محاذ آرائی کی دوسری صورت۔

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏فروری 2, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    محاذ آرائی کی دوسری صورت۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو مسخ کرنا،شکوک و شبہات پیدا کرنا،جھاٹا پرو پیگینڈا کرنا، تعلیمات سے لے کر شخصیات تک کو واہیات اعتراضوں کا نشانہ بنانا، اور یہ سب اس کثرت سے کرنا کہ عوام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت و تبلیغ پر غور کرنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔ چنانچہ مشرکین قران کے متعلق کہتے تھے۔
    وَقَالُوا َسَاطِيرُ الاَوَّلِينَ اكْتَتَبَہَا فَھِيَ تُمْلَى عَلَيْہِ بُكْرَۃً وَاَصِيلا۔
    ترجمہ: یہ پہلوں کے افسانے ہیں جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوا لیا ہے۔اب یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صبح و شام تلاوت کیے جاتے ہیں۔
    سورۃ الفرقان: آیت: 5
    إِنْ هَذَا إِلاَّ إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ آخَرُونَ۔
    ترجمہ: یہ محض جھوٹ ہے جسے اس نے گھڑ لیا ہےناور کچھ دوسرے لوگوں نے اسکی اعانت کی ہے۔
    سورۃ الفرقان، آیت: 4
    مشرکین یہ بھی کہتے تھے کہ
    إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ
    ترجمہ: یہ (قران) تو آپ کو ایک بشر سکھاتا ہے۔
    سورۃ النحل،آیت 103
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کا اعتراض یہ تھا کہ:
    مَالِ ھَذَا الرَّسُولِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الاَََََََسوَاق۔
    ترجمہ: یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔
    سورۃ الفرقان۔آیت 7
    قران کریم میں بہت سے مقامات پر مشرکین کا رد بھی کیا گیا ہے کہیں اعتراض نقل کرکے اور کہیں نقل کے بغیر۔
    محاذ آرائی کی تیسری صورت۔
    پہلوں کے واقعات اور افسانوں سے قران کا مقابلہ کرنا اور لوگوں کو اسی میں الجھائے اور پھنسائے رکھنا۔ چنانچہ نظر بن حارث کا واقعہ ہے کہ اس نے ائک بار قریش سے کہا کہ: قریش کے لوگو! خدا کی قسم تم پر ایسی افتاد پڑی ہے کہ تم لوگ اب تک اسکاکوئی توڑ نہیں لا سکے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں جوان تھے تو تمہارے سب سے پسندیدہ آدمی تھے۔سب سے سے زیادہ سچّے اور سب سے زیادہ ایماندار تھے۔اب جبکہ انکی کنپٹیوں پر سفید دکھائی دینے کو ہے (یعنی ادھیڑ ہو چلے ہیں) اور وہ تمہارے پاس کچھ باتیں لیکر آئے ہیں تو تم کہتے ہو کہ وہ جادوگر ہیں! نہیں بخدا وہ جادو گر نہیں ہے۔ہم نے جادوگر دیکھے ہیں انکی جھاڑ پھونک اور گرہ بندی بھی دیکھی ہے، آور تم لوگ کہتے ہو کہ وہ کاہن ہیں، نہیں بخدا وہ کاہن بھی نہیں۔ہم نے کاہن بھی دیکھے ہیں، انکی الٹی سیدھی حرکتیں بھی دیکھی ہیں اور انکی فقرہ بندیاں بھی سنی ہیں۔تم لوگ کہتے ہو کہ وہ شاعر ہیں۔نہیں بخدا وہ شاعر بھی نہیں، ہم نے شعر بھی دیکھا ہے اور اسکے سارے اصناف،ہجز،رجز وغیرہ بھی سنے ہیں۔تم لوگ کہتے ہو وہ پاگل ہیں۔ نہیں، بخدا وہ پاگل بھی نہیں، ہم نے پاگل پن بھی دیکھا ہے، یہاں نہ اس طرح کی گھٹن ہے نہ ویسی بہکی بہکی باتیں ہیںاور نہ انکے جیسی فریب کارانہ گفتگو۔ قریش کے لوگو! سوچو! خدا کی قسم تم پر زبردست افتاد آن پڑی ہے۔
    اسکے بعد نضر بن حارث حیرہ گیا۔وہاں بادشاہوں کے واقعات اور رستم اور اسفند یار کے قصے سیکھے،پھر واپس آیا تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جگہ بیٹھ کر اللہ کی باتیں کرتے اور اسکی گرفت سے لوگوں کو ڈراتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ شخص وہاں پر پہنچ جاتا اور کہےا کہ بخدا! محمد کی باتیں مجھ سے بہتر نہیں،اسکے بعد وہ فارس کے بادشاہوں، اور رستم و اسفندیار کے قصے سناتا پھر کہتا۔ آخر کس بنا پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مجھ سے بہتر ہے۔(10)۔
    ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نضر نے چند لونڈیاں بھی خرید رکھی تھیں اور جب وہ کسی آدمی کے متعلق سنتا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مائل ہے تو اس پر ایک لونڈی مسلط کر دیتا جو اسے کھلاتی پلاتی اور گانے سناتی، یہاں تک کہ اسلام کی طرف اسکا جھکاؤ باقی نہ رہ جاتا۔ اسی سلسلے میں یہ ارشاد نازل ہوا۔(11)
    وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَھْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّہِ۔
    ترجمہ: کچھ لوگ ایسے ہیں جو کھیل کی بات خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں۔
    سورۃ لقمان۔ آیت 6
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں