مکمل بائیکاٹ

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏فروری 18, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    مکمل بائیکاٹ:
    صرف چار ہفتے یا اس سے بھی کم مدت میں مشرکین کو چار برے بڑے دھچکے لگ چکے تھے،یعنی حضرت حمزہ رضی اللہ نے اسلام قبول کیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے پھر محمّد صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی پیشکش یا سودے بازی مسترد کی، پھر قبیلہ بنی ہاشم اور بنی عبدالمطّلب کے سب ہی مسلم و کافر افراد نے ایک ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا عہدوپیمان کیا۔اس سے مشرکین چکرا گئے، اور انہیں چکرانا ہی چاہیئے تھا کیونکہ انکی سمجھ میں آگیا تھا کہ اگر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا اقدام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں مکّہ کی وادی مشرکین کے خون سے لالہ زار ہو جائیگی۔بلکہ ممکن ہے ان کا مکمل صفایا ہی ہو جائے۔ اسلئے انہوں نے قتل کا منصوبہ چھوڑ کر ظلم کی ایک اور راہ تجویز کی، جو انکی اب تک کی تمام ظالمانہ کاروائیوں سے زیادہ سنگین تھی۔

    ظلم و ستم کا پیمان:
    اس تجویز کے مطابق مشرکین وادی محصّب میں خیف بنی کنانہ کے اندر جمع ہوئے اور آپس میں بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کے خلاف یہ عہدوپیمان کیا کہ نہ ان سے شادی بیاہ کرینگے، نہ خریدوفروخت کرینگے، نہ ان کے ساتھ اٹھے بیٹھیں گے، نہ ان سے میل جول رکھیں گے، نہ انکے گھروں میں جائینگے، نہ ان سے بات چیت کرینگے۔جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کیلئے انکے حوالے نہ کردیں۔ مشرکین نے اس بائیکاٹ کی دستاویز کے طور پر ایک صحیفہ لکھا جس میں اس بات کا عہدوپیمان کیا گیا تھا کہ وہ بنی ہاشم کی طرف سے کبھی بھی کسی صلح کی پیشکش قبول نہ کرینگے نہ انکے ساتھ کسی قسم کی مروّت برتیں گے جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کیلئے مشرکین کے حوالے نہ کردیں۔
    ابن قیّم کہتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ یہ صحیفہ منصور بن عکرمہ بن عامر بن ہاشم نے لکھا تھا اور بعض کے نزدیک نضر بن حآرث نے لکھا تھا، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ لکھنے والا بغیض بن عامر بن ہاشم تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بددعا کی اور اسکا ہاتھ شل ہو گیا۔(1)
    بہرحال یہ عہدوپیمان طے پا گیا اور صحیفہ خانہ کعبہ کے اندر لٹکا دیا گیا،اسکے نتیجے میں ابو لہب کے سوا بنی ہاشم اور بنی عبدالمطّلب کے سارے افراد خواہ مسلمان رہے ہوں یا کافر سمٹ کر شعب ابی طالب میں محبوس ہو گئے۔یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتویں سال محرم کی چاند رات کا واقعہ ہے۔
    تین سال شعب ابی طالب میں:
    اس بائیکاٹ کے نتیجے میں حالات نہایت سنگین ہو گئے۔غلّے اور سامان خوردونوش کی آمد بند ہو گئی۔کیونکہ مکّے میں جو غلّہ یا فروختنی سامان آتا تھا اسے مشرکین لپک کر خرید لیتے تھے اسلئے محصورین کی حالت پتلی ہو گئی۔انہیں پتے اور چمڑے کھانے پڑے۔فاقہ کشیکا حال یہ تھا کہ بھوک سے بلکتے بچوں اور عورتوں کی آوازیں گھاٹی کے باہر سنائی پڑتی تھیں۔انکے پاس بمشکل ہی کوئی چیز پہنچ پاتی تھی اور وہ بھی پس پردہ۔وہ لوگ حرمت والے مہینوں کے علاوہ باقی ایام میں اشیائے ضرورت کی خرید کیلئے گھاٹی سے باہر نکلتے بھی نہیں تھے۔وہ اگرچہ قافلوں سے سامان خرید سکتے تھے جو باہر سے مکّہ آتے تھے لیکن انکے سامان کے دام بھی مکے والے اسقدر بڑھا کے خریدنے کیلئے تیار ہو جاتے تھے کہ محصورین کیلئے کچھ خریدنا مشکل ہو جاتا تھا۔حکیم ابن حزام جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہما کا بھتیجا تھا کبھی کبھی اپنی پھوپھی کیلئے گیہوں بھجوا دیتا تھا، ایک بار ابو جہل سے سابقہ پڑ گیا، وہ غلّہ روکنے پر اڑ گیا۔ لیکن ابوالجنتری نے مداخلت کی، اور اسے اپنی پھوپھی کے پاس گیہوں بھجوانے دیا۔ادھر ابو طالب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےبارے میں برابر خطرہ لگا رہتا تھا،سلئے جب لوگ اپنے اپنے بستروں پر جاتے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تم اپنے بستر پر سو رہو۔مقصد یہ ہوتا تھا کہ اگر کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی تیت رکھتا ہو تو دیکھ لے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں سو رہے ہیں۔ پھر جب لوگ سو جاتے تو ابو طالب آپ کی جگہ بدل دیتے۔یعنی اپنے بیٹوں بھائیوں یا بھتیجوں میں سے کسی کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر سلا دیتے، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے تم اسکے بستر پر چلے جاؤ۔
    اس محصوری کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے مسلمان حض کے ایام میں باہر نکلتے تھے اور حض کے لئے آنے والوں سے مل کر انہیں اسلام کی دعوت دیتے تھے۔اس موقع پر ابولہب کی جو حرکت ہوا کرتی تھی اسکا ذکر پچھلے صفحآت میں آچکا ہے۔

    صحیفہ چاک کیا جاتا ہے:

    ان حالات میں پورے تین سال گزر گئے۔اسکے بعد محرم 10 سن نبوّت میں (2) صحیفہ چاک کئے جانے اور اس ظالمانہ عہدوپیمان کو ختم کئے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ شروع ہی سے قریش کے کچھ لوگ اگر اس عہدوپیمان سے راضی تھے تو کچھ ناراض بھی تھے۔اور ان ہی ناراض لوگوں نے اس صحیفے کو چاک کرنے کی تگ و دو کی۔
    اس کا اصل محرّک قبیلہ بنو عامر بن لوئی کا ہشام بن عمرو نامی ایک شخص تھا،یہ رات کی تاریکی میں چپکے چپکے شعبابی طالب کے اندر غلّہ بھیج کر بنی ہاشم کی مدد بھی کیا کرتا تھا --------- یہ زہیر بن ابی امیّہ مخزومی کے پاس پہنچا ـــــــــــــ ( زہیر کی ماں عاتکہ،عبدالمطلب کی صاحبزادی یعنی ابو طالب کی بہن تھیں) اور اس سے کہا: زہیر! کیا تمہیں یہ گوارا ہے کہ تم تو مزے سے کھاؤ پیو اور تمہارے ماموں کا وہ حال ہے جسے تم جانتے ہو؟"
    زہیر نے کہا:"افسوس! میں تن تنہا کیا کر سکتا ہوں؟"ہاں اگر میرے ساتھ کوئی اور آدمی ہوتا تو میں اس صحیفے کو پھاڑنے کیلئے یقینا"اٹھ پڑتا-- اس نے کہا اچھا تو ایک آدمی اور موجود ہے۔پوچھا کون ہے؟ کہا میں ہوں-- زہیر نے کہا: اچھا تو اب تیسرا آدمی تلاش کرو۔ اس پر ہشام مطعم بن عدی کے پاس گیا اور بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب سے جو کہ وبدالمناف کی اولاد تھے مطعم کے قریبی نسبی تعلق کا ذکر کر کے اسے ملامت کی کہ اس ظلم پر قریش کی ہمنوائی کیونکر کی؟ یاد رہے کہ مطعم بھی عبد مناف ہی کی نسل سے تھا۔مطعم نے کہا: افسوس! میں تن تنہا کیا کر سکتا ہوں۔اس نے کہا: ایک اور آدمی موجود ہے۔مطعم نے پوچھا کون ہے؟ ہشام نے کہا میں ہوں۔ مطعم نے کہا اچھا ایک تیسرا آدمی تلاش کرو۔ ہشام نے کہا: یہ بھی کرچکا ہوں۔پوچھا وہ کون ہے؟ ہشام نے کہا: زہیر بن ابی امیہ، مطعم نے کہا اچھا تو اب چوتھا آدمی تلاش کرو۔اس پر ہشام بن عمرو،ابو الجنتری کے پاس گیا اور اس سے بھی اسی طرح کی گفتگو کی جیسی مطعم سے کی تھی۔ اس نے کہا بھلا کوئی اسکی تائید بھی کرنے والا ہے؟ ہشام نے کہا: ہاں۔پوچھا کون؟ کہا: زہیر بن ابی امیہ، مطعم بن عدی، اور میں: اس نے کہا: اچھا تو اب پانچواں آدمی ڈھونڈو----- اسکے لئے ہشام،زمعہ بن اسود بن مطلب بن اسد کے پاس گیا۔اور اس سے گفتگو کرتے ہوئے بنو ہاشم کی قرابت اور انکے حقوق یاد دلائے۔اس نے کہا: بھلا جس کام کیلئے مجھے بلا رہے ہو اس سے کوئی اور بھی متفق ہے۔ہشام نے اثبات میں جواب دیا اور سب کے نام بتائے۔اسکے بعد ان لوگوں نے حجون کے پاس جمع ہو کر آپس میں عہدوپیمان کیا کہ صحیفہ چاک کرنا ہے۔ زہیر نے کہا: میں ابتدا کروں گا یعنی سب سے پہلے میں ہی زبان کھولوں گا۔
    صبح ہوئی تو سب لوگ حسب معمول اپنی اپنی محفلوں میں پہنچے۔زہیر بھی ایک جوڑا زیب تن کئے ہوئے پہنچا۔پہلے بیت اللہ کے سات چکر لگائے پھر لوگوں سے مخاطب ہو کر بولا۔مکّے والوں! کیا ہم کھانا کھائیں، کپڑے پہنیں اور بنو ہاشم تباہ و برباد ہوں، نہ انکے ہاتھ کچھ بیچا جئے نہ ان سے کچھ خریدا جائے،خدا کی قسم میں بیٹھ نہیں سکتا یہاں تک کہ اس ظالمانہ اور قرابت شکن صحیفے کو چاک کردیا جائے۔ ابو جہل------- جو مسجد کے ایک گوشے میں موجود تھا بولا: تم غلط کہتے ہوخدا کی قسم اسے پھاڑا نہیں جا سکتا۔
    اس پر زمعہ بن اسود نے کہا: بخدا تم زیادہ غلط کہتے ہو،جب صحیفہ لکھا گیا تھا تب بھی ہم اس پر راضی نہیں تھے۔
    اس پر ابو الجنتری نے گرہ لگائی: زمعہ ٹھیک کہہ رہا ہے اس میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے نہ ہم راضی ہیں نہ اسے ماننے کو تیار ہیں۔اس کے بعد مطعم بن عدی نے کہا: تم دونوں ٹھیک کہتے ہو اور جو اس کے خلاف کہتا ہے غلط کہتا ہے۔ہم صحیفہ سے اور اس میں جو کچھ لکھا ہوا ہے اس سے اللہ کے حضور براءت کا اظہار کرتے ہیں۔
    پھر ہشام بن عمرو نے بھی اسی طرح کی بات کہی۔
    یہ ماجرا دیکھ کر ابوجہل نے کہا: ہونہہ! یہ بات رات میں طے کی گئی ہے اور اسکا مشورہ یہاں کے بجائے کہیں اور کیا گیا ہے۔
    اس دوران ابو طالب بھی حرم پاک کے ایک گوشے میں موجود تھے،انکے آنے کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صحیفے کے بارے میں یہ خبردی تھی کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے کیڑے بھیج دیئے ہیں،جنہوں نے ظلم و ستم اور قرابت شکنی کی ساری باتیں چٹ کردی ہیں اور صرف اللہ عزّ وجل کا ذکر باقی چھوڑا ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کو یہ بات بتائی تو وہ قریش سے یہ کہنے آئے تھے کہ انکے بھتیجے نے انہیں یہ اور یہ خبر دی ہے اگر وہ جھوٹا ثابت ہوا تو ہم تمہارے اور اسکے درمیان سے ہٹ جائینگے، اور تمہارا جو جی چاہے کرنا۔لیکن اگر وہ سچّا ثابت ہوا تو تمہیں ہمارے بائیکاٹ اور ظلم سے باز آنا ہوگا۔ جب قریش کو یہ بتایا گیا تو انہوں نے کہا: آپ انصاف کی بات کہہ رہے ہیں۔
    ادھر ابوجہل اور باقی لوگوں کی نوک جھونک ختم ہوئی تو مطعم بن عدی صحیفہ چاک کرنے کیلئے اٹھا۔کیا دیکھتا ہے کہ واقعی کیڑوں نے اسکا صفایا کر دیا ہے صرف باسمک اللّٰھم باقی رہ گیا ہے، اور جہاں جہاں اللہ کا نام تھا وہ بچا ہے، کیروں نے اسے نہیں کھایا تھا۔
    اسکے بعد صحیفہ چاک ہو گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بقیہ شعب ابی طالب سے نکل آئے اور مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کی ایک عظیم الشاّن نشانی دیکھی۔لیکن ان کا رویہ وہی رہا جس کا ذکر اس آیت میں ہے:

    وَاِن يَرَوْا آيَۃً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
    ترجمہ: اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو رخ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا پھرتا جادو ہے۔
    (سورۃ القمر: 2)
    چنانچہ مشرکین نے اس نشانی سے بھی رخ پھیر لیا اور اپنے کفر کی راہ میں چند قدم اور آگے بڑھ گئے۔
    (3)
    (1) زادالمعاد 2/56
    (2) اسکی دلیل یہ ہے کہ ابوطالب کی وفات صحیفہ پھاڑے جانے کے چھ ماہ بعد ہوئی۔اور صحیح بات یہ ہے کہ ان کی موت رجب کے مہینے میں ہوئی تھی،اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ انکی وفات رمضان میں ہوئی تھی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انکی وفات صحیفہ پھاڑے جانے کے چھ ماہ بعد نہیں بلکہ آٹھ ماہ اور چند دن بعد ہوئی تھی۔دونوں صورتوں میں وہ مہینہ جس میں صحیفہ پھاڑا گیا محرم ثابت ہوتاہے۔)
    (3) بائیکاٹ کی یہ تفصیل حسب ذیل مآخذ سے مرتب کی گئی ہے۔
    صحیح بخاری باب نزول النبی صلی اللہ علیہ وسلم بمکّہ 1/216، باب المشرکین علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم 1/548، زادالمعاد 2/46
    ابن ہشام 1/350-351، 374-377، رحمتہ للعالمین 1/69-70، مختصر السیرۃ للشیخ عبداللہ ص 106-110، ومختصر السیرۃ للشیخ محمد بن عبدالوہاب ص 68-73۔
    ان مآخذ میں قدرے اختلاف بھی ہے۔ہم نے قرائن کی روشنی میں راجح پہلو درج کیا ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں