قریش کا نمائندہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏فروری 17, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    قریش کا نمائندہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں:

    ان دونوں بطل جلیل یعنی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن الخطاب کے مسلمان ہو جانے کے بعد ظلم و طغیان کے بادل چھٹنے شروع ہو گئے اور مسلمانوں کو جوروستم کا تختہ مشق بنانے کیلئے مشرکین پر جو بدمستی چھائی ہوئی تھی اسکی جگہ سوجھ بوجھ نے لینی شروع کی۔چنانچہ مشرکین نے یہ کوشش کی کہ اس دعوت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو منشا اور مقصود ہو سکتا ہے اسے فراواں مقدار میں فراہم کرنے کی پیشکش کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی دعوت و تبلیغ سے باز رکھنے کے لئے سودے بازی کی جائے لیکن ان غریبوں کو پتہ نہیں تھا کہ وہ پوری کائنات، جس پر سورج طلوع ہوتا ہے آپ کی دعوت کے مقابل پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی اسلئے انہیں اپنے اس منصوبے پر ناکام و نامراد ہونا پڑا۔
    ابن اسحٰق نے یزید بن زیاد کے واسطے سے محمد بن کعب قرظی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ مجھے بتایا گیا کہ عُتبہ بن ربیعہ نے جو سردار قوم تھا، ایک روز قریش کی محفل میں کہا---------- اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں ایک جگہ تن تنہا تشریف فرما تھے ------- کہ قریش کے لوگو! کیوں نہ محمّد کے پاس جا کر ان سے گفتگو کروں، اور انکے سامنے چند امور پیش کروں، ہو سکتا ہے وہ کوئی چیز قبول کرلیں۔تو جو کچھ وہ قبول کر لیں گے،اسے دے کر ہم انہیں اپنے آُ سے باز رکھیں گے! یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکے تھے اور مشرکین نے یہ دیکھ لیا تھا کہ مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
    مشرکین نے کہا: ابو ولید! آپ جائیے اور ان سے بات کیجئے۔اسکے بعد عتبہ اٹھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔اور پھر بولا: "بھتیجے! ہماری قوم میں تمہارا جو مرتبہ اور مقام ہے اور جو بلند پایہ نسب ہے،وہ تمہیں معلوم ہی ہے، اور اب تم اپنی قوم میں ایک بڑا معاملہ لے آئے ہو جسکی وجہ سے تم نے انکی جماعت میں تفرقہ ڈال دیا، انکی عقلوں کو حماقت سے دوچار قرار دیا، انکے معبودوں کو اور انکے دین داروں کی عیب چینی کی، اور انکے آباؤاجداد جو گزر چکے ہیں انہیں کافر ٹہرایا۔ لہٰذا میری بات سنو! میں تم پر چند باتیں پیش کر رہا ہوں، ان پر غور کرو، ہو سکتا ہے کوئی بات قبول کرلو"۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابو ولید کہو! میں سنوں گا"۔ ابو ولید نے کہا: " بھتیجے! یہ معاملہ جسے تم لیکر آئے ہو اگر اس سے تم یہ چاہتے ہو کہ مال حاصل کرو تو ہم تمہارے لئے اتنا مال جمع کئے دیتے ہیں کہ تم ہم میں سب سے زیادہ مال دار ہو جاؤ،اور اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اعزازومرتبہ حاصل کرو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنائے لیتے ہیں، یہاں تک کہ تمہارے بغیر کسی معاملے کا فیصلہ نہ کرینگے، اور اگر تم چاہتے ہو کہ بادشاہ بن جاؤ تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ بنئے لیتے ہیں؛ اور اگر یہ جو تمہارے پاس آتا ہے کوئی جن یا بھوت ہے جسے تم دیکھتے ہو لیکن اپنے آپ سے دفع نہیں کر سکتے تو ہم تمہارے لئے اسکا علاج تلاش کئے دیتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم اپنا اتنا مال خرچ کرنے کو تیار ہیں کہ تم شفا یاب ہو جاؤ، کیونکہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جن بھوت انسان پر غالب آجاتا ہے اور اسکا علاج کروانا پڑتا ہے"۔
    عُتبہ یہ باتیں کہتا رہا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سنتے رہے، جب وہ فارغ ہو چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ابو ولید! تم فارغ ہو گئے ہو؟" اس نے کہا: "ہاں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اچھا اب میری بات سنو"! اس نے کہا: ٹھیک ہے سنوں گا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    بسم اللہ الرحمن الرحيم
    حم
    تَنزِيلٌ مِّنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

    كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُہُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ

    بَشِيرًا وَنَذِيرًا فَاَعْرَضَ اَكْثَرُھُمْ فَھُمْ لا يَسْمَعُونَ

    وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي اَكِنَّہٍ مِّمَّا تَدْعُونَا اِلَيْہِ۔۔

    ترجمہ: حم۔ یہ رحمٰن و رحیم کی طرف سے نازل کی ہوئی ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی گئی ہیں۔ عربی قران ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہے، لیکن اکثر لوگوں نے اعراض کیا اور وہ سنتے نہیں۔ کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، اسکے لئے ہمارے دلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔
    ( سورۃ الفصلت: 5-1)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے پڑھتے جا رہے تھے اور عتبہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹیکے چپ چاپ سنتا جا رہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت سجدہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا پھر فرمایا: " ابو ولید! تمہیں جو کچھ سننا تھا سن چکے اب تم جانو اور تمہارا کام جانے۔"
    عتبہ اٹھا اور سیدھا اپنے آدمیوں کے پاس آیا۔ اسے آتا دیکھ کر مشرکین نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: "خدا کی قسم! ابو ولید تمہارے پاس وہ چہرہ لے کر نہیں آرہا جو چہرہ لے کر گیا تھا" پھر جب ابو ولید آکر بیٹھ گیا تو لوگوں نے پوچھا: " ابو ولید ! پیچھے کی کیا خبر ہے"؟ اس نے کہا: " پیچھے کی خبر یہ ہے کہ میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے کہ ویسا کلام واللہ میں نے کبھی نہیں سنا۔خدا کی قسم وہ نہ شعر ہے نہ جادو، نہ کہانت۔ قریش کے لوگو! میری بات مانو اور اس معاملے کو مجھ پر چھوڑ دو( میری رائے یہ ہے کہ) اس شخص کو اسکے حال پر چھوڑ کر الگ تھلگ بیٹھ رہو۔
    خدا کی قسم! میں نے اسکا جو قول سنا ہے اس سے کوئی زبردست واقعی رونما ہو کر رہے گا۔ پھر اگر اس شخص کو عرب نے مار ڈالا تو تمہارا کام دوسروں کے ذریعے انجام پا جائیگا۔اور اگر یہ شخص عرب پر غالب آگیا تو اسکی بادشاہت تمہاری بادشاہت اور اسکی عزت تمہاری عزت ہوگی ،اور اسکا وجود سب سے بڑھ کر تمہارے لئے سعادت کا باعث ہوگا" لوگوں نے کہا: " ابو ولید! خدا کی قسم تم پر بھی اسکی زبان کا جادو چل گیا"۔ عُتبہ نے کہا: اس شخص کے بارے میں کری رائے یہی ہے اب تمہیں جو ٹھیک معلوم ہو کرو۔(80)
    ایک دوسری روایت میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تلاوت شروع کی تو عتبہ چپ چاپ سنتا رہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اس قول پر پہنچے:

    فَاِنْ اَعْرَضُوا فَقُلْ اَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَثَمُودَ۔
    ترجمہ: پس اگر وہ روگرانی کریں تو تم کہہ دو کہ میں عاد و ثمود کی کڑک جیسی ایک کڑک کے خطرے سے آگاہ کر رہا ہوں۔
    (سورۃ الفصلت: 13)

    تو عتبہ تھرّا کر کھڑا ہو گیا اور یہ کہتے ہوئے اپنا ہاتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر رکھ دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا اور قرابت کا واسطہ دیتا ہوں (کہ ایسا نہ کریں) اسے خطرہ تھا کہ کہیں یہ ڈراوا آن نہ پڑے،اسکے بعد وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور یہ گفتگو ہوئی۔( 81)

    ابو طالب بنی ہاشم اور بنی مطّلب کو جمع کرتے ہیں:

    حالات کی رفتار بدل چکی تھی،گردوپیش کے ماحول میں فرق آچکا تھا، لیکن ابو طالب کے اندیشے برقرار تھے۔انہیں مشرکین کی طرف سے اپنے بھتیجے کے متعلق برابر خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ وہ پچھلے واقعات پر برابر غور کر رہے تھے۔مشرکین نے انہیں مقابلہ آرائی کی دھمکی دی تھیپھر انکے بھتیجے کو عمارہ بن ولید کے عوض حاصل کرکے قتل کرنے کیلئے سودے بازی کی کوشش کی تھی۔ابوجہل ایک بھاری پتھر لیکر ان کے بھتیجے کا سر کچلنے اٹھا تھا۔ عقبہ بن ابی معیط نے چادر لپیٹ کر گلا گھونٹنے اور مار ڈالنے کی کوشش کی تھی۔خطاب کا بیٹا تلوار سے ان کا کام تمام کرنے نکلا تھا۔ابو طالب ان واقعات پر غور کرتے تو انہیں ایک ایسے سنگین خطرے کی بو محسوس ہوتی جس سے انکا دل کانپ اٹھتا۔ انہیں یقین ہو چکا تھا کہ مشرکین انکا عہد توڑنے اور انکے بھتیجے کا قتل کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں۔اور ان حالات میں خدانخواستہ اگر کوئی مشرک اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹوٹ پڑا تو حمزہ یا عمر یا کوئی اور شخص کیا کام دے سکے گا۔ابو طالب کے نزدیک یہ بات یقینی تھی اور بہر حال صحیح بھی تھی۔ کیونکہ مشرکین اعلانیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا فیصلہ کر چکے تھے۔ اور انکے اسی فیصلے کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے:

    أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ-

    ترجمہ: اگر انہوں نے ایک بات کا تہیّہ کر رکھا ہے تو ہم بھی تہیّہ کئے ہوئے ہیں۔
    (سورۃ الزخرف: 79)

    اب سوال یہ تھا کہ ان حالات میں ابو طالب کو کیا کرنا چاہیئے! انہوں نے جب دیکھا کہ قریش ہر جانب سے انکے بھتیجے کی مخالفت میں تل پڑے ہیں تو انہوں نے اپنے جدّ اعلیٰ عبدمناف کے دو صاحبزادوں ہاشم اور مطّلب سے وجود میں آنے والے خاندانوں کو جمع کیا اور انہیں دعوت دی کہ اب تک وہ اپنے بھتیجے کی حفاظت و حمایت کا جو کام تنہا انجام دیتے آ رہے ہیں اب اسے سب مل کر انجام دیں۔ ابو طالب کی یہ بات عربی حمیّت کے پیش نظر ان دونوں خاندانوں کے سارے مسلم اور کافر افراد نے قبول کی۔البتہ صرف ابو طالب کا بھائی ابو لہب ایک ایسا فرد تھا جس نے اسے منظور نہ کیا اور سارے خاندان سے الگ ہو کر مشرکین سے جا ملا اور انکا ساتھ دیا۔(82)
    (80) ابن ہشام 1293-294
    (81) تفسیر ابن کثیر 6/160-161
    (82) ابن ہشام 1/269، مختصر السیرۃ للشیخ عبداللہ ص 106





    ُ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں