بدعات صفر

رحیق نے 'ماہِ صفر' میں ‏جنوری 29, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,592
    کیا ماہ صفر منحوس ہے؟
    بدعات صفر
    صفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے۔اسلامی سال کے بارہ مہینوں میں سے اکثر کے فضائل قرآن و حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔کسی کے کم اور کسی کے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے بیان ہونے والی ان فضیلتوں کو حاصل کرنے کے لیے مسنون اعمال کرنا ایک مسلمان کی شان اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حقیقی مفہوم ہے۔ایک مسلمان کا یہ پختہ یقین ہے کہ دنیا جہان کا کوئی عمل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بتائے ہوئے اعمال سے افضل نہیں ہو سکتا۔خواہ اس کا تعلق اسلامی مہینوں کے ساتھ ہے یہ دوسرے دنوں کے ساتھ۔پھر یہ کہ پیارے حبیب ۖ اس دنیا سے جاتے ہوئے کتاب وسنت پر مشتمل جتنا دین ہمیں دے گئے تھے صرف اتنے ہی دین پر عمل کرنے سے آدمی جنت کا حقدار بن جاتا ہے بلکہ قیامت کے روز حوض کوثر سے میٹھا جام پینے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت اور جنت میں اعلٰی مراتب کے حصول کے لیے بھی صرف اتنے ہی دین پر عمل کر لیتا کافی ہے۔ یاد رکھیئے!عقل و خرد کی تمام قوتیں دین کے تابع ہیں۔دین عقل کے تابع نہیں۔مثال کے طور پر کسی آدمی کا یہ کہنا کہ اسلام نے یہ اصول بیان کیا ہے لیکن میری عقل اسے تسلیم نہیں کرتی اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ دین میں کوئی نقص ہے بلکہ اس کی ذہنی پرواز ختم ہو گئی ہے۔اسلام کا بیان کردہ اصول سو فیصد درست ہے۔ہاں اس کی سوچ کی قوتیں اتنی محدود تھیں کہ اسے سمجھ نہ آسکی۔اسی طرح دین اسلام تمام ادیان سے افضل اسی اعتبار سے بھی ہے کہ اس میں ہر دور،ہر زمانہ اور ہر ماحول کی رہنمائی کرنے کی بھرپور قوت موجود ہے اس میں قدرت نے اتنی لچک رکھی ہے کہ جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتاجا رہا ہے ویسے ویسے دینی رہنمائی کی زیادہ ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور اس کا دامن راہنمائی بھی پھیلتا جا رہا ہے۔
    مذکورہ بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زندگی گزارنے کے تمام اصول بیان فرما دیئے ہیں۔اب اگر کوئی دین سے ہٹ کے اپنی محدود انسانی سوچ سے کوئی عمل تراش کے اسے دین میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی جانب دعوت دیتا ہے تو امام مالک کے فرمان کے مطابق ایسا شخص اپنے عمل سے اس با ت کا اظہار کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچانے میں خیانت کی ہے اس لیے اللہ نے فرما دیا ہے:
    (یا یھا الرسول بلغ ما انزل علیک من ربک و ان لم تفعل فما بلغت رسالتہ)]المائدہ:٦٧[
    (اے رسو ل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم!جو آپ پر آپ کے رب نے نازل فرمایا ہے اسے (لوگوںتک)پہنچادیجئے اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے رسالت کا حق ادا نہ کیا۔)
    ایک مسلمان کا پختہ یقین ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے احکامات تمام لوگوں تک پہنچا کر رسالت کا حق ادا فرما دیا اب اپنے ذہن سے تراش کے کوئی عمل دین کی جانب منسوب کرنا اس اعلان کے مترادف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نعوذ باللہ یہ کام رہ گیا تھا جسے میں بیان کر رہا ہوں۔
    اس لیے کتاب سنت کو چھوڑ کے کوئی بھی عمل کرنا اور اسے دین سمجھنا نہ افضل ہے نہ قبولیت کی شرائط کو پہنچتا ہے۔میرے بعض محترم بھائیوں نے شاید نہ سمجھی کی وجہ سے ماہ صفر کے ساتھ ایسی چیزیں منسوب کر دی ہیں جن کا دین اسلام سے تعلق ہی نہیں ہے اور نہ ہی پیارے مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے صرف اصلاح کی نیت سے میں وہ چیزیں مختصراََ آپ کے سامنے ذکر کروں گا۔میرے عزیز بھائیو!اگر یہ حق باتیں آپ کو گراں محسوس ہوں تو میں اس کی معذرت چاہتا ہوںمجھے معلوم ہے کہ آج اگر مغربی تہذیب نے مسلمانوں کو دین سے دور کر دیا ہے تو ان کی سوچ پر تالے لگا کر ان پر تحقیق کے دروازوں کو بھی بند کر دیا ہے۔
    ماہ صفر کی وجہ تسمیہ:
    صفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے۔حرمت والے چار مہینے ہیں۔
    ١۔ رجب
    ٢۔ ذوالقعدہ
    ٣۔ ذوالحجہ
    ٤۔ محرم

    ان چاروں مہینوں میں عرب والے جنگ نہیں کرتے تھے۔تلواروں کو بند کر لیتے اور اپنے گھروں میں آرام کرتے لوٹ مار سے رک جاتے اور اپنے دشمنوں سے بے خوف ہو جاتے آخری حرمت والے تین مہینے یعنی ذوالقعدہ،ذوالحجہ اور محرم چونکہ ایک دوسرے کے پیچھے اکٹھے آتے تھے۔اس لیے جیسے ہی یہ مہینے ختم ہوتے اور صفر کا آغاز ہوتا عرب والے لڑائی بھڑائی کے لیے پھر گھروں سے سفر کے لیے روانہ ہو جاتے اور گھروں کو خالی چھوڑ جاتے اسی مناسبت سے اس ماہ کو صفر کہا جانے لگا جیسا کہ عرب والے کہتے ہیں صفر المکان(مکان خالی ہو گیا)گویا ماہ صفر کے آغاز پر ہی لڑائیوں کی ابتداء ہو جاتی،گھر خالی رہ جاتے۔اس لیے عرب والے ظہور اسلام سے قبل صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتے تھے۔
    ماہ صفر اور موجودہ عمل:
    عرب والے دور جاہلیت میں صفر کے مہینہ کو منحوس سمجھتے تھے اورآج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی بعض مسلمان بھائی صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتے ہوئے شادی بیاہ کرتے ہوئے شادی بیاہ نہیں کرتے ۔لڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے ۔سفر کرنا نامبارک سمجھا جاتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اس من گھڑت نحوست کو دور کرنے کے لیے چنوں کو ابال کر گھنگیاں تقسیم کرت اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس سے نحوست اور بے برکتی دور ہو جاتی ہے ۔ یہ سب باتیں خوس ساختہ توہمات کا نتیجہ ہیں ۔جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ ان تمام عقائد کو ہمارے پیرومرشد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مبارک رد کرتی ہے ۔

    وقال عفان: حدثنا سلیم بن حیان: حدثنا سعید بن مینا قال: سمعت با ہریر یقول:
    قال رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم: لا عدو ولا طیر، ولا ہام ولا صفر، وفِر من المجذوم ما تفر من السد


    ترجمہ
    "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرض کا متعدی ہونا نہیں (یعنی اللہ کے حکم کے بغیرکوئی مرض کسی دوسرے کو نہیں لگتا )اور نہ بدفالی ہے نہ ہامہ ہے اور نہ صفر "
    صحیح بخاری ، کتاب طب باب:415

    حدیث کی تشریح

    ولا طیرہ کا مطلب یہ ہے کہ بدشگونی لینا جایز نہیں۔ عرب کے لوگوں کو یہ عادت تھی کہ یہ کسی کام کو نکلتے یا کسی جانے کا ارادہ کرتے تو پرندہ یا ہرن کو چھچھکارتے اگر وہ دائیں جانب بھاگتا تو مبارک سمجھتے لیکن اگر بائیں جانب جاتا تو اس کام کو اپنے لیے نفع بخش نہ سمجھتے اور اس کے کرنے سے رک جاتے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس توہم پرستی سے روک دیا۔

    ولا ھامہ کا مطلب یہ ہے کہ اہل عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اگر کسی شخص کو قتل کر دیا جائے تو اس کی کھوپڑی سے ایک جانور نکلتا ہے جس کا نام ھامہ ہے ۔ وہ ہمیشہ ان الفاظ میں فریاد کرتا رہتا ہے ۔مجھے پانی دوجب تک قاتل کو قتل نہ کر دیا جائے فریاد کرتا رہتا ہے ۔

    بعض کہتے ہیں کہ ہامہ سے مراد الو ہے ۔ عرب والے سمجھتے تھے کہ جس گھر پر الو آکر بیٹھ جائے اور بولے تو وہ گھر ویران ہوجاتا ہے یا اس کا گھر سے کوئی مر جاتا ہے ۔ یہ اعتقاد ہمارے زمانے میں بھی پایا جاتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا ہے ۔

    ولا صفر کے متعق مختلف اقوال ہیں جن میں یہ بھی ہیکہ اس سے مراد صفر کا مہینہ ہے جو محرم کے بعد آتا ہے۔عوام اس کو منحوس سمجھتے اور آفات کوموجب سمجھتے تھے اس لیے یہ اعتقاد بھی نبی صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باطل قرار دیا ہے کہ صفر میں کو نحوست نہیں ۔
    نحوست اسلام کی نظر میں:
    ماہ و سال،لیل و نہار او ر وقت کے ایک ایک لمحے کے خالق اللہ رب العزت ہیں اللہ تعالیٰ نے کسی دن یا کسی گھڑی کو منحوس قرار نہیں دیا۔ہاں جو حادثہ یا واقعہ تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے وہ تو ہو کر ہی رہنا ہے اگر کسی دن کوئی حادثہ یا غمناک واقعہ رونما ہو جائے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ وہ دن منحوس ہے۔اصل میں ایسے توہمانہ خیالات غیر مسلم اقوام کے ذریعے سے ہم میں داخل ہوئے ہیں۔مثلاََ ہندوئوں کے ہاں شادی سے پہلے دن اور وقت متعین کرنے کے لیے پنڈتوں سے پوچھا جاتا ہے اور اگر رات ساڑھے بارہ بجے کا وقت مقرر کر دے تو اسی وقت شادی کی جائے گی۔اس وقت سے آگے یا پیچھے شادی کرنا بدفالی سمجھا جائے گا۔اسی طرح مغربی دنیا تیرہ(١٣)کے عدد کو منحوس سمجھتی ہے۔یہی فاسد خیالات مسلم قوم میں در آئے ہیں اسی لیے صفر کی خصوصاابتدائی تیرہ دنوں کو منحوس سمجھا جاتا ہے۔ان ابتدائی تاریخوں کو تیرہ تیزی کہتے ہیں ان کی نحوست کو زائل کرنے کے لیے مختلف عملیات کیے جاتے ہیں۔یہ سب جہالت کی باتیں ہیں دین اسلام کے روشن صفحات ایسی توہمات سے پاک ہیں اور دنوں میں سے کسی دن کو منحوس سمجھ کر شادی سے رک جانے کی بھی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ۔عرب والے شوال کے مہینے کو منحوس سمجھ کر اس میں شادی نہیں کیا کرتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس خیال باطل کو ختم کرنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے شوال کے مہینے میں شادی کی چنانچہ ایک موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا تھا:
    ''میری شادی بھی شوال میں ہوئی اور رخصتی بھی شوال میں ہوئی اگر یہ منحوس ہے تو مجھ سے زیادہ نصیبے والی کون عورت ہے۔''
    یعنی گھریلو زندگی مجھ سے زیادہ کامیا ب کس کی گزری؟اسلئے پیارے مسلمان بھائیوں کو قطعاََدل سے یہ خیال نکال دینا چاہئے کہ ماہ وسال میں کوئی دن منحوس بھی ہو سکتا ہے اور جو ایک روایت پیش کی جاتی ہے:
    (یوم الاربعاء یوم نحس مستمر)
    ''بدھ کا دن برقرار رہنے والا منحوس دن ہے۔''
    امام صاغانی اور ابن الجوزی نے اسے موضوع (من گھڑت)قرار دیا ہے اسکی کوئی اصل نہیں۔
    بلکہ کسی دن اور کسی مہینے کو منحوس کہنا درحقیقت اللہ رب العزت کے بنائے ہوئے اس زمانہ میں جو لیل و نہار پر مشتمل ہے نقص اور عیب لگانے کے مترادف ہے اور اس چیز سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان الفاظ سے روک دیا ہے:
    (قا ل اللہ تعالیٰ یوذینی ابن ادم یسب الدھر و انا الدھر بیدی الامر اقلب اللیل و النھار)
    ''اللہ تعالیٰ نے فرمایا!آدم کا بیٹا مجھے گالی دیتا ہے حالانکہ میں زمانہ ہوں میرے ہاتھ میں حکم ہے میں ہی دن اور رات کو بدلتا ہوں۔''
    معلوم یہ ہوا کہ دن رات اللہ کے پیدا کردہ ہیں کسی کو عیب دار ٹھہرانا خالق و مالک کی کاریگری میں درحقیقت عیب نکالنا ہے۔
    صفر کے آخری بدھ اور سیرو سیاحت:
    صفر کے آخری بدھ کی نسبت یہ بات مشہور ہے کہ اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیماری سے صحت ملی انہوں نے غسل صحت فرمایااور سیرو سیاحت کے لیے شہر سے باہر تشریف لے گئے تھے۔اس لیے بعض لوگ سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھتے ہوئے آخری بدھ کو کاروبار بند کر کے خوبصورت کپڑے پہن کر سیرو سیاحت کے لیے نکل جاتے ہیں۔پارکوں اور کھیتوں میں سیروسیاحت کے بعد جب وہ واپس گھروں کو لوٹتے ہیں تو شیرینی حلوہ پوریاں یا گندم کو ابال کر بچوں اور غرباء میں تقسیم کرتے ہیں۔یہ بھائی ان کاموں کو ثواب سمجھ کر کرتے ہیں اور اپنے تئیں اسے محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھتے ہیں۔حالانکہ یہ ساری بات من گھڑت ہے اور جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں کیونکہ ان دنوں رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری نے شدت اختیار کی تھی اور پھر اس بیماری کی وجہ سے ربیع الاول میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔
    ماہ صفر کے آخری بدھ سے اس سیر و سیاحت کے متعلق آئیے امام اہل سنت احمد رضا خان فاضل بریلوی کے فتویٰ کو پڑھ لیتے ہیں۔
     
  2. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,592
    احمد رضا خان فاضل بریلوی کا فتویٰ
    (احکام شریعت حصہ دوم صفحہ ١٩٣،١٩٤)

    مسئلہ:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ ماہ صفر کے آخری چہار شنبہ (بدھ)کے متعلق عوام میں مشہور ہے کہ اس روز رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض سے صحت پائی تھی بنا بریں اس روز کھانا و شیرینی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اور جنگل کو سیر کو جاتے ہیں۔۔۔۔
    مختلف جگہوں میں مختلف معمولات ہیں کہیں اس روز کو نحس و نامبارک جان کر پرانے برتن گلی میں توڑ ڈالتے ہیں اور تعویذ و چھلہ چاندی اس روز کی صحت بخشی جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریضوں کو استعمال کرواتے ہیں یہ جملہ امور شرع میں ثابت ہیں یا نہیں؟
    جواب:آخری چہار شنبہ (بدھ) کی کوئی اصل نہیں نہ اس دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحت پانے کا کوئی ثبو ت ہے بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارک ہوئی اس کی ابتداء اسی دن سے بتائی جاتی ہے اور اسے نحس سمجھ کر مٹی کے برتنوں کو توڑ دینا گناہ اور اضاعت مال ہے بہرحال یہ سب باتیں بالکل بے اصل اور بے معنی ہیں۔واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

    احمد رضا خاں کے اس فتویٰ سے معلوم ہوا کہ صفر کے آخری بدھ کو سیرو سیاحت کے لیے خاص کر لینا اور اسے ثواب سمجھ کر درجات کی بلندی کے لیے مختلف عملیات کرنا درست نہیں۔آپ نے سیرو سیاحت کرنی ہے تو روزانہ کریں اسکے صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں نہ کریں تو بھی کوئی بات نہیں ہاں اسے کسی خاص دن ثواب کی نیت سے شریعت سمجھ کر کرنا درست بات نہیں۔
    ماہ صفر میں دیگر رائج شدہ کام:
    کچھ بھائی ماہ صفر میں خاص ترتیب اور خاص مقدار میں تسبیحات پڑھتے ہوئے بعض ایسی نفلی نمازیں پڑھتے اور اس کا حکم دیتے ہیں جن کا شرعاََ کوئی ثبوت نہیں۔پوچھنے پر وہ ''راحت القلوب'' اور جواہر غیبی کا حوالہ دیتے ہیں۔حالانکہ یہ دونوں حدیث کی کتابیں ہی نہیں ہیں۔مثال کے طور پر ملاحظہ فرمائیے ان میں سے چند نمازیں:
    ٭ماہ صفر کی پہلی رات نماز عشاء کے بعد ہر مسلمان کو چاہئے کہ چار رکعت نماز پڑھے۔پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ ''قل یا ایھا الکفرون'' پندرہ دفعہ پڑھے اور دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد ''قل ہو اللہ احد'' پندرہ مرتبہ پڑھے سلام کے بعد چند بار 'ایاک نعبد و ایاک نستعین'' پڑھے پھر ستر مرتبہ درودشریف پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کو بڑا ثواب عطاء کرے گا اور اسے ہر بلا سے محفوظ رکھے گا۔(راحتہ القلوب)
    ٭ صفر کے آخری بدھ صبح کے بعد غسل کر لے اور چاشت کے وقت دو رکعت نماز نفل پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد گیارہ گیارہ مرتبہ ''قل ھو اللہ احد ''پڑھے اور سلام پھیر کر ستر مرتبہ یہ درودشریف پڑھے:
    ((اللھم صل علی محمد ن النبی الامی و علی اٰلہ و اصحابہ و بارک وسلم)) اور اسکے بعد یہ دعا پڑھے:
    ((اللھم صرف علی سو ء ھذا الیوم واعصمنی من سوء ونجنی عما اصاب فیہ من نحوساتہ وکرباتہ بفضلک یا دافع الشرور ومالک النشور یا ارحم الراحمین و صلی اللہ علیٰ محمد و الہ الامحاد و بارک وسلم))]جواہر غیبی،فضائل الایمان و المشہور[
    اس طرح کی کچھ اور بھی نمازیں ذکر کی جاتی ہیں(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوں فضائل الایام والشہور مولفہ نور محمد قادری چشتی)
    ایسی نمازوں کا ذکر حدیث کی کسی کتاب میں نہیں۔کتب حدیث میں سے کوئی بھی کتاب اٹھا لیں اور کتاب الصلوٰۃ کھول کر تلاش کریں یہ نمازیں آپ کو کہیں بھی نظر نہیں آئیں گی۔اللہ ہمیں خالص قرآن و سنت پر عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔اگر کوئی بھائی واقعتا اللہ کا قرب چاہتا ہے اجرو ثواب کا خواہش مند ہے تو وہ ایسی نمازوں کی بجائے نماز تہجد پڑھ لے'نماز اشراق اور دیگر نفلی نمازیں جن کا بیان احادیث مبارکہ میں آیا ہے ان کو ادا کر لے'اللہ رحیم و کریم نامہ اعمال کو ثواب سے بڑھ دیں گے اور یاد رکھیئے!
    قرآن و حدیث کو چھوڑ کر اپنی طرف سے بنائی ہوئی نمازوں کے ادا کرنے میں نہ اطاعت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور نہ اجر و ثواب۔اسی طرح کسی مہینہ کو منحوس قرار دے کر اس میں شادی بیاہ اور خوشی کے کاموں کو خود پر حرام کر لینا دین میں سختی پیدا کرنے کے مترادف ہے جبکہ دین انسان پر آسانی پیدا چاہتا ہے۔
    اقتباس:اسلامی مہینے اور بدعات مروجہ​

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. مجیب منصور

    مجیب منصور -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 29, 2008
    پیغامات:
    2,150
    بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔allah's slave بھائی
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    جزاكم اللہ خيرا وبارك فيكم ۔
     
  5. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں