عبیداللہ علیم - انتخابِ کلام

سخنور نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏اکتوبر، 31, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سخنور

    سخنور -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 11, 2007
    پیغامات:
    133
    محبّت

    محبّت

    میں جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہوں
    نہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہے
    نہ خال و خد کا جمال اس میں، نہ زندگی کا کمال کوئی
    جو کوئی اُس میں ہُنر بھی ہوگا
    تو مجھ کو اس کی خبر نہیں ہے
    نہ جانے پھر کیوں!
    میں وقت کے دائروں سے باہر کسی تصوّر میں اُڑ رہا ہوں
    خیال میں، خواب و خلوتِ ذات و جلوتِ بزم میں شب و روز
    مرا لہو اپنی گردشوں میں اسی کی تسبیح پڑھ رہا ہے
    جو میری چاہت سے بے خبر ہے
    کبھی کبھی وہ نظر چرا کر قریب سے میرے یوں بھی گزرا
    کہ جیسے وہ باخبر ہے
    میری محبتوں سے
    دل و نظر کی حکایتیں سن رکھی ہیں اس نے
    مری ہی صورت
    وہ وقت کے دائروں سے باہر کسی تصوّر میں اُڑ رہا ہے
    خیال میں، خواب و خلوتِ ذات و جلوت ِ بزم میں شب و روز
    وہ جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہے
    مگر نہیں جانتا یہ وہ بھی
    کہ ایسا کیوں ہے
    میں سوچتا ہوں، وہ سوچتا ہے
    کبھی ملے ہم تو آئینوں کے تمام باطن عیاں کریں گے
    حقیقتوں کا سفر کریں گے
     
  2. سخنور

    سخنور -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 11, 2007
    پیغامات:
    133
    محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں

    محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں
    جو دل گلاب ہیں زخموں سے بھر نہ جائیں کہیں

    ابھی تو وعدہ و پیماں اور یہ حال اپنا
    وصال ہوتو خوشی سے ہی مر نہ جائیں کہیں

    یہ رنگ چہرے کے اور خواب اپنی آنکھوں کے
    ہوا چلے کوئی ایسی بکھر نہ جائیں کہیں

    جھلک رہا ہے جن آنکھوں سے اب وجود مرا
    یہ آنکھیں ہائے یہ آنکھیں مکر نہ جائیں کہیں

    پکارتی ہی نہ رہ جائے یہ زمیں پیاسی
    برسنے والے یہ بادل گزر نہ جائیں کہیں

    نڈھال اہلِ طرب ہیں کہ اہلِ گلشن کے
    بجھے بجھے سے یہ چہرے سنور نہ جائیں کہیں

    فضائے شہر عقیدوں کی دھند میں ہے اسیر
    نکل کے گھر سے اب اہلِ نظر نہ جائیں کہیں
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 1, 2008
  3. سخنور

    سخنور -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 11, 2007
    پیغامات:
    133
    خوشا وہ دَور کہ جب تجھ سے رسم و راہ نہ تھی

    خوشا وہ دَور کہ جب تجھ سے رسم و راہ نہ تھی
    سکون کفر نہ تھا زندگی گناہ نہ تھی

    نفس نفس پہ ابھرتی ہوں سولیاں جیسے
    حیات اتنی تو پہلے کبھی تباہ نہ تھی

    بہ فیضِ حسرتِ دیدار خسروانِ جنوں
    ادھر بھی دیکھ گئے جس طرف نگاہ نہ تھی

    خود اپنی روشنئ طبع کے ستائے ہوئے
    وہ ہم تھے دہر میں جن کو کہیں پناہ نہ تھی

    وہ اک نگاہ کہ سب کچھ سمجھ لیا تھا جسے
    تباہئ دل و جاں پر وہی گواہ نہ تھی
     
  4. سخنور

    سخنور -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 11, 2007
    پیغامات:
    133
    کب تک آخر ہم سے اپنے دل کا بھید چھپاؤ گی

    کب تک آخر ہم سے اپنے دل کا بھید چھپاؤ گی
    تمہیں رہ پر اک دن آنا ہے، تم رہ پر آ ہی جاؤ گی

    کیوں چہرہ اُترا اُترا ہے؟ کیوں بُجھی بُجھی سی ہیں آنکھیں؟
    سُنو! عشق تو ایک حقیقت ہے، اسے کب تک تم جُھٹلاؤ گی

    سب رنگ تمہارے جانتا ہوں، میں خوب تمہیں پہچانتا ہوں
    کہو کب تک پاس نہ آؤ گی؟ کہو کب تک آنکھ چُراؤ گی؟

    بھلا کب تک ہم اک دوسرے کو چُھپ چُھپ کر دیکھیں اور ترسیں؟
    ہمیں یار ستائیں گے کب تک تم سکھیوں میں شرماؤ گی؟

    یہ سرو تنی، محشر بدَنی، گُل پیرہنی، گوہر سُخَنی
    سب حسن تمہارا بے قیمت۔۔۔ گر ہم سے داد نہ پاؤ گی

    جب کھیل ہی کھیلا شعلوں کا، پھر آو کوئی تدبیر کریں
    ہم زخم کہاں تک کھائیں گے؟ تم غم کب تک اپناؤ گی

    چلو آؤ بھی۔۔۔ ہم تم مل بیٹھیں۔۔۔ اور نئے سفر کا عہد کریں
    ہم کب تک عمر گنوائیں گے؟ تم کب تک بات بڑھاؤ گی؟

    میں شاعر ہوں، مرا شعر مجھے کسی تاج محل سے کم تو نہیں
    میں شاہ جہانِ شعر تو تم ممتاز محل کہلاؤ گی

    نہیں پاس کیا گر عشق کا کچھ۔۔۔ اور ڈریں نہ ظالم دنیا سے
    شاعر پہ بھی الزام آئیں گے، تم بھی رسوا ہو جاؤ گی
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 1, 2008
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں