دار ارقم

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏فروری 5, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    دار ارقم:​
    ان ستم رانیوں کے مقابل حکمت کا تقاضایہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو قولا" اور عملا" دونوں طرح اسلام کے اظہار سے روک دیں، اور انکے ساتھ خفیہ طریقے پر اکٹھے ہوں کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ کھلّم کھلاّ اکٹھا ہوتے تو مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تزکیہ نفس اور تعلیمٍ کتاب و حکمت کا کام میں یقینا" رکاوٹ ڈالتے اور اسکے نتیجے میں فریقین کے درمیان تصادم ہو سکتا تھا۔بلکہ عملا" 4 سن نبوّت میں ہو چکا تھا۔جسکی تفصیل یہ ہے کہ صحابہ کرام گھاٹیوں میں اکٹھے ہو کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ایک بار قریش کے کچھ لوگوں نے دیکھ لیا تو گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑے پر اتر آئے، جوابا" حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو ایسی ضرب لگائی کہ اسکا خون بہہ پڑا اور یہ پہلا خون تھا جو اسلام میں بہایا گیا۔(42)
    یہ واضح ہی ہے کہ اگر اس طرح کا ٹکراؤ بار بار ہوتا اور طول پکڑتا تو مسلمانوں کے خاتمے کی نوبت آسکتی تھی، لہٰذا حکمت کا تقاضایہ تھا کہ کام پس پردہ کیا جائے۔چنانچہ عام صحابہ کرام اپنا اسلام،اپنی عبادت،اپنی تبلیغ اور اپنے باہمی اجتماعات سب کچھ پس پردہ کرتے تھے۔البتّہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ کا کام مشرکین کے روبرو کھلم کھلاّ انجام دیتے تھے اور عبادت کا کام بھی۔کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے روک نہیں سکتی تھی،تاہم آپ بھی مسلمانوں کے ساتھ خود انکی مصلحت کے پیش نظر خفیہ طور سے جمع ہوتے تھے۔ادھر ارقم بن ابی الارقم مخزومی کا مکان کوہٍ صفا پر سرکشوں کی نگاہوں اور انکی مجلسوں سے دور الگ تھلگ واقع تھا،اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچویں سن نبوّت سے اسی مکان کو اپنی دعوت اور مسلمانوں کے ساتھ اپنے اجتماع کا مرکز بنا لیا۔( 43)
    پہلی ہجرت حبشہ:​
    جوروستم کا مذکورہ سلسلہ نبوت کے چوتھے سال کے درمیان یا آخر میں شروع ہوا تھا اور ابتداء میں معمولی تھا مگر دن بدن اور ماہ بماہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ نبوّت کے پانچویں سال کا وسط آتے آتے اپنے شباب کو پہنچ گیا۔حتّیٰ کے مسلمانوں کے لئے مکہ میں رہنا دوبھر ہو گیا اور انہیں ان پیہم ستم رانیوں سے نجات کی تدبیر سوچنے کیلیئے مجبور ہو جانا پڑا۔ ان ہی تاریک اور سنگین حالات میں سورۃ کہف نازل ہوئی۔یہ اصلا" تو مشرکین کے پیش کردہ سوالات کے جواب میں تھی لیکن اس میں جو تین واقعات بیان کئے گئے ہیں ان واقعات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے مستقبل کے بارے میں نہایت بلیغ اشارے تھے۔چنانچہ اصحابٍ کہف کے واقعے میں یہ درس موجود ہے کہ جب دین اور ایمان خطرے میں ہو تو کفروظلم کے مراکز سے ہجرت کے لئے تن بہ تقدیر نکل جانا چاہئیے۔ارشاد ہے:

    وَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوھُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ اِلاَّ اللَّہَ فَاْوُوا اِلَى الْكَہْفِ يَنشُرْ لَكُمْ رَبُّكُم مِّن رَّحْمَتِہ ويُھَيِّئْ لَكُم مِّنْ اَمْرِكُم مِّرْفَقًا۔
    ترجمہ: اور جب تم ان سے اور اللہ کے سوا انکے دوسرے معبودوں سے الگ ہو گئے تو غار میں پناہ گیر ہو جاؤ،تمہارا رب تمہارے لئے اپنی رحمت پھیلا دے گا، اور تمہارے کام کے لئے تمہاری سہولت کی چیز تم کو مہیّا کر دے گا۔
    (سورۃ کہف: آیت 16)

    موسیٰ اور خضر علیہما السلام کے واقعے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نتائج ہمیشہ ظاہری حالات کے مطابق نہیں ہوتے بلکہ بسا اوقات ظاہری حالات کے بالکل بر عکس ہوتے ہیں،لہٰذا اس واقعے میں اس بات کی طرف لطیف اشارہ پنہاں ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اس وقت جو ظلم و تشدّد برپا ہےاسکے نتائج بالکل برعکس نکلیں گے۔اور یہ سرکش مشرکین اگر ایمان نہ لائے تو آئندہ ان ہی مقہور و مجبور مسلمانوں سرنگوں ہو کر اپنی قسمت کے فیصلے کے لئے پیش ہونگے۔
    ذوالقرنین کے واقعے میں چند خاص باتوں کی طرف اشارہ ہے۔
    1- یہ کہ زمین اللہ کی ہے۔وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے
    2- یہ کہ فلاح و کامرانی ایمان ہی کی راہ میں ہے، کفر کی راہ میں نہیں۔
    3- یہ کہ اللہ تعالیٰ رہرہ کر اپنے بندوں میں سے ایسے افراد کھڑے کرتا رہتا ہے جو مجبور و مقہور انسانوں کو اس دور کے یاجوج وماجوج سے نجات دلاتے ہیں۔
    4- یہ کہ اللہ کے صالح بندے ہی زمین کی وراثت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔
    پھر سورۃ کہف کے بعد سورۃ زمر کا نزول ہوا اور اسمیں ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے۔

    لِلَّذِينَ اَحْسَنُوا فِي ھَذِہِ الدُّنْيَا حَسَنَہٌ وَاَرْضُ اللَّہِ وَاسِعَۃٌ اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ اَجْرَھُم بِغَيْرِ حِسَابٍ ۔
    ترجمہ: جن لوگوں نے اس دنیا میں اچھائی کی ان کے لئے اچھائی ہے اور اللہ کی زمین کشادہ ہے،صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بلا حساب دیا جائیگا۔
    سورۃ الزمر: آیت 10

    ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ اصحمہ نجاشی شاہ حبش ایک عادل بادشاہ ہے۔وہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لئے حبشہ ہجرت کر جائیں۔ اسکے بعد ایک طے شدہ پروگرام کے مطابق رجب 5 سن نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پہلے گروہ نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ اس گروہ میں بارہ مرد اور چار عورتیں تھیں۔ حجرت عثمان بن عفّان انکے امیر تھے اور انکے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیّہ رضی اللہ عنہ بھی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے بارے میں فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے بعد یہ پہلا گھرانہ ہے جس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔(44)
    یہ لوگ تاریکی کے راستے میں چپکے سے نکل کر اپنی نئی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔رازداری کا مقصد یہ تھا کہ قریش کو اسکا علم نہ ہو سکے۔ رخ بحرہ احمر کی بندرگاہ شُُُُعیبہ کی جانب تھا۔ خوش قسمتی سے وہاں دو تجارتی کشتیاں موجود تھیں جو انکو اپنے دامن عافیت میں لے کر سمندر پار حبشہ چلی گئیں۔ قریش کو کسی قدر بعد انکی روانگی کا علم ہو سکا،تاہم انہوں نے پیچھا کیا اور ساحل تک پہنچے لیکن صحابہ کرام آگے جا چکے تھے اس لئے نامراد واپس آئے۔ ادھر مسلمانوں نے حبشہ پہنچ کر بڑے چین کا سانس لیا۔(45)
    اسی سال رمضان شریف میں یہ واقعہ پیش آیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار حرم تشریف لے گئے، وہاں قریش کا بڑا مجمع تھا،انکے سردار اور بڑے بڑے لوگ جمع تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دم اچانک ہی کھڑے ہو کر سورۃ نجم کی تلاوت شروع کردی۔ان کفّار نے اس سے پہلے عموما" قران سنا نہیں تھا کیونکہ انکا دائمی وطیرہ قران کے الفاظ میں یہ تھا کہ:

    لا تَسْمَعُوا لِھَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيہِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ۔
    ترجمہ: اس قران کو مت سنو اور اسمیں خلل ڈالو۔(اودھم مچاؤ) تاکہ تم غالب رہو۔
    سورۃ فصلت: آیت 26

    لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک اس سورت کی تلاوت شروع کر دی اور انکے کانوں میں ایک ناقابل بیان رعنائی و دلکشی اور عظمت لئے ہوئے کلام الٰہی کی آواز پڑی تو انہیں کچھ ہوش نہ رہا۔سب کے سب گوش بر آواز ہو گئے کسی کے دل میں کوئی اور خیال ہی نہیں آیا۔یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے اواخر میں دل دہلا دینے والی آیات تلاوت فرما کر اللہ کا یہ حکم سنایا کہ:

    فَاسْجُدُوا لِلَّہِ وَاعْبُدُوا۔
    ترجمہ: اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسکی عبادت کرو۔
    سورۃ النجم: آیت 62

    اور اسکے ساتھ ہی سجدہ فرمایا تو کسی کو اپنے آپ پر قابو نہ رہا اور سب کے سب سجدے میں گر پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر حق کی رعنائی اور جلال نے متکبّرین و مستہزمیں کی ہٹ دھرمی کا پردہ چاک کر دیا تھا۔اسلئے انہیں اپنے آپ پر قابو نہ رہ گیا تھا اور وہ بے اختیار سجدے میں گر پڑے تھے۔(46)
    بعد میں انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ کلام الٰہی کے جلال نے انکی لگام موڑ دی اور وہ ٹھیک وہی کام کر بیٹھے جسے مٹانے کے لئے انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا تھا۔ اور اسکے ساتھ ہی اس واقعے میں حیر مشرکین نے ان پر ہر طرف سے عتاب اور ملامت کی بوچھاڑ شروع کی تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور انہوں نے اپنی جان چھڑانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء پردازی کی اور یہ جھوٹ گھڑا کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکت بتوں کا ذکر عزت و احترام سے کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ:
    تِلکَ اَلغَرَانِیقُ اَلعُلٰی،وَاِنَّ شَفَا عَتَھُنَّ لَتُرتَجیٰ
    یہ بلند پایہ دیویاں ہیں اور انکی شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔
    حالانکہ یہ صریح جھوٹ تھا جو محض اسلئے گھڑ لیا گیا تھا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرنے کی جو غلطی ہو گئی ہے اسکے لئے ایک "معقول" عذر پیش کیا جا سکے۔ اور ظاہر ہے کہ جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمیشہ جھوٹ گھڑتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہمیشہ دسیسہ کاری اور افتراء پردازی کرتے رہے تھے وہ اپنا دامن بچانے کے لئے اسطرح کا جھوٹ کیوں نہ گھڑتے۔( 47)
    بہرحال مشرکین کے سجدہ کرنے کے اس واقعے کی خبر حبشہ کے مہاجرین کو بھی معلوم ہوئی لیکن اپنی اصلی صورت سے بالکل ہٹ کے، یعنی انہیں یہ معلوم ہوا کہ قرہش مسلمان ہو گئے ہیں، چنانچہ انہوں نے ماہٍ شوّال میں مکہ واپسی کی راہ لی لیکن جب اتنے قریب آگئے کہ مکہ ان سے ایک دن سے بھی کم فاصلے پر رہ گیا تو حقیقت آشکارا ہوئی۔اسکے بعد کچھ لوگ تو سیدھے حبشہ پلٹ گئے اور کچھ لوگ چھپ چھپا کر قریش کے کسی آدمی کی پناہ لیکر مکے میں داخل ہوئے۔(48)

    42) ابن ہشام 1/263، مختصر السیرۃ محمد بن عبدالوہاب ص60
    (43) مختصر السیرۃ محمد بن عبدالوہاب ص61
    (44) مختصر السیرۃ شیخ عبداللہ ص 92-93، زادالمعاد 1/24، رحمتہ للعالمین 1/61
    (45) رحمتہ للعامین 1/61، زاد المعاد 1/24
    (46) صحیح بخاری میں اس سجدے کا واقعہ ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
    دیکھئے باب سجدہ النجم اور باب سجود المسلمین والمشرکین 1؟146 اور باب مالقی النبی صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ مکہ 1/543
    (47) محققین نے اس روایت کے تمام طرُق کے تحلیل و تجزئے کے بعد یہی نتیجہ اخذ کیا ہے۔
    (48) زاد المعاد 1/24، 2/44، ابن ہشام 1/ 364
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں