خطبہ حرم مکی " نیکیوں میں سبقت اور سماجی برائیوں سے حفاظت" از صالح بن عبد اللہ الحمید 22 شوال 1447 ہجری

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏اپریل 16, 2026 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    765

    فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ حمید حفظہ اللہ نے مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں 22 شوال 1447ہجری کا خطبہ جمعہ " نیکیوں میں سبقت اور سماجی برائیوں سے حفاظت" کے عنوان پر ارشاد فرمایا ان کا یہ خطبہ تقویٰ، اصلاحِ نفس اور معاشرتی ذمہ داری کے اہم پہلوؤں کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا کہ اصل کامیابی نیکیوں میں سبقت، اللہ کی اطاعت اور دلوں کی اصلاح میں ہے، جبکہ دنیا کی عارضی لذتیں انسان کو دھوکے میں ڈال سکتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزمائش کے وقت ہی انسان کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے، اور مومن کو ہر حال میں ثابت قدم، صابر اور اللہ پر بھروسا کرنے والا ہونا چاہیے۔ خطبے میں خاص طور پر سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے غلط استعمال پر تنبیہ کی گئی ہے کہ بغیر تحقیق کے بات پھیلانا انسان کو دوسروں کے گناہوں کا بھی بوجھ اٹھانے والا بنا سکتا ہے۔ اسی طرح تکبر، نمود و نمائش، غیبت اور دل آزاری جیسے اخلاقی امراض سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ مسلمانوں کو باہمی اتحاد، خیر خواہی، حسنِ اخلاق، اور معاشرے کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی گئی ۔ آخر میں دعا کے ذریعے امتِ مسلمہ کی نصرت، امن و استحکام اور دین پر استقامت کی التجا کی گئی ہے۔
    پی ڈی ایف فارمیٹ میں پڑھنے یا پرنٹ کے لیے کلک کریں:
    https://drive.google.com/.../1mxaLn07HGuPkuAHbBK2.../view...

    پہلا خطبہ:
    الحمد لله، ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو بقا اور دوام میں یکتا ہے، وہی بادشاہ، نہایت پاک اور سراپا سلامتی والا ہے۔ وہ پاک ہے اور اسی کے لیے تمام تعریف ہے، اسی نے اس کائنات کو بہترین نظام پر قائم کیا۔ میں اس کی بے شمار نعمتوں پر اس کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں؛ یہ اس شخص کی گواہی ہے جس نے کہا: ’’میرا رب اللہ ہے‘‘ پھر اس پر ثابت قدم ہو گیا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جو تمام انسانوں میں سب سے افضل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ کثرت کے ساتھ آپ پر، آپ کی نیک آل پر، آپ کے معزز صحابہ پر، اور تابعین و تبع تابعین پر رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے ۔
    بعد ازاں:
    لوگو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں؛ لہذا تقوی الہی اپناؤ—اللہ تم پر رحم فرمائے—پوشیدہ اور ظاہر ہر حال میں اللہ سے ڈرو، غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں حق بات کو لازم پکڑو، تنگی اور خوشحالی دونوں میں میانہ روی اختیار کرو، اور دوست و دشمن ہر ایک کے ساتھ عدل کرو۔
    اور جان لو—اللہ تم پر رحم فرمائے—کہ جنت کے مقابلے میں ہر نعمت حقیر ہے، اور جہنم کے مقابلے میں ہر مصیبت بھی عافیت ہے۔ جو شخص اللہ کی تقسیم پر راضی ہو جائے، وہ کسی چوک جانے والی چیز پر غمگین نہیں ہوتا، اور جو اپنی غلطی کو بھول جائے وہ دوسروں کی غلطیوں کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ ادب بہترین میراث ہے، اور حسنِ اخلاق بہترین ساتھی ہے؛ (خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ) ’’درگزر اختیار کرو، نیکی کا حکم دو، اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرو‘‘ [الاعراف: 199]
    مسلم اقوام! اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت میں متلاشیانِ نصیحت کے لیے نصیحتیں ہیں، اور رک جانے والوں کے لیے متنبہ کرنے والی باتیں ہیں۔ ان میں وہ کچھ ہے جو روشن دل کو بیدار کر دیتا ہے پھر صاحبِ بصیرت انسان کا دل وحی الہی کا تابع ہو جاتا ہے۔
    دل خواہشات کو مغلوب کرنے سے زندہ ہوتے ہیں، اور غفلت سچی خشیت کے ذریعے دور ہو جاتی ہے، اور سستی کا خاتمہ چوکنے رہنے سے ہوتا ہے۔ کوتاہی کرنے والا جب اپنی کوتاہی کو یاد کرتا ہے تو نادم ہو جاتا ہے، اور ہوشیار انسان جب اپنے انجام پر غور کرتا ہے تو مضبوط ارادہ اختیار کرتا ہے؛ لہذا —اللہ تم پر رحم فرمائے—اپنے دلوں کو نصیحتوں سے زندہ کرو، انہیں زجر و توبیخ سے نرم بناؤ، اور حکمت کے ذریعے روشن کرو۔ اور اگر تم اپنے رب کی نافرمانی کرو تو ایک عظیم دن کے عذاب سے ڈرو، اور ان لوگوں میں شامل رہو جو خیر خواہوں سے محبت کرتے ہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کی مذمت کی ہے اور ان کی بری بات کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا: (قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ * إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ * وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ) ’’انہوں نے کہا: چاہے تو نصیحت کر یا نہ کر ہمارے لیے برابر ہے ۔ یہ تو بس پہلے لوگوں کی عادت ہے، اور ہمیں ہرگز عذاب نہیں دیا جائے گا‘‘ [الشعراء: 136 - 138] اور ایک دوسری قوم کے بارے میں فرمایا: (وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَكِنْ لَا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ) ’’اور میں نے تمہیں خیر خواہی کی، لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے تھے‘‘[الاعراف: 79]
    بھائیو! خوشخبری ہے اس کے لیے جو وقت نکلنے سے پہلے اپنی لغزشوں کی تلافی کر لے۔ مبارک ہے وہ شخص جو اللہ کے تقویٰ کو لازم پکڑے اور نیک اعمال کرے۔ خوش نصیب ہے وہ جو برائی کے بعد نیکی کر لے۔ خسارہ ہے اس کے لیے جو اپنی قیمتی آخرت کو دنیا کی حقیر متاع کے بدلے بیچ دے، اور حسرت ہے اس کے لیے جو اللہ کے حق میں کوتاہی کرے۔ یہ دنیا ایک سفر ہے؛ لہذا سستی اور کوتاہی سے بچتے رہو۔ دِنوں کا گزرنا سب سے بڑا واعظ ہے؛ (وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ) ’’اور قیامت کا معاملہ تو پلک جھپکنے کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘[النحل: 77]
    موت تاک میں بیٹھی ہے، جو انسانی عمر کو کاٹنے کے لیے تیار ہے، جبکہ آنکھیں خشک ہونے والی ہیں اور لوگ نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے میں سست پڑ گئے ہیں! کیا لوگوں کی بصیرتیں اندھی ہو گئی ہیں، یا گردشِ زمانہ سے بے خوف ہو گئے ہو؟!
    اللہ کے بندو! دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے؛ اس کی نعمتیں باقی رہنے والی نہیں، اور لمبی امیدیں تمہیں فریب نہ دیں؛ کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے۔ اللہ کی قسم! تم سے اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا، اسی طرح قرآن اور اسے نازل کرنے والے بارے میں پوچھا جائے گا، پھر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ عمر اصل سرمایہ ہے؛ چنانچہ عمر کا جو حصہ گزر گیا اس کا کوئی بدل نہیں۔ یاد رکھیں! آج عمل تو ہے حساب نہیں، جبکہ کل حساب ہو گا لیکن عمل نہیں۔
    قبر اور اس کی ہولناکیوں کے لیے تیاری کرو، فرشتوں اور ان کے سوالات کے لیے تیار ہو جاؤ؛ کون ہے جو اپنا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں پائے گا، اور کون ہے جو اسے بائیں ہاتھ میں لے گا؟!
    محترم بھائیو! جب تم تلافی اور غور و فکر کی حالت میں ہو تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر تدبر کرو: (وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ) ’’اور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ مزید بوجھ بھی، اور قیامت کے دن ان سے ضرور پوچھا جائے گا جو وہ بہتان گھڑا کرتے تھے‘‘ [العنکبوت: 13]
    اس آیت پر غور کریں، پھر اس شخص کو دیکھیں جس کا دل اللہ نے غفلت میں ڈال دیا، وہ لوگوں کے حقوق ہڑپ کرتا ہے، ان کے مال کھاتا ہے، اور ان کی عزتوں کو تار تار کرتا ہے۔ پھر ان لوگوں کو بھی دیکھیں جو سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں؛ جس وقت یہ آزمائش میں مبتلا شخص بغیر تحقیق کے کچھ نشر کر دیتا ہے، بغیر تصدیق کے بات کر دیتا ہے، بغیر یقین کے بیان کرتا ہے، اور بغیر جانچ کے آگے پہنچا دیتا ہے!
    ان تمام باتوں پر غور کرو—اللہ تم پر رحم فرمائے—اور سوچو کہ اس بندے کا کیا حال ہوگا جب قیامت کے دن اسے اچانک یہ صدمہ پہنچے کہ اس کے اعمال نامے میں ایسے گناہ موجود ہیں جو اس نے کیے ہی نہیں، اور ایسی برائیاں درج ہیں جن کا وہ مرتکب نہیں ہوا! وہ ان کے کرنے کا گناہ بھی اٹھائے گا، ان کے پھیلانے کا گناہ بھی، ان پر یقین کرنے والوں کا گناہ بھی، انہیں سننے والوں کا گناہ بھی، انہیں دیکھنے والوں کا گناہ بھی، ان سے گمراہ ہونے والوں کا گناہ بھی، جن کی ہمت اس سے کمزور ہوئی ان کا گناہ بھی، اور جنہیں اس نے حق سے پھیر دیا یا باطل کو ان کے لیے مزین کر دیا ان سب کا گناہ بھی!
    اور—اللہ کی پناہ—اس کا کیا حال ہوگا جب وہ بد کو نیک اور نیک کو بد قرار دے دے؟! (لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ) ’’تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے پورے بوجھ اٹھائیں اور ان لوگوں کے بوجھوں میں سے بھی کچھ جنہیں وہ بغیر علم کے گمراہ کرتے ہیں، سن لو! کتنا برا ہے وہ بوجھ جو وہ اٹھا رہے ہیں‘‘[النحل: 25]
    پس—اللہ ہمیں اور آپ کو عافیت دے—شیخی بھگارنے سے بچو، فخر وتعلّی سے بچو، تکبر سے بچو، اور فقراء کے دل توڑنے سے بچو؛ (تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا في الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ) ’’یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں نہ بڑائی چاہتے ہیں اور نہ فساد، اور انجام متقین ہی کے لیے ہے‘‘[القصص: 83]
    مسلمانو! کتنے ہی لوگ ہیں جن کے اخلاق سوشل میڈیا کی نذر ہو گئے، اور کتنی ہی معزز خواتین ہیں جنہوں نے اپنی حیا اور پردے میں کوتاہی کی، اور کتنے ہی لوگ ہیں جو آن لائن تو بڑے مضبوط نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں کمزور ہوتے ہیں، اور کتنے ہی لوگ ہیں جو ایپس پر تو بڑے سخی دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقت میں بخیل ہوتے ہیں۔
    مسلمانو! ثابت قدمی آزمائش کے وقت ظاہر ہوتی ہے، ورنہ عافیت کے زمانے میں تو سب ہی ثابت قدم نظر آتے ہیں۔ رضامندی بھی مصیبت کے وقت پہچانی جاتی ہے، جبکہ خوشحالی میں تو ہر شخص راضی ہوتا ہے۔ جب مطلوب حاصل ہو جائے تو سب پُر اعتماد ہوتے ہیں، لیکن جب اس میں تاخیر ہو تو متردد لوگ نمایاں ہو جاتے ہیں۔ ظاہر میں سب نیک دکھائی دیتے ہیں، مگر تنہائیوں میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں پر رحمت نازل فرمائے جن کی ہمتیں بلند ہوئیں، دل پاکیزہ ہوئے، اور انہوں نے اپنے رب کے راستے کو مضبوطی سے تھام لیا؛ پس ایسے ہی لوگوں کی پیروی کرو اور انہی کے اعمال کی اقتدا کرو۔
    اللہ کے بندے! لوگوں کو راضی کرنے کے لیے حق کو مت چھوڑو، اور مخلوق کی مدح سرائی کے لیے رنگ نہ بدلو۔ بندے کو جو بہترین چیز عطا ہوتی ہے وہ یہ ہے: نفسیاتی سکون، روشن عقل، پاکیزہ دل، اور مثبت فکر۔ اور سب سے قیمتی نعمتوں میں والدین کی دعا، مخلص دوست کی محبت، اور خلوص والے بھائی ہیں؛ کہ اگر تم غائب ہو جاؤ تو وہ تمہیں یاد کرتے ہیں، اور اگر غفلت میں پڑ جاؤ تو تمہیں متنبہ کرتے ہیں، اور اپنی دعاؤں میں تمہیں نہیں بھولتے۔
    محترم بھائیو! بخیل مال تو جمع کرتا ہے لیکن اس کا جمع کیا ہوا دوسروں کے کام آتا ہے۔ اور غیبت کرنے والا نیکیاں تو لے کر آتا ہے لیکن اس کی نیکیاں دوسروں کو دے دی جاتی ہیں۔ اطاعت کی مشقت ختم ہو جاتی ہے، مگر اس کا اجر باقی رہتا ہے، اور گناہ کی لذت مٹ جاتی ہے، مگر اس کا عذاب باقی رہتا ہے۔ فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’ گناہ تمہیں جتنا چھوٹا لگتا ہے اتنا ہی اللہ کے نزدیک بڑا ہوتا ہے، اور جتنا تم اسے بڑا سمجھتے ہو اتنا ہی اللہ کے نزدیک چھوٹا ہو جاتا ہے۔‘‘
    خوش بختی کی نشانی یہ ہے کہ انسان اطاعت کرے اور قبول نہ ہونے کا خوف بھی رکھے، اور محرومی یہ ہے کہ گناہ کرے اور پھر بھی نجات کی امید رکھے۔
    اے عزیزو! تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اخلاق میں بہترین ہیں، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو، اور بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہو، اور بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہو، اور تم میں سے بہتر وہ ہیں جو نماز کے لیے صف بندی میں نرم مزاج ہوں۔
    مبارک ہے وہ شخص جس کے دل میں کسی کے لیے کینہ نہیں، اور جو دشمنی کا راستہ نہیں جانتا؛ اس سے ملاقات مسکراہٹ، اس سے گفتگو خوشی ، اور اس کی صحبت غنیمت ہوتی ہے۔ اور مبارک ہے وہ جو سمجھ لے کہ عمر چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، در حقیقت مختصر ہے، اور اس میں جھگڑوں اور انتقام لینے کی کوئی گنجائش نہیں؛ وہ اپنے نفس کے محاسبے اور کوتاہیوں کی تلافی میں مشغول رہتا ہے، اپنے بھائیوں کے ساتھ صاف دل اور پاکیزہ نفس کے ساتھ زندگی گزارتا ہے، خود بھی عافیت میں رہتا ہے اور دوسروں کو بھی اچھے برتاؤ، درگزر اور معافی کے ذریعے عافیت پہنچاتا ہے۔
    اور بعد ازاں—اللہ تم پر رحم فرمائے—اپنے آپ کے ساتھ نیکی کرو نیک اعمال کے ذریعے، اپنے مال کے ساتھ نیکی کرو خرچ کرنے اور صدقات دینے کے ذریعے، اور اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ نیکی کرو ان کی لغزشوں سے درگزر کر کے۔
    نیکیوں میں تاخیر مت کرو، عبادات میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو، اس چیز پر حریص رہو جو تمہیں فائدہ دے، نیز اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو؛ کیونکہ مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اگرچہ دونوں میں خیر ہے۔ اور جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے ہدایت دیتا ہے، اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور اسے محفوظ رکھتا ہے۔ اور جو شخص یقین کر لے کہ اسے سفرِ آخرت پر روانہ ہونا ہے وہ اس کے لیے زادِ راہ جمع کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔
    أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: (إِنَّ الَّذِينَ هُمْ مِنْ خَشْيَةِ رَبِّهِمْ مُشْفِقُونَ * وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ * وَالَّذِينَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُونَ * وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ * أُولَئِكَ يُسَارِعُونَ في الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ * وَلَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا وَلَدَيْنَا كِتَابٌ يَنْطِقُ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ) ’’بے شک وہ لوگ جو اپنے رب کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں، اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں، اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے، اور وہ جو کچھ بھی دیتے ہیں اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرنے والے ہیں اور انہی میں سبقت لے جانے والے ہیں، اور ہم کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے، اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ‘‘
    اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اپنی کتابِ ہدایت اور اپنے نبی محمد ﷺ کی سنت سے مستفید فرمائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ سے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں؛ پس تم بھی اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہی بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ:
    الحمد لله، ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جس نے چیزوں کو پیدا کیا اور نہایت حکمت کے ساتھ انہیں بنایا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں؛ جو اس کی ہدایت کی پیروی کرے وہ نہ گمراہ ہوتا ہے اور نہ بدبخت۔ میں اِسی پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں، وہ ہمیشہ سے شکر کا مستحق ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں؛ یہ بندگی اور عاجزی کے ساتھ سچی اور کامل گواہی ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سربراہ اور نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں؛ اخلاق کے اعتبار سے سب سے بلند اور صورت کے اعتبار سے سب سے خوبصورت انسان۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ پر ہمیشہ کثرت کے ساتھ رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے، جنہوں نے اسلام میں سبقت حاصل کی، اور تابعین اور ان کے بعد آنے والوں پر جو نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کریں ۔
    بعد ازاں؛ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں متحد رکھا، ہمیں امن عطا فرمایا، ہمیں کشادہ رزق عطا کیا، اور اپنی نعمتیں ہم پر مکمل کیں، اور جو کچھ ہم نے اس سے مانگا وہ ہمیں عطا فرمایا؛ وہی ہمارا رب ہے، ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں، اسی کے لیے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی پر بھروسا کرتے ہیں۔ اس کا ذکر بلند ہے، اس کی تعریف عظیم ہے، اور اس کے نام نہایت مقدس ہیں؛ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اس کے علاوہ ہمارا کوئی رب نہیں۔
    عزیزانِ من ! اپنے معاشرے کی حفاظت کرو، اپنی باہمی وحدت کو قائم رکھو، اور ہر اس چیز سے بچو جو تمہارے خلوص اور یکجہتی کو مکدر کرے؛ کیونکہ گھات لگانے والے بہت ہیں، اور لغزشوں کے پیچھے پڑنے والے بھی کم نہیں۔ منافق کوتاہیوں کا چرچا کرتا ہے، اور موقع پرست لوگ غلطیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ سمع و طاعت کو لازم پکڑو؛ کیونکہ جو شخص اطاعت سے نکل گیا اور جماعت سے الگ ہو گیا، پھر وہ مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔ پس اللہ سے ڈرو—اللہ تم پر رحم فرمائے۔
    پھر جناب محمد ﷺ پر درود و سلام بھیجو، جو سراپا رحمت اور عطا کردہ نعمت ہیں؛ اس لیے تمہارے رب نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا: (إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا) ’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجا کرو۔‘‘[الاحزاب: 56]
    یااللہ! اپنے بندے ، رسول اور ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود و سلام اور برکت نازل فرما، اور آپ کی آل، آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر بھی، اور اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین: ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے راضی ہو جا، اور تمام صحابہ کرام، تابعین اور قیامت تک ان کی پیروی کرنے والوں سے بھی، اور ہم سے بھی اپنے عفو، کرم اور احسان کے ساتھ راضی ہو جا۔ یا اکرم الاکرمین!
    یااللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اور شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، دین کی حفاظت فرما، اپنے مومن بندوں کی مدد فرما، اور سرکشوں، ملحدوں اور دین کے تمام دشمنوں کو رسوا کر دے۔
    یااللہ! اپنے دین، اپنی کتاب، اپنے نبی محمد ﷺ کی سنت اور اپنے نیک بندوں کو غلبہ عطا فرما۔
    یا اللہ! ہمارے وطنوں میں ہمیں امن عطا فرما، اور ہمارے ائمہ اور حکمرانوں کی اصلاح فرما، اور ہماری حکمرانی ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دے جو تجھ سے ڈرتے ہوں، تقویٰ اختیار کرتے ہوں اور تیری رضا کے پیروکار ہوں، یا رب العالمین!
    یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کی حق، توفیق اور صحیح فیصلوں کے ذریعے مدد فرما، یا اللہ! انہیں اس کام کی توفیق دے جو تجھے پسند اور تیری رضا کے موجب ہوں، اور ان کی پیشانی کو نیکی اور تقویٰ کی طرف موڑ دے، اور انہیں نیک مشیر عطا فرما، ان کے ذریعے اپنے دین کو غلبہ عطا فرما، اور اپنے کلمے کو بلند فرما، اور انہیں اسلام اور مسلمانوں کی مدد کا ذریعہ بنا، اور ان کے ذریعے مسلمانوں کو حق اور ہدایت پر متحد فرما، یا اللہ! انہیں، ان کے ولی عہد، ان کے بھائیوں اور معاونین کو ہر اس کام کی توفیق دے جس میں ملک و قوم کی بھلائی ہو۔
    یا اللہ! ہمارے ملک، بلاد حرمین شریفین، مملکت سعودی عرب کی حفاظت فرما، یا اللہ! اسے اپنی حفاظت میں رکھ اور اپنی نگہبانی میں لے لے، یا اللہ! اس پر ایمان، امن، خوشحالی، استحکام اور درست قیادت کو قائم دائم رکھ، اے اللہ! جو اس کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی چال کو اسی کے گلے کا پھندا بنا دے، اور اس کی مکاری کو اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا قوی! یا عزیز! یا اللہ! ہم انہیں تیرے حوالے کرتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں، یا اللہ! انہیں ناکام کر دے، ان کے دلوں میں رعب ڈال دے، اور چالبازیوں کا انجام انہیں پر ڈال دے۔
    اے اللہ! ہماری حفاظت فرما، اور تمام مسلمانوں کی بھی حفاظت فرما۔ یا اکرم الاکرمین!
    اے اللہ! ہمارے فوجیوں اور سرحدوں پر مورچہ زن ہمارے جوانوں کی حفاظت فرما، اے اللہ! انہیں اپنی مدد سے قوت عطا فرما، اپنی نصرت سے کامیابی عطا فرما، اے اللہ! ان کے تیر اور ان فیصلے صائب بنا دے، اور انہیں تیرے اور اپنے دشمنوں پر غلبہ عطا فرما۔ یا قوی !یا عزیز!
    اے اللہ! ہمارے بھائیوں کے لیے فلسطین میں مدد فرما ، اے اللہ! انہیں اپنی نصرت عطا فرما، اپنی مدد سے تقویت دے، اے اللہ! کمزوروں پر رحم فرما، شکستہ دلوں کو مضبوط فرما، اور مکاری کا انجام تیرے اور ان کے دشمنوں پر لوٹا دے، یا قوی! یا عزیز!
    اے اللہ! اپنے فضل و کرم کے ذریعے مسجد اقصیٰ کو قیامت تک سربلند اور باعزت رکھ، یا اکرم الاکرمین!
    اے اللہ! مسلمان حکمرانوں کو اپنی کتاب اور اپنے نبی محمد ﷺ کی سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے، اور انہیں اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت بنا دے، اور ان سب کو حق اور ہدایت پر جمع فرما، یا رب العالمین!
    اے اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے، بدکاروں کی چالوں سے، اور رات اور دن آنے والے ہر شر سے محفوظ فرما۔
    اے اللہ! ہمیں توبہ اور رجوع کی توفیق عطا فرما، ہمارے لیے قبولیت اور اجابت کے دروازے کھول دے، اے اللہ! ہماری عبادتوں اور دعاؤں کو قبول فرما، ہمارے اعمال کی اصلاح فرما، ہماری برائیوں کو مٹا دے، ہمی توبہ قبول فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما؛ بے شک تو ہی بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
    (رَبَّنَا آتِنَا في الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ) ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا‘‘[البقرۃ: 201] (سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ * وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) ’’پاک ہے تیرا رب، عزت والا رب، ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں، اور سلام ہو رسولوں پر، اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے‘‘[الصافات: 180- 182]
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں