خطبہ حرم مکی " بیت اللہ کی حرمت اور حج کے ایمانی پیغامات" از ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس 07 ذوالقعدہ 1447 ہجری

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏اپریل 26, 2026 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    770
    فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد العزیز السدیس حفظہ اللہ نے مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں 07 ذوالقعدہ 1447ہجری کا خطبہ جمعہ " بیت اللہ کی حرمت اور حج کے ایمانی پیغامات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے بیت اللہ الحرام کی عظمت، فضائلِ حج، اور حجاجِ کرام کے لیے اہم ایمانی و عملی ہدایات بیان کیں۔ انہوں نے واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ اور بیت اللہ الحرام کو بے شمار فضائل و برکات سے ممتاز فرمایا ہے، اسے روئے زمین پر عبادت کے لیے قائم ہونے والا پہلا گھر بنایا، اور اسے توحید، امن اور ہدایت کا مرکز قرار دیا۔ آپ نے بتایا کہ بیت اللہ کی برکتوں میں سے یہ بھی ہے کہ یہاں عبادات کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور یہ مقام دنیا بھر کے اہلِ ایمان کے لیے مرکزِ اجتماع ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حج کا سب سے بڑا مقصد خالص توحید کا قیام، شرک و بدعت سے اجتناب، اور سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی ہے۔ حجاج کو نصیحت کی گئی کہ وہ حرم کی حرمت، امن اور تقدس کا بھرپور لحاظ رکھیں، حسنِ اخلاق، صبر، نظم و ضبط اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کریں، اور متعلقہ انتظامات و ہدایات کی پابندی کریں۔ آخر میں انہوں نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، مسلمانوں کے امن، فلسطین کے مظلوموں کی نصرت، اور حجاج کی سلامتی و قبولیتِ حج کے لیے دعا فرمائی۔
    خطبہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں پڑھنے/ پرنٹ کرنے کے لیے کلک کریں:
    https://drive.google.com/.../1zEYBz7xnwEYyHJpRbT9cAQDX5Rx...
    پہلا خطبہ:
    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے؛ اے ہمارے رب! ہم تیری حمد بیان کرتے ہیں، تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، تیری طرف رجوع کرتے ہیں، تجھ ہی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور تیری ہر طرح کی بھلائی کے ساتھ تعریف کرتے ہیں۔ ہم اسی پاک ذات کی حمد بیان کرتے ہیں جس کی رحمت اور علم ہر چیز کو محیط ہے، اور جس نے اپنے حرمت والے گھر کو لوگوں کے لیے بار بار لوٹنے کی جگہ اور امن کا گہوارہ بنایا۔ تیرے لیے ہی حمد ہے جو ہمیشہ تیرے شکر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، دنیا میں بھی تیرے ہی لیے حمد ہے، آخرت میں بھی تیرے ہی لیے حمد ہے، اے عظمت و کبریائی والے! اور جو تیری حمد کے ساتھ شکر گزار بن جائے، وہی حقیقت میں شکر کی دولت پا لیتا ہے۔
    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں؛ اس نے اسلام کے ارکان کو نہایت مضبوط بنیادوں پر قائم فرمایا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں؛ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے حق کا پرچم بادلوں سے بھی بلند کر دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل اور آپ کے صحابہ پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے؛ وہ ہر ہدایت کے طالب اور خیر کے خواہاں کے لیے ہدایت کے امام تھے، اور ان پر بھی جو حسنِ اتباع کے ساتھ عمدہ شمائل اور بلند ترین خوبیوں میں ان کے پیروکار بنے۔
    بعد ازاں: اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اور نیکیوں کے موسموں اور رحمت کی نسیموں سے فائدہ اٹھانے میں تاخیر مت کرو؛ (وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ) ’’اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر جان کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ [البقرۃ: 281]
    عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ سِرًّا وَجَهْرَةً *** فَفِيهَا جَمِيعُ الْخَيْرِ حَقًّا تَأَكَّدَا
    تم پر لازم ہے کہ خلوت و جلوت میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، کیونکہ یقیناً اسی میں ساری بھلائی جمع ہے۔
    لِتُجْزَى مِنَ اللَّهِ الْكَرِيمِ بِفَضْلِهِ *** مُبَوَّأَ صِدْقٍ في الْجِنَانِ مُخَلَّدَا
    تاکہ تم اللہ کریم کے فضل سے جنتوں میں سچائی کے مقام میں ہمیشہ کے لیے ٹھکانا پاؤ۔
    مومن اقوام! یہ حرمت والے روشن مہینے ہیں، اور یہ حج کے تابناک مہینے ہیں۔ ان کے انوار امت کے آسمان پر چمک اٹھے ہیں، ان کی راتیں جگمگا اٹھی ہیں، اور ان کے دن روشن ہو گئے ہیں۔ ان کے پھول خوش خبریوں سے مہک اٹھے ہیں، ان کے ثمرات خیرات و برکات سے لبریز ہو گئے ہیں، اور حجاج کے دلوں میں ان کی فضیلتیں اور اثرات روشن ہو چکے ہیں۔ یہ بیت اللہ الحرام کے وفود کے قافلے ہیں جو مختلف سمتوں سے آنا شروع ہو چکے ہیں: (مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ) ’’ہر دور دراز راستے سے۔‘‘ [الحج: 27] ان کی سواریاں ان مقدس مقامات اور بلند شان میدانوں میں قیام کے لیے رخ کر چکی ہیں۔
    مَرْحَبًا بِالْوُفُودِ مِنْ كُلِّ طَائِفِ *** وَالْمُلَبِّينَ بَيْنَ بَادٍ وَعَاكِفِ
    تمام طواف کرنے والوں کو خوش آمدید، اور لبیک کہنے والوں کو خوش آمدید؛ خواہ وہ باہر سے آئے ہوں یا یہیں مقیم ہوں۔
    مَرْحَبًا بِالْإِخَاءِ في أَلَقِ الشَّمْسِ *** وَبِالطُّهْرِ في نَقِيِّ الْمَعَاطِفِ
    سورج کی چمک میں بھائیوں کو خوش آمدید، اور پاکیزہ لباسوں میں پاکباز لوگوں کو خوش آمدید۔
    رحمن کے مہمانو! مقدس ترین دیار و مقامات، اور پاکیزہ ترین خطوں اور علاقوں میں آپ کو خوش آمدید۔ آپ اپنے ہی گھر آئے ہو، اور آسان و مبارک جگہ پر قدم رکھا۔ یہ مکہ مکرمہ ہے؛ دین و اسلام کا گہوارہ، انبیائے کرام اور رسولوں کی بعثت کا مرکز، اور صدیوں گزرنے اور برسوں کے جانے کے باوجود تعظیم و تکریم کا مرجع۔ رب رحمن نے اسے منتخب فرمایا، اس کے اطراف میں قرآن نازل ہوا، اور اسی میں سید الانام ﷺ پیدا ہوئے، پروان چڑھے اور مبعوث فرمائے گئے؛ آپ پر بہترین درود اور پاکیزہ ترین سلام ہو۔
    كُلُّ الْبِلَادِ وَإِنْ جَلَّتْ مَحَاسِنُهَا *** عِقْدٌ فَرِيدَتُهُ في أُمِّ الْقُرَى وُضِعَتْ
    تمام شہر اگرچہ اپنی خوبیوں میں کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہوں، وہ ایک ہار ہیں جس کا منفرد نگینہ ام القریٰ میں رکھا گیا ہے۔
    تَسْعَى إِلَيْهَا الْقَوَافِي السَّائِرَاتُ *** وَتَسْعَى إِلَى الْكَعْبَةِ الْحُجَّاجُ مَا انْقَطَعَتْ
    ہر سمت سے قافلے اسی کی طرف رخ کرتے ہیں، اور کعبہ کی طرف حاجیوں کی آمد کبھی منقطع نہیں ہوتی۔
    مسلم اقوام! اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مبارک سرزمین، یعنی مملکتِ سعودی عرب، کو عظیم فضائل اور نمایاں خصوصیات سے نوازا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسی میں وہ پہلا گھر واقع ہے جو زمین میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا گیا؛ اسی لیے یہ ملک توحید، وحدت، شعائرِ دین، مقدس مناسک، اور امن و امان کی علامت ہے۔
    اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حرمت والے گھر کو سراپا برکت اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وسیع فضل اور اس کے بے پایاں جود و کرم کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے محترم شہر اور قدیم گھر کا قصد کرنے والوں کے لیے وہاں نماز کا اجر کئی گنا بڑھا دیا، اور نیکیوں کے ثواب کو دو چند فرما دیا۔ اللہ اکبر! کیا ہی عظیم ربانی کرم ہے اور کیا ہی جلیل الٰہی احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ الحرام اور اس کے زائرین کو اس خصوصی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔
    مسلم اقوام! اے خوش نصیب حجاج کرام! ہمیشہ اس مقام کی عظمت، اس کی ہیبت، اس کی حرمت، اس کی پاکیزگی اور اس کی تقدیس کو اپنے دلوں میں تازہ رکھو؛ (جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ) ’’اللہ نے کعبہ، اس حرمت والے گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا ذریعہ بنایا ہے۔‘‘ [المائدۃ: 97] یہ بھی اس کے مبارک اور تمام جہانوں کے لیے باعثِ ہدایت ہونے کا ایک پہلو ہے۔ اور ایک دوسرا پہلو وہ مبارک دعائیں اور ابدی التجائیں ہیں جو خلیل الرحمن ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کے حضور اس دعا کے ساتھ کیں کہ مکہ کو امن و اطمینان، خالص توحید اور ایمان کا مرکز بنا دے: (وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ) ’’اور جب ابراہیم نے کہا: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے، اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچا۔‘‘ [ابراہیم: 35]
    لہٰذا اللہ تعالیٰ کے لیے خالص توحید قائم کرنا، اور اسے ہر قسم کے شبہات، آمیزشوں اور بدعات سے پاک رکھنا، اس امن والے شہر کا قصد کرنے والے ہر شخص کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ خصوصاً کعبہ مشرفہ کے پاس اس کا اہتمام اور بھی زیادہ ضروری ہے، اگرچہ اس کا حکم ہر جگہ عام ہے۔ یہی وہ عظیم ترین ہدایت ہے جو تمام جہانوں کے لیے ہے۔ بیت اللہ کے سائے میں اسی ہدایت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ اور یہی وہ نعمت ہے جو اس مبارک سرزمین کے میسر پائیدار امن و اطمینان کے ماحول میں نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔
    مملکتِ سعودی عرب؛ حرمین شریفین کی نگہبان، امن و امان کی چوٹی، اور توحید و ایمان کا مضبوط قلعہ ہے۔ اس کے امن کا تحفظ بھی ایک عبادت اور قربت ہے جس کے ذریعے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں؛ (أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ) ’’کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا، جبکہ ان کے اردگرد سے لوگ اچک لیے جاتے ہیں؟‘‘ [العنكبوت: 67] (أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ) ’’کیا ہم نے انہیں ایک امن والے حرم میں جگہ نہیں دی جس کی طرف ہر چیز کے پھل لائے جاتے ہیں؟‘‘ [القصص: 57]
    اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا) ’’اور جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے بار بار لوٹنے کی جگہ اور امن کا مقام بنایا۔‘‘ [البقرۃ: 125] یہ وہ مقام ہے جہاں مضطرب دل سکون پاتے ہیں، اور خوف زدہ انسان امن محسوس کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ) ’’ بلاشبہ اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے اس دن حرمت عطا فرمائی تھی جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، لہٰذا یہ اللہ کی حرمت کے سبب قیامت تک محترم رہے گا۔‘‘ [متفق علیہ]
    اور یہ مضبوط امن اور پائیدار امان صرف اعلان اور بیان سے قائم نہیں ہوا؛ بلکہ اس کی حفاظت کے لیے سخت وعید اور زبردست تنبیہ بھی وارد ہوئی ہے ہر اس شخص کے لیے جو اس کے امن کو توڑنے یا اس کی حرمت پامال کرنے کا ارادہ کرے: (وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ) ’’اور جو اس میں ظلم کے ساتھ کج روی کا ارادہ کرے، ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔‘‘ [الحج: 25]
    یہ وعید تو دل میں صرف ارادہ کرنے والے کے لیے ہے؛ پھر جو عملاً اس کا ارتکاب کرے، اس کا کیا حال ہوگا؟! لہذا معاملہ بہت زیادہ سنگین اور خطرناک ہے۔
    جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ أَمْنًا *** وَحَبَاهُ حُلَلًا سَنَاهُ الْبَاهِي
    اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو امن کا مرکز بنایا، اور اسے عظمت و جمال کی دل آویز شان عطا فرمائی۔
    فَكَسَوْهُ سِتْرًا وَإِذْ أَرْخَوْهُ *** حَلَّ فَوْقَ السُّتُورِ نُورُ الْإِلَهِ
    پھر جب اس پر غلاف ڈالا گیا، تو اس کے پردے بھی نورانیت اور ہیبت سے جگمگا اٹھے۔
    اسلامی بھائیو! اے بیت اللہ الحرام کے حاجیو! حج عظیم ترین عبادات میں سے ایک عبادت ہے۔ اس کے کچھ شرائط، ارکان اور واجبات ہیں جن کا جاننا بیت اللہ کی طرف آنے والے ہر شخص پر ضروری ہے، تاکہ وہ ان کے مطابق عمل پیرا ہو اور اس کا حج اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو۔ صحیحین میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: (مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ) ’’جو شخص اللہ کے لیے حج کرے، پھر نہ بے حیائی کی بات کرے اور نہ گناہ کا ارتکاب کرے، وہ اس دن کی طرح لوٹتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔‘‘
    اور حج کی سب سے بڑی حکمت اور اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ حج خالص توحیدِ الٰہی اپنانے کا ذریعہ بنے؛ (وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا) ’’اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے گھر کی جگہ مقرر کی کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا۔‘‘ [الحج: 26] اور یہ کہ انسان ہر اس چیز سے دور رہے جو کتاب و سنت کے خلاف ہو، اور ہر ایسے عقیدے سے بچے جو اس امت کے سلف صالحین کا نہیں تھا۔
    امتِ اسلامیہ! پوری مسلم امت کو چاہیے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی گمراہ کن میڈیا پراپیگنڈے اور فتنہ پھیلانے والوں کی سازشوں سے آگاہ رہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ مسلمان ہوشیاری، تحقیق اور حکمت سے کام لیں، اور باہمی اتحاد و اتفاق کو مضبوط رکھیں؛ (وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا) ’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘ [آل عمران: 103]
    اور کیا ہی خوبصورت بات ہے کہ حجاج اور زائرین اس بیتِ عتیق کی عظمت، ان مبارک مقامات کی حرمت، اور ان کے گرد قائم تعظیم، جلال، تقدیس اور ہیبت کو اپنے دل میں محسوس کریں! چنانچہ یہاں نہ خون بہایا جائے، نہ سبزہ کاٹا جائے، نہ یہاں کے شکار کو بھگایا جائے، اور نہ یہاں گری ہوئی چیز اٹھائی جائے ، صرف وہی اٹھا سکتا ہے جو اس کا اعلان کرے۔ ایسے میں انسان کو اذیت پہنچانے کا معاملہ کتنا سنگین ہوگا! اور اس امن والے مقام کو مقاصدِ شریعت اور منہجِ اسلام سے متصادم کاموں کے لیے استعمال کرنا بالکل جائز نہیں ہے؛ (ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ) ’’یہ بھی، اور جو شعائر اللہ کی تعظیم کرے تو یقیناً یہ دلوں کے تقویٰ میں سے ہے۔‘‘ [الحج: 32]
    یا اللہ! اپنے اس گھر کی تعظیم، تشریف، تکریم اور ہیبت میں اضافہ فرما۔ اور جو لوگ اس کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں، اس کا حج اور عمرہ کرتے ہیں، ان کے شرف، عزت، تکریم، ہیبت اور نیکی میں بھی اضافہ فرما، اے سب سے بہتر جس سے سوال کیا جائے، اور اے سب سے زیادہ امید رکھنے کے لائق ذات!
    أعوذُ باللهِ من الشيطانِ الرجيمِ: (إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ * فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ) ’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت ہے۔ اس میں کھلی نشانیاں ہیں، مقامِ ابراہیم ہے، اور جو اس میں داخل ہو جائے وہ امن پا گیا، اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے، جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جو انکار کرے تو یقیناً اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔‘‘ [آل عمران: 96-97]
    اللہ تعالیٰ میرے اور آپ سب کے لیے قرآن و سنت کو با برکت بنائے، اور ان میں موجود آیات اور حکمت سے ہمیں فائدہ دے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اپنے لیے، آپ کے لیے، اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے ہر گناہ اور خطا سے اللہ عظیم و جلیل سے مغفرت طلب کرتا ہوں؛ چنانچہ آپ بھی اسی سے مغفرت مانگو اور اس کی طرف توبہ کرو، یقیناً وہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
    دوسرا خطبہ:
    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہم پر اپنی مبارک نعمتیں خوب وسیع فرمائیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور سلام ہوں اس کے رسول اور برگزیدہ بندے پر، نیز آپ کی آل، صحابہ، تابعین اور ان تمام لوگوں پر جو قیامت تک احسان کے ساتھ ان کی پیروی کریں۔
    بعد ازاں:
    اللہ کے بندو! تقوی اپناؤ، تعظیم الہی کے پیکر بنو، اسی کے جلال و کمال سے ڈرتے رہو، اور ہر حال میں اسی کی نگرانی کا احساس رکھو؛ تمہارے دنیا و آخرت کے حالات سب درست ہو جائیں گے۔ اور جان لو کہ سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔ اور بدترین امور وہ ہیں جو دین میں نئے ایجاد کیے جائیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ اور اجتماعیت لازم پکڑو، کیونکہ اللہ کی مدد اجتماعیت کے ساتھ ہوتی ہے، اور جو اجتماعیت سے الگ ہوا وہ آگ کی طرف الگ ہوا۔
    بیت اللہ الحرام کے حاجیو! اللہ عزوجل کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں ان مقدس مقامات تک پہنچنے کا موقع عطا فرمایا، اور تمہیں مکان و زمان دونوں کی عظیم فضیلت نصیب فرمائی؛ کیونکہ تم حج کے مہینوں اور حرمت والے مہینوں میں ہو، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ)’’بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب میں بارہ ہے، اس دن سے جب اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا؛ ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی مضبوط دین ہے، پس ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔‘‘ [التوبۃ: 36] اہلِ علم اس ظلم کے متعلق کہتے ہیں کہ: یعنی گناہوں اور معاصی کے ذریعے اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔
    پس ان حرمت والے مہینوں کی قدر و منزلت پہچانو، اور اس مقدس مقام کے شرف و فضیلت کو جانو۔ اپنے شعور اور حسنِ اخلاق کو اپنا شعار بناؤ۔ کمزور اور محتاج کی مدد کرو، بھٹکے ہوئے کو نرمی اور خوش دلی کے ساتھ راستہ دکھاؤ۔ سکون، وقار، شفقت اور باہمی رحمت کو لازم پکڑو، اور ہر کام میں درست راہ اختیار کرو، اور اگر کمال تک نہ پہنچ سکو تو کم از کم اس کے قریب رہنے کی کوشش کرو۔
    اپنے ان بھائیوں کے مدد گار بنو جو معزز سیکورٹی اہلکاروں کی صورت میں نظام کو برقرار رکھتے ہیں اور رش کو منظم کرتے ہیں تاکہ ازدحام اور دھکم پیل سے بچایا جا سکے۔ اور ضوابط و ہدایات کی پابندی کرو؛ انہی میں سے ایک یہ ہے کہ اجازت نامے کے بغیر حج نہ کریں، تاکہ مصالح کے حصول اور تکمیل، اور مفاسد کے ازالے اور تقلیل کے شرعی مقاصد حاصل ہوں۔
    اور حرمین شریفین کی خدمت پر مامور دینی، امنی اور انتظامی اداروں کے ساتھ تعاون کرو؛ کیونکہ وہ بڑی محنت اور جانفشانی سے آپ کی خدمت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے آپ کی خدمت کے لیے کتنی منصوبہ بندی، تیاری، ترتیب اور تنظیم کی ہے! وہ آپ کے آرام کے لیے قربانیاں دیتے ہیں، اور آپ کی سلامتی کے لیے قیمتی سے قیمتی چیز صرف کرتے ہیں؛ تاکہ ہدایت کا پیغام دنیا تک پہنچے اور آنے والوں کے تجربے کو بہتر بنایا جا سکے۔
    اللہ تعالیٰ اپنے محترم گھر کے حاجیوں کی حفاظت فرمائے، ان کے امن و امان، خوش حالی اور استحکام کو دائم رکھے، ان کے مناسک کو آسانی اور اطمینان کے ساتھ مکمل کرائے، اور ان کے لیے عظیم اجر و ثواب لکھ دے؛ بے شک وہ بڑا سخی، نہایت کریم ہے۔
    اس کے بعد درود و سلام بھیجو—اللہ تم پر رحم فرمائے—تمام مخلوق میں بہترین ہستی پر، اس روشن بدر پر جس نے الفت و محبت کے ذریعے ستاروں اور روشن چراغوں کو مزین کر دیا؛ ایسا درود جو خوشبو اور پھولوں کی مہک لیے ہوئے ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محکم اور حسین کتاب میں تمہیں حکم دیا ہے، فرمایا: (إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا) ’’بے شک اللہ رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجا کرو۔‘‘[الاحزاب: 56]
    اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور آپ کے تمام صحابہ پر درود، سلام اور برکتیں نازل فرما۔
    اے اللہ! خلفائے راشدین: ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے راضی ہو جا، اور تمام صحابہ، تابعین اور قیامت تک احسان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔
    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، دین کی سرحدوں کی حفاظت فرما، اور حاجیوں، عمرہ کرنے والوں اور زائرین کو سلامتی عطا فرما۔ اور اس شہر کو اور تمام مسلمان ممالک کو امن، اطمینان، فراخی اور خوش حالی والا بنا۔
    یا اللہ! ہمارے وطنوں میں ہمیں امن عطا فرما، اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح اور رہنمائی فرما۔ حق، درستی اور تائید کے ساتھ ہمارے حکمران اور ولیِ امر کی مدد فرما۔
    اے اللہ! خادمِ حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کو ان امور کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام کا غلبہ ہو، مسلمانوں کی بھلائی، اور ملک و ملت کی خیر و صلاح ہو۔ اور حرمین شریفین اور ان کے زائرین کے لیے ان کی خدمات کا انہیں بہترین اور کامل ترین بدلہ عطا فرما۔
    یا اللہ! ہمارے امن و دفاع کے ذمہ داروں اور ہماری سرحدوں پر پہرہ دینے والوں کو کامیابیاں عطا فرما۔ اور اے رب! تمام مسلم حکمرانوں کو نیکی کی توفیق دے، اور انہیں اپنے مومن بندوں کے لیے باعثِ رحمت بنا۔
    یا اللہ! حاجیوں، زائرین اور بیت اللہ کے قصد کرنے والوں کو سلامتی عطا فرما، ان کے امن کی حفاظت فرما، اور ان کے لیے مناسک کی ادائیگی خیر و عافیت کے ساتھ آسان بنا دے، اے رب العالمین!
    اے اللہ! دنیا بھر کے کمزور مسلمانوں کے لیے مدد فرما۔
    اے اللہ! خصوصاً فلسطین میں موجود کمزور مسلمانوں کی مدد فرما۔
    اے اللہ! ان کے لیے مددگار، ناصر، معاون اور پشت پناہ بن جا۔
    یا اللہ! مسجد اقصی کی حفاظت فرما، یا اللہ! مسجد اقصی کی حفاظت فرما، یا اللہ! مسجد اقصی کی حفاظت فرما، اے اللہ! مسجد اقصیٰ کو ظالموں کی جارحیت، سازشیوں کی چالوں اور مکاروں کے فریب سے محفوظ فرما، اور اسے قیامت تک سربلند اور معزز بنا۔
    اے اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو تباہ فرما، اور ان سب کو بھی تباہ فرما جو مسلمانوں کے خلاف ان کا ساتھ دیں۔
    اے اللہ! انہیں اپنی گرفت میں لے لے، کیونکہ وہ تجھے عاجز نہیں کر سکتے۔
    یا اللہ! ان کے اتحاد کو بکھیر دے، ان کی صفیں پارہ پارہ کر دے، اور انہیں عبرت کا نشان بنا دے۔
    (رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ) ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘ [البقرۃ: 201]
    (رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ * وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ) ’’اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، بے شک تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔ اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ [البقرۃ: 127-128]
    اور ہمیں، ہمارے والدین کو، اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو—خواہ زندہ ہوں یا وفات پا چکے ہوں—بخش دے؛ بے شک تو خوب سننے والا، قریب اور دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔
    (سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ * وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) ’’پاک ہے آپ کا رب، عزت والا رب، ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ اور سلام ہو تمام رسولوں پر۔ اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘ [الصافات: 180-182]
     
Loading...
Similar Threads
  1. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    29
  2. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    46
  3. شفقت الرحمن
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    1,619
  4. سیما آفتاب
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    1,143
  5. سیما آفتاب
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    1,311

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں