توحید اور شرک کی تعریف ، بریلوی نقطہ نظر

آزاد نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏ستمبر 14, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    ّعقیدہ توحید پر آپ حضرات کی بحث کافی عالمانہ ھے مآشآاللہ میں بھی اپنے ناقص علم کے مطابق کوچھ لکھنے کی کوشش کرون گا لکھنے سے پھلے اللہ سے دعا کروں گا کہ اللہ مجھے حق سچ بیان کرنے کی توفیق دے آمین
    سب سے پہلے توحید کی تعریف۔۔۔۔۔۔۔۔توحید یہ ھے کہ اللہ کو ذات اور صفات میں ہر 1 سے بلند وبالا سمجھنا اور اسے شریک ہونے سے مبرا سمجھنا۔اور آنبیاءکی سب سے اول دعوت ۔دعوت توحید ہے
    اور یہی پہلی منزل اور جگہ ہے جہاں پر انسان اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے ارشاد باری تعالی ہے ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا آن اعبدواللہ واجتنبوا الطاغوت اگے فرمایا۔وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الٰہ الّا انافاعبدون،، کہ ہر نبی کی دعوت ۔دعوت توحید تھی اُمرت آن اقاتل الناس حتی یشھدوا انّ لاّالٰہ الا اللہ وان محمدرسول اللہ تو اس لیے ضروری ہے کہ بغیرغورو فکر اور دلائل پر نظر رکھنے کے اللہ کو 1 معبود اور محمد صلیاللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری رسول تسلیم کیا جائےاگر کوئی نابالغ بچہ ان دونوں باتون کا اقراری ہے تو زمانہ بلوغت کے وقت اسے دوبارہ اقرار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں البتہ پاکیزگی اور اھکام شریعت کی پابندی ضروری ہے جس طرح اسلام میں داخل ہونے کے لیے اول توحید ہے اسی طرح دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے آخری وقت میں بھی توحید کا اقرار ضروری ہے فرمان نبوی ہے من کان آخر کلامہ لا الٰہ الا اللہ دخل الجنۃ


    توحید کی اقسام ؛توحید کی 3 اقسام ہیں

    1۔توحید فی الصفات 2،توحید فی الربوبیت 3۔توحید فی الالوہیت

    1۔توحید فی الصفات ؛ جس طرح اللہ تعالی اپنی ذات میں تنہا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح وہ اپنی صفات میں بھی تنہا ہے ان میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں مثلا اللہ کی صفت ہے کہ وہ سنتا ہے اور انسان بھی سنتا ہے لیکن اللہ کا سننا انسان کے سننے کے مثل نہیں ہے 2 ،توحید فی الربوبیت ؛ توحید فی الربوبییت اس اقرار کا نام ھے کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور کائنات کے صانع دو نہیں ہیں جو صفات اور افعال میں مقابل ھوں بلکہ صانع صرف 1 ھے توحید فی الربوبییت کسی کو شک نہیں یہاں تک کہاہل فلسفہ متکلمین اور صوفیاء کی ایک جماعت بھی اس کے قائل ھیں اور فطری طور پر اولاد ادم کے دلوں میں یہ اقرار موجود ھے اسی بات کا اقرار انبیاء نے لوگوں سے کروایا قالت رسلھم افی اللہ شک فاطر السموٰت والارض
     
  2. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    اور یہ بات مشیور ہے کہ فرعون نے جواللہ کے صانع ہونے سے انکار کا مظاہرہ کیا تھا ۔وہ در حقیقت باطن میں اس کا اقرار کرتا تھا جیسا کہ موسی علیہ نے فرعون کو کہا لقد علمت ما انزل اللہ ھؤلاء الا رب السموٰت والارض
    بصائر تم جانتے ھو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگارکے سوا اس کو کسی نے نازل نہیں کیا صرف تمھیں سمجھ اور بصیرت دینے کے لیے اور دوسرے مقام پر اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کے بارے میں فرمایا وجحدو بھاواستیقنتھآ انفسھم ظلماً وّولوًا
    اور بے انصافی اور غرور سے انھوں نے انکار کیا لیکن ان کے دل آیات الٰہی کوتسلیم کر چکے تھے تو اس کائنات کا خالق۔ صانع صرف 1ھے 2 نٰٰہیں اگر دو ھوتے اور ان میں سے 1 کسے جسم کو ھرکت دیتا اور دوسرا اسے سکون کا حکم دنتا تو صاف ظاہر ھے کہ زمین پر فتنہ و فساد برپا ھونا تھا۔
    ارشاد باری تعالی ھے لو کان فیھما الھۃالا اللہ لفسدتا کہ اگر زمین و اسمان میں اللہ کے علاوہ معبود ھوتے تو فتنہ و فساد برپا ھو جاتا،
     
  3. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    توحید الالو ہیت؛ توحید فی الالوہیت کا مطلب یہ ھے کہ صرف 1 اللہ وغدہ لا شریک کی عبادت کی جائے اور اسی سے مدد لی جائے اور اسی کو ملجا و ماوی سمجھا جائے چنانچہ انبیا علیہم السلام نے اسی توحید کو پھیلا یا اور یہی اللہ تعالی کا مقصود تھا وگرنہ توحید فی الربوبیت پہلے ہی موجود تھی اور توھید فی الالوہیت بھی بھی توحید فی الربوبیت کو شا مل ھے ارشاد باری ھے فاقم وجھک للدین حنیفآ فطرۃ اللہ التی فطرالناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ ذٰلکالدین القیم ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون جب مشرکین مکہ توحید ربوبیت کے قائل تھے اور توحید الالوہیت کے منکر تھے تو اللہ نے ان کے سامنے بیان کیا کہ جب تم یقین رکھتے ھو کہ کائنات کا خالق اس کے سوا کوئی نہیں اور وہ ہی ھے جو نفع ونقصان پہنچاتا ھے اس مین اس کا کوئی شریک نہیں تو تم اس کی عبادت کیوں نہیں کرتے اور کیوں اس کا شریک بناتے ھو
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں