محاذ آرائی کی چوتھی صورت

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏فروری 3, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    محاذ آرائی کی چوتھی صورت:

    سودے بازیاں جن کے ذریعے مشرکین کی یہ کوشش تھی کہ اسلام اور جاہلیت دونوں بیچ راستے میں ایک دوسرے سے جا ملیں۔ یعنی کچھ دو اور کچھ لو کے اصول پر اپنی بعض باتیں مشرکین چھوڑ دیں اور بعض باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ دیں۔ قران پاک میں اسی کے متعلق ارشاد ہے:
    وَدُّو لَو تَدھِنُ فَیُد ھِنوُنَ۔
    ترجمہ: وہ چاہتے ہیں کہ آپ ڈھیلے پڑ جائیں تو وہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔
    سورۃ القلم،آیت 9
    چنانچہ ابن جریر اور طبرانی کی ایک روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے معبودوں کی پوجا کیا کریں اور ایک سال وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی عبادت کیا کرینگے۔عبد بن حمید کی ایک روایت اس طرح ہے کہ مشرکین نے کہا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے معبودوں کو قبول کر لیں تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی عبادت کرنگے۔(12)
    ابن اسحٰق کا بیا ن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ اسود بن مطلّب بن اسد بن العزی، ولید بن مغیرہ، امیّہ بن خلف اور عاص بن وائل سہمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے۔یہ سب اپنی قوم کے بڑے لوگ تھے۔ بولے اے محمّد صلی اللہ علیہ وسلم! آؤ جسے تم پوجتے ہو اسے ہم بھی پوجیں، اور جسے ہم پوجتے ہیں اسے تم بھی پوجو۔اس طرح ہم اور تم اس کام میں مشترک ہو جائیں۔اب اگر تمہارا معبود ہمارے معبود سے بہتر ہے تو ہم اس سے اپنا حصہ حاصل کر چکے ہونگے اور ہمارا معبود تمہارے معبود سے بہتر ہوا تو تم اس سے اپنا حصہ حاصل کر چکے ہونگے۔ اس پر اللہ تعالی نے پوری سورۃ الکافرون نازل فرمائی۔جس میں اعلان کیا گیا کہ جسے تم لوگ پوجتے ہو اسے میں نہیں پوج سکتا(13) اور اس فیصلہ کن جواب کے ذریعے انکی مضحکہ خیز گفت و شنید کی جڑ کاٹ دی گئی۔روایتوں میں اختلاف غالبا" اسلئے ہے کہ اس سودے بازی کی کوشش بار بار کی گئی۔

    ظلم و جور
    http://www.vblinks.urdumajlis.net/showthread.php?t=6853

    ------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    [(10)(ابن ہشام 1/299-300،358 مختصر السیرۃ شیخ عبداللہ 117-118
    (11) فتح القدیر الشوکانی 4/236 و دیگر کتب
    (12) فتح القدیر الشوکانی 5/508
    (13) ابن ہشام 1/362
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 4, 2009
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں