان نے ان کے لیے گمراہی کو مزین کیا اور برائی اور ضلالت کو خوش نما بنا کر پیش کیا۔ ان میں سے ایک مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَا يَبْلَى) ’’پھر شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا، کہا: اے آدم! کیا میں تمہیں ہمیشہ رہنے والے پودے اور نہ ختم ہونے والی بادشاہت کا راستہ نہ بتاؤں؟‘‘ [طہ: 120]۔ تو شیطان نے آدم اور ان کی اہلیہ کے لیے اس پودے سے کھانا خوبصورت بنا کر پیش کر دیا، چنانچہ وہ دونوں اس کے دھوکے میں آ گئے، اپنے دشمن کی بات مان لی اور اپنے رب کے حکم کی مخالفت کر بیٹھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں ہدایت پر ثابت قدم رہنے کی رہنمائی دی۔

    اسی طرح شیطان نے کفارِ قریش کے لیے مسلمانوں سے لڑائی کو خوش نما بنا دیا؛ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَكُمْ) ’’اور جب شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال کو خوش نما بنا دیا اور کہا: آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا، اور میں تمہارا حمایتی ہوں‘‘ [الأنفال: 48]

    ایسے ہی ہدہد نے سلیمان علیہ السلام سے ملکۂ سبأ اور اس کی قوم کے بارے میں بتلایا کہ : (وَجَدْتُهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ) ’’میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ وہ اللہ کے سوا سورج کو سجدہ کرتے ہیں، اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال کو خوش نما بنا دیا ہے، پھر انہیں سیدھے راستے سے روک دیا ہے، لہٰذا وہ ہدایت نہیں پاتے‘‘ [النمل: 24]؛ یعنی وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے، چنانچہ وہ علیم و خبیر ذات کی عبادت کی ہدایت نہ پا سکے۔

    شیطان کے دھوکے زدہ لوگوں میں فرعون بھی شامل ہے؛ جو خود بھی گمراہ تھا اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا، وہ تو سرکشی کی حدیں پھلانگ گیا، اس نے ظلم و زیادتی کی، اور خوب فساد پھیلایا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَكَذَلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ) ’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کے برے اعمال کو خوش نما بنا دیا گیا، اور وہ سیدھے راستے سے روک دیا گیا‘‘ [غافر: 37]

    بھائیو! شیطان انسان کو گمراہ کرنے کے لیے دو طرح کی خوشنمائی پیدا کرتا ہے: ایک برائی کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا، اور دوسرا نیکی کو برا اور ناگوار بنا دینا۔

    برائی کو بھلائی بنانے کی مثال اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: (وَكَذَلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ) ’’اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے ان کی اولاد کو قتل کرنا خوش نما بنا دیا، تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر مشتبہ کر دیں‘‘ [الأنعام: 137]۔ چنانچہ شیطانوں نے ان مشرکوں کے لیے اپنی اولاد کو فقر کے ڈر سے قتل کرنا اور بیٹیوں کو عار کے خوف سے زندہ درگور کرنا خوبصورت بنا دیا، حالانکہ یہ عمل انتہائی قبیح اور نہایت گھٹیا تھا۔

    اسی طرح ایک مثال یہ بھی ہے کہ منافقین اپنے آپ کو اصلاح کرنے والا ظاہر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا في الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ) ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں: ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں‘‘ [البقرة: 11]۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’جب وہ اللہ کی نافرمانی کرتے اور انہیں کہا جاتا کہ ایسا نہ کرو، تو وہ کہتے: ہم ہی تو ہدایت پر ہیں اور ہم ہی اصلاح کر رہے ہیں۔‘‘

    اور اسی باب میں یہ چیزیں بھی شامل ہیں: گمراہ کن اور باطل نظریات کی ترویج، اور انسان کو گمراہی کی طرف لے جانے والی خواہشات کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا ، نیز ایسی خود ساختہ عبادات کو مزین کرنا جن کی نہ اللہ تعالیٰ نے اجازت دی اور نہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں مشروع کیا، مثلاً: مردوں سے فریاد کرنا، انہیں پکارنا، ان کے لیے ذبح کرنا اور نذر ماننا۔ اسی طرح برائیوں، بے حیائیوں اور منکرات کا ارتکاب بھی اسی میں شامل ہے؛ جیسے بے پردگی، عورتوں کا اپنے محارم کے علاوہ کے سامنے اپنی زینت ظاہر کرنا اور اپنی کشش دکھانا، فحش گفتگو کرنا، نیز تباہ کن تنقید اور عیب جوئی کو نصیحت اور خیر خواہی کا رنگ دینا، اور حرام کمائیوں اور ناجائز معاملات کو حلال سمجھنا۔

    نیکی کو برا بنا کر پیش کرنے کی مثال اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط کے بارے میں بیان فرمائی، جب انہوں نے آلِ لوط کو نکالنے کی یہ وجہ بیان کی: (وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا أَخْرِجُوهُمْ مِنْ قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ) ’’اور اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا: انہیں اپنی بستی سے نکال دو، یہ تو ایسے لوگ ہیں جو بڑے پاکباز بنتے ہیں‘‘ [الأعراف: 82]۔ پس جب گندگی اور خباثت عام ہو جائے تو پاکیزہ لوگ اجنبی اور ناپسندیدہ بن جاتے ہیں، اور پاکیزگی خود ایک الزام بن جاتی ہے۔ بعض اہلِ علم کہتے ہیں کہ ان کا یہ کہنا: (إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ) دراصل اہل ایمان اور ان کی پاکدامنی کا مذاق اڑانا تھا، اور اس گندگی پر فخر کرنا تھا جس میں وہ خود مبتلا تھے۔

    اللہ کے بندو! برے اعمال کو خوش نما بنا دینے کے بڑے اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان حق کے مقابلے میں باطل کو ترجیح دینے لگتا ہے، اور ہدایت کے بجائے گمراہی کو اختیار کر لیتا ہے، اور اس کے لیے شرک، کفر اور گناہوں جیسے برے اعمال خوبصورت بنا دیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَعَادًا وَثَمُودَ وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَسَاكِنِهِمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ) ’’اور عاد اور ثمود کو (بھی ہلاک کیا)، جو کہ تم پر ان کی بستیوں سے واضح ہو چکا ہے، اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال کو خوش نما بنا دیا، پھر انہیں سیدھے راستے سے روک دیا، حالانکہ وہ سمجھ بوجھ رکھتے تھے۔‘‘ [العنكبوت: 38]۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَى عَلَى الْهُدَى فَأَخَذَتْهُمْ صَاعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُونِ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ) ’’جبکہ ثمود کو ہم نے انہیں ہدایت دی، لیکن انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھے پن کو پسند کیا، تو ان کی اپنی کارستانیوں کی وجہ سے انہیں ذلت کے عذاب کی کڑک نے پکڑ لیا۔‘‘ [فصلت: 17]

    جب معیار بدل جائیں تو بندہ ہدایت اور ایمان سے پلٹ جاتا ہے، اور دوبارہ گمراہی اور کفر کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَى لَهُمْ)’’بے شک جو لوگ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد اپنی پیٹھوں کے بل پھر گئے، شیطان نے ان کے لیے (ان کے اعمال کو) مزین کر دیا اور انہیں مہلت کی آس دیتا رہا۔‘‘ [محمد: 25]

    دوسرا خطبہ:

    اللہ کے بندو! برے عمل کو خوش نما بنا دیے جانے کا ایک بڑا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی ولایت کھو کر شیطان کا دوست بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (تَاللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ) ’’اللہ کی قسم! ہم نے آپ سے پہلے بھی کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے، پھر شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال کو خوش نما بنا دیا، پس آج وہی ان کا والی ہے، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے‘‘ [النحل: 63]۔ ہم ہدایت کے بعد گمراہی اور راہِ راست کے بعد کجی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں!

    اللہ کے بندو! اپنے رب کے ساتھ سچا رہنے والا بندہ اور وہ شخص جو خواہشات کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہو، ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔ سچا بندہ وہ ہے جس کا دل ایمان سے بھر چکا ہو، ہدایت پا چکا ہو، حق کی پیروی کرتا ہو، خواہشات سے الگ ہو چکا ہو، اپنے رب کی طرف سے روشنی پر قائم ہو، دینی امور کے واضح دلائل رکھتا ہو، اپنے عمل پر مغرور نہ ہوتا ہو، بلکہ ہمیشہ شیطان سے بچنے کی فکر میں رہتا ہو، اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کا طلبگار ہو، اور اس کے حکم کے مطابق اس کی شریعت پر استقامت اختیار کیے رکھتا ہو۔

    اس کے برعکس وہ شخص ہے جو اندھیروں میں بھٹک رہا ہو، خواہشات کے پیچھے چل پڑا ہو، شیطان اس پر مسلط ہو چکا ہو، شیطان نے اس کے لیے باطل کو خوبصورت بنا دیا ہو اور اسے ہدایت کی پیروی سے روک دیا ہو، اور اس کے دل میں ایسے شبہات اور خواہشات ڈال دیے ہوں جو اسے گناہوں کی طرف مائل کریں اور توبہ سے دور کر دیں؛ یہاں تک کہ وہ خود پسندی میں مبتلا ہو جائے، نصیحت قبول نہ کرے بلکہ اپنی خواہش کے تابع ہو جائے؛ چنانچہ جو چیز اسے اچھی لگے وہی کر گزرتا ہے، اور جو بری لگے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ كَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ) ’’کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہے، اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جس کے لیے اس کا برا عمل خوش نما بنا دیا گیا ہو اور وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے ہوں؟‘‘ [محمد: 14]

    اور ذرا دیکھو کتنا بڑا فرق ہے اس شخص میں جو صحیح فطرت پر قائم ہو، اپنے رب کی روشنی میں چل رہا ہو، اور اس شخص میں جس کی فطرت الٹ چکی ہو اور اس کے لیے اس کا برا عمل خوش نما بنا دیا گیا ہو! ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’پاکیزہ جانیں نیکی اور احسان سے لذت پاتی ہیں، اور خبیث جانیں برائی اور زیادتی میں لذت محسوس کرتی ہیں۔‘‘

    پی ڈی ایف کے لیے کلک کریں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں