نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی تجویز

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏فروری 10, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی تجویز:​
    ان دونوں گفتگوؤں کی ناکامی کے بعد قریش کا جذبہ جوروستم اور بھی بڑھ گیا اور ایذا رسانی کا سلسلہ پہلے سے فزوں تر اور سخت تر ہو گیا۔ان ہی دنوں قریش کے سرکشوں کے دماغ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خآتمے کی ایک تجویز ابھری۔لیکن یہی تجویز اور یہی سختیاں مکہ کے جانبازوں میں سے نادرہ روزگار سرفروشوں، یعنی حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے اور انکے ذریعے اسلام کو تقویت پہنچانے کا سبب بن گئیں۔ جوروجفا کے سلسلہ دراز کے ایک دو نمونے یہ ہیں کہ:
    ایک روز ابو لہب کا بیٹا عتیبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: "میں وَالنَجمِ اِذَا ھَویٰ اور ثُمُّ دَنَا فَتَدَلّیٰ کے ساتھ کفر کرتا ہوں"۔اس کے بعد وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایذا رسانی کے ساتھ مسلّط ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتا پھاڑ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر تھوک دیا۔اگرچہ تھوک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ پڑا۔ اسی موقع پر نبی صٌی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی کہ اے اللہ! اس پر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلّط کردے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بددعا قبول ہوئی۔چنانچہ عتیبہ ایک بار قریش کے کچھ لوگوں کے ہمراہ سفر میں گیا۔جب انہوں نے ملک شام کے مقام زرقاء میں پڑاؤ ڈالا تو رات کے وقت شیر نے ان کا چکر لگایا۔ عتیبہ نے دیکھتے ہی کہا: ہائے میری تباہی! یہ خدا کی قسم مجھے کھا جائےگا۔ جیسا کہ محمّد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر بددعا کی ہے۔دیکھو میں شام میں ہوں،لیکن اس نے مکّے میں رہتے ہوئے مجھے مار ڈالا ۔احتیاطا" لوگوں نے عتیبہ کو اپنے اور جانوروں کے گھیرے کے بیچوں بیچ سلایا لیکن رات کو شیر سب کو پھلانگتا ہوا سیدھا عتیبہ کے پاس پہنچا اور سر پکڑ کر ذبح کر ڈالا۔(55)
    ایک بار عقبہ بن ابی مصیط نے رسول اللہ صٌی اللہ علیہ وسلم کی گردن حالت سجدہ میں اس زور سے روندی کے معلوم ہوتا تھا دونوں آنکھیں نکل آئینگی۔(56)
    ابن اسحٰق کی ایک چویل روایت سے بھی قریش کے سرکشوں کے اس ارادے پر روشنی پرتی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتمے کے چکر میں تھے،چنانچہ روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک بار ابو جہل نے کہا:
    برادران قریش! آپ دیکھتے ہیں کہ محمّد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دین کی عیب چینی ہمارے آباؤاجداد کی بد گوئی،ہماری عقلوں کی تخفیف اور ہمارے معبودوں کی تذلیل سے باز نہیں آتا، اسلئے میں اللہ سے عہد کر رہا ہوں کہ ایک بھاری اور بہت ہی مشکل سے اٹھنے والا پتھر لیکر بیٹھوں گا اور جب وہ سجدہ کرے گا تو اسی پتھر سے اسکا سر کچل دونگا۔اب اس کے بعد چاہے تم لوگ مجھے بے یارومددگار چھوڑ دو،چاہے میری حفاظت کرو۔اور بنو عبد مناف بھی اسکے بعد جو جی چاہے کریں۔ لوگوں نے کہا! نہیں واللہ ہم تمہیں کسی بھی معاملے میں بے یارومددگار نہیں چھوڑ سکتے،تم جو کرنا چاہتے ہو کر گزرو۔
    صبح ہوئی تو ابو جہل ویسا ہی ایک پتھر لیکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں بیٹھ گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسب دستور تشریف لائے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔قریش بھی اپنی اپنی مجلسوں میں آچکے تھے اور ابو جہل کی کاروائی کے منتظر تھے۔ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تشریف لے گئے تو ابو جہل نے پتھر اٹھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بڑھا۔لیکن جب قریب پہنچا تو شکست خوردہ حالت میں واپس بھاگا۔اس کا رنگ فق تھا اور وہ اس قدر مرعوب تھا کے اسکے دونوں ہاتھ پتھر پر چپک کر رہ گئے تھے۔وہ بمشکل ہاتھ سے پتھر پھینک سکا۔ادھر قریش کے کچھ لوگ اٹھ کر اسکے پاس آئے اور کہنے لگے: ابو حکم تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے رات جو بات کہی تھی وہی کرنے جا رہا تھا تو ایک اونٹ آڑے آگیا۔بخدا میں نے کبھی کسی اونٹ کی ویسی کھوپڑی ویسی گردن اور ویسے دانت نہیں دیکھے ہی نہیں۔وہ مجھے کھا جانا چاہتا تھا۔
    ابن اسحٰق کہتے ہیں: " مجھے بتایا گیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" یہ جبریل علیہ السلام تھے۔اگر ابو جہل قریب آتا تو اسے دھر پکڑتے" (57)
    اسکے بعد ابو جہل نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک ایسی حرکت کی جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا سبب بن گئی۔تفصیل آگے آ رہی ہے۔
    جہاں تک قریش کے دوسرے بدمعاشوں کا تعلق ہے تو انکے دلوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےخاتمے کا خیال برابر پک رہا تھا۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ابن اسحٰق نے ان کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ایک بار مشرکین حطیم میں جمع تھے۔میں بھی موجود تھا۔مشرکین نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر چھیڑا اور کہنے لگے: اس شخص کے معاملے میں ہم نے جیسا صبر کیا ہے اسکی مثال نہیں۔درحقیقت ہم نے اس کے معاملے میں بہت ہی بڑی بات پر صبر کیا ہے۔ یہ گفتگو چل ہی رہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمودار ہو گئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لا کر پہلے حجر اسود کو چوما پھر طواف کرتے ہوئے مشرکین کے پاس سے گزرے۔انہوں نے کچھ کہہ کر طعنی زنی کی جس کااثر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دیکھا۔ اسکے بعد آپ سہ بارہ گزرے تو مشرکین نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لعن طعن کی۔اب کی بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹہر گئے اور فرمایا:
    قریش کے لوگو! سن رہے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے پاس (تمہارے) قتل و ذبح (کا حکم) لے کر آیا ہوں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد نے لوگوں کو پکڑ لیا۔(ان پر ایسا سکتہ طاری ہواکہ) گویا ہر آدمی کے سر پر چڑیا ہے، یہاں تک کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے زیادہ سخت تھا وہ بھی بہتر سے بہتر لفظ جو پا سکتا تھا اسکے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے طلب گار رحمت ہوتے ہوئے کہنے لگا کہ ابو القاسم! واپس جائیے۔خدا کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی نادان نہ تھے۔
    دوسرے دن قریش پھر اسی طرح جمع ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمودار ہوئے،دیکھتے ہی سب (یکجان ہو کر) ایک آدمی کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پل پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا۔پھر میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے گلے کے پاس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر پکڑ لی۔( اور بل دینے لگا) ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے بچاؤ میں لگ گئے۔وہ روتے جاتے تھے اور جاتے تھے: اَتَقتُلُونَ رَجُلاً اَن یَّقُولَ رَبِیّ اللہ؟ کیا تم لوگ ایک آدمی کو اس لئے قتل کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟ اس کے بعد وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پلٹ گئے-------- عبداللہ بن عمرو بن عاص ر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ سب سے سخت ایذا رسانی تھی جو میں نے قریش کو بھی کبھی کرتے ہوئے دیکھی۔(58)انتہی ملخصا
    صحیح بخاری میں حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ان کا بیان مروی کہ میں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو سب سے سخت ترین بدسلوکی کی تھی آپ مجھے اسکی تفصیل بتائیے؟ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آگیا اس نے آتے ہی اپنا کپڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں ڈال کر نہایت سختی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹا۔اتنے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ آ پہنچے۔اور انہوں نے اس کے دونوں کندھے پکڑ دھکا دیا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کرتے ہوئے فرمایا۔"اَتَقتُلُونَ رَجُلاً اَن یَّقُولَ رَبِیّ اللہ؟ " تم لوگ ایک آدمی کو اس لیئے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟"
    حضرت اسماء رضی اللہ عنہ کی رویت میں مزید تفصیل ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ چیخ پہنچی کہ اپنے ساتھی کو بچاؤ۔ وہ جھٹ ہمارے پاس سے نکلے۔ ان کے سر پر چار چوٹیاں تھیں۔ وہ یہ کہتے ہوئے گئے کہ "اَتَقتُلُونَ رَجُلاً اَن یَّقُولَ رَبِیّ اللہ؟ تم لوگ ایک آدمی کو محض اس لئے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔مشرکین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر ابو بکر رضی اللہ عنہ پر پل پڑے،وہ واپس آئے تو حالت یہ تھی کہ ہم انکی چوٹیوں کا جو بال بھی چھوتے تھے وہ ہماری چٹکی کے ساتھ چلا اتا تھا۔(60)

    (55) مختصر السیرۃ شیخ عبداللہ ص 1/135، استیعاب،اصابہ،دلائل النبوۃ، الروض الانف
    (56) ایضا" مختصرالسیرۃ ص 113
    (57) ابن ہشام 1/298-299
    (58) ابن ہشام 1/289-290
    (59) صحیح بخاری باب ذکر مالقی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من المشرکین بمکہ 1/544
    (60) مختصر السیرۃ شیخ عبداللہ ص 13
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں