خطبہ حرم مدنی اسوۂ ابراہیمی؛ تزکیۂ نفس اور حرمتِ زمان و مکان از ڈاکٹر احمد بن علی الحذیفی 14 ذو القعدہ 1447

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏مئی 2, 2026 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    770
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر احمد بن علی حذیفی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 14 ذوالقعدہ 1447ہجری کا خطبہ جمعہ " اسوۂ ابراہیمی؛ تزکیۂ نفس اور حرمتِ زمان و مکان" کے عنوان پر ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے حج، بیت اللہ کی عظمت اور سیدنا ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی سیرتِ ایمانی کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا۔ خطیب محترم نے واضح کیا کہ بیت اللہ کی تعمیر اور اس سے وابستہ شعائر محض تاریخی واقعات نہیں بلکہ ایمان، توحید، تسلیم و رضا اور اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد کی زندہ نشانیاں ہیں۔ انہوں نے ہاجرہ اور ابراہیم علیہما السلام کے اس بے مثال یقین کو اجاگر کیا جس کے تحت انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے کامل سپردگی اختیار کی، اور بتایا کہ یہی روحِ عبودیت مومن کی اصل شان ہے۔ انہوں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مختلف دعاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ نکتہ نمایاں کیا گیا کہ ان میں توحید کی حفاظت، عبادت کے قیام، اولاد کی اصلاح، اہلِ ایمان کی خیر خواہی اور امت کے لیے رسول کی بعثت جیسی عظیم تمنائیں شامل تھیں۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ ان مبارک ایام اور مقدس مقامات کی قدر پہچانی جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں زمان و مکان دونوں کی فضیلت جمع فرما دی ہے۔ آخر میں مسلمانوں کی اصلاح، کمزور مسلمانوں کی نصرت، حرمین شریفین کے تحفظ اور اسلام و مسلمانوں کے غلبے کے لیے دعا کی گئی، اور سامعین کو شکر، ذکر اور اطاعتِ الٰہی کی تلقین کی گئی۔
    پی ڈی ایف فارمیٹ میں پڑھنے/ پرنٹ کرنے کے لیے کلک کریں:
    https://drive.google.com/.../11cps65hRTPV89WYwlLtkuAYz...
    پہلا خطبہ:
    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، اور اپنے نفسوں کے شر اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

    { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ } ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔‘‘ [آل عمران: 102]

    {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا، وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا } ’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا، اور ان دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا، اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کا بھی لحاظ رکھو، بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔‘‘[ النساء: 1]

    {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ۝ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ، وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا } ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہا کرو، وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ بڑی کامیابی پا گیا۔‘‘ [الأحزاب: 70-71]

    بعد ازاں:

    میں اپنے آپ اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، جو باطن کے شاد ہونے کا سب سے عظیم ذریعہ اور ظاہر کے سنورنے کی سب حسین آرائش ہے؛ بے شک یہی فضائل کے حصول کا قریب ترین وسیلہ اور کامیابی کے عظیم ترین اسباب میں سے ہے۔

    {الحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ، فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الحَجِّ، وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ، وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى، وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الأَلْبَابِ } ’’حج کے مہینے معلوم ہیں، پس جو شخص ان میں حج اپنے اوپر لازم کر لے تو حج کے دوران نہ شہوانی بات ہو، نہ گناہ، اور نہ جھگڑا؛ اور تم جو نیکی بھی کرو گے اللہ اسے جانتا ہے، اور زادِ راہ اختیار کرو، بے شک بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے، اور اے عقل والو! مجھ سے ڈرو۔‘‘ [البقرة: 197]

    ایمانی بھائیو! اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم کتاب میں انبیاء و مرسلین کے جو سچے واقعات ذکر فرمائے ہیں، ان میں عبرت و نصیحت کا ایک زر خیز اور شیریں سرچشمہ موجود ہے، جو پند و نصائح کے بے شمار مناظر سے لبریز ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: { لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الأَلْبَابِ، مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَى، وَلٰكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ، وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ، وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ } ’’یقیناً ان کے واقعات میں عقل والوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔ یہ کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں بلکہ اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق، ہر چیز کی تفصیل، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔‘‘ [يوسف: 111]

    اور انہی قرآنی واقعات اور ربانی خبروں میں سے ایک وہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اشارہ فرمایا—آپ پر اور ہمارے نبی پر صلاۃ و سلام ہو—جب آپ ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل علیہما السلام کے ساتھ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا آمِنًا، وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ } ’’اور جب ابراہیم نے کہا: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے اور اس کے رہنے والوں کو پھلوں کا رزق عطا فرما۔‘‘[ البقرة: 126]

    اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا البَلَدَ آمِنًا، وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الأَصْنَامَ } ’’اور جب ابراہیم نے کہا: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے، اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔‘‘ [إبراهيم: 35] یہ اس وقت کی بات ہے جب ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں اس سنسان اور بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑا تھا۔

    اور اس حیرت انگیز واقعے کی تفصیل، جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے، یہ ہے کہ صحيح بخاری اور دیگر محدثین نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہاجرہ اور ان کے شیر خوار بیٹے اسماعیل کو مکہ لے کر آئے تو انہیں بیت اللہ کے مقام کے قریب تنہا سایہ دار درخت کے نیچے ٹھہرا دیا، جبکہ اس وقت مکہ میں نہ پانی تھا اور نہ کوئی انسان۔ آپ نے ان کے لیے کھجوروں کی ایک تھیلی اور پانی کا ایک مشکیزہ چھوڑا، پھر واپس روانہ ہو گئے۔

    تو اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ان کے پیچھے چل پڑیں اور کہنے لگیں: ’’اے ابراہیم! آپ ہمیں اس وادی میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی اور چیز؟‘‘ انہوں نے یہ بات بار بار کہی اور ابراہیم علیہ السلام ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ پھر انہوں نے پوچھا: ’’کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسی کا حکم دیا ہے؟‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ وہ بولیں: ’’تب تو اللہ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔‘‘

    پھر وہ واپس لوٹ آئیں، اور ابراہیم علیہ السلام آگے بڑھتے گئے، یہاں تک کہ جب ثنیۂ کداء پر پہنچے، جہاں سے وہ انہیں دیکھ نہیں سکتے تھے، تو بیت اللہ کی طرف رخ کر کے وہ دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے یوں نقل فرمایا ہے: {رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ المُحَرَّمِ، رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ، وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ } ’’اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد کو تیرے حرمت والے گھر کے پاس ایک بے آب و گیاہ وادی میں بسایا ہے، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں، پس لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما، تاکہ وہ شکر ادا کریں۔‘‘ [إبراهيم: 37]

    پھر ایک مدت کے بعد ابراہیم علیہ السلام واپس آئے، اور اس وقت ان کے بیٹے اسماعیل جوان ہو چکے تھے۔ جب آپ پہنچے تو دیکھا کہ اسماعیل زمزم کے قریب ایک درخت کے نیچے اپنے تیر درست کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے اپنے والد کو دیکھا تو اٹھ کر ان کی طرف بڑھے، اور دونوں نے ایک دوسرے سے وہی محبت بھرا برتاؤ کیا جو باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے کرتا ہے۔ پھر ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ’’اے اسماعیل! اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک حکم دیا ہے۔‘‘
    انہوں نے عرض کیا: ’’آپ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کیجیے۔‘‘
    ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ’’کیا تم میری مدد کرو گے؟‘‘
    انہوں نے عرض کیا: ’’میں آپ کی مدد کروں گا۔‘‘
    ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہاں ایک گھر بناؤں۔‘‘
    اور آپ نے ایک بلند ٹیلے کی طرف اشارہ فرمایا۔

    پس دونوں نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھانا شروع کر دیں؛ اسماعیل علیہ السلام پتھر لاتے جاتے تھے اور ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے جاتے تھے، اور دونوں یہ دعا کرتے جاتے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے یوں ذکر فرمایا ہے:

    { رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا، إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العَلِيمُ } ’’اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما، بے شک تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔‘‘ [البقرة: 127] ان دونوں پر اور ہمارے نبی پر صلاۃ و سلام ہو۔

    یہ واقعہ اللہ تعالیٰ پر ایمان، اسی کی بندگی، اور اس کے حکم کے سامنے کامل سرِ تسلیم خم کرنے سے لبریز ہے۔

    اس قصے کے پہلے منظر میں آپ کو اللہ تعالیٰ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی اپنے رب کے حکم کے سامنے حیرت انگیز تابعداری دکھائی دیتی ہے؛ ایسا راسخ ایمان اور ایسا مضبوط یقین کہ نفس کے وسوسے اور دل کے خطرات بھی اسے متزلزل نہیں کر سکے۔

    اسی طرح ہاجرہ علیہا السلام کا اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا بھی انسان کو حیران کر دیتا ہے؛ یقیناً ان کا دل اطمینان نے بھرا ہوا اور اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد سے لبریز تھا۔

    یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے عظیم گھر کی تعمیر کے لیے تمہید تھی، تاکہ اس سنسان وادی میں اس کے خلیل ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہما السلام کے ہاتھوں اس کا گھر تعمیر ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس گھر کو لوگوں کے لیے مرجع اور جائے امن بنایا، توحید کے عظیم ترین شعائر میں سے ایک شعار بنایا، اور اللہ تعالیٰ کے لیے خالص عبادت کی نمایاں ترین علامت قرار دیا۔ نیز اللہ تعالی نے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دیے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرمایا، تاکہ وہ شکر گزار بنیں؛ یہ سب خلیل اللہ علیہ السلام کی دعاؤں کی قبولیت تھی۔

    پھر زمانے گزرتے گئے، صدیاں بیتتی رہیں، مگر خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کی یہ صدا آج بھی ہر شہری و دیہاتی کے کان میں گونج رہی ہے: { وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ } ’’اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو، وہ آپ کے پاس پیدل بھی آئیں گے اور ہر دُبلے اونٹ پر بھی۔‘‘ [الحج: 27]

    چنانچہ یہ حاجیوں کے قافلے اور اللہ کے گھر کا قصد کرنے والوں کے ہجوم ہیں جو ان دنوں ہر دور دراز راستے سے چلے آ رہے ہیں، تاکہ اپنے منافع دیکھیں، اپنے مناسک ادا کریں اور بیت عتیق کا طواف کریں۔ وہ ان مقدس مقامات کی طرف حاضر ہو رہے ہیں؛ سکینت اور ایمان کے بادل ان پر سایہ فگن ہیں، راحت، خوش حالی اور امن کی ہوائیں انہیں گھیرے ہوئی ہیں۔ {وَإِذْ جَعَلْنَا البَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا، وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى، وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ } ’’اور جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے بار بار لوٹنے کی جگہ اور امن کا مقام بنایا، اور حکم دیا کہ مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ، اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔‘‘ [البقرة: 125]

    اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو قرآنِ عظیم سے برکت عطا فرمائے، اور اپنے نبی کریم ﷺ کی سنت سے ہمیں نفع دے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور آپ سب کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں، بے شک وہی نہایت بخشنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے۔


    دوسرا خطبہ:
    تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں، جو ہمیشہ سے انعام و احسان فرما رہا ہے، اور اپنی نعمتوں کے لطیف مظاہر کے ذریعے فضل و امتنان میں اضافہ فرماتا رہتا ہے۔ اس نے اپنے کرم اور احسان سے تمہیں طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائیں، اپنی سخاوت سے تمہیں تمہاری سوچ سے بڑھ کر نوازا، اپنے عطا سے تمہیں وہ کچھ بخشا جو تمہاری چاہتوں سے بھی بڑھ کر ہے، تمہارے لیے رات اور دن کو مسخر فرمایا، اور تمہیں ہر اس چیز میں سے عطا فرمایا جو تم نے اس سے مانگی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ پر رحمت نازل فرمائے، آپ ہی خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں، اللہ تعالی کے پیغامات اور خبروں کو پہنچانے والے ہیں؛ اور اللہ تعالیٰ آپ کی آل، صحابہ کرام، پیروکاروں اور اولیاء پر قیامت کے دن تک باقی رہنے والی رحمت و سلامتی نازل فرمائے۔

    بعد ازاں:

    امتِ اسلام! اس واقعے کے دروس و عبر میں سے ایک اہم پہلو وہ عظیم دعائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل علیہ السلام سے نقل فرمائی ہیں، جن پر ان دونوں مواقع کے اختتام سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان دعاؤں میں وہ ایمانی روح ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے ٹوٹ کر جھکنے، اس کے حضور کامل محتاجی، اور اس کی سچی بندگی سے لبریز ہے۔ یہ چیز شرک سے حفاظت، اور توحید کے صاف آئینے کو داغ دار کرنے والی ہر چیز سے بچاؤ کی دعا میں نمایاں ہوتی ہے؛ یہ اس شخص کی دعا ہے جو اپنے دین کے بارے میں نہایت محتاط ہے، اور شرک سے تحفظ کے لیے اپنی قوت و ہمت کو کوئی اہمیت نہیں دیتا بلکہ اللہ تعالی سے گزارش کرتا ہے کہ: {رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا البَلَدَ آمِنًا، وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الأَصْنَامَ ۝ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ، فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي، وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ } ’’اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے، اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ اے میرے رب! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے، پس جو میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے، اور جو میری نافرمانی کرے تو بے شک تو نہایت بخشنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ [إبراهيم: 35-36]

    یہی کیفیت اس وقت بھی ظاہر ہوتی ہے جب انہوں نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے عمل کی قبولیت مانگی؛ یہ اس شخص کی دعا تھی جو اپنے عمل پر نازاں نہیں، بلکہ اس عمل کی توفیق میں بھی صرف اپنے خالق کا احسان دیکھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی سے سرِ تسلیم خم کرنے اور اس کی طرف رجوع کی درخواست کرتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ القَوَاعِدَ مِنَ البَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا، إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العَلِيمُ ۝ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ، وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ، وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ } ’’اور جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے، تو وہ دعا کر رہے تھے: اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، بے شک تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔ اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا، اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک ایسی امت پیدا فرما جو تیری فرمانبردار ہو، ہمیں ہمارے مناسک سکھا، اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی بہت توبہ قبول فرمانے والا، نہایت رحم کرنیوالا ہے۔‘‘ [البقرة: 127-128]

    اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کی اپنی اولاد کے لیے شفقت، ان سے اور تمام اہلِ ایمان سے محبت، اور ان کے لیے اور بعد میں آنے والوں کے لیے سچی خیر خواہی بھی نمایاں ہوتی ہے؛ اس میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کو قائم رکھنا اور اسی کی رضا کو مقدم کرنا مقصود ہے۔ چنانچہ آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی: {رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ المُحَرَّمِ، رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ، وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ } ’’اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد کو تیرے حرمت والے گھر کے پاس ایک بے آب و گیاہ وادی میں بسایا ہے، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں، پس لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے، اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما، تاکہ وہ شکر ادا کریں۔‘‘ [إبراهيم: 37]

    آپ نے مزید دعا فرمائی اور کہا: { رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي، رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ۝ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الحِسَابُ } ’’اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا، اور میری اولاد کو بھی، اے ہمارے رب! میری دعا قبول فرما۔ اے ہمارے رب! مجھے، میرے والدین کو اور ایمان والوں کو اس دن بخش دے جب حساب قائم ہو گا۔‘‘ [إبراهيم: 40-41]

    آپ بعد والوں کے لیے خصوصی دعا فرمائی: { رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ، يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ، وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتَابَ وَالحِكْمَةَ، وَيُزَكِّيهِمْ، إِنَّكَ أَنْتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ } ’’اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیج، جو ان پر تیری آیات پڑھے، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے، اور ان کا تزکیہ کرے، بے شک تو ہی سب پر غالب، بڑی حکمت والا ہے۔‘‘ [البقرة: 129]

    یہ ایسی دعائیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ صدق، اس کے سامنے عاجزی اور اس کی طرف جھکاؤ کے انوار جھلکتے ہیں، اور جن سے مخلوق کے لیے خیر خواہی اور ان کے ساتھ نصیحت و بھلائی کا خوش گوار عطر مہکتا ہے۔

    اہلِ ایمان خواتین و حضرات! ان مبارک دنوں میں ان عظیم مفاہیم کو اپنے دلوں میں تازہ رکھیے؛ یہ وہ ایام ہیں جن کا وقت نہایت معزز، جن کی برکتیں بارآور، جن کی قدر و منزلت بلند، اور جن کی فضیلت اپنے کمال کو پہنچ چکی ہے۔ اس کریم مہینے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دو عظیم فضیلتیں جمع ہو گئی ہیں: ایک یہ کہ یہ حج کے مہینوں میں دوسرا مہینہ ہے، اور دوسری یہ کہ یہ مسلسل آنے والے حرمت والے مہینوں میں پہلا مہینہ ہے۔

    پھر جب اس کے ساتھ جگہ کا شرف بھی شامل ہو جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان مقدس مقامات میں چن لیا ہے، تو اس نے تمہارے لیے زمانے اور جگہ، دونوں کا شرف جمع فرما دیا؛ آپ سکینت اور ایمان کی ٹھنڈی چھاؤں میں آرام پا رہے ہو، اور خوش حالی و امن کے گلستان میں آسودہ ہو۔

    یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین عطاؤں اور روشن ترین نعمتوں میں سے ہے، جو اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی جائے، اور اس مبارک سرزمین کے حکمرانوں کے لیے کامیابی، درست رہنمائی اور دونوں جہانوں میں کامل جزا کی دعا کی جائے۔

    اے اللہ! حرمین شریفین، دونوں مقدس مسجدوں اور ان کا قصد کرنے والوں کی خدمت میں جو کچھ وہ پیش کر رہے ہیں، اس کے بدلے انہیں دنیا و آخرت میں بھر پور اور کامل جزا عطا فرما۔

    پھر تمام مخلوق میں سب سے بہتر اور تمام انسانوں کے سردار پر کثرت سے درود و سلام بھیجو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الجُمُعَةِ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ؛ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ) ’’تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔‘‘

    اے اللہ! اولین و آخرین کے سردار، جہانوں کے لیے تیری رحمت، ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر رحمت و سلامتی اور برکت نازل فرما، تابعین پر اور قیامت کے دن تک نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر بھی، اور اپنے احسان، کرم اور فضل سے ہمیں بھی ان کے ساتھ شامل فرما، یا ارحم الراحمین!

    اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اور کفر و کافروں کو ذلیل فرما۔

    یا رب العالمین! اس شہر کو امن والا، مطمئن اور بابرکت بنا، اور اسی امن و برکت کو مسلمانوں کے تمام ممالک میں عام فرما۔

    یا اللہ! مسلمانوں کے حالات ہر جگہ درست فرما۔ اے اللہ! مسلمانوں کے حالات ہر جگہ اور ہر عہد میں درست فرما، یا رب العالمین!

    اے اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو کمزور اور بے بس مسلمانوں سے سختی اور تکلیف دور فرما، اور انہیں تیرے دشمن اور ان کے دشمن کے مقابلے میں نصرت عطا فرما، یا رب العالمین! یا قوی! یا متین!

    اے اللہ! اس مبارک سرزمین کی حفاظت فرما، جو حرمین شریفین کی آغوش، سید المرسلین ﷺ کی آرام گاہ اور مسلمانوں کے دلوں کا مرکز ہے۔

    یا اللہ! اپنی خصوصی حفاظت کے ذریعے اس کی حفاظت فرما، اس سے سازش کرنے والوں کی سازش دور فرما، اور مکر کرنے والوں کا مکر اسی پر لوٹا دے، یا رب العالمین!

    یا اللہ! یہاں کے علمائے کرام حکمرانوں کی حفاظت فرما۔ یا اللہ! یہاں کے حکمرانوں اور علمائے کرام کی حفاظت فرما، اس کی حرمتوں، مقدس مقامات، قدرتی وسائل، عقیدے، دین، امن اور ایمان کی حفاظت فرما، یا رب العالمین!

    اے اللہ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما اور ہمارے سپاہیوں کی نگہبانی فرما، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ہم تیرے اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ عالیہ کے واسطے سے سوال کرتے ہیں کہ تو اپنی حفاظت کے ساتھ اس کی حفاظت فرما، یا رب العالمین! اور تمام مسلمانوں کے ممالک کی حفاظت فرما، یا اکرم الاکرمین!

    اے اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کی خصوصی حفاظت فرما، اور انہیں اپنی پناہ اور نگہداشت میں رکھ، یا رب العالمین!

    اے اللہ! انہیں ہر اس کام کی توفیق عطا فرما جس میں خیر، نفع اور درستگی ہو، اور جس میں ملک و قوم کی اصلاح ہو۔

    اے اللہ! ہم تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتے ہیں جسے تو جانتا ہے، اور ہر اس شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں جسے تو جانتا ہے، اور جو کچھ تو جانتا ہے اس پر تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں؛ بے شک تو ہی غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔

    { رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ } ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘[ البقرة: 201]

    اللہ کے بندو!

    اپنے رب کے فضل کو اس کے شکر کے ذریعے باقی رکھو، اس کی نعمت کو اس کے حکم کی پیروی کے ذریعے محفوظ کرو، اور اس سے دعا اور ذکر کو اپنی زبانوں پر جاری رکھو۔

    { سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ۝ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ۝ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ } ’’پاک ہے آپ کا رب، عزت کا رب، ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ اور سلام ہو رسولوں پر۔ اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘ [الصافات: 180–182]
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں