مہاجرین حبشہ کے خلاف قریش کی سازش

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏فروری 6, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    مہاجرین حبشہ کے خلاف قریش کی سازش:​
    مشرکین کو سخت قلق تھا کہ مسلمان اپنی جان اور اپنا دین بچا کر ایک پر امن جگہ بھاگ گئے ہیں۔ لہذا انہوں نے عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو جو گہری سوجھ بوجھ کے مالک تھے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے ایک اہم سفارتی مہم کیلئے منتخب کیا اور ان دونوں کو نجاشی اور بطریقیوں کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے بہترین تحفے اور ہدیئے دے کر حبشہ روانہ کیا۔ ان دونوں پہلے حبش پہنچ کر بطریقیوں کو تحائف پیش کئے۔پھر انہیں اپنے ان دلائل سے آگاہ کیا،جنکی بنیاد پر وہ مسلمانوں کو حبش سے نکلوانا چاہتے تھے۔جب بطریقیوں نے اس بات سے اتفاق کر لیا کہ وہ نجاشی کو مسلمانوں کے نکال دینے کا مشورہ دینگے تو یہ دونوں نجاشی کے حضور حاضر ہوئے اور تحفے تحائف پیش کرکے اپنا مدّعا یوں پیش کیا۔
    "اے بادشاہ ! آپکے ملک میں ہمارے کچھ ناسمجھ نوجوان بھاگ آئے ہیں، انھوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے لیکن آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں بلکہ ایک نیا دین ایجاد کیا ہے جسے نہ ہم جانتے ہیں نہ آپ، ہمیں آپ کی خدمت میں انہی کی بابت انکے والدین چچاؤں اور کنبے قبیلے کے عمائدین نے بھیجا ہے، مقصد یہ ہے کہ آپ انہیں ان کے پاس واپس بھیج دیں۔ کیونکہ وہ لوگ ان پر سب سے اونچی نگاہ رکھتے ہیں اور انکی خامیوں اور عتاب کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں"۔
    جب یہ دونوں اپنا مدّعا عرض کر چکے تو بطریقیوں نے کہا: " بادشاہ سلامت! یہ دونوں ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں آپ ان جوانوں کو ان دونوں کے حوالے کر دیں، یہ دونوں انہیں انکی قوم اور انکے ملک میں واپس پہنچا دینگے۔"
    لیکن نجاشی نے سوچا کہ اس قضیے کو گہرائی سے کھنگالنا اور اسکے تمام پہلوؤں کو سننا ضروری ہے۔چنانچہ اس نے مسلمانوں کو بلا بھیجا، مسلمان یہ تہیّہ کر کے اسکے دربار میں آئے کہ ہم سچ ہی بولیں گے خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو۔جب مسلمان آگئے تو نجاشی نے پوچھا" یہ کونسا دین ہے جسکی بنیاد پر تم نے اپنے قوم سے علیحدگی اختیار کر لی ہے،لیکن میرے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہو اور نہ ان ملتوں میں سے کسی کے دین میں داخل ہوئے ہو؟
    مسلمانوں کے ترجمان حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بادشاہ ! ہم ایسی قوم تھے جو جاہلیت میں مبتلا تھی، ہم بت پوجتے تھے، مردار کھاتے تھے،بدکاریاں کرتے تھے، قرابتداروں سے تعلق توڑتے تھے، ہمسائیوں سے بد سلوکی کرتے تھے، اور ہم میں سے طاقتور کمزور کو کھا رہا تھا، ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ نے ہم ہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ اسکی عالی نسبی، سچائی، اور پاک دامنی ہمیں پہلے سے معلوم تھی، اس نے ہمیں اللہ کی طرف بلایا، اور سمجھایا کہ ہم صرف ایک اللہ کو مانیں اور اسی کی عبادت کریں، اور اسکے سوا جن پتھروں اور بتوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے انہیں چھوڑ دیں۔اس نے ہمیں سچ بولنے، امانت ادا کرنے،قرابت جوڑنے،پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے اور حرام کاری و خون ریزی سے باز رہنے کا حکم دیا۔اور فواحش میں ملوث ہونے، جھوٹ بولنے، یتیم کا مال کھانے، اور پاکدامن عورتوں پر جھوٹی تہمت لگانے سے منع کیا۔اس نے ہمیں یہ بھی حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں، اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اس نے ہمیں نماز، روزہ اور زکوٰٰۃ کا حکم دیا---------- اسی طرح حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اسلام کے کام گنائے پھر کہا:
    ہم نے اس پیغمبر کو سچا مانا،اس پر ایمان لائے، اور اسکے لائے ہوئے دین خداوندی میں اسکی پیروی کی چنانچہ ہم نے صرف اللہ کی عبادت کی،اسکے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا، اور جن باتوں کو اس پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام بتایا انہیں حرام مانا، اور جن کو حلال بتایا انہیں حلال جانا، اس پر ہماری قوم ہم سے بگڑ گئی، اس نے ہم پر ظلم و ستم کیا، اور ہمیں ہمارے دین سے پھیرنے کی لئے فتنہ اور سزاؤں سے دوچار کیا تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بت پرستی کی طرف پلٹ جائیں اور جن گندی چیزوں کو حلال سمجھتے تھے انہیں پھر حلال سمجھنے لگیں۔ جب انہوں نے ہم پر بہت قہرو ظلم ،کیا زمین تنگ کردی، اور ہمارے درمیان اور ہمارے دین کے درمیان روک بن کر کھڑے ہو گئے تو ہم نے آپ کے ملک کی راہ لی۔اور دوسروں پر آپ کو ترجیح دیتے ہوئے آپ کی پناہ میں رہنا پسند کیا۔ اور یہ امید کی کہ اے بادشاہ ! آپ کے پاس ہم پر ظلم نہیں کیا جائیگا۔ نجاشی نے کہا:" وہ پیغمبر جو کچھ لائے ہیں اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہے؟"
    حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا! "ہاں"
    نجاشی نے کہا: ذرا مجھے بھی پڑھ کے سناؤ۔
    حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے سورۃ مرہم کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں، نجاشی اس قدر رویا کہ اسکی داڑھی تر ہو گئی، نجاشی کے تمام اسقف بھی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی تلاوت سن کر اس قدر روئے کہ انکے صحیفے تر ہو گئے، پھر نجاشی کے کہا کہ یہ کلام اور وہ کلام جو حضرت عیسیٰ لے کر آئے تھے، دونوں ایک ہی شمعدان سے نکلے ہوئے ہیں۔ اسکے بعد نجاشی نے عمرو عاص اور عبداللہ بن ربیعیہ کو مخاطب کر کے کہا کہ تم دونوں چلے جاؤ، میں ان لوگوں کو تمہارے حوالے نہیں کر سکتا اور نہ یہاں انکے خلاف کوئی چال چلی جا سکتی ہے۔ اس حکم پر وہ دونوں وہاں سے نکل گئے لیکن پھر عمرو بن عاص نے عبداللہ بن ربعیہ سے کہا: خدا کی قسم! کل انکے متعلق ایسی بات لاؤں گا کہ انکی ہریالی کی جڑ کاٹ کے رکھ دونگا۔ عبداللہ بن ربعیہ نے کہا: نہیں ایسا نہ کرنا۔ ان لوگوں نے اگرچہ ہمارے خلاف کیا ہے لیکن ہیں بہرحآل ہمارے اپنے ہی کنبے قبیلے کے لوگ۔ مگر عمرو بن عاص اپنی رائے پر اڑے رہے۔
    اگلا دن آیا تو عمرو بن عاص نے نجاشی سے کہا: اے بادشاہ! یہ لوگ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں ایک بڑی بات کہتے ہیں۔ اس پر نجاشی نے مسلمانوں کو پھر بلا بھیجا، وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مسلمان کیا کہتے ہیں۔ اس دفعہ مسلمانوں کو گھبراہٹ ہوئی لیکن انہوں نے طے کیا کہ سچ ہی بولیں گے۔ نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو۔ چنانچہ جب مسلمان نجاشی کے دربار میں حاضر ہوئے، اور اس نے سوال کیا تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
    ہم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہی بات کہتے ہیں‌جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ، اسکے رسول،اسکی روح اور اسکا وہ کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری پاک دامن حضرت مریم علیہ السلام کی طرف القا کیا تھا۔"اس پر نجاشی نے زمین سے ایک تنکہ اٹھایا اور بولا: خدا کی قسم! جو کچھ تم نے کہا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے اس تنکے کے برابر بھی بڑھ کر نہ تھے۔" اس پر بطریقیوں نے "ہونہہ" کی آواز لگائی۔ نجاشی نے کہا اگرچہ تم لوگ "ہونہہ" کہو۔
    اسکے بعد نجاشی نے مسلمانوں سے کہا: جاؤ ! تم لوگ میرے قلمرو میں امن و امان سے ہو۔ جو تمہیں گالی دے گا اس پر تاوان لگایا جائیگا۔ مجھے گوارا نہیں کہ تم میں سے میں کسی آدمی کو ستاؤں اور اسکے بدلے مجھے سونے کا پہاڑ مل جائے۔ اسکے بعد اس نے اپنے حاشیہ نشینوں سے مخاطب ہو کر کہا: ان دونوں کو ان کے ہدیے واپس کردو،مجھے انکی کوئی ضرورت نہیں۔ خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ نے جب مجھے میرا ملک واپس کیا تھا تو مجھ سے کوئی رشوت نہیں لی تھی کہ میں اسکی راہ پر رشوت لوں۔ نیز اللہ نے میرے بارے میں لوگوں کی بات قبول نہ کی تھی کہ میں اللہ کے بارے میں لوگوں کی بات مانوں۔ حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہ جنوں نے اس واقعے کو بیان کیا ہے کہتی ہیں کہ اسکے بعد وہ دونوں اپنے ہدی تحفے لئے بےآبرو ہو کر واپس چلے گئے اور ہم نجاشی کے پاس ایک اچھے ملک میں ایک اچھے پڑوسی کے زیر سایہ مقیم رہے۔(51)
    یہ ابن اسحٰق کی روایت ہے۔ دوسرے سیرت نگاروں کا بیان ہے کہ نجاشی کے دربار میں حضرت عمرو بن عاص کی حاضری جنگ بدر کے بعد ہوئی تھی۔ بعض لوگوں نے تطبیق کی یہ صورت بیان کی ہے کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نجاشی کے دربار میں مسلمانوں کی واپسی کے لئے دو مرتبہ گئے تھے لیکن جنگ بدر کی حاضری کے ضمن میں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور نجاشی کے درمیان سوال و جواب کی جو تفصیلات بیان کی جاتی ہیں وہ تقریبا" وہی ہیں جو ابن اسحٰق نے ہجرت حبشہ کی حاضری کے سلسلے میں بیان کی ہیں۔ پھر ان سوالات کے مضامین سے واضح ہو جاتا ہے کہ نجاشی کے پاس یہ معاملہ ابھی پہلی بار پیش ہوا تھا اسلئے ترجیح اس بات کو حاصل ہے کہ مسلمانوں کو واپس آنے کی کوشش صرف ایک بار ہوئی تھی اور وہ ہجرت حبشہ کے بعد تھی۔ بہر حال مشرکین کی چال ناکام ہو گئی اور انکی سمجھ میں آگیا کہ وہ اپنے جذبہ عداوت کو اپنے دائرہ اختیار ہی میں آسودہ کر سکتے ہیں، لیکن اسکے نتیجے میں انہوں ایک خؤفناک بات سوچنی شروع کر دی۔ درحقیقت انہیں اچھی طرح احساس ہو گیا تھا کہ اس "مصیبت" سے نمٹنے کے لئے اب انکے سامنے دو ہی راستے رہ گئے ہیں۔ یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ سے بزور طاقت روک دیں، یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود ہی کا صفایا کر دیں۔ لیکن دوسری صورت حد درجہ مشکل تھی کیونکہ ابو طالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ تھے اور مشرکین کے عزائم کے سامنے آہنی دیوار بنے ہوئے تھے، اسلئے یہی مفید سمجھا گیا کہ ابو طالب سے دودو باتیں ہو جائیں۔

    (51) ابن ہشام 1/334 تا 338)
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں