ن۔م راشد تعارف و انتخابِ کلام

سخنور نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏اکتوبر، 30, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سخنور

    سخنور -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 11, 2007
    پیغامات:
    133
    بات کر -- از ن م راشد

    بات کر -- از ن م راشد

    بات کر مجھ سے
    مجھے چہرہ دکھا میرا کہ ہے
    تیری آنکھوں کی تمازت ہی سے وہ جھلسا ہوا

    بات کر مجھ سے
    مرے رخ سے ہٹا پردہ
    کہ جس پر ہے ریا کاری کے رنگوں کی دھنک
    پھیلی ہوئی
    وہ دھنک جو آرزو مندی کا آیئنہ نہیں
    بامداد شوق کا زینہ نہیں!

    (تو نے دیکھا تھا کہ کل میں (اک گداگر
    صبح کی دیوار کے سائے تلے
    ٹھٹھرا ہوا پایا گیا ــــــــــ
    تیری آنکھیں، تیرے لب تکتے رہے
    ان کی گرمی پر یقیں کیسے مجھے آتا کہ میں
    اپنے دل کے حادثوں کی تہہ میں تھا
    یادوں سے غزلایا ہوا!

    بات کر مجھ سے
    کہ اب شب کے سحر بننے میں
    کوئی فاصلہ باقی نہیں

    بات کر مجھ سے کہ تیری بات
    خطّ نسخ ہو بر روئے مرگ
    اب اتر جا چشم و گوش و لب کے پار
    اجڑے شہروں کی گزرگاہوں پہ
    آوازوں کی قندیلیں اتار

    راز کی لہریں
    ابھر آئیں قطار اندر قطار!
     
  2. سخنور

    سخنور -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 11, 2007
    پیغامات:
    133
    زندگی میری سہ نیم

    زندگی میری سہ نیم

    میں سہ نیم اور زندگی میری سہ نیم
    دوست داری، عشق بازی، روزگار
    زندگی میری سہ نیم!
    دوستوں میں دوست کچھ ایسے بھی ہیں
    جن سے وابستہ ہے جاں،
    اور کچھ ایسے بھی ہیں، جو رات دن کے ہم پیالہ، ہم نوالہ
    پھر بھی جیسے دشمنِ جانِ عزیز!
    دوستی کچھ دشمنی اور دشمنی کچھ دوستی
    دوستی میری سہ نیم!

    عشق محبوبہ سے بھی ہے اور کتنی اور محبوباؤں سے،
    ان میں کچھ ایسی بھی ہیں
    جن سے وابستہ ہے جاں
    اور کچھ ایسی بھی ہیں جو عطرِ بالیں، نورِ‌بستر
    پھر بھی جیسے دشمنِ جانِ عزیز!
    اِن میں کچھ نگرانِ دانہ اور کچھ نگرانِ دام
    عشق میں‌کچھ سوز ہے، کچھ دل لگی، کچھ "انتقام"
    عاشقی میری سہ نیم!

    روزگار اِک پارہء نانِ جویں کا حیلہ ہے
    گاہ یہ حیلہ ہی بن جاتا ہے دستورِ حیات
    اور گاہے رشتہ ہائے جان و دل کو بھول کر
    بن کے رہ جاتا ہے منظورِ حیات
    پارہء ناں کی تمنّا بھی سہ نیم
    میں سہ نیم اور زنگی میری سہ نیم!‌
     
  3. سخنور

    سخنور -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 11, 2007
    پیغامات:
    133
    ظلمِ رنگ

    ظلمِ رنگ

    "یہ میں ہوں!"
    "اور یہ میں ہوں!" ـــــــ
    یہ دو میں‌ ایک سیمِ‌نیلگوں کے ساتھ آویزاں
    ہیں شرق وغرب کے مانند،
    لیکن مِل نہیں سکتے!
    صدائیں رنگ سے نا آشنا
    اک تار ان کے درمیاں‌حائل!

    مگر وہ ہاتھ جن کا بخت،
    مشرق کے جواں سورج کی تابانی
    کبھی اِن نرم و نازک، برف پروردہ حسیں باہوں
    کو چھو جائیں،

    محبّت کی کمیں‌گاہوں کو چھو جائیں ــــــــــ
    یہ ناممکن! یہ ناممکن!
    کہ "ظلمِرنگ" کی دیوار ان کے درمیاں حائل!

    "یہ میں‌ہوں!"
    انا کے زخم خوں آلودہ، ہر پردے میں،
    ہر پوشاک میں‌عریاں،
    یہ زخم ایسے ہیں‌جو اشکِ ریا سے سِل نہیں سکتے
    کسی سوچے ہوئے حرفِ وفا سے سِل نہیں‌سکتے!
     
  4. سخنور

    سخنور -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 11, 2007
    پیغامات:
    133
    حرفِ ناگفتہ

    حرفِ ناگفتہ

    حرفِ ناگفتہ کے آزار سے ہشیار رہو
    کوئے و برزن کو،
    دروبام کو،
    شعلوں کی زباں چاٹتی ہو،
    وہ دہن بستہ و لب دوختہ ہو ــــــــ
    ایسے گنہ گار سے ہشیار رہو!

    شحنہء شہر ہو، یا بندہء سلطاں ہو
    اگر تم سے کہے: "لب نہ ہلاؤ"
    لب ہلاؤ، نہیں، لب ہی نہ ہلاؤ
    دست و بازو بھی ہلاؤ،
    دست و بازو کو زبان و لبِ گفتار بناؤ
    ایسا کہرام مچاؤ کہ سدا یاد رہے،
    اہلِ دربار کے اطوار سے ہشیار رہو!

    اِن کے لمحات کے آفاق نہیں -
    حرفِ ناگفتہ سے جو لحظہ گزر جائے
    شبِ وقت کا پایاں ہے وہی!
    ہائے وہ زہر جو صدیوں کے رگ و پے میں سما جائے
    کہ جس کا کوئی تریاق نہیں!
    آج اِس زہر کے بڑھتے ہوئے
    آثار سے ہشیار رہو
    حرفِ ناگفتہ کے آزار سے ہشیار رہو!
     
  5. سخنور

    سخنور -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 11, 2007
    پیغامات:
    133
    مجھے وداع کر

    مجھے وداع کر


    مجھے وداع کر
    اے میری ذات، مجھے وداع کر
    وہ لوگ کیا کہیں گے، میری ذات،
    لوگ جو ہزار سال سے
    مرے کلام کو ترس گئے؟

    مجھے وداع کر،
    میں تیرے ساتھ
    اپنے آپ کے سیاہ غار میں
    بہت پناہ لے چُکا

    میں اپنے ہاتھ پاؤں
    دل کی آگ میں تپا چکا!

    مجھے وداع کر
    کہ آب و گِل کے آنسوؤں
    کی بے صدائی سُن سکوں
    حیات و مرگ کا سلامِ روستائی سن سکوں!

    مجھے وداع کر
    بہت ہی دیر _______ دیر جیسی دیر ہوگئی ہے
    کہ اب گھڑی میں بیسوی صدی کی رات بج چُکی ہے
    شجر حجر وہ جانور وہ طائرانِ خستہ پر
    ہزار سال سے جو نیچے ہال میں زمین پر
    مکالمے میں جمع ہیں
    وہ کیا کہیں گے؟ میں خداؤں کی طرح _____
    ازل کے بے وفاؤں کی طرح
    پھر اپنے عہدِ ہمدمی سے پھر گیا؟
    مجھے وداع کر، اے میری ذات

    تو اپنے روزنوں کے پاس آکے دیکھ لے
    کہ ذہنِ ناتمام کی مساحتوں میں پھر
    ہر اس کی خزاں کے برگِ خشک یوں بکھر گئے
    کہ جیسے شہرِ ہست میں
    یہ نیستی کی گرد کی پکار ہوں ____
    لہو کی دلدلوں میں
    حادثوں کے زمہریر اُتر گئے!
    تو اپنے روزنوں کے پاس آکے دیکھ لے
    کہ مشرقی افق پہ عارفوں کے خواب ____
    خوابِ قہوہ رنگ میں _____
    امید کا گزر نہیں
    کہ مغربی افق پہ مرگِ رنگ و نور پر
    کِسی کی آنکھ تر نہیں!

    مجھے وداع کر
    مگر نہ اپنے زینوں سے اُتر
    کہ زینے جل رہے ہیں بے ہشی کی آگ میں ____
    مجھے وداع کر، مگر نہ سانس لے
    کہ رہبرانِ نو
    تری صدا کے سہم سے دبک نہ جائیں
    کہ تُو سدا رسالتوں کا بار اُن پہ ڈالتی رہی
    یہ بار اُن کا ہول ہے!
    وہ دیکھ، روشنی کے دوسری طرف
    خیال ____ بھاگتے ہوئے
    تمام اپنے آپ ہی کو چاٹتے ہوئے!
    جہاں زمانہ تیز تیز گامزن
    وہیں یہ سب زمانہ باز
    اپنے کھیل میں مگن
    جہاں یہ بام و دَر لپک رہے ہیں
    بارشوں کے سمت
    آرزو کی تشنگی لیے
    وہیں گماں کے فاصلے ہیں راہزن!

    مجھے وداع کر
    کہ شہر کی فصیل کے تمام در ہیں وا ابھی
    کہیں وہ لوگ سو نہ جائیں
    بوریوں میں ریت کی طرح _____
    مجھے اے میرے ذات،
    اپنے آپ سے نکل کے جانے دے
    کہ اس زباں بریدہ کی پکار ____ اِس کی ہاو ہُو ___
    گلی گلی سنائی دے
    کہ شہرِ نو کے لوگ جانتے ہیں
    (کاسہء گرسنگی لیے)
    کہ اُن کے آب و نان کی جھلک ہے کون؟
    مَیں اُن کے تشنہ باغچوں میں
    اپنے وقت کے دُھلائے ہاتھ سے
    نئے درخت اگاؤں گا
    میَں اُن کے سیم و زر سے ____ اُن کے جسم و جاں سے ____
    کولتار کی تہیں ہٹاؤں گا
    تمام سنگ پارہ ہائے برف
    اُن کے آستاں سے مَیں اٹھاؤں گا
    انہی سے شہرِ نو کے راستے تمام بند ہیں ____

    مجھے وداع کر،
    کہ اپنے آپ میں
    مَیں اتنے خواب جی چکا
    کہ حوصلہ نہیں
    مَیں اتنی بار اپنے زخم آپ سی چُکا
    کہ حوصلہ نہیں _____
     
  6. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    بہت شکریہ جناب سخنور صاحب ۔۔۔ اس باکمال شئیرنگ پر
     
  7. سخنور

    سخنور -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 11, 2007
    پیغامات:
    133
    پسند کرنے کا بہت شکریہ دانیال صاحب!‌
     
  8. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    بہت خوب گریٹ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں