مولانا طارق جمیل اور جھوٹی احادیث - copy

عاصم ملک نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏دسمبر 31, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عاصم ملک

    عاصم ملک -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    50
    - کیا دلائل کو قوی ماننے کے لئے کسی کا صاحبِ علم ہونا ضروری شرط ہے؟

    جی ہاں دلائل کی قوت جاننے کے لئے صاحب علم ہونا ضروری ہے،اگر صاحب علم نہیں ہوگا تو اسکو اس چیز کا کیسے پتا چلے گا کہ یہ جوحدیث میرے سامنے آئی ہے اس کی حثیت کیاہے۔
    سبحان اللہ کیسا وقت آگیا ہے کہ بدیھی چیزوں کے لئے بھی دلائل دینے کی ضرورت پڑتی ہے،
    - اور ان دلائل کو قوی ماننے کے لئے وہ صاحبِ علم کس پر انحصار کرے گا؟ اپنی عقل پر؟ یا اپنے نفس کی خواہشات پر؟

    جناب کیسی باتیں کرتے ہیں،آپ اپنے سؤال پر غور کریں تو شائد آپ کو خود اپنے سؤال کے بودے پن کا اندازہ ہوجائیگا،
    بھائی جب آپ نے یہ مان لیا کہ وہ آدمی جب صاحب علم ہے توپھر اس چیز کا کیا سؤال پیدا ہوتا ہے کہ صاحب علم شخص دلائل کی قوت جاننے کے لئے کس چیز پر انحصار کرئے گا جب اس کے پاس علم موجود ہے تو یہ شخص اپنے علم پر انحصار کرئے گا،
    (صاحب علم سے مراد ایسا شخص کہ جس کو علوم میں رسوخ حاصل ہو نہ کہ ایسے اشخاص کہ جو کہ بغل میں بخاری شریف کا ترجمہ لئے گھومتے ہیں اور اپنے آپ کو مجتھد مطلق سمجھتے ہیں،اور حال یہ ہوتا ہے کہ لفظ بخاری بھی صحیح طور پڑھ سکتے۔
    - اور جو صاحبِ علم نہ ہو وہ کیا کرے گا؟

    حضرت جب صاحب علم نہیں ہے تو پھر تقلید کے علاوہ کیا چارہ ہے۔
    ’’فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون،،
     
  2. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    اس آیت کا سیدھا سا اردو ترجمہ شائد آپ بھی جانتے ہی ہوں گے کہ اتنا سا ہی ہے :
    اہل علم سے پوچھو اگر تم نہ جانتے ہو۔

    محترم بھائی ! صرف اتنا بتا دیں‌ کہ کیا کسی سے پوچھنے کا نام ہی "تقلید" ہے؟؟
    عجیب بات ہے کہ میں پچھلی ہی پوسٹ میں احناف کی معتبر کتاب "مسلم الثبوت" سے تقلید کی تعریف نقل کر چکا ہوں پھر بھی آپ ایسا کہنے سے باز نہیں آئے۔ خیر ممکن ہے آپ کی نظر سے وہ تعریف چوک گئی ہو ، لہذا دوبارہ یاد دلا دوں :
    تقلید! نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کے علاوہ )غیر(یعنی امتی) کے قول پر بغیر حجت (دلیل) کے عمل (کا نام) ہے ۔۔۔ اور عامی کا مفتی کی طرف رجوع کرنا ۔۔۔ تقلید میں سے نہیں ہے کیونکہ اسے نص(دلیل) نے واجب کیا ہے
    مزید غور فرمائیے کہ ۔۔۔
    اگر کسی سے کچھ پوچھنے کا نام تقلید ہے تو پھر واللہ ! اس وقت دنیا میں کوئی بھی "حنفی" نہیں ہے۔ کیونکہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تو دنیا میں موجود نہیں لہذا ہر حنفی اپنے علاقے کے مفتی یا مسجد کے امام صاحب سے مسئلہ پوچھتا ہے۔ اس طرح تو وہ فلاں مفتی یا فلاں امامِ مسجد کا مقلد بن گیا نہ کہ امام ابوحنیفہ (رحمۃ اللہ) کا۔

    دوسری بات یہ کہ۔۔۔۔
    یہ آیت تو صریحاً آپ کے موقف کی مخالفت کر رہی ہے!
    کیونکہ ۔۔۔۔۔
    اگر تم کو علم نہ ہو تو پوچھو
    اور یہ اس لئے کہ عمل ، علم کے مطابق ہو سکے اور یہ "علم" اس کے عمل پر دلیل ہو۔
    جبکہ تقلید کی تعریف ہی یہی ہے کہ "بغیر کسی دلیل اور حجت کے اس پر عمل کرنا"

    تیسری اہم بات یہ کہ ۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ نے اہلِ علم سے ان کی اپنی رائے پوچھنے کو نہیں کہا ہے بلکہ
    کسی معاملے میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان کیا ہے؟
    پوچھنے کو کہا ہے!
    اب کیا مجھے یہ بتانے کی بھی ضرورت باقی ہے کہ جب احناف کے صاحبانِ علم سے پوچھا جاتا ہے تو وہ قرآن و حدیث کے دلائل سے جواب دیتے ہیں یا ھدایہ ، فتاوی شامی قاضی وغیرہ سے جواب دیتے ہیں؟؟
    تلخ نوائی کو معاف کیجئے برادر۔

    سب سے آخری بات !
    اگر تھوڑی دیر کے لیے مان بھی لیا جائے کہ درج بالا آیت (النحل:43) سے تقلید ثابت ہوتی ہے تو پھر اس آیت (یونس:94) کا کیا جواب دیں گے آپ؟
    [qh]فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَؤُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ[/qh]
    (اے محمد) جو کچھ ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے اس میں اگر آپ کو کسی قسم کا شک ہو تو آپ پوچھ لیجئے ان لوگوں سے جو کتاب (تورات اور انجیل) پڑھتے ہیں۔

    ذرا فرمائیے ! کیا آپ یہاں بھی یہی کہیں گے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کی تقلید کا حکم کیا ہے (نعوذ باللہ)؟؟
    اگر ایسا نہیں اور یقیناً ایسا نہیں ہے تو۔۔۔۔
    تو پھر میرے محترم بھائی !
    یہاں پر آپ [qh]فَاسْأَلِ[/qh] کا مطلب "تقلید" نہیں لے سکتے اور ہرگز نہیں لے سکیں گے۔
    یقیناً آپ کو بھی علم ہوگا کہ قرآن کی ایک آیت دوسرے کی تفسیر کرتی ہے لہذا معلوم ہوا کہ یہاں پر "[qh]فَاسْأَلُواْ[/qh]" کا معنی "تحقیق" ہے نہ کہ "تقلید" !!
    کیونکہ آیت کا ماقبل ہی بتا رہا ہے
    [qh]وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُون
    النحل:43[/qh]
    آپ سے پہلے ہم نے مردوں کے علاوہ کسی کو نبی بنا کر نہیں بھیجا جن کی طرف ہم وحی بھیجتے رہیں پس اس چیز کا اگر تم کو علم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھ لو یعنی تحقیق کر لو۔

    اب اگر یہاں [qh]"فَاسْأَلُواْ"[/qh] سے مراد "تقلید" لی جائے تو پھر معنی یوں بنیں گے:
    اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نبی ہونے میں تمہیں کوئی شک ہو تو اہل علم یعنی اہل کتاب یہود و نصاریٰ کی تقلید کرو۔
    جبکہ آیت کا یہ مطلب کسی بھی مفسر نے نہیں لیا۔
    اور تو اور ۔۔۔
    موسیٰ علیہ السلام کو بھی قرآن کریم کی موجودگی میں تورات پر عمل کرنے کی اجازت نہیں ہے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. اھل حدیث

    اھل حدیث -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 6, 2008
    پیغامات:
    370
    اسلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔

    عاصم بھائی معاف کیجیئے گا کہ مجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ آتے ہیں بحث کر کے چلے جاتے ہیں، آتے ہیں اپنی رائے اور قیاسات کر کے چلے جاتے ہیں۔۔
    آپ نے اس تھریڈ میں ٹوٹل 7 پوسٹس کی ہیں

    ان 7 میں سے 5 پوسٹس (پوسٹ نمبر 1، 7، 10، 12، 14) میں تو بس آپ نے ادھر ارھر کی باتیں کی ہیں ان 5 پوسٹس میں سے کسی پوسٹ میں حوالے (referance) سے بات نہیں کی۔۔

    باقی پوسٹ نمبر 15 میں آپ نے الملل والنحل کے حوالے سے پوسٹ کی ہے جس میں شرائط الاجتهاد خمسة کا ذکر ہے جو اس تھریڈ کے موضوع سے تعلق نہیں رکھتا۔۔۔ ہاں آپ نے اس پوسٹ میں کسی کا جواب دیا ہے حوالے سے لیکن باقی کا بھی دیں۔۔ اگر آپ کو اس حوالے کی فرصت ملی ہے تو باقیوں‌ کے لیے بھی نکالیں۔۔۔

    پوسٹ نمبر 21 میں آپ نے ایک قرآنی آیت کے حوالے سے بات کی ہے۔۔

    میں آپ سے اپیل کرتا ہو کہ برائے مہربانی اپنی پوسٹس کو مدلل کریں۔۔۔ جب کے باذوق بھائی نے آپ سے پوسٹ نمبر 2 میں ہی حوالوں کا مطالبہ کیا تھا

    بھائی ہم بس آپ کی مدلل پوسٹس کے منتظر ہیں۔۔۔
    والسلام
     
  4. عاصم ملک

    عاصم ملک -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    50
    باذوق جی،
    آپ نے مطالبہ کیا تھا کہ آپکو میں باحوالہ جواب دوں،حوالہ حاضر ہے۔
    کتاب کا نام ہے:الوضع والوضاعین فی احادیث سید المرسلین
    مصنف کانام ہے حبیب اللہ بن عطاالسجستانی۔
    صفحہ نمبر175 پر لکھتے ہیں۔
    [ar]وقال الکتانی،وکتاب الموضوعات الکبری لابی الفرج بن الجوزی الاّ انہ تساھل فیہ کثیرا بحیث اورد فیہ الضعیف بل والحسن والصحیح مما ھو فی سنن ابی داود والترمذی والنسائی وابن ماجہ ومستدرک الحاکم وغیرھا من الکتب المعتمدۃ بل فیہ حدیث فی صحیح مسلم بل وآخر فی صحیح بخاری،فلذلک کثر الانقاد علیہ الی غیر ذلک من الاقوال التی وردت فیہ[/ar]

    ناشر مجلس تعاون اسلامی(پاکستان)

    ”کتانی کہتے ہیں کہ اور ابو فرج ابن جوزی کی کتاب الموضوعات الکبری ہے مگر اس میں انھوں نے بھت تساھل کیا ہے اسطرح کہ اس میں وہ ضعیف بھی لے آئے ہیں بلکہ حسن اور صحیح بھی لے آئے ہیں ان حدیثوں میں سے کہ جو سنن ابو داود،سنن ترمذی،سنن نسائی،سنن ابن ماجہ،اور مستدرک حاکم اور ان کے علاوہ جو بااعتماد کتابوں میں ہیں،بلکہ اس(الموضوعات الکبری)میں ایک حدیث صحیح مسلم کی بھی ہے،بلکہ ایک اور حدیث صحیح بخاری کی بھی ہے،اسی وجہ سے ان پر تنقید زیادہ ہوئی ہے۔
     
  5. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    چلئے اللہ کا شکر کہ آپ نے کوئی حوالہ تو دیا بہرحال۔
    مگر ۔۔۔۔۔
    ذرا غور کیجئے اس قول پر
    کتانی کون ہیں ؟ کیا یہ محمد بن جعفر الكتاني ہیں؟
    میرے علم کی حد تک [QH]امام أبى الفرج عبدالرحمن بن على بن الجوزي القرشى[/QH] نے ایسی کوئی کتاب تحریر کی ہی نہیں جس کا عنوان "الموضوعات الکبری" ہو۔ ابن جوزی کی تقریباً تمام اہم کتب مکتبہ الشاملہ پر یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
    ہاں احادیثِ موضوعۃ پر ابن جوزی نے جو ایک کتاب تحریر فرمائی ہے ، اس کا نام ہے : [QH]الموضوعات من الأحاديث المرفوعات[/QH]
    جو یہاں سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔

    آپ نے حبیب اللہ بن عطاالسجستانی کی بات پر بھروسہ کیا ہے۔ اور عطاالسجستانی نے "کتانی" کے قول پر تکیہ کیا ہے۔
    اور کتانی کہتے ہیں کہ ابن جوزی نے "الموضوعات الکبری" میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ایک ایک حدیث نقل کی ہے۔
    جبکہ آپ نے پہلے کہا تھا :
    یہ "کچھ حدیثیں" اب اِس حوالے میں ، "بخاری کی ایک حدیث" اور "مسلم کی ایک حدیث" کیسے بن گئی ؟؟
    خیر چھوڑیں بھائی ! بڑی بڑی بحثوں میں ایسی چھوٹی موٹی باتیں ہو ہی جاتی ہیں۔ بالخصوص اس وقت جب بخاری یا مسلم کی احادیث پر نزلہ گرانا ہو۔ جیسا کہ دور حاضر میں علامہ تمنا عمادی سے لے کر مولانا حبیب الرحمٰن کاندھلوی تک کا سلسلہ جاری ہے۔

    خیر۔ محترم بھائی۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم اور آپ مل کر ذرا تحقیق کر لیں کہ کیا سچ مچ ابن جوزی نے "الموضوعات" میں صحیح بخاری کی ایک حدیث اور صحیح مسلم کی ایک حدیث درج کر دی ہے؟
    سنی سنی باتوں پر تکے لگانا یا مکھی پر مکھی مارنے کی بہ نسبت بہتر تو یہی ہے کہ ہم بذات خود علامہ جوزی کی "الموضوعات" کو چیک کر لیں۔ ورنہ تو سنی سنائی بات کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں جس قدر سخت وعید آئی ہے وہ تو غالباً آپ کے بھی علم میں ہوگی۔

    [QH]الموضوعات من الأحاديث المرفوعات[/QH] ، تین عدد ورڈ فائلوں میں موجود ہے۔ میں نے اپنی حد تک تو چیک کر لیا ہے مگر مجھے صحیحین کی وہ دو احادیث نہیں ملیں۔ آپ بھی ذرا کچھ تعاون فرمائیں تو ہم اصل حقیقت تک پہنچ جائیں گے ، ان شاءاللہ۔
     
  6. اھل حدیث

    اھل حدیث -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 6, 2008
    پیغامات:
    370
    اسلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔

    عاصم بھائی آپ بہت انتظار کرواتے ہیں۔:00002:۔۔ پتہ نہیں کہاں غائب رہتے ہیں؟:00039:۔۔ چلیں ہم آپ کا سدا انتظار کریں‌ گے۔
     
  7. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,800
    اس بات میں ہم آپ کے ساتھ ہے کیونکہ ہم بھی ان کو مشکوک سمجھتے ہیں ۔ لیکن ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے ، جن کے نصاب میں عامی شخص کے لیے چار مہینے اور عالم کے لیے اٹھارہ مہنیے تبلیغ میں لگانے کا کورس ہیں ۔۔۔۔۔
    موصوف تبلیغ میں اٹھارہ مہینے لگا چکا ہے ۔ ۔
    بات کو آگے بڑھانے کے لیے معذرت خواہ ہوں ، لیکن یہ حقیقت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  8. عاصم ملک

    عاصم ملک -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    50
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
    جناب میں تو اس بحث کو لاحاصل سمجھ کر ختم کر چکا ہوں۔آپ اس کو جو نام بھی دیں آپکی مرضی،لیکن مجھے اس بحث میں کوئی اپنا یا آپکا فائدہ محسوس نہیں ہو رھا،

    بھائی آفریدی صاحب،آپ کی معلومات واقع کے مطابق نہیں ہیں،عالم کے لئے اٹھارہ مہینے نہیں ہیں بلکہ ایک سال ہے،
    اٹھارہ مہینے کی اس وقت کوئی ترتیب نہیں ہے،پھلے تھی کوئی بارہ چودہ سال پہلے،وہ بھی علماء کے لئے نہیں تھی،بلکے اس میں عامی ہی ہوتے تھے۔
     
  9. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,800
    بھائی آپ تو ایک ہی پیرگراف میں ایک ہی بات کی تردید اور تائید کررہے ہیں ۔۔ یعنی کہ اجتماع ضدین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوکہ باطل ہے ۔
    چودہ سال پہلے یہ ترتیب تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس لیے میں نے پہلے ہی دعویٰ میں 1990 لکھا ہے ۔۔۔۔جس کے انیس سال پورے ہونے کو ہے ۔
     
  10. عاصم ملک

    عاصم ملک -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    50
    آفریدی جی،
    میں معافی چاہتا ہوں کہ میرے ذہن میں آپکی پہلے والی بات نہیں تھی،مگر یہ بات ضرور حقیقت کے خلاف ہے کہ علماء کے لئے ڈیڑھ سال ہے۔
    اور بھائی صاحب اس کام کی حقیقت اگر سمجھنی ہو تو کرکے دیکھ لیں،انشاءاللہ اگر طلب صحیح ہوگی تو اس کی افادیت بھی سامنے آجائیگی،
     
  11. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,800
    بھائی میں نے جو لکھا ہے ۔ یہ ان کے بقول تھا جو کہ بذات خود چار چار مہینے لگاچکے ہیں ، اور پرانے ساتھی کے نام سے جاننے جاتے ہیں ۔۔ ہوسکتا ہے کہ ان صاحبان نے ہم سب کو غلط بتایا ہو ،
     
  12. اھل حدیث

    اھل حدیث -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 6, 2008
    پیغامات:
    370
     
  13. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    خیر چھوڑیں بھائی ! بڑی بڑی بحثوں میں ایسی چھوٹی موٹی باتیں ہو ہی جاتی ہیں۔ بالخصوص اس وقت جب بخاری یا مسلم کی احادیث پر نزلہ گرانا ہو۔ جیسا کہ دور حاضر میں علامہ تمنا عمادی سے لے کر مولانا حبیب الرحمٰن کاندھلوی تک کا سلسلہ جاری ہے۔

    اب ایسا بھی تونہیں ہے ۔علامہ انورشاہ کاشمیری نے توفیض الباری میں لکھاہے کہ صحیحین اسی طرح مفید یقین ہیں جس طرح کہ احادیث متواترہ مگر صرف فرق اتنا ہے کہ صحیحین کی احادیث سے یقین اسی کو حاصل ہوسکتاہے جو کہ حدیث میں رسوخ اورمہارت رکھتاہو اورصحیح کی احادیث کے طرق واقفیت رکھتاہو اوریہی مسلک حافظ ابن حجر اورابن صلاح اورابن تیمیہ اورکچھ دیگر محدثین کا بھی نقل کیاہے۔
     
  14. الطاف حسین راجپوت

    الطاف حسین راجپوت -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 27, 2009
    پیغامات:
    40
    السلام علیکم،،، جتنے بھی فرقے مسلمانوں‌کے ہیں یہ سب ایکدوسرے کو کافر سمجھتے ہیں۔۔۔رہا مسیلہ فقہا کا تو انکا باہمی اختلاف مسائل میں تھا مگر وہ ایکدوسرے کے خلاف کفر کے فتوے نہیں نکالتے تھے۔
    فرقہ واریت کا حل دو طرح سے ایک تو یہ کہ منافقوں کی طرح سے ایکدوسرے کے عقائد کو تسلیم کر کے گھل مل جا ئیں اور کوئی کسی کو کافر اور گمراہ نہ کہے۔۔یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلحہ اٹھا کر ایکد وسرے کا قلع قمع کر دیا جا ے ۔۔ آخر میں‌جو بچے وہ حکومت بھی کرے اور اپنے فرقے پر عمل بھی ۔۔نہ کو دوسرا ہوگا نہ بجے گی بانسری۔۔۔ تیسرا حل مناظرہ وغیرہ ہے وہ سب فضول ثابت ہو رہے ہیں۔۔
     
  15. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    مچھر چھانتے رہو اور اُونٹ نگلتے رہو !
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں