ابو طالب کو قریش کی دھمکی

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏فروری 8, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    ابو طالب کو قریش کی دھمکی:​

    اس تجویز کے بعد سرداران قریش ابو طالب کے پاس حاضر ہوئے اور بولے: " ابو طالب! آپ ہمارے اندر سن و شرف اور اعزاز کے مالک ہیں۔ہم نے آپ سے گزارش کی کہ اپنے بھتیجے کو روکئے۔لیکن آپ نے نہیں روکا۔آپ یاد رکھیں ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے آباؤ اجداد کو گالیاں دی جائیں،ہماری عقل و فہم کو حماقت زدہ قرار دیا جائے اور ہمارے خداؤں کی عیب چینی کی جائے،آپ روک دیجئے ورنہ ہم آپ سے اور ان سے ایسی جنگ چھیڑ دینگے کہ ایک فریق کا صفایا ہو کر رہیگا۔"
    ابو طالب پر اس زوردار دھمکی کا بہت زیادہ اثر ہوا اور انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر کہا: "بھتیجے! تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے تھے اور ایسی ایسی باتیں کہہ کر گئے ہیں۔اب مجھ پر اور خود پر رحم کرو اور اس معاملے پر مجھ پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جو میرے بس سے باہر ہے۔"
    یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی آپ کا ساتھ چھوڑ دینگے، اور وہ آپ کی مدد سے کمزور پڑ گئے ہیں۔ اس لئے فرمایا: " چچا جان! خدا کی قسم! اگر یہ لوگ میرے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں کہ میں اس کام کو اس حد تک پہنچائے بغیر چھوڑ دوں کہ یا تو اللہ اسے غالب کر دے یا میں اسی راہ میں فنا ہو جاؤں تو نہیں چھوڑ سکتا۔"
    اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے اور اٹھ گئے،جب واپس ہونے لگے تو ابو طالب نے پکارا اور سامنے تشریف لائے تو کہا۔"بھتیجے! جاؤ جو چاہے کہو،خدا کی قسم میں تمہیں کبھی بھی کسی بھی وجہ سے چھوڑ نہیں سکتا"۔(52)
    اور یہ اشعار کہے۔
    وََاللہِ لَن یَّصِلُو اِلَیکَ بِجَمعِھِم
    حَتَّیٰ اَوسَدَ فِی التُّرَابِ دَفِینَا
    فَاصدَعَ بِاَمرِکَ مَا عَلَیکَ غَضَاضَۃُ
    وَابشِر وَقَرَّ بذاک منک عیونا (53)

    ترجمہ: بخدا وہ لوگ تمہارے پاس اپنی جمعیت سمیت بھی ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔ یہاں تک کہ میں مٹی میں دفن کردیا جاؤں۔ تم اپنی بات کھلّم کھلاّ کہو۔ تم پر کوئی قدغن نہیں،تم خوش ہوجاؤ اور تمہاری آنکھیں ٹھنڈی پڑ جائیں۔
    قریش ایک بار پھر ابو طالب کے سامنے:​
    [/u
    ]
    پچھلی دھمکی کے باوجود جب قریش نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کام کیے جا رہے ہیں تو انکی سمجھ میں آگیا کہ ابو طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ نہیں سکتے،بلکہ اس بارے میں قریش سے جدا ہونے اور انکی عداوت مول لینے کو تیار ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ ولید بن مغیرہ کے لڑکے عُمارہ کو ہمراہ لے کر ابو طالب کے پاس پہنچے اور ان سے یوں عرض کیا:
    اے ابو طالب! یہ قریش کا سب سے بانکا اور خوبصورت نوجوان ہے۔آپ اسے لے لیں۔ اسکی دیت اور نصرت کے آپ حقدار ہونگے۔آپ اسے اپنا لڑکا بنا لیں۔یہ آپ کا ہوگا،اور آپ اپنے اس بھتیجے کو ہمارے حوالے کر دیں جس نے آپ کے آباؤ اجداد کے دین کی مخالفت کی ہے،آپ کی قوم کا شیرازہ منتشر کر رکھا ہے اور انکی عقلوں کو حماقت سے دوچار بتایا ہے۔ ہم اسے قتل کرینگے،بس یہ ایک آدمی کے بدلے ایک آدمی کا حساب ہے۔
    ابو طالب نے کہا: خدا کی قسم! کتنا برا سودا ہے جو تم لوگ مجھ سے کر رہے ہو،تم اپنا بیتا مجھے دیتے ہو کہ میں اسے کھلاؤں پہناؤں، پالوں پوسوں اور میرا بیٹا مجھ سے طلب کرتے ہو کہ اسے قتل کردو۔ خدا کی قسم ! یہ نہیں ہو سکتا۔
    اس پر نوفل بن عبدمناف کا پوتا مطعم بن عدی بولا: خدا کی قسم! اے ابو طالب! تم سے تمہاری قوم نے انصاف کی بات کہی ہے، اور جو صورت تمہیں ناگوار ہے اس سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم انکی کسی بات کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔
    جواب میں ابو طالب نے کہا: بخدا: تم لوگوں نے مجھ سے انصاف کی بات نہیں کی ہے بلکہ تم بھی میرا ساتھ چھوڑ کر میرے مخالف لوگوں کی مدد پر تلے بیٹھے ہو تو ٹھیک ہے جو چاہوکرو۔(54)
    سیرت کے مآخذ میں پچھلی دونوں گفتگو کے زمانے کی تعیین نہیں ملتی لیکن قرائین و شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں گفتگو 6سن نبوی کے وسط میں ہوئی تھیں اور دونوں کے درمیان فاصلہ مختصر ہی تھا۔
    (52) ابن ہشام 1/265-266
    (53) مختصر السیرۃ شیخ محمد بن عبدالوہاب ص 68
    (54) 1/ 266-267
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں